حالات حاضرہ


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی صورت میں مشترکہ دشمن سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جی ایچ کیو میں ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آرمی چیف نے اس حوالے سے افغانستان کی تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے اور ان پر مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ بیان جمعرات کو سہون شریف میں دہشت گرد حملہ کے بعد اختیار کئے گئے رویہ اور لب و لہجہ سے بالکل مختلف ہے۔ پاک فوج نے اس حملہ کے بعد افغان سفارت خانہ کے نمائندے کو طلب کر کے افغانستان کے علاقے میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور 76 افراد کی ایک فہرست افغان حکام کے حوالے کی گئی تھی کہ انہیں فوری طور پر پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ جمعہ کے روز پاک فوج نے سرحد پر افغان علاقے میں جماعت الاحرار کے ایک تربیتی کیمپ پر گولہ باری کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ پاکستان کی سرحد پار کارروائی نہ کرنے کی پالیسی کو چیلنج کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ یہ صاف اور دو ٹوک بیان تھا۔ اس سے یہی سمجھا جا رہا تھا کہ اگر افغانستان نے پاک فوج کی فراہم کردہ فہرست میں شامل لوگوں کو ٹارگٹ نہ کیا اور انہیں گرفتار نہ کیا گیا تو پاک فوج خود سرحد پار کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ تاہم آرمی چیف کا آج کا بیان اس جارحانہ حکمت عملی کے برعکس ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

ایک ہفتہ کے دوران متعدد دہشت گرد حملوں نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی اور قومی ایکشن پلان کی موجودگی کے باوجود یہ سانحات کیوں کر رونما ہو سکتے ہیں۔ خاص و عام اس بحث میں مصروف ہیں اور اپنی اپنی ذہنی ایچ اور معلومات کی استعداد کے مطابق جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ البتہ جن کے پاس اس معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے ذرائع ہیں اور جو وہ سب جانتے ہیں جو دوسرے نہیں جانتے، اس کا الزام سرحد پار تربیتی مراکز اور وہاں سرگرم پاکستان دشمن دہشت گردوں پر دھر کے افغانستان کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں مشتبہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں کئی لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے رینجرز کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور میونخ میں سکیورٹی امور سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے اچھے اور برے طالبان کی تخصیص کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں یا انتشار اور بدامنی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ افغانستان میں جاری تصادم خانہ جنگی نہیں ہے۔ البتہ وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کہ وہ اسے کیا نام دینا پسند کریں گے۔ کیونکہ افغان حکومت طالبان کو ختم بھی کرنا چاہتی ہے اور ان سے مذاکرات کرنے کی خواہشمند بھی ہے۔ اسی دوران سابق امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کی 2011 کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ بھارت نے حسب معمول اس سے انکار کیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

