حالات حاضرہ


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد اسرائیل پہنچ چکے ہیں جہاں انہوں نے اسرائیل کو امریکہ کا خصوصی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا تنازعہ اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے ہی طے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی اس مسئلہ کا حتمی حل تلاش کرنے کیلئے پیش رفت ہو گی تاہم انہوں نے تسلی کیا کہ انہیں ابھی پتہ نہیں ہے کہ یہ کیسے ہو گا۔ اس سے قبل کل رات انہوں نے ریاض میں مسلمان و عرب ملکوں کے سربراہوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور مسلمان ملکوں پر واضح کیا کہ انہیں خود اس جنگ کو لڑنا ہو گا اور مذہب کے نام پر خوں ریزی کرنے والوں کو اپنے معاشروں اور اس دنیا سے نکال باہر کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک صرف امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتے بلکہ انہیں خود یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ کیسا مستقبل چاہتے ہیں اور کس ماحول میں اپنے بچوں کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عقائد ، فرقوں یا مختلف تہذیبوں کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ ایسے مجرموں کے خلاف لڑائی ہے جو مذہب کے نام پر معصوم لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ یہ نیکی اور بدی کے درمیان لڑائی ہے۔ تاہم ان کی تقریر کی بنیاد ایران کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دینے پر تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

اپنے ملک میں روس کے ساتھ تعاون کے الزامات اور ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی کو برطرف کرنے کے سوال پر تحقیقات ، انکشافات اور شدید سیاسی بحران کا سامنا کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے ہیں۔ ائر پورٹ پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ برس اپنی طویل انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں سخت نفرت انگیز اور تند و تیز باتیں کرتے رہے تھے، جس کی وجہ سے دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت ان کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکارنہیں ہے تاہم اسلامی دنیا کی سربراہی کرنے والے ملک سعودی عرب میں فراخدلی اور جوش و خروش سے صدر ٹرمپ کا استقبال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 50 سے زائد اسلامی و عرب ملکوں کے سربراہان ٹرمپ کے ساتھ ظہرانے میں شرکت اور اسلامی فوجی اتحاد کے معاملہ پر ان کی طرف سے حمایت کے الفاظ سننے کیلئے سعودی دارالحکومت میں جمع ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے اپنے غیر ملکی دورے کیلئے ایک مسلمان ملک سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ طویل عرصہ تک مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں سخت باتیں کرنے کے بعد اب ٹرمپ اس دورہ سے اپنی زبان سے لگائے ہوئے زخموں کا مداوا کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ آج مسلمان ملکوں کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی دنیا سے مخاطب ہوں گے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کو اسلام کے اصولوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسلمان دنیا سے اس کے خلاف جنگ تیز کرنے کی اپیل کریں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے انتہا پسندی کو ملک کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔ کل اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج دہشت گردوں اور دہشت گردی سے لڑ سکتی ہے اور پاک فوج نے اس میں شاندار کامیابی بھی حاصل کی ہے لیکن انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور قوم کے نوجوانوں کو اس رویہ سے بچانے کیلئے پورے معاشرہ اور اس کے اداروں کو کام کرنا پڑے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ملک کی 50 فیصد آبادی 25 برس سے کم عمر لوگوں پر مشتمل ہے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو ایک مقصد اور واضح شناخت دینے میں ناکام رہتے ہیں تو صورتحال ابتر ہو سکتی ہے۔ آج سے دس برس بعد یا تو ہم اپنے نوجوانوں کی درست نشاندہی کر کے اس کے ثمرات سے استفادہ کر سکتے ہیں یا پھر نوجوانوں کی ایسی کثیر تعداد کا سامنا ہو گا جن میں سے بہت سے انتہا پسندی کی طرف رجوع کر رہے ہوں گے۔ پاک فوج کے سربراہ کے اس انتباہ سے گریز ممکن نہیں ہے اور نہ ہی ان کی باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس گفتگو کے تناظر میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں سماجی رویوں میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران جو تبدیلی رونما ہوئی ہے، اس کا تدارک کیسے ممکن ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ملک میں ناقص گورننس اور انصاف کی عدم دستیابی کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں لیکن جمہوری اداروں کی ناکامی کی وجاہات میں اگر بدعنوانی ، خاندانی سیاست اور جاہ پسندی شامل ہیں تو ادارہ جاتی تصادم بھی ایک اہم وجہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

