حالات حاضرہ


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے عیدالفطر کے موقع پر سکیورٹی اداروں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے تا کہ خوشی کے اس تہوار پر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ اہل پاکستان کو خوش ہونا چاہئے کہ ان کے وزیر داخلہ ان کی حفاظت کے بارے میں اس قدر فکرمند ہیں۔ اگر وہ یہ ہدایت جاری نہ کرتے تو سوچئے کہ کیا ہوتا۔ ہو سکتا ہے ملک میں سکیورٹی فراہم کرنے والے اداروں کو خبر ہی نہ ہو پاتی کہ عیدالفطر آ گئی ہے۔ لاکھوں عید لوگ کی نماز ادا کرنے اور خوشیاں منانے کیلئے گھروں سے نکلیں گے۔ اس موقع پر ان کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ حیرت ہے کہ چوہدری نثار علی خان کو یہ خیال جمعتہ الوداع کے موقع پر نہیں آیا کہ وہ حفاظتی انتظامات کرنے والے اداروں کو چوکنا کر دیتے تا کہ کوئٹہ اور پارا چنار میں ہونے والے حملوں کو روکا جا سکتا۔ ان دونوں حملوں میں آخری اطلاعات آنے تک 64 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں شدید زخمی حالت میں اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اپنے چہیتے اور چوکنے وزیر داخلہ سے یہ کہنا تو نامناسب ہو گا کہ وہ کل ہونے والی تباہی اور انسانی جانی نقصان کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں لیکن ان سے یہ درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں ہر تہوار اور اہم موقع پر بیان جاری کرنا نہ بھولا کریں۔ تا کہ سکیورٹی ادارے چوکس رہیں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنا یہ بیان کسی خود کار کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے ہر اہم موقع پر جاری کرنے کا اہتمام کر لیں۔ اس طرح انہیں اپنے روزمرہ معمولات میں پریشانی بھی لاحق نہیں ہو گی اور عوام کی حفاظت کا اہتمام بھی ہو سکے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کو تعلقات بحال کرنے کیلئے جو تیرہ مطالبات فراہم کئے گئے ہیں، وہ عملی طور پر قطر کو سعودی عرب اور اس کے طاقتور حلیف ملکوں کی نو آبادیاتی ریاست میں تبدیل کر دیں گے۔ ان مطالبات کا لب و لہجہ حاکمانہ اور غیر مصالحانہ ہے۔ ان مطالبات کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر قطر سعودی  قیادت کی صوابدید اور رہنمائی میں شروع ہونے والے سفارتی ، تجارتی اور سرحدی بائیکاٹ سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے نہ صرف اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہو گا بلکہ یہ غلط پالیسیاں اختیار کرنے پر مالی ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ گویا قطر کو ایک مفتوحہ علاقہ سمجھ کر اس سے مکمل اطاعت اور مستقبل میں ہر طرح سے تعاون کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سفارتی تعلقات کی جدید تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے کہ چند ہمسایہ ملکوں کی طرف سے اپنے حجم اور طاقت کے بل بوتے پر ایک چھوٹے ملک کی خود مختاری ختم کرنے کی ایسی کی کوشش کی گئی ہو۔ اگرچہ امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے گزشتہ دنوں سعودی عرب اور اس کے حلیف ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ مفاہمت کیلئے احتیاط سے کام لیں اور اس بحران حل تلاش کرنے کی کوشش کریں لیکن ان مطالبات کی  جو فہرست سامنے آئی ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ سعودی عرب کو یقین ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت اس کی ہر بے ادائی اور علاقائی تسلط کیلئے ہر قسم کے اقدام کو تائید و حمایت کرے گی۔ یہ مطالبات سامنے آنے کے بعد گزشتہ ہفتہ کے دوران قطر کے سفارتی اور سرحدی بائیکاٹ سے شروع ہونے والا یہ بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