آہوں اور سسکیوں کے درمیان ملک بھر کے شہروں اور دیہات میں ان شہدا کو سپرد خاک کر دیا گیا جو کل رات سہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر حاضری کے دوران خودکش حملہ آور کے بم دھماکہ کا نشانہ بنے تھے۔ 5 روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں یہ دسواں حملہ تھا اور سب سے زیادہ شدید اور مہلک بھی ثابت ہوا۔ مرنے والوں کی تعداد 88 تک جا پہنچی ہے اور 300 سے زائد لوگ زخمی ہیں جن میں سے 70 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ یہ ایک المناک صورتحال ہے۔ حکومت و سکیورٹی فورسز کے علاوہ عوام کی بڑی اکثریت ایک صوفی بزرگ کی درگاہ پر دھمال ڈالنے والوں پر اس بزدلانہ حملہ پر شدید غم و غصہ کی کیفیت میں ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس حملہ کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے اور افغان سفارت خانہ کے نمائندہ کو طلب کر کے افغانستان میں موجود 76 دہشت گرد لیڈروں کے خلاف کارروائی کرنے یا انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے ایک صوفی بزرگ کے مزار پر حملہ کی مذمت کی ہے لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وہ پاکستان میں حملوں میں ملوث لوگوں کو پاکستان کے حوالے کریں گے یا ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ افغان سکیورٹی فورسز کسی مسلح گروہ کے خلاف موثر کارروائی کرنے کی اہل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ افغان حکومت کو اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے پاکستان کے طرز عمل سے شکایت رہتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں ملک میں عربی کی لازمی تعلیم پر غور کرتے ہوئے حکمران پارٹی کی رکن اسمبلی نے بتایا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا سبب طالب علموں کی عربی زبان سے ناشناسائی ہے۔ اس لئے فوری طور پر عربی کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کا اہتمام ہونا چاہئے تاہم متعلقہ وزارت کی طرف سے واضح کیا گیا کہ نہ تو اس مقصد کیلئے وسائل موجود ہیں اور نہ ہی مناسب تعداد میں عربی کے استاد دستیاب ہیں۔ البتہ اس دلیل پر کسی نے سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ آخر عربی جاننے اور دہشت گردی کا باہم کیا رشتہ ہے۔ گو کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی سید علی رضا عابدی نے یہ ضرور کہا کہ عربی بولنے والے بھی تو دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق اقلیتی اور مسترد کی گئی پارٹی سے ہونے کی وجہ سے اس بات کو مزید بحث کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد عمر نےعربی زبان کی تدریس کے بارے میں تو اظہار خیال نہیں کیا لیکن ان کا موقف تھا کہ مساجد میں قرآن کی ترجمہ کے ساتھ تدریس کا اہتمام کرنا بے حد ضروری ہے۔ ان کے خیال میں اسلام آباد کی بیشتر مساجد قرآن دانی میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ اس پرجوش استدلال سے بھی یہ جاننا مشکل ہے کہ اگر ملک کے سب طالب علم قرآن کے اسباق ازبر کر لیں گے تو اس سے ملک میں دہشت گردی کا تدارک کیوں کر ممکن ہو گا۔ البتہ ملک کے جمہوری نظام کے سب سے بڑے ایوان میں موجود فاضل اراکین کے خیالات اور تبصروں سے یہ اندازہ بہرصورت کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کی مذمت کے باوصف یہ نمائندے عوام کی حفاظت کیلئے اقدامات کو اپنی ذمہ داری سمجھنے سے قاصر  ہیں اور وہ یہ بھی جاننے کی زحمت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرہ سے کیوں کر نمٹا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

وزیر اعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردوں ، ان کے مالی معاونین اور عملی سہولت کاروں کے خلاف ملک گیر کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ خان نے لاہور میں ہونے والے دھماکے کو ملک کے خلاف سازش قرار دیا ہے کیونکہ ملک تیزی سے ترقی کررہا تھا، سیاح پاکستان میں آنے لگے تھے اور لاہور میں پاکستان سپر لیگ کا فائنل ہونے والا تھا ، جو بقول صوبائی وزیر ملک کے دشمنوں کو منظور نہیں تھا۔ انہوں نے کل بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ کی طرف اشارہ کیا تھا تاہم آج وہ یہ واضح کررہے تھے کہ ذمہ داروں کا تعین حادثہ کی فورنزک رپورٹ آنے اور تحقیقات کی تکمیل کے بعد کیا جا سکے گا۔ ملک کے اعلیٰ لیڈروں کی باتیں سننے کے بعد یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ یہ ملک گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور اس کے لوگ مسلسل یہ دعوے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ دہشت گردوں کو نیست و نابود کردیا جائے گا۔ ہر سانحہ کے بعد ملک کے لیڈر دو چار دن مستعدی سے سخت بیانات دیتے ہیں تاکہ عوام کو یقین ہو سکے کہ حکومت پوری مستعدی سے ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کام کررہی ہے۔ اس کے بعد آئیندہ کسی سانحہ کے رونما ہونے تک پراسرا خاموشی اختیار کرلی جائے گی۔ یہ سلسلہ اتنا پرانا ہے کہ اب لوگوں نے ایسے بیانات کو پڑھنا بھی چھوڑ دیا ہے، ان پر یقین کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 فروری 2017

