سازش ، سیاست اور احتساب

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 15 جون 2017

مبصرین پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے بیان کا تجزیہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے الفاظ کے مختلف مطالب نکالے جا رہے ہیں اور یہ استفسار کیا جا رہا ہے کہ وہ کون سی باتیں ہیں جو نواز شریف نے اس موقع پر کہنے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مناسب وقت آنے پر اس کا اظہار کریں گے۔ بعض تجزیہ نگار وزیراعظم کے اس بیان کو بے حد اہمیت دے رہے ہیں کہ ’’عوام کے فیصلوں کو روند کر مخصوص ایجنڈا چلانے والی فیکٹریاں بند نہ ہوئیں تو آئین اور جمہوریت ہی نہیں ملک کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی‘‘۔ تاہم جے آئی ٹی کے سامنے وزیراعظم کی پیشی اور اس کے بعد ایک تحریری بیان پڑھنے سے ایک بار پھر سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ معاملہ بدعنوانی اور اختیارات کے استعمال سے زیادہ سیاسی ہے اور اسے بہرحال سیاستدانوں کے درمیان عوام کے ووٹوں سے ہی طے ہونا ہے۔ البتہ اس مقدمہ کے حوالے سے ملک کے مختلف سیاستدان اور حکمران پارٹی تسلسل سے ایسی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عوام ان کی طرف متوجہ ہوں اور دوسروں کے موقف کو مسترد کر دیں۔ اسی لئے نواز شریف نے آج مختصر پریس بریفنگ میں اس بات پر اصرار کرنا ضروری سمجھا ہے کہ یہ معاملہ نہ تو بدعنوانی کے بارے میں ہے اور نہ ہی سرکاری خزانے سے خرد برد کا کوئی الزام ان پر عائد ہے۔ ان کے خاندانی کے تجارتی لین دین کو الجھا کر اور اچھال کر سیاسی مخالفین اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بیان کے ذریعے آج رات کو منعقد ہونے والے ٹاک شوز کا ایجنڈا متعین کیا ہے اور یہی ان کے آج کے بیان کا مقصد بھی تھا۔

وزیراعظم کے اس بیان سے انحراف ممکن نہیں ہے کہ انہوں نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر قانون کی نظر میں سب کے مساوی ہونے کی مثال قائم کی ہے۔ وہ غیر ملکی دورہ یا کسی بھی عذر سے جے آئی ٹی کے سامنے آنے سے انکار کر سکتے تھے۔ یوں بھی انہیں کسی بدعنوانی میں ملوث ملزم کے طور پر سوال جواب کےلئے نہیں بلایا گیا تھا بلکہ ان کی حیثیت ایک گواہ کی تھی جس سے ان کے خاندان کے تجارتی لین دین اور اس حوالے سے گزشتہ برس قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر اور سامنے آنے والے بعض حقائق کے مابین بظاہر نظر آنے والے تضاد کے بارے میں سوال کئے گئے ہیں۔ نواز شریف نے اس عمل میں تعاون فراہم کرکے ایک خوش آئند مثال قائم کی ہے۔ اگرچہ آج کی پیشی کے حوالے سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ وہ قطر اور کویت کے دورہ پر روانہ ہونے کا عذر کرکے جے آئی ٹی سے اس پیشی کو موخر کرنے کی درخواست کریں گے۔ البتہ انہوں نے از خود مقررہ وقت پر پیش ہو کر اور بطور چیف ایگزیکٹو آئینی استثنیٰ نہ مانگ کر قانون کے مساوی ہونے کے اصول کو عملی طور پر تسلیم کرنے کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ مثال مستقبل میں برسر اقتدار آنے والے لوگوں کی جوابدہی کے حوالے سے بھی اہم ثابت ہوگی۔ جے آئی ٹی کی کارروائی میں گواہ کے طور پر پیش ہونے کے حوالے سے بعض سیاسی حلقے اور مبصرین یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ نواز شریف کو 20 اور 21 گریڈ کے افسروں کے سامنے پیش ہونے سے قبل استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔ اس موقف کی حمایت میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ وزیراعظم کے طور پر انہوں نے کمتر عہدہ کے افسروں کے سامنے پیش ہو کر اس عہدہ کی توہین کی ہے اور دنیا میں پاکستان کا نام بدنام ہوا ہے۔