گزشتہ ماہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک طالبعلم مشعال خان کو تشدد کر کے قتل کرنے کے معاملہ میں جو معلومات سامنے آئی ہیں، وہ یہ واضح کرتی ہیں کہ توہین مذہب کے معاملہ میں جھوٹا الزام لگانے کے بعد خواہ ملک کا وزیراعظم اور چیف جسٹس انصاف فراہم کرنے کا وعدہ اور کوشش کریں لیکن اس بارے میں تعصب اور بدگمانیاں دور نہیں ہوتیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سوموٹو نوٹس کے تحت اس معاملہ کی نگرانی کر رہے ہیں اور اس جرم میں ملوث لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ تاہم آج کی سماعت کے دوران مشعال خان کے والد اقبال خان کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس قتل کے بعد مشعال خان کی بہنوں کیلئے اپنے علاقے میں تعلیم حاصل کرنا دشوار ہو چکا ہے۔ اس لئے ان کی تعلیم کا اسلام آباد میں انتظام کیا جائے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اقدام عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو تحفظ اور بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔ اقبال خان نے اپنے بیٹے کے قتل کی تفصیل بتاتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ہجوم 5 گھنٹے تک مشعال خان کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا اور اس کے مرنے کے بعد بھی لاش کی بے حرمتی کی جاتی رہی۔ اس موقع پر اعلیٰ افسروں سمیت پولیس کی نفری وہاں موجود تھی لیکن انہوں نے مداخلت نہیں کی۔ انہوں نے استغاثہ کے اس دعویٰ پر کہ اس مقدمہ میں کل 53 افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں، عدالت کو بتایا کہ پولیس نے صرف ایکٹر پکڑے ہیں، ڈائریکٹرز کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

بیجنگ میں منعقد ہونے والا ون روڈ ون بیلٹ فورم کا دو روزہ اجلاس اختتام پذیر ہوا ہے۔ اگرچہ اس موقع پر کی جانے والی تقریروں اور مباحث کی حیثیت رسمی تھی کیونکہ 2013 سے شروع کئے اس نظریہ پر چین کی طرف سے متعدد ملکوں میں کام کا آغاز کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم چین کی دعوت پر 130 ملکوں اور 70 بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کا بیجنگ میں اجتماع چین اور اس اقتصادی منصوبہ کی شاندار کامیابی کی خبر دیتا ہے۔ چین کے صدر ژی جن پنگ نے اپنے اختتامی اجلاس میں اس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ چین سب ملکوں کو انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اور معاشی نمو کیلئے تعاون اور سہولتیں فراہم کرنے کا خواہشمند ہے۔ ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خواہشمند نہیں ہیں اور نہ ہی ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ کوئی توسیع پسندانہ استحصالی منصوبہ ہے بلکہ اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ دنیا کے ملک مل جل کر معاشی ترقی اور عوام کی غربت دور کرنے کیلئے زیادہ بہتر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔ ون روڈ ون بیلٹ کا منصوبہ اس حوالہ سے امکانات فراہم کرے گا جس میں ہر ملک اپنی ضرورت اور خواہش کے مطابق کردار ادا کر سکتا ہے۔ صدر جن پنگ نے کہا کہ یہ منصوبہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس لئے سب ملکوں کو اس عالمی کاوش کا حصہ بننا چاہئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 مئی 2017