لاہور میں ہونے والے خودکش دھماکہ میں 20 کے لگ بھگ افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں دو اعلیٰ پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ دھماکہ شام کے وقت پنجاب اسمبلی کے سامنے جمع ایک احتجاجی جلوس کے موقع پر ہوا۔ حملہ کرنے کا طریقہ دہشت گردوں کا آزمودہ ہتھکنڈہ ہے۔ انہوں نے اس جلوس کو آسان ٹارگٹ سمجھ کر نشانہ بنایا اور اس مقصد میں کامیاب رہے۔ متعدد انسانوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ وہ ملک بھر کے باشندوں میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حکومت متعدد اقدامات کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے کے جو دعوے کرتی ہے، اس قسم کا ایک واقعہ ان کا پول کھول دیتا ہے۔ اس کے باوجود صدر پاکستان، وزیراعظم اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حسب معمول اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کے حکمرانوں کی نیت پر شبہ کرنا محال ہے لیکن یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ 20 برس تک دہشت گردی سے نمٹنے کے بعد بھی اس ملک کی سکیورٹی و انٹیلی جنس ایجنسیاں آخر ان عوامل کو ختم کرنے میں کیوں ناکام ہو رہی ہیں جو تسلسل سے حملے کرنے، انسانوں کو بے مقصد ہلاک کرنے اور ریاست پاکستان کو بے بس ثابت کرنے میں کامیاب ہیں۔ پاک فوج دو برس سے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور قبائلی علاقوں سے ان کے اڈے ختم کرنے کیلئے جنگ کر رہی ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کے دعوے بھی دن رات سننے کو ملتے ہیں لیکن دہشت گرد یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں کہ انہوں نے کہاں اور کس جگہ کو نشانہ بنانا ہے۔ وہ مقام کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ پشاور ، کوئٹہ یا لاہور۔۔۔۔۔۔ ان تخریبی عناصر کو ہمدرد اور سہولت کار مل جاتے ہیں۔ لیکن ریاست پاکستان کے ادارے ان کے متحرک ہونے سے پہلے ان کا قلع قمع کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 فروری 2017

مقبوضہ کشمیر میں 8 افراد کی ہلاکت سے ایک بار واضح ہوگئی ہے کہ بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی و منشا کے بغیر اس علاقے پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ وہ بے پناہ فوجی قوت کے ذریعے وادی کے عوام کی آواز کو دبانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے لیکن اس میں مسلسل ناکام ہے۔ گو کہ بھارت میں بھی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے معقول آوازیں بلند ہوتی ہیں اور ملک کی بھلائی اور اپنے فیصلے خود کرنے کے بنیادی انسانی حق کے علمبردار اس حوالے سے اپنے حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھنے اور ملک کے وسیع تر مفاد اور بھلائی میں فیصلے کرنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ لیکن مقبول عوامی نعروں اور جذبات کی بنیاد پر برسر اقتدار آنے والی پارٹی جو اس وقت بھارت میں بھی حکمران ہے، انتہا پسندانہ نعروں کو ہی مسئلہ کا حل قرار دے رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک رویہ ہے۔ بھارت کے موجودہ حکمرانوں کا خیال ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی لحاظ سے تنہا کر کے اور سرحدوں پر فوجی دباو¿ میں اضافہ کے ذریعے، اس قدر مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خود اختیاری کیلئے آواز بلند کرنا بند کر دے۔ اس سطحی اور ناقابل عمل طرز سیاست کا شاخسانہ ہے کہ نریندر مودی اور ان کے ہم خیال سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان کو اپنے مسائل میں الجھا دیا جائے اور اسے مسلسل بھارت کی طرف سے حملہ کے خطرہ سے نمٹنے کی تیاری کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو پاکستان بالآخر کشمیر کے سوال پر بھارتی موقف کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا۔ اس طرح بھارت کشمیریوں کو تنہا کرنے کے مقصد میں کامیاب ہو سکے گا اور پھر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے سامنے بھارتی سرکار کے ساتھ کوئی ہتک آمیز سیاسی معاہدہ کرنے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 فروری 2017

