امریکی جمہوریت کا تسلسل اور اندیشے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 11 جنوری 2017

امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور خود کو اپنے تمام کاروبار سے علیحدہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن وہ ہر شبہ کو ختم کرنے کیلئے یہ اقدام کر رہے ہیں۔ تاکہ اپنی تمام تر صلاحیتیں صدر کے طور پر عوام کی خدمت کرنے اور امریکہ کو عظیم بنانے پر صرف کر سکیں۔ امریکی امور کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آج کی پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران نعرے لگانے والے اور للکارنے والے شخص ہی ہیں اور انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کیا ہے کہ وہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں معتدل اور متوازن رویہ اختیار کریں گے۔ ٹرمپ نے آج بھی اپنی اور اپنے ساتھیوں کی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور بعض میڈیا گروپس پر غلط خبریں نشر کرنے پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے روس یا انتخابات کے دوران سائبر حملوں کے حوالے سے براہ راست سوالوں کے جواب دینے سے بھی انکار کیا۔ تاہم انہوں نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ روس نے ہی انتخابات کے دوران امریکی سیاسی پارٹیوں پر سائبر حملے کئے تھے لیکن وہ اس کا ذمہ دار ڈیمو کریٹک پارٹی کے ناقص حفاظتی نظام کو قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ جب وہ صدر بن گئے تو روس اور دیگر ممالک امریکہ کی زیادہ عزت کریں گے۔

اس پریس کانفرنس کو سننے والے بدستور اس بات پر حیران ہیں کہ بطور صدر ان کی خارجہ و تجارتی پالیسی کیا ہوگی۔ وہ روس کے صدر پیوٹن کے ساتھ بدستور شیفتگی کا اظہار کرتے ہیں اور ملک کے تجارتی معاہدوں کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چین ، جاپان اور میکسیکو نے ان امریکہ دشمن تجارتی معاہدوں کا فائدہ اٹھا کر امریکہ کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ حسب عادت وہ اپنے ان دعوؤں کو ثابت کرنے کیلئے کوئی شواہد پیش کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ البتہ اگر وہ بیرونی دنیا کے ساتھ موجودہ تجارتی معاہدوں کو یک طرفہ طور سے تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دنیا میں ایک نیا اور خطرناک معاشی بحران سامنے آ سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ کو اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے کانگریس کی بھی بھرپور حمایت حاصل نہ ہو سکے حالانکہ ری پبلکن پارٹی کو اس وقت سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل ہے۔ تاہم بہت سے ری پبلکن ارکان ٹرمپ کی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں۔ اپنے خارجہ اور تجارتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کےلئے نئے صدر کو اپنی ہی پارٹی کے ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔  امریکہ میں آئندہ چند ہفتے سیاسی بے یقینی کی علامت بنے رہیں گے۔ اس کا اثر دنیا کے معاملات پر بھی دیکھنے میں آئے گا۔ نیٹو سے لے کر بحر جنوبی چین تک امریکہ کے نئے صدر نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ اسی لئے دنیا بھر کے لیڈر اب نئی امریکی قیادت میں کئے جانے والے اقدامات کا انتظار کر رہی ہے۔

ٹرمپ کی پریس کانفرنس سے چند گھنٹے پہلے صدر باراک اوباما نے شکاگو کے ایک ہال میں ایک اجتماع سے آخری صدارتی خطاب کیا اور ان اندیشوں کی نشاندہی کی جن سے ملک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے دھماکے یا دشمن کے میزائل امریکہ کو تباہ نہیں کر سکتے لیکن اگر امریکی عوام نے اپنی بنیادی اقدار سے منہ موڑنے کی کوشش کی اور اگر ملک میں جمہوری روایت کو کمزور کیا گیا تو اس سے امریکہ کی عظمت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ مساوات اور باہمی احترام کے بنیادی اصولوں کی وجہ سے بڑی قوم بنا ہے۔ اس ملک کے لوگوں کو بہرطور ان اصولوں کی حفاظت کرنا ہوگی۔ صدر اوباما نے کہا کہ جمہوری عمل میں بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ دو قدم آگے بڑھ کر ایک قدم پیچھے اٹھا لیا گیا ہے۔ لیکن اگر امریکہ کی مجموعی تاریخ کو دیکھا جائے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہر آنے والے وقت کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم مسلسل آگے بڑھ رہے ، زیادہ مضبوط ہو رہے اور ترقی کر رہے ہیں۔

