سعودی مہم جوئی اور مسلم امہ کے مفاد میں فرق ہے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 08 جنوری 2017

حکومت کے سوا ملک کا ہر شخص جنرل (ر) راحیل شریف کے نئے عہدہ کے بارے میں رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ دو روز قبل وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں سوشل میڈیا پر چند ہفتوں سے گردش کرنے والی افواہوں کی تصدیق کی تھی۔ تاہم متعلقہ امور کی ذمہ دار وزارت کا سربراہ ہونے کے باوجود انہوں نے چند ہفتے پہلے ریٹائر ہونے والے پاک آرمی چیف کی سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کے کمانڈر کے طور پر تقرری کے بارے میں اپنی کم علمی کا اظہار کیا تھا۔ فطری طور سے یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ خواجہ آصف کو اگر پوری معلومات حاصل نہیں تھیں تو انہوں نے اس معاملہ پر اظہار خیال کرکے وزیر دفاع کے طور پر اپنی بے وقعتی  ظاہر کرنا  کیوں ضروری سمجھا۔ حسب توقع خبر کی تصدیق ہوتے ہی دنیا بھر کے میڈیا میں اس کی تشہیر ہوئی اور پاکستان میں ایک افسوسناک بحث کا آغاز ہوگیا۔ رائے عامہ کا ایک طبقہ اسے عظیم اسلامی اتحاد سے تعبیر کرتے ہوئے ایک پاکستانی جنرل کی اس عہدہ پر تقرری کو اعزاز قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے خطرناک رجحان بتاتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں سعودی کردار کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔  سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستانی جرنیل کی سعودی نگرانی میں بننے والے اتحاد کے کمانڈر کے طور پر تقرری سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کس حد تک متاثر ہوگی اور اس کے پاکستان کی سلامتی کی صورتحال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت تادم تحریر اس معاملہ پر کوئی واضح موقف اختیار کرنے اور عوام کو اعتماد میں لینے کےلئے تیار نہیں ہے۔

اس صورتحال میں فطری طور سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف اس تقرری کی منظوری دے کر اپنے خاندان پر سعودی شاہی خاندان کے احسانات کا بدلہ اتارنا چاہتے ہیں۔ اور اس خفت کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو انہیں اپریل 2015 میں پیش آئی تھی۔ سعودی عرب نے تب یمن کی خانہ جنگی میں فریق بنتے ہوئے پاکستان سے فوجی دستے فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس جنگ میں سعودی عرب کو خلیج تعاون کے ملکوں کی حمایت حاصل تھی۔ پاکستان کے ساتھ سعودی عرب اور خلیجی ملکوں کے قریبی تعلقات اور نواز شریف کی صورت میں ایک دوست وزیراعظم کی موجودگی میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان اس سعودی درخواست کو قبول کرلے گا۔ اس طرح سعودی عرب کےلئے یمن کے حوثی قبائل کو شکست دے کر وہاں پر اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا سہل ہو جائے گا۔ پاکستان میں رائے عامہ اس قسم کی مداخلت کے خلاف تھی۔ قومی اسمبلی نے دو ٹوک الفاظ میں فوجی دستے بیرون ملک بھیجنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان کو بھارت کی طرف سے مسلسل جارحیت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی افواج آپریشن ضرب عضب کی صورت میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف تھیں۔ حکومت کو اس صورتحال میں سعودی درخواست مسترد کرنا پڑی۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاک فوج کی مدد سے یمن میں فتح کے جھنڈے گاڑنے کا جو خواب دیکھا تھا، اس انکار کی وجہ سے وہ بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اس لئے یمن میں سعودی سرگرمی فضائی حملوں تک محدود رہی۔ اس کے نتیجے میں یمن میں شدید جانی نقصان ہوا۔ انفرا اسٹرکچر تباہ کر دیا گیا۔ شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے تباہ ہونے لگے اور عالمی ادارے یمن میں انسانی صورتحال کے بارے میں تشویشناک رپورٹیں پیش کرنے لگے۔

اس کے باوجود سودی عرب نے یمن میں مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے ہمسایہ ملک کے خلاف جارحیت جاری رکھی۔ شہزادہ محمد بن سلمان کو اس دوران دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے مسلمان ملکوں کی متحدہ فوج بنانے کی نادر روزگار ترکیب سوجھی۔ دسمبر 2015 میں ریاض میں انہوں نے 34 اسلامی ملکوں کے ایک فوجی اتحاد کا اعلان کیا جس کی قیادت بھی سعودی عرب کرے گا اور جس کا ہیڈ کوارٹرز بھی سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم کیا جانا قرار پایا۔ جن ملکوں کی طرف سے اس اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا گیا تھا، ان میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کےلئے یہ خبر اچانک اور نامعلوم تھی۔ اس لئے حیرت کا اظہار لازم تھا۔ آج تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پاکستان کا اس اتحاد میں کیا کردار ہے۔ باقی ملکوں کی شمولیت کے بارے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ اس دوران سعودی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلامی اتحاد میں شریک ملکوں کی تعداد 39 ہو چکی ہے۔ پاکستان سمیت اکثر ملکوں میں لوگ اس اسلامی اتحاد کو ایک شہزادے کا وقتی کھیل سمجھ کر بھول چکے تھے۔ پھر نومبر میں جنرل راحیل شریف کے ریٹائر ہونے کے فوری بعد یہ افواہیں گشت کرنے لگیں کہ انہیں اس اتحاد میں اہم عہدہ دیا جا رہا ہے۔ دو ہفتے قبل ایک خصوصی شاہی طیارہ لاہور آیا اور جنرل راحیل شریف کو ریاض لے جایا گیا۔ تادم تحریر وہ وہیں پر مقیم ہیں۔ پاکستانی حکومت ان کی سرگرمیوں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار بھی کرتی ہے اور یہ بھی کہتی ہے کہ فرد کے طور پر اگر جنرل راحیل شریف نے کوئی عہدہ قبول کیا ہے اور متعلقہ اداروں سے اجازت لے لی ہے تو اس پر اعتراض کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ اس کا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

حکومت کا یہ جواب نامکمل اور صورتحال کی سنگینی کے اعتبار سے بچگانہ ہے۔ اس لئے اپوزیشن کی طرف سے اس بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین اور صحافی بھی یہ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ حکومت کو چند ہفتے قبل پاک فوج کے سربراہ کے طور پر سبکدوش ہونے والے جنرل راحیل شریف کی نئی ذمہ داریوں کے بارے میں صورتحال واضح کرنی چاہئے۔ اگرچہ حکومت نے ابھی تک ان سوالات کو غیر ضروری قرار دیا ہے لیکن ملک میں اس معاملہ پر جس طرح تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، حکومت کو جلد ہی اس حوالہ سے اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑے گی۔ بلکہ یہ کہا جائے تو نامناسب نہ ہوگا کہ حکومت جتنی تاخیر کرے گی، سوالات کی سنگینی اور تشویش میں اتنا ہی اضافہ بھی ہوگا۔ کیونکہ جنرل راحیل شریف کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی معمولی عہدہ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ 29 نومبر 2016 تک پاک فوج کے سربراہ تھے۔ اس حیثیت میں وہ پاکستان کے جوہری رازوں سمیت متعدد حساس اور خفیہ معلومات کے امین ہیں۔ کسی بھی فوجی افسر کی طرح ان پر بھی دو برس تک کسی قسم کا سیاسی بیان دینے پر پابندی عائد ہے۔ تو اس صورتحال میں کیا انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کی ملازمت اختیار کرلیں جس کی پالیسیاں پاکستان کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں سے مختلف ہیں۔ اگر وہ کسی باقاعدہ اور متفقہ فوجی اتحاد میں خدمات دینے پر راضی ہوتے، تب بھی اس پر سوال اٹھائے جا سکتے تھے۔  موجودہ حالات میں تو ان کے ایک ایسے فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کی باتیں ہو رہی ہیں جو صرف سعودی عرب کے شاہی خاندان کی خواہشات تک محدود ہے۔ اس پر اٹھنے والے اخراجات بھی سعودی عرب برداشت کر رہا ہے اور اس کی ساری ذمہ داری اور سرداری بھی اسی کے حصہ میں آتی ہے۔ اس طرح یہ نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد نہایت مشکوک اور متنازعہ ہے۔

دریں حالات حکومت کو جنرل راحیل شریف کی تقرری کے علاوہ اس اسلامی اتحاد کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔ کیا پاکستان نے اس اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ کب اور کیسے کیا گیا۔ اس کے خدوخال کیا ہیں۔ اس اتحاد کےلئے کیا ریاض سے جاری ہونے والا شاہی حکم ہی کافی ہے یا خودمختار ملکوں کے درمیان طے ہونے والے معاہدوں کی طرح اس نئے اتحاد میں شامل ہونے والے ملکوں کی قیادت نے مل کر کوئی فیصلہ کیا ہے، یادداشت تیار کی ہے اور کسی نتیجہ پر پہنچے ہیں۔ وہ دستاویز یا اس میں شامل رہنما اصولوں سے آگاہی اہل پاکستان کا حق ہے۔ اگر 39 ممالک واقعی ایسا فوجی اتحاد بنانے پر متفق ہوئے ہیں تو اس کا فوجی اور انتظامی ڈھانچہ کیسے استوار ہوگا اور اس کےلئے مالی وسائل کون فراہم کرے گا۔ اس فوجی اتحاد کی کمان میں فوجی دستے کن ملکوں میں کون سی سیاسی قیادت کی ہدایت پر کارروائی کریں گے۔ اگر یہ سارے اختیارات سعودی عرب کو حاصل ہوں گے اور پاکستان کی حکومت محض سعودی عرب سے اپنے تعلق اور ملک کے عوام کے ایک طبقہ کی عقیدت کی وجہ سے سعودی شاہی خاندان کے فیصلوں کو مان رہی ہے تو اس بارے میں بھی وضاحت سامنے آنی چاہئے۔

ملک میں یہ غلط فہمی پیدا کی گئی ہے کہ حرمین شریفین اور سعودی عرب ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ اسی طرح سعودی بادشاہ چونکہ خود کو خادم حرمین شریفین کہلاتا ہے، اس لئے اس کا حکم سب مسلمانوں کو بجا لانا چاہئے۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ شاہ عبدالعزیز بن السعود نے گزشتہ صدی کے شروع میں نجد اور حجاز میں فتوحات حاصل کیں اور برطانوی فوجی مدد سے حرمین شریفین کے حکمران شریف مکہ کو اقتدار اور علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ وہابی مسلک سے سیاسی مفاہمت کی وجہ سے سعودی ریاست کے قیام کے ساتھ ہی ملک بھر میں سخت اسلامی قوانین نافذ کئے گئے۔ دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت اس شرعی تشریح پر یقین نہیں رکھتی جنہیں سعودی شاہی خاندان نے طاقت کے زور پر مروج کیا ہے۔ پھر تیل سے حاصل ہونے والی دولت کے بل بوتے پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے بیشتر اسلامی ملکوں کو یہ نظریات برآمد کرنے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران متعدد مسلمان ملکوں میں پیدا ہونے والے گروہی تصادم جزوی طور سے سعودی پالیسیوں کے مرہون منت ہیں۔

یہ بات بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ کے خلاف برسر پیکار ہے۔ اگرچہ ان دونوں ملکوں کے اختلافات کی نوعیت سیاسی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ علاقے پر تسلط کا خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب کٹر وہابی عقائد کا پرچار کرتا ہے تو ایران شیعہ عقائد کا حامی ہے۔ اس طرح ان دو مسلمان ملکوں کے تصادم کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ اور متعدد مسلمان ملکوں میں فرقہ وارانہ اختلافات صرف عقیدہ تک محدود نہیں رہے بلکہ سماجی اور سیاسی رویوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی قیادت میں بننے والے اسلامی فوجی اتحاد میں ایران اور دیگر شیعہ مسلک کے حامل ملک شامل نہیں ہیں اور پاکستان کی رائے عامہ بھی انہی عقائد کی بنیاد پر اس سوال پر تقسیم ہے۔ کوئی بھی پاکستانی حکومت اس حوالے سے فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں موجود اس صورتحال سے بے خبر نہیں ہو سکتی۔

سب سے پہلے تو سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اسلامی فوجی اتحاد کو باقاعدہ شکل دینے کی ضرورت ہوگی اور اس کی قیادت ایک ملک کی بجائے کسی نئے سیاسی و انتظامی ڈھانچے کے حوالے ہونی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی اس قسم کا مشن لے کر چلنے والوں کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کو اس بات پر آمادہ کرنا ہوگا کہ اگر واقعی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانا ہے تو ایران ، عراق اور شام کو بھی اس اتحاد میں شامل کیا جائے اور سعودی عرب اور ایران سمیت تمام ملک ایک دوسرے کے خلاف ہر قسم کی پراکسی وار کو ختم کریں۔ اس منصوبہ کی تکمیل آسان نہیں ہوگی۔ نہ ہی پاکستان کی حکومت یا دوسرے مسلمان ملک اس حوالے سے غور کر رہے ہیں۔ وہ صرف سعودی خوشنودی کےلئے اس کی ہاں میں ہاں ملا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ سعودی مہم جوئی میں اس کا دست راست بننے کی کوشش کرے۔ پاکستان کو بھارت اور افغانستان کی صورت میں مخالف ہمسایوں کا سامنا ہے۔ وہ ایران کے ساتھ تصادم کی کیفیت پیدا کر کے اپنے لئے مشکلات میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ اس تناظر میں جنرل راحیل شریف کے عزائم اور خواہشات صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہیں۔ اس فیصلہ سے ملک کی تقدیر اور مفادات وابستہ ہیں۔

حکومت پاکستان کو جلد از جلد اس بارے میں پالیسی بیان جاری کرنا ہوگا۔ جنرل راحیل شریف اگر سعودی حکومت کی ملازمت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کم از کم دو برس انتظار کرنے کا پابند کیا جائے۔ حکومت کے نمائندے اس تقرری کو اسلامی امہ کے اتحاد اور قیادت سے تعبیر کرنے کے گمراہ کن تاثرات دینا بھی بند کریں۔ ہر ملک اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔  پاکستان کو بھی اپنے مفادات اور ضرورتوں کو ہی پیش نظر رکھنا چاہئے۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...