شام میں امن کے لئے ایثار ضروری ہو گا!

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 09 جنوری 2017

شام کے صدر بشار الاسد نے واضح کیا ہے کہ وہ ملک میں امن کی بحالی کےلئے کھلے دل سے ہر قسم کی تجاویز پر غور کرنے کےلئے تیار ہیں۔ اس بارے میں صدر کے طور پر ان کا عہدہ بھی زیر غور آ سکتا ہے تاہم یہ ایک آئینی معاملہ ہے۔ کسی آئینی ترمیم یا نئے آئین پر اتفاق رائے کی صورت میں اسے شام کے عوام کے سامنے ریفرنڈم کےلئے پیش کیا جائے گا۔ صدر بشار الاسد کے اس بیان سے شام میں 6 سالہ خانہ جنگی کے خاتمہ کےلئے سفارتی کوششوں کے باور آور ہونے کی امید دکھائی دینے لگی ہے۔ روس اور ترکی نے حلب پر سرکاری افواج کے قبضہ کے بعد شام میں جنگ بندی کا معاہدہ کروایا تھا۔ اگرچہ فریقین اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی شکایات کرتے ہیں لیکن مبصرین کے مطابق اس معاہدہ پر بڑی حد تک عمل ہو رہا ہے۔ معاہدہ کے مطابق جنگ بندی کے ایک ماہ بعد قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں سیاسی مذاکرات شروع ہوں گے۔ روس کے علاوہ ترکی اور ایران ان مذاکرات کو کامیاب کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بحران میں روس اور ایران نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت جاری رکھی تھی تاہم ترکی امریکہ اور عرب ملکوں کی طرح بشار الاسد سے اقتدار سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ تاہم گزشتہ دو برس کے دوران ترکی کو یکے بعد دیگرے متعدد داخلی اندیشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کی روشنی میں صدر طیب اردگان اب شام میں امن کےلئے کوشاں ہیں اور وہ بشار الاسد کی علیحدگی کا مطالبہ بھی نہیں کرتے۔

بشار الاسد کی طرف سے اپنے عہدے سے علیحدگی کی بات کرنا ایک مثبت اشارہ ہے۔ اس طرح سیاسی مذاکرات کے دوران صرف ایک فرد کو بحث کا موضوع بنانے کی بجائے مسائل کو حل کےلئے بات چیت کی جا سکے گی۔ شام میں رونما ہونے والی مثبت تبدیلیوں کی سب سے بڑی وجہ ترکی کا بدلا ہوا رویہ اور امریکہ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کی صدارتی انتخاب میں شکست ہے۔ ان کی کامیابی کی صورت میں امریکہ بدستور صدر بشار الاسد کے خلاف اپنا سخت موقف برقرار رکھتا۔ ان کے مقابلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے شام میں دیرینہ امریکی پالیسی کو نقصان پہنچا ہے اور صدر اوباما اپنی صدارت کے آخری ہفتوں میں روس کی شام میں مداخلت اور صدر بشار الاسد کی پوزیشن مستحکم کرنے کے اقدامات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکے۔ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور سے شام میں ان باغی گروہوں کی مدد کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں جو امریکہ اور عرب ملکوں کی سرپرستی میں صدر بشار کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ شام میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کامیاب جنگ کےلئے شام میں حکومت اور مختلف گروہوں کے تصادم کو روکنا ضروری ہے۔ یا کم از کم امریکہ اس کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ اس کے علاوہ ٹرمپ روس اور اس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے بارے میں بھی نرم اور دوستانہ رویہ رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ روس کے ساتھ تصادم کی بجائے تعاون کی پالیسی اختیار کرکے دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کرنا ضروری ہے تا کہ امریکہ اور مغربی ممالک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

صدر باراک اوباما کے بے اثر ہونے کے نتیجے میں روس نے شام میں قابل ذکر پیشرفت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ترکی کے تعاون سے شامی حکومت اور باغی گروہوں کے درمیان جنگ بندی، موجودہ حالات میں نمایاں کامیابی ہے۔ تاہم یہ کامیابی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک شام کو متحد کرنے اور وہاں متفقہ سیاسی نظام استوار کرنے پر اتفاق رائے نہ ہو جائے۔ داعش اب بھی شام کے وسیع علاقے پر قابض ہے اور القاعدہ کے حامی گروہ اب جبتہ الفتح الشام کے نام سے منظم ہو کر ملک میں سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کرنے والے گروہوں کا حصہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران ترکی اور روس کے تعاون سے جنگ بندی کا جو معاہدہ ہوا تھا، اس کے تحت نہ تو دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ بند ہوگی اور نہ انہیں سیاسی مذاکرات کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس پر اصولی اتفاق کرنے کے باوجود شام کی حکومت اور باغی گروہ مختلف گروپوں کے بارے میں الگ الگ رائے رکھتے ہیں۔ خانہ جنگی کے دوران متعدد عسکری گروہوں نے قوت حاصل کی تھی۔ ان میں سے کئی گروہوں کو امریکہ اور سعودی عرب کی سرپرستی حاصل تھی۔ لیکن یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ شام میں جمہوریت کےلئے کوشش کرنے والے باغی گروہ طویل خانہ جنگی کے دوران ایسے عسکری گروہوں کے ساتھ بھی تعاون کرتے رہے ہیں جو یا تو دہشت گرد گروہوں کے ساتھ منسلک تھے یا ان سے مدد حاصل کرتے رہے تھے۔ بعض گروہ براہ راست دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملوث رہے ہیں لیکن وہ ضرورت پڑنے پر بھیس بدل کر جمہوریت نواز باغی گروہوں کے ساتھ بھی مل جاتے تھے۔