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کافی عرصہ سے بداعتمادی کی خلیج حائل ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہے۔ نہ امریکہ یہ فیصلہ کر پا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے کیلئے کون سا راستہ اختیار کرے اور نہ پاکستانی قیادت ان رویوں کو ترک کرنے پر آمادہ ہے جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ البتہ طے ہے کہ امریکہ میں خواہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے غیر روایتی اور اچانک اور عجیب و غریب فیصلے کرنے والے شخص ہی کی حکومت کیوں نہ ہو، وہ جوہری توانائی کے حامل ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے یا اس کے ساتھ دشمنی کا رشتہ استوار کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ امریکہ افغانستان کے علاوہ عراق اور شام کی خانہ جنگی، لیبیا اور یمن کی غیر یقینی صورتحال اور مسلمانوں میں عام طور سے مغرب کے بارے میں بڑھتے ہوئے اندیشوں میں یوں گھرا ہوا ہے کہ اسے کسی نئے بحران کی ضرورت نہیں ہے۔ یوں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں بنیادی نکتہ امریکہ کی سلامتی کا حصول ہے۔ اپنے انتخابی نعروں اور تاجرانہ مزاج و پس منظر کی وجہ سے وہ تنازعہ ، جنگ یا فساد سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ وہ جانتے ہوں گے کہ امریکہ کی سرحدوں سے دور عسکری کارروائیوں کے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ افغانستان اور عراق کی جنگ نے امریکی معیشت کو جتنا نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا اعتراف کئے بغیر بھی اس کے آثار و شواہد دیکھنا مشکل نہیں ہے۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی عوام بے روزگاری اور بگڑتے ہوئے معاشی حالات سے تنگ آ چکے ہیں اور ان کی اصلاح کیلئے ٹرمپ کو بھی اپنا صدر بنانے کیلئے تیار ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 فروری 2017

پاکستانی فوج کی کور کمانڈرز کانفرنس میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جارحیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس قسم کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے کبھی اندازے کی غلطی ہو سکتی ہے جو کسی بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ 2016 کے دوران بھارت نے متعدد بار لائن آف کنٹرول پر شدید فائرنگ کی ہے جس میں بھاری اور مہلک ہتھیار استعمال کئے گئے ہیں۔ ان اشتعال انگیز کارروائیوں میں پاکستان کے 46 شہری اور فوجی شہید ہوئے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے جوابی فائرنگ میں بھی بھارت کے 40 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال کسی کی فتح یا شکست نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی جنگ نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے۔ وگرنہ گزشتہ 2 برس کے عرصہ میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے پاکستان کے خلاف جس معاندانہ اور غیر مفاہمانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی روشنی میں یہ قیاس غلط نہیں ہو گا کہ بھارت کو اگر جنگ کی صورت میں کامیابی کا یقین ہوتا تو وہ لازمی پاکستان کے خلاف بڑی جنگ شروع کرنے سے بھی گریز نہ کرتا۔ اس دوران پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے بھارت کی طرف سے تیزی سے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی خفیہ سرگرمیوں کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بھارت نے ایک خفیہ نیوکلیئر شہر آباد کیا ہے جہاں کسی کنٹرول کے بغیر جوہری مواد کو ہتھیار بنانے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس طرح بھارت 500 کے لگ بھگ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 فروری 2017

لگتا ہے موجودہ حکومت کو متحدہ قومی موومنٹ کے بانی رہنما الطاف حسین کی سیاست ہمیشہ کیلئے دفن کرنے  پریقین ہے۔ اسی لئے اب وزارت داخلہ نے متحدہ کے رہنما کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس وارنٹ کے تحت انٹرپول کے ذریعے اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس سے الطاف حسین کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ 2013 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد رینجرز کے ذریعے کراچی کے حالات کو بہتر بنانے اور ایم کیو ایم کی سیاسی قوت کو تحلیل کرنے کی متعدد کوششیں کی ہیں۔ الطاف حسین اور ان کے ساتھی اگرچہ 2008 سے 2013 کے درمیان مرکز اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کرتے رہے تھے اور دونوں پارٹیوں نے مل کر حکومت کی تھی لیکن پیپلز پارٹی مرکز میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سندھ میں بھی ایم کیو ایم کے ساتھ معاملات طے نہیں کر سکی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں سیاسی طور سے مستحکم ہونا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنے سے اختیار کے علاوہ وسائل بھی تقسیم کرنا پڑتے ہیں۔ اس طرح الطاف حسین سندھ کے شہری علاقوں میں مسلسل مقبول اور مستحکم ہو رہے تھے۔ تاہم الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف اقدامات صرف برسر اقتدار سیاسی پارٹیوں کی خواہش نہیں ہے بلکہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ بھی الطاف حسین کی حرکتوں ، بے سروپا باتوں اور تقریروں سے عاجر آ کر ان کی سیاسی قوت کو توڑنا چاہتی تھی۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more

loading...