پاکستان میں ایک طرف پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے حوالے سے تنازعہ میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف ’’باخبر اور معتبر‘‘ صحافی اور کالم نگار ملک میں تبدیلی کی خبریں سامنے لا رہے ہیں۔ ان تجزیوں کے مطابق نواز شریف کو ’’فارغ‘‘ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور جولائی و اگست کے درمیان یہ فیصلہ سامنے آئے گا۔ اس موقف کو ٹھوس اور درست ثابت کرنے کیلئے ایک تو یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ ماضی میں تبدیلی ہمیشہ جولائی اور اکتوبر کے درمیان ہی آئی ہے۔ گویا یہ طے ہو چکا ہے کہ آئندہ بھی جب کسی وزیراعظم کو فارغ کیا جائے گا تو وہ اقدام لازمی انہی چار ماہ میں کیا جائے گا۔ اس دلیل کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ نواز شریف کیلئے پاناما تحقیقات میں خود کو بے گناہ ثابت کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اس لئے اس کا منطقی انجام صرف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اقتدار سے محروم کر دیئے جائیں۔ لیکن جس لب و لہجہ اور طریقہ سے ملک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں تجزیئے سامنے لائے جا رہے ہیں، اس سے یہ تاثر تقویت پکڑتا ہے کہ ملک کے وزیراعظم کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ طاقت کے کسی خاص مرکز میں ہو چکا ہے۔ یعنی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کیا رپورٹ سامنے لاتی ہے اور اس مقدمہ کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بینچ اس پر کیا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ عوام کو یہ بتانے اور یقین دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نواز شریف کا زوال نوشتہ دیوار ہے کیونکہ کسی ’’مقتدر اعلیٰ‘‘ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی پر نظر ثانی کر رہی ہے۔ کانگریس میں انتہا پسند ری پبلکن نمائندوں نے پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع یہ اطلاعات دے رہے ہیں کہ امریکہ پاکستان کی اقتصادی و فوجی امداد میں کمی کے علاوہ مزید سخت اقدامات کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ ان اقدامات میں قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں از سر نو اضافہ کرنے کے علاوہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریب ترین حلیف کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا امکان بھی ہے۔ مبصرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کرنے سے افغانستان کی صورتحال میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ نہ ہی یہ امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان امریکی دباؤ کے نتیجہ میں اپنی افغان پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی کرے گا۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے شانہ بشانہ جنگ کرتا رہا ہے۔ بلکہ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کو ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔ امریکہ نے کئی برس سے پاکستان کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھا ہے لیکن وہ بدستور پاکستان پر حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کی حمایت کرنے کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے۔ یوں دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات اور تعاون کا سلسلہ بیک وقت جاری ہے۔ ماہرین کیلئے یہ بات دلچسپی کا موضوع ہے کہ اس پالیسی میں تبدیلی کے کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس سے پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسی کیوں کر متاثر ہو گی اور امریکہ کون سے اہداف حاصل کر سکے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان میں اس وقت کسی محفل میں کوئی گفتگو چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی جیت کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ گرمی، لوڈ شیڈنگ اور اقتصادی مسائل کا شکار پاکستانی قوم کیلئے یہ ایک اچانک اور عظیم خوشی تھی۔ پاکستان ٹیم نے بھارتی ٹیم کو ہر شعبہ میں محدود کر کے زبردست شکست دی ہے۔ اس کامیابی پر خوشی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ کامیابی بھارت جیسے ملک اور اس کی بھاری بھر کم ٹیم کے خلاف حاصل کی گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان نہ صرف سرحدوں پر تصادم کی کیفیت ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی وہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے بارہا مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن بھارت میں نریندر مودی کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ فاصلہ برقرار رکھ کر اور اس طرح پاکستان کو اس خطے میں مسائل کی جڑ قرار دے کر عالمی سطح پر اپنے نئے اور طاقتور دوستوں کے ذریعے پاکستان کو عاجز کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اسی مقصد سے ایک طرف افغانستان کو پاکستان کے خلاف اکسایا جاتا ہے تو دوسری طرف جس ملک کو پاکستان سے اختلاف ہو بھارت بڑھ کر اس کے ساتھ ملنے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکہ کو اگر پاکستان سے کچھ شکایتیں ہوں تو بھارتی سفارت کار بڑھ چڑھ کر انہیں بتائیں گے کہ کس طرح پاکستان جو کہتا ہے، وہ کرتا نہیں ہے۔ ایران کو پاک سعودی تعلقات کی وجہ سے پریشانی ہو تو بھارت  اسے اپنا تعاون پیش کرے گا۔ اور اگر سعودی عرب یمن جنگ میں عدم تعاون کی وجہ سے کبیدہ خاطر ہو تو بھی بھارت صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 جون 2017

امریکہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ اس وقت موجودہ حکومت سابقہ حکومت کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے تاہم پوری صورتحال کا جائزہ لے کر پاکستان اور افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ کانگریس کمیٹی میں بجٹ تجاویز پر بحث کے دوران دو پاکستان دشمن ارکان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔ اس کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کی وجہ سے افغانستان میں امریکہ کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں اس لئے اس ملک کیلئے امریکہ کی امداد فوری طور پر بند کی جائے اور اسے نیٹو سے باہر حلیف کی جو حیثیت دی گئی ہے اسے بھی ختم کیا جائے۔ ان ناقدانہ تبصروں کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے دہت گردی کے حوالے سے پاکستان پر عائد کئے گئے الزامات کو جائز قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ صدر ٹرمپ کی حکومت پاکستان کے بارے میں نئی حکمت عملی لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کی صورتحال کے علاوہ پورے خطے میں استحکام  کے حوالہ سے پاکستان کے ساتھ تعلقات پیچیدہ اور مشکل معاملہ ہیں۔ تاہم ان کے بارے میں پالیسی پر مکمل نظر ثانی کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جا سکے گا۔ کانگریس میں پاکستان دشمن تبصروں پر امریکی وزیر خارجہ کی یہ تصدیق کہ پاکستان علاقے میں دہشت گردی پھیلانے کا سبب بن رہا ہے، شدید تشویش کا باعث ہونی چاہئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 جون 2017

پاکستان میں سیاسی لیڈروں کے احتساب کے حوالے سے اس وقت سنجیدہ اور کسی حد تک جذباتی مباحث عروج پر ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ گزشتہ برس پاناما پیپرز سامنے آنے کے بعد ان میں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات تھے۔ ملک میں ایک بہت بڑا طبقہ یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ اگر موجودہ جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے بنچ نے نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو بدعنوانی کا مرتکب قرار دیا تو یہ ایک پاک صاف معاشرہ تعمیر کرنے کیلئے ایک تابندہ مثال ہو گی۔ تاہم یہ قیاس کرنے والے یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ جے آئی ٹی کے ارکان ، طریقہ کار اور نیت کے بارے میں اتنی دھول اڑائی جا چکی ہے کہ اس کی طرف سے دوٹوک الفاظ میں بھی اگر وزیراعظم کے خاندان کو بدعنوان اور سرکاری حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب قرار دیا گیا تو بھی ملک کے عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ یہ سوال اٹھاتا رہے گا کہ نواز شریف کو جان بوجھ کر ایک سازش کے ذریعے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ قیاس کرنا بھی محال ہے کہ نواز شریف یا ان کے بیٹوں کو مالی بے قاعدگیوں کا مجرم قرار دینے کے بعد ایک پیچیدہ ، مشکل ، طاقت کے مختلف کروں کی کشمکش میں مبتلا اس معاشرہ میں  احتساب کا کوئی واضح نظام استوار ہو سکے۔ یہ امید زیادہ سے زیادہ ایک دل خوش کن خواہش قرار دی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں اس کی عملی شکل سامنے آنا مشکل ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 جون 2017

مبصرین پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے بیان کا تجزیہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے الفاظ کے مختلف مطالب نکالے جا رہے ہیں اور یہ استفسار کیا جا رہا ہے کہ وہ کون سی باتیں ہیں جو نواز شریف نے اس موقع پر کہنے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مناسب وقت آنے پر اس کا اظہار کریں گے۔ بعض تجزیہ نگار وزیراعظم کے اس بیان کو بے حد اہمیت دے رہے ہیں کہ ’’عوام کے فیصلوں کو روند کر مخصوص ایجنڈا چلانے والی فیکٹریاں بند نہ ہوئیں تو آئین اور جمہوریت ہی نہیں ملک کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی‘‘۔ تاہم جے آئی ٹی کے سامنے وزیراعظم کی پیشی اور اس کے بعد ایک تحریری بیان پڑھنے سے ایک بار پھر سے واضح ہو گئی ہے کہ یہ معاملہ بدعنوانی اور اختیارات کے استعمال سے زیادہ سیاسی ہے اور اسے بہرحال سیاستدانوں کے درمیان عوام کے ووٹوں سے ہی طے ہونا ہے۔ البتہ اس مقدمہ کے حوالے سے ملک کے مختلف سیاستدان اور حکمران پارٹی تسلسل سے ایسی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عوام ان کی طرف متوجہ ہوں اور دوسروں کے موقف کو مسترد کر دیں۔ اسی لئے نواز شریف نے آج مختصر پریس بریفنگ میں اس بات پر اصرار کرنا ضروری سمجھا ہے کہ یہ معاملہ نہ تو بدعنوانی کے بارے میں ہے اور نہ ہی سرکاری خزانے سے خرد برد کا کوئی الزام ان پر عائد ہے۔ ان کے خاندانی  کےتجارتی لین دین کو الجھا کر اور اچھال کر سیاسی مخالفین اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بیان کے ذریعے آج رات کو منعقد ہونے والے ٹاک شوز کا ایجنڈا متعین کیا ہے اور یہی ان کے آج کے بیان کا مقصد بھی تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 جون 2017