حلب کی جنگ کے دوران دہشت گرد گروہوں کی قوت اور اثر و رسوخ کا واضح مظاہرہ ہوا تھا۔ النصرہ فرنٹ کے دہشت گرد باغی گروہوں کے ساتھ مل کر شام کی فوج کے خلاف برسر پیکار تھے۔ روس یا ترکی اور شام کی حکومت بھی ایسے کسی گروہ کے ساتھ بات چیت کرنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ اس بات پر جنگ بندی کے معاہدہ میں اصولی اتفاق بھی ہو گیا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ مذاکرات کے دوران دہشت گرد عناصر کو مکمل طور سے علیحدہ کرنا کار دارد ہوگا۔ کیونکہ یہ لوگ صورتحال کے مطابق اپنا روپ اور نام بدل لیتے ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ اس وقت دمشق کے نواح میں وادی برادا کی جنگ میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شام کی فوج ان جنگجوؤں کو جبتہ الفتح الشام کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ باغی گروہوں کی طرف سے انہیں جمہوریت نواز جنگجوؤں کا حصہ کہا جا رہا ہے۔ یہ گروہ دمشق اور اس کے نواح میں آباد 50 لاکھ لوگوں کو پانی فراہم کرنے والے ذخیرہ پر قابض ہے اور اس تک سرکاری افواج کی دسترس کےلئے مفاہمت پر بھی تیار نہیں ہے۔ اس لئے سرکاری فوج کےلئے اس علاقے پر قابض گروہوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

صدر بشار الاسد نے فرانسیسی صحافیوں کو دیئے گئے انٹرویو میں رقّہ سمیت پورے شام پر دمشق کی حکومت کا قبضہ بحال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اس قسم کے کسی خواب کی تکمیل کےلئے دمشق میں اقتدار سے متعلق اتفاق رائے کے علاوہ ملک میں داعش کو مکمل شکست دینا بھی ضروری ہوگا۔ اس وقت امریکہ کے تعاون سے عراق کی سرکاری فوج اور کرد دستے موصل پر قبضہ بحال کرنے کےلئے محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔ لیکن داعش ابھی تک اس شہر سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔ امریکہ شام میں داعش کے صدر مقام رقّہ پر قبضہ کرنے کےلئے شامی کردوں اور باغی گروہوں کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ قازقستان میں مذاکرات اور ان کے نتیجہ میں سیاسی مصالحت کا حصہ بننے کےلئے شام کے تمام باغی گروہوں کو شام کی حکومت کے خلاف مستقل جنگ بندی کا حصہ بننا پڑے گا۔ ان مذاکرات کے حوالے سے جو اشارے سامنے آئے ہیں، ان میں باغی عسکری گروہوں کے زیر اثر علاقوں میں انہیں مکمل خود مختاری دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس تجویز پر اسی صورت میں غور ہو سکتا ہے اگر شام کی حکومت کے علاوہ تمام عسکری گروہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی پر آمادہ ہوں اور انہیں واقعی شام کی سرزمین سے فرار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔

اس عظیم منصوبہ کی تکمیل کےلئے متعدد عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم زمینی مسائل سے نمٹنے سے پہلے ان تمام ملکوں کو یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ شام میں خانہ جنگی جاری رہنے سے نہ صرف اس علاقے میں دہشت گرد مضبوط ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ سے اکثر اسلامی ملکوں کے علاوہ امریکہ اور یورپ میں بھی اپنے ہمدرد پیدا کئے ہیں۔ داعش کے یہ سلیپنگ سیل وسیع تر انتشار اور تصادم کا سبب بن رہے ہیں۔ اس لئے بشار الاسد کی حکومت کے خلاف کئی برس تک عسکری گروہوں کی مالی و سیاسی مدد کرنے اور انہیں اسلحہ فراہم کرنے والے عرب ملکوں کو بھی ترکی کی طرح حقیقت حال کا ادراک کرنا ہو گا۔ تب ہی یہ مشکل مرحلہ کسی حل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ دمشق میں سیاسی انتظام کے بارے میں اتفاق رائے کے بعد ملک کے بڑے حصے میں امن قائم ہو سکتا ہے اور ترکی ، لبنان اور اردن میں پناہ لینے والے لاکھوں شامی باشندوں کی واپسی اور آباد کاری کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح تمام قوتیں مل کر داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کی جنگ میں شریک ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس مقصد کےلئے علاقائی طاقتوں کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے اعتماد اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنا ہوگی۔

آپ کا تبصرہ

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more