یہ موقف جدید جمہوری ریاست کے طریقہ کار سے لاعلمی کی بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔ ایک وزیراعظم اگر خود کو باقی شہریوں کی طرح قانون کے سامنے جوابدہ سمجھتا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ کرتا ہے تو یہ ایک مثبت اور جمہوری روایت کو مستحکم کرنے والا رویہ ہے۔ اس سے نواز شریف کے علاوہ پاکستان کے نظام کے بارے میں یہ مثبت رائے قائم کی جائے گی کہ وہاں کا عدالتی نظام اور انتظامی ڈھانچہ اب بلوغت کے اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کہ ہر ادارہ اور فرد بلاتخصیص اپنے فرائض بھی ادا کر رہا ہے اور قانون کے تقاضوں کے مطابق طریقہ کار کا حصہ بننے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ پاناما کیس کے حوالے سے اس قدر سیاسی دھول اڑائی گئی ہے کہ بہت سے حقائق پس پردہ چلے جاتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان نے کسی مرحلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلوں سے روگردانی کی کوشش نہیں کی۔ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جب رجسٹرار کے موقف کے برعکس اس مقدمہ کی سماعت کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ تحریک انصاف کے جارحانہ احتجاج سے پیدا ہونے والی صورتحال میں ملک کو کسی غیر ضروری تصادم سے بچانے کی خواہش رکھتے تھے ۔۔۔۔۔۔ تو نواز شریف یا ان کے بیٹے اس فیصلہ پر نظر ثانی یا عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھا کر اس معاملہ کو مزید تاخیر کا نشانہ بنا سکتے تھے۔ اسی طرح 20 اپریل کو پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد اس فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کی بجائے اسے خوشدلی سے تسلیم کر لیا گیا۔ اس کے بعد جب سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنا کر اس کے ذریعے تحقیقات کا آغاز کروایا تو وزیراعظم یا ان کے بیٹوں کی طرف سے کبھی تعاون سے انکار نہیں کیا گیا۔ حالانکہ حسن اور حسین نواز بیرون ملک رہتے ہیں اور وہ جے آئی ٹی میں پیش نہ ہونے کے ہزار بہانے تراش سکتے تھے۔ شریف خاندان کی طرف سے جے آئی ٹی کی ساخت اور طریقہ کار پر اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں اور سپریم کورٹ نے ان اعتراضات کو فی الوقت تسلیم کرنے سے انکار بھی کیا ہے لیکن نواز شریف نے بھی آج جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر ملک میں احتساب اور جوابدہی کے نظام کو فعال بنانے کی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے۔

پاناما پیپرز کے انکشافات کے حوالے سے ملک میں سیاسی ہیجان کی ایک کیفیت پیدا کی گئی ہے۔ عمران خان اور ان کے ہمنوا  تفصیلات جانے بغیر یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ نواز شریف پر منی لانڈرنگ اور ناجائز طریقے سے دولت کمانے کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ میں یہ الزامات ثابت نہیں کئے جا سکے۔ اسی لئے 5 رکنی بنچ کسی حتمی نتیجہ پر پہنچنے میں ناکام رہا ہے اور اکثریتی فیصلہ کے مطابق جواب طلب امور کے بارے میں حقائق جاننے کےلئے جے آئی ٹی قائم کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج ان تحقیقات کو 60 روز میں مکمل کروانا چاہتے ہیں لیکن جے آئی ٹی کی طرف سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس قلیل مدت اور درپیش مشکلات کی وجہ سے وہ شاید اس مدت میں اپنا کام مکمل نہ کر سکے۔ بظاہر سپریم کورٹ نے ابھی تک اس عذر کو قبول نہیں کیا ہے۔ جے آئی ٹی کے قیام سے ہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اپوزیشن کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ نواز شریف پر الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے وکیل اپنا موقف عدالت میں ثابت نہیں کر سکے لیکن وہ بہرحال شبہات پیدا کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے ہیں۔ نواز شریف چونکہ وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر متمکن ہیں، اس لئے سپریم کورٹ نے اس معاملہ کی تہہ تک جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسی بھی عام معاملہ میں یا نواز شریف کے برسر اقتدار نہ ہونے کی صورت میں نہ تو تحریک انصاف عدالت میں یہ معاملہ لے کر جاتی اور نہ ہی عدالت الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود مدعا علیہ سے تقاضہ کرتی کہ وہ خود اپنی بے گناہی کے ثبوت فراہم کرے۔

پاناما کیس کی بنیاد لندن کے مے فیئر کے علاقے میں خریدے گئے قیمتی اپارٹمنٹس ہیں۔ ان کی ملکیت کےلئے وسائل کی فراہمی کے حوالے سے ہی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ان کے واضح اور دوٹوک جواب سامنے نہیں آئے ہیں۔ شریف خاندان کا موقف ہے کہ 70 کی دہائی میں خلیج میں کی گئی سرمایہ کاری سے وسائل قطر کے جاسم الثانی خاندان کو منتقل کئے گئے تھے اور وہاں سے حاصل ہونے والے منافع سے یہ فلیٹ خریدے گئے۔ تاہم یہ وسائل قطر کیسے پہنچے اور قطری خاندان نے یہ منافع اور سرمایہ کا حصہ نواز شریف کے بیٹوں کو کیسے اور کب ادا کیا ۔۔۔۔۔ اس بارے میں بینک اسٹیٹ منٹ یا رقوم کی باقاعدہ منتقلی کی دستاویزات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس کی بجائے قطر کے شہزادہ حمد بن جاسم الثانی کا خط پیش کیا گیا ہے جس میں نواز شریف کے والد میاں محمد شریف کی طرف سے 12 ملین درہم کی منتقلی کا اعتراف کیا گیا ہے۔ قطری شہزادے نے اس خط کے مندرجات کی تصدیق کی ہے اور اب یہ خبر بھی آئی ہے کہ وہ قطر میں جے آئی ٹی سے ملنے کےلئے بھی تیار ہیں۔ اس تصدیق کے باوجود عقل سلیم یہ تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیں ہوتی کہ سوا کروڑ درہم کے لگ بھگ خطیر رقم نقدی کی صورت میں ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کی گئی تھی۔ اسی لئے بے قاعدگی یا بدعنوانی کے بارے میں شبہات تقویت پکڑتے ہیں۔

بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے نواز شریف واحد سیاستدان نہیں ہیں۔ اس ملک کے بیشتر سیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات عائد ہیں۔ لیکن عام طور سے انہیں سیاسی مقاصد کےلئے قائم کئے گئے مقدمات کہا جاتا ہے اور سیاستدان ایک دوسرے کو مطعون کرنے کےلئے ان الزامات کو استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں عوام میں سیاستدانوں کے بارے میں بدگمانی میں اضافہ ہوا ہے۔ سیاستدان ابھی تک کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے جس کے تحت الزام تراشی کے ماحول کو ختم کرکے شفافیت اور جوابدہی کے طریقہ کار کو مروج کیا جا سکے۔ اگر ملک کے لیڈروں نے پاناما کیس سے سبق سیکھتے ہوئے اس قسم کا کوئی طریقہ اختیار کرنے کے کام کا آغاز کیا تو یہ اس مقدمہ کے مثبت پہلوؤں میں شامل ہوگا۔ فی الوقت تو عدالتوں کو سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کرنے کا چلن ہے۔ عمران خان سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف سے وزیراعظم کا عہدہ چھیننا چاہتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں کی طرف سے سپریم کورٹ میں ہی عمران خان کے مالی معاملات اور تحریک انصاف کے وسائل کے بارے میں درخواستیں دائر ہیں اور عمران خان ان کا جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو بدنام کرنے اور نااہل قرار دلوانے کا یہ سلسلہ اگر بند نہ ہو سکا تو ملکی سیاست میں مزید کیچڑ اچھالنے اور ذاتی حملوں کے رجحان میں اضافہ کا امکان ہے۔

نواز شریف نے آج کے بیان میں کوئی نئی بات نہیں کی ہے۔ انہوں نے ایک سیاسی چال چلی ہے کہ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی خواہ کچھ بھی کریں فیصلہ بہرحال ملک کے 20 کروڑ عوام کو کرنا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو یقین ہے کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود 2018 کا انتخاب جیت سکتی ہے۔ ان امیدوں سے قطع نظر حکمران جماعت اور اپوزیشن پارٹیوں کو سیاسی محاذ آرائی میں عدالتوں اور ریاستی اداروں کو ملوث کرنے کا طریقہ ترک کرنا چاہئے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا اگر باہمی احترام اور خود کار احتساب کا نظام مستحکم کیا جائے گا۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...