پاکستان کے شہروں اور دیہات کے ہر چوک اور گلی میں ایک آدھ ایسا شخص ضرور مل جاتا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس ملک کو درپیش مسائل کا حل موجود ہے۔ اگر اسے ایک بار اقتدار میں آنے کا موقع مل جائے تو وہ سارے معاملات کو ٹھیک کر سکتا ہے، بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے، ملک کے غریبوں کے گھروں میں گھی کے چراغ جلا سکتا ہے اور چاروں طرف انصاف و مساوات کا بول بالا کر سکتا ہے۔ بس جو وہ نہیں کر سکتا وہ یہ ہے کہ اس کے پاس اللہ دین کا ایسا کوئی چراغ نہیں ہے جسے رگڑ کر وہ ملک کا بادشاہ نہیں تو وزیراعظم بن سکے۔ اس بے بسی کی وجہ سے وہ خستہ حالی میں دکانداری یا کلرکی کرتا ہے، ہل چلاتا ہے یا مزدوری پر جاتا ہے اور حسب مقدور رشوت بھی لیتا ہے، بے ایمانی بھی کرتا ہے، کام چوری کا مرتکب بھی ہوتا ہے اور اپنے سوا ہر دوسرے شخص کو ملک کی ابتری کا ذمہ دار قرار دے کر اپنے دل کا غبار نکالتا رہتا ہے۔ اب یہ رویہ قومی مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران ملک کے سیاستدانوں نے تواتر سے اس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم ان کی باتوں اور دعوﺅں کو اقتدار کے حصول کے لئے سیاست چمکانے کے ہتھکنڈے قرار دیا جا سکتا ہے۔ البتہ جب ملک کے ادارے اور ان سے وابستہ افراد جن سے پیشہ وارانہ مہارت کی توقع کی جاتی ہے، بھی اسی قسم کے رویہ کا مظاہرہ شروع کر دیں تو افق پر روشنی نہیں تاریکی دیکھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 جون 2017

وزیراعظم نواز شریف بظاہر سعودی عرب کے  دورہ سے مطمئن واپس آئے ہیں۔ وہ کل ایک روز کیلئے اچانک سعودی عرب گئے تھے تا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے ذریعے قطر کے ساتھ پیدا ہونے والے بحران میں کردار ادا کر سکیں۔ اس دورہ میں ان کے ہمراہ وزیر خزانہ اور مشیر برائے امور خارجہ کے علاوہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی تھے۔ سعودی عرب میں ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اور شاہ سلمان نے پاکستانی مہمانوں کو شاہی محل میں افطار ڈنر پر بھی مدعو کیا۔ تاہم ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ  کیاسعودی کیلئے خیر سگالی کا پیغام تھا۔ مشرق وسطیٰ میں یمن کے بعد اب قطر کے ساتھ تعلقات خراب کرنے اور ایران کے ساتھ محاذ آرائی کا اعلان کرنے کے بعد وہ جس مشکل میں پھنسا ہوا ہے نواز شریف نے اس پر سعودی حکمرانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے یا انہیں واقعی بحران کو حل کرنے کیلئے کوئی مفید مشورہ بھی دیا ہے۔ سعودی عرب نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں ریاض کی حکمت عملی کی تائید کرتے ہیں اور ایران کے اثرات کی روک تھام کیلئے سعودی عرب کی ہر کاوش و کوشش کو سراہتے ہیں۔ قطر کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور اس کے خلاف انتہائی اقدامات کرنے کی اصل وجہ بھی ایران کے بارے میں قطری حکمرانوں کا مفاہمانہ رویہ ہے۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنی دولت کی بنیاد پر حاصل کردہ اثر و رسوخ کو ایک چھوٹے لیکن مالی وسائل کے حامل ملک کے خلاف استعمال کرنے کیلئے جو عذر تلاش کیا ہے، اس سے کئی سنگین سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی زد میں پاکستان بھی آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

Conflicts in Conflict

The conflict of Jammu and Kashmir (J&K) is one of the long standing issues of the world. The unfortunate but this unique multi-ethnic, multilingual and multi-religious po

Read more

loading...