حالات حاضرہ


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

کل واشنگٹن میں دن کے بارہ بجے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔ یہ لمحہ دنیا بھر میں بے یقینی اور اضطراب کا لمحہ ہو گا کیونکہ منتخب صدر دنیا کو امریکہ کے مفاد میں اتھل پتھل کر دینے کے عزم سے صدارت سنبھالنے والے ہیں لیکن ان کے لاتعداد ٹوئٹس اور تقریروں کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ دراصل کیا حکمت عملی اختیار کرنے والے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ماضی میں کسی سرکاری یا سیاسی عہدے پر فائز رہنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ وہ بولنے سے پہلے تولنے کے بعد قائل نہیں ہیں۔ اسی لئے امریکی عوام نے ان کی بے ساختگی کی وجہ سے انہیں بڑھ چڑھ کر ووٹ دیئے اور صدر منتخب کیا لیکن اسی غیر ذمہ دارانہ اور جذباتی لب و لہجہ کی وجہ سے امریکہ اور دنیا بھر کے متعدد لیڈر حیران ہیں کہ وہ دنیا کے اہم ترین عہدہ پر فائز ہو کر کیسے اور کیا اقدامات کریں گے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ نئی حکومت فوری اور مستعدی سے اقدامات کرے گی اور امریکی پالیسیوں کو تیزی سے تبدیل کرنے کے کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ جمعرات کو نیویارک سے واشنگٹن روانہ ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے محبوب طریقہ مواصلت ٹوئٹ کے ذریعے یہ پیغام جاری کیا ہے: ’’سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ میں اس سفر کو امریکی عوام کیلئے عظیم سفر بنانے کیلئے سخت محنت کروں گا اور جدوجہد کروں گا۔ مجھے اس بات میں شک نہیں ہے کہ ہم سب مل کر امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا دیں گے۔‘‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

وزیراعظم نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کے مقدمہ کی سماعت کے دوران نواز شریف کو سچا ثابت کرنے کے ساتھ آئین کی شق 66 کے تحت ان کے از خود استثنیٰ کے بات بھی کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اول تو وزیراعظم نے 16 مئی 2016 کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جھوٹ نہیں بولا۔ بالفرض محال اگر یہ ثابت ہو بھی جائے کہ وزیراعظم نے اس تقریر میں جھوٹ بولا تھا تو بھی عدالت آئین کی شق 66 کو نظر انداز نہیں کر سکتی کیونکہ اسے بہرحال آئین کی حدود میں رہتے ہوئے ہی فیصلہ دینا ہو گا۔ شق 66 پارلیمنٹ کے ارکان کو ایوان میں کی گئی باتوں کے خلاف قانونی کارروائی سے استثنیٰ فراہم کرتی ہے۔ مخدوم علی خان اس شق کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عدالت کسی رکن پارلیمنٹ کو ایوان میں کہی ہوئی باتوں پر ملزم قرار دے کر نااہل نہیں کر سکتی۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے وکلا کا موقف ہے کہ پاناما پیپرز کے حوالے سے اپنی اور اپنے اہل خاندان کی املاک کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں جھوٹ بولا تھا، اس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے اور انہیں آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

ایک ایسے ملک میں جہاں اکثریتی حمایت یافتہ بیانیہ سے اختلاف کرنے یا سوال اٹھانے والے کو ہلاک کر دینا جائز سمجھا جاتا