صدر باراک اوباما نے جن تین عوامل کو امریکہ کےلئے خطرہ قرار دیا ہے، وہ کسی حد تک دنیا کے کسی بھی معاشرے پر منطبق کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدم مساوات ، آبادتی تبدیلی اور دہشت گردی عظیم ترین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں متعدد ایسے اقدامات کئے گئے ہیں جن سے سب کو تعلیم ، روزگار اور بامعنی زندگی کے مواقع فراہم کرنے کےلئے صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدم مساوات ہی کی وجہ سے آبادی میں افتراق ، بداعتمادی اور دوری پیدا ہوتی ہے۔ اسے تبدیل کرنے کےلئے ہمیں عملی اقدامات کرنے کے ساتھ اپنے رویوں کو بھی بدلنا ہوگا۔ اگرچہ یہ عمل بہت سست رو ہوتا ہے لیکن معاشرے کا ہر شخص اگر اس حوالے سے موثر کردار ادا کرنے کا عزم کرلے تو تبدیلی کے اثرات محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ امریکہ میں نسلی تعلقات میں اچانک کسی سیاسی تحریک کے ذریعے تبدیلی نہیں آئی بلکہ یہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ انسانی رویوں کے ساتھ تبدیل ہوئے ہیں۔ آج کا امریکہ نسلی تعلقات کے حوالے سے دس بیس یا تیس برس پہلے کے امریکہ سے مختلف ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ معاشرہ میں نئے تارکین وطن اور لوگوں کے گروہوں کو مسترد کرنے کی بجائے انہیں قبول کرنے اور معاشرے کو مستحکم کرنے کے عمل میں حصہ لینے کا موقع دینے کی ضرورت ہے۔ یہی امریکی مزاج اور تاریخ کا پیغام ہے۔ آج بعض گروہوں کے بارے میں جن تعصبات کا اظہار کیا جاتا ہے، وہ نیا نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب آئر لینڈ ، اٹلی یا پولینڈ کے لوگ امریکہ آئے تھے تو ان کے بارے میں ایسی ہی باتیں کی گئی تھیں لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ یہ لوگ امریکی معاشرہ کا حصہ بن گئے اور اس ملک کو مضبوط اور خوشحال کرنے میں کردار ادا کرنے لگے۔ آج اگر ہم تارکین وطن کے بچوں کو مواقع دینے سے انکار کریں گے اور ان کے بارے میں تعصبات کو ہوا دیں گے تو اس سے ہمارا معاشرہ اور معاشی ترقی متاثر ہوگی۔ ہمیں جان لینا چاہئے کہ آبادی میں جو تبدیلی رونما ہو رہی ہے، اس کے نتیجے میں آنے والے وقت میں غیر سفید فام لوگ ہی ورک فورس کا بڑا حصہ ہوں گے۔

سبکدوش ہونے والے صدر نے اعتراف کیا کہ امریکہ میں آج نظریاتی لحاظ سے تقسیم خطرناک حد تک موجود ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کا نقطہ نظر، ان کی سوچ اور صورتحال کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جن لوگوں کو نسلی یا منفی امتیازی رویوں کا سامنا ہے، اسے سمجھے بغیر، ان کی صورتحال کے بارے میں آگاہی حاصل کئے بغیر، بہتری کےلئے تبدیلی لانا ممکن نہیں ہوتا۔ اس طرح انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کوخود ساختہ معلومات کے غباروں میں محدود کرنے کی بجائے حقیقی دنیا کا سامنا کریں۔ سچ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ غلط فہمیاں دور کریں۔ اسی طرح فاصلے کم ہوں گے اور دہشت گردی جیسے خطرہ سے نمٹنے کےلئے ہم خود کو مضبوط کر سکیں گے۔ سیاست نظریات کی جنگ ہے لیکن ان نظریات کو حقائق پر استوار ہونا چاہئے۔ ہمیں ہر وقت یہ قبول کرنا چاہئے کہ ہو سکتا ہے ہمارے مخالف کی دلیل میں وزن ہو۔ ہمیں سائنس، حقیقت اور دلیل کی اہمیت کو اولیت دینا ہوگی۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکی معاشرہ قانون کی حکمرانی ، انسانی حقوق ، مذہب و عقیدہ کی آزادی ، تحریر و تقریر اور میڈیا کی آزادی سے عبارت ہے۔ امریکہ کے دشمن انہی اقدار کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان اصولوں کی حفاظت کےلئے جمہوریت کی حفاظت اور غلط تصورات کو مسترد کرنا ضوری ہے۔ بعض لوگ اسلام کے دعویدار بن کر آزادی کی بنیادی اقدار کو مسترد کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں بعض آمر آزاد معاشرے کے تصور کو اپنے جابرانہ طرز حکومت کےلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسی لئے امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی کو مسترد کرنا اہم ہے۔ یہ سارے لوگ باقی سب لوگوں کی طرح محب وطن ہیں۔ ہم فاصلے اور دوریاں پیدا کرکے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں۔ انہوں نے انتہا پسندی، عدم برداشت ، فرقہ واریت اور جبر کے خلاف جدوجہد کو آمریت اور قوم پرستانہ رجحانات کے خلاف جنگ کے مماثل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں ہم اپنے لئے جمہوریت اور سہولتیں حاصل کرکے، دنیا کو پرامن اور خوشحال بنانے کا خواب پورا نہیں کر سکتے۔ بلکہ یہ طرز عمل تصادم اور جنگ کا سبب بنے گا۔ اس کے برعکس ہمیں جمہوریت کے استحکام اور فروغ کےلئے کام کرنا ہوگا۔ اگر لوگ ووٹ دینے سے کتراتے ہیں تو انہیں ووٹ دینے کےلئے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ اگر اداروں پر لوگوں کا اعتماد کم ہو رہا ہے تو شفافیت اور احتساب میں اضافہ کرنا ہوگا۔ جمہوریت ایک مشکل عمل ہے۔ اس میں ہر شہری کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق حصہ لینا پڑتا ہے لیکن اسی طریقہ سے معاشرے میں انصاف ، مساوات اور امن و خوشحالی کے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے اقتدار میں 8 برس پورے کرنے کے بعد دس روز بعد منتخب صدر کو اقتدار منتقل کرنے کے عمل کو جمہوریت کا حسن قرار دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جمہوریت کے تقاضوں اور اس کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے آنے والے صدر اور حکومت پر واضح کیا ہے کہ قومی یکجہتی و ہم آہنگی مل جل کر سب کی بہتری کےلئے کام کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ صدر باراک اوباما کا یہ پیغام امریکہ ہی کےلئے نہیں، دنیا کے ہر خطہ کے لوگوں کےلئے قابل عمل اور ضروری ہے۔

loading...
آپ کا تبصرہ

Conflicts in Conflict

The conflict of Jammu and Kashmir (J&K) is one of the long standing issues of the world. The unfortunate but this unique multi-ethnic, multilingual and multi-religious po

Read more

loading...