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں آج سے ’’ون بیلٹ ون روڈ فورم‘‘ کا دو روزہ اجلاس شروع ہوا ہے۔ اجلاس میں شرکت کیلئے 130 ملکوں کے نمائندے چین کی دعوت پر بیجنگ آئے ہیں جبکہ 29 ملکوں کے سربراہان مملکت  وحکومت اس موقع پر شریک ہیں۔بحری اور بری مواصلات پر مبنی یہ منصوبہ پایہ تکمیل کے بعد دنیا کے 60 فیصد تجارت کو متاثر کرے گا۔ اس وقت امریکہ کے علاوہ بعض یورپی ملکوں کی طرف سے اس منصوبہ کی مزاحمت کی جا رہی ہے جبکہ بھارت نے براہ راست اس کی مخالفت کی ہے اور صدر ژی جن پنگ کی دعوت کے باوجود بھارتی وزیراعظم نے اس اہم عالمی اجتماع میں شرکت سے انکار کیا ہے۔ بھارت کو سی پیک کے روٹ پر اعتراض ہے جو گوادر سے پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا کاشغر تک جائے گا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ مواصلاتی روٹ گلگت بلتستان سے گزرے گا جو متنازعہ علاقہ ہے لیکن بھارت اس معاملہ پر پاکستان کی متعدد بار دعوت کے باوجود مذاکرات پر آمادہ نہیں ہے تا کہ تنازعہ کشمیر کو دونوں ملک بات چیت کے ذریعے حل کر لیں۔ اس کے علاوہ بھارت اس معاملہ پر عالمی یا تیسرے فریق کی ثالثی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ہمراہ ون بیلٹ ون روڈ فورم کے اجلاس میں شرکت کیلئے اس وقت بیجنگ میں موجود ہیں۔ فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سی پیک کو اس بین الملکی عالمی مواصلاتی نظام کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ اقتصادی ترقی اور لوگوں کو قریب لانے کا منصوبہ ہے۔ اس کی جغرافیائی حدود نہیں ہیں۔ اسے متنازعہ بنانے کی بجائے اس کے ذریعے تعاون بڑھا کر تنازعات حل کئے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 مئی 2017

پاکستان کے منجھے ہوئے سیاستدان اور دانشور چوہدری اعتزاز احسن نے ڈان لیکس کے سوال پر آج سینیٹ میں ایسی باتیں کی ہیں جو پاکستان کی گروہی سیاست کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے ایک طرف فوج پر الزام لگایا کہ اس نے سول حکومت کے سامنے سر جھکا دیا تو دوسری طرف حکومت پر طنز کیا کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہوئے بھی خوف محسوس کرتی ہے کہ فوج نے اس سے معافی مانگ لی ہے۔ اگر یہ باتیں اعتزاز احسن جیسے منجھے ہوئے اور سیاست کے زیرو بم دیکھے ہوئے شخص کی بجائے پیپلز پارٹی کا کوئی دوسرا لیڈر کرتا تو شاید اتنا برا نہ لگتا۔ اعتزاز احسن جیسے سیاستدانوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ گفتگو کرتے ہوئے صرف اپنی پارٹی کی محرومی کو پیش نظر رکھنے کی بجائے حقیقت احوال کو بھی سامنے رکھیں گے تا کہ ملک میں طاقت کے توازن کے حوالے سے جو مشکلات موجود ہیں، ان سے نمٹنے کیلئے مناسب راستہ تلاش کیا جا سکے۔ اگر اعتزاز احسن جیسے سیاستدان بھی صرف اپنی پارٹی کا سیاسی موقف سامنے لانے کیلئے حکمران پارٹی کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے تا کہ اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے تو فوج اور سیاسی حکومت کے درمیان جو توازن وقت اور ملکی مفاد کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اسے کبھی قائم نہیں کیا جا سکے گا۔ اعتزاز احسن کو بخوبی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ سیاسی لیڈروں کے اسی قسم کے جاہ پسندانہ اور مفاد پر مبنی طرز عمل کی وجہ سے فوج کو منتخب لیڈروں پر برتری حاصل ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 مئی 2017

بی بی سی نے اطلاع دی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپریل کے آخر میں بھارتی صنعتکار سجن جندال اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ملاقات کے بارے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اعتماد میں لیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ یہ ملاقات بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ تھی۔  ڈان لیکس کے معاملہ پر حکومت اور فوج میں مفاہمت کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ خبر ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کیلئے وزیراعظم ہاؤس نے 29 اپریل کو اعلامیہ جاری کیا تھا جسے اسی روز آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے درشت انداز میں مسترد کر دیا تھا۔ نواز شریف کی جندال سے ملاقات سے ایک روز پہلے یعنی 28 اپریل کو ہوئی تھی، اس لئے بہت سے مبصر ڈان لیکس کے سوال پر فوج کے ردعمل کو دراصل اس ملاقات پر برہمی سے تعبیر کر رہے تھے۔ وزیراعظم ہاؤس یا وزارت خارجہ نے اس ملاقات کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ البتہ مریم نواز نے ایک ٹویٹ پیغام میں اس حوالے سے سنسنی پیدا کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف اور سجن جندال پرانے دوست ہیں۔ یہ دو دوستوں کے درمیان ملاقات تھی۔ اسی دوران پاکستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کے اعلان کے بعد بھارت کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور اسے ’’بھارت کا بیٹا‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس تناظر میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ سجن جندال بھارتی وزیراعظم کی طرف سے کلبھوشن کیلئے رعایت لینے  نواز شریف سے ملنے آئے تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 مئی 2017

ڈان لیکس کے سوال پر فوج کی بظاہر پسپائی اور حکومت کی اخلاقی اور سیاسی فتح پر اس کے مخالفین خوش نہیں ہیں۔ ایک روز پہلے تک اس معاملہ پر فوج اور حکومت کے درمیان اختلاف کی خبریں سامنے آ رہی تھیں اور اپوزیشن جس میں پاکستان تحریک انصاف پیش پیش تھی، اس معاملہ پر بڑا سیاسی تماشہ لگانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ پاناما کیس میں ’’فتح‘‘ حاصل کرنے کے باوجود عمران خان وزیراعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کر سکے۔ اس بات کا اندازہ تو 2018 کے انتخابات میں ہی ہو گا کہ وہ کس حد تک نواز شریف کی مقبولیت اور مسلم لیگ (ن) کی انتخابات جیتنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکے ہیں۔ البتہ فوری طور پر سپریم کورٹ نے منقسم فیصلہ دے کر اور معاملہ جے آئی ٹی کے سپرد کر کے سیاستدانوں کیلئے نعرے بازی کرنے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ پر وزیراعظم ہاؤس کے اعلامیہ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ گو کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے فوج کے سخت رویہ کو اپنے لئے کھل کھیلنے کا ایک نادر موقع سمجھا اور وزیراعظم کو دبانے اور غلط ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا لیکن ملک بھر میں فوج کے ترجمان کے لب و لہجہ پر تشویش کا اظہار سامنے آیا۔ حکومت نے بھی اس ٹویٹ کے الفاظ پر ناپسندیدگی ظاہر کی۔ فوج اور حکومت کی قیادت میں چند ملاقاتوں میں یہ معاملہ اس طرح طے ہوا کہ فوج نے اپنا موقف تبدیل کر لیا اور آئین اور جمہوریت کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 مئی 2017

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کو اپنے سیاسی معاملات طے کرنے کا اکھاڑہ بنایا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ پاناما کیس کے علاوہ اب عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کیلئے درخواستوں پر بھی غور کر رہی ہے۔ یہ مقدمہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے دائر کیا ہے اور اس میں عمران خان سے بنی گالہ میں اپنی عالیشان رہائش گاہ کی خریداری کے حوالے سے سوال کئے جا رہے ہیں۔ اب تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے سپریم کورٹ میں نواز شریف کے خلاف مزید دو مقدمے قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے ایک میں اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس مقدمہ میں نواز شریف سمیت کئی سیاستدانوں پر 1990 کے انتخابات سے پہلے ایک انٹیلی جنس ایجنسی سے رقوم وصول کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔ تاہم پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس فیصلہ کی روشنی میں تحقیقات کرنے اور قصور واروں کو سزا دلوانے کیلئے اقدام نہیں کیا تھا۔ تحریک انصاف کی طرف سے دوسرے مقدمے میں نواز شریف پر القاعدہ کے بانی اور عالمی شہرت یافتہ دہشت گرد اسامہ بن لادن سے ڈیڑھ ارب روپے وصول کرنے کا الزام عائد کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف یہ مقدمہ آئی ایس آئی کے سابق افسر خالد خواجہ کی بیوہ کی کتاب میں فراہم کی گئی معلومات کی بنیاد پر دائر کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح ملک میں سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گا اور الزام تراشی کے رجحان میں اضافہ ہو گا۔

مزید پڑھیں

Islamic Council Norway Fails Muslims and the Society

By hiring Nikab-wearing Leyla Hasic, Islamic Council Norway has taken a clear stand in a controversial debate. Norwegian Muslims neither are represented nor served with t

Read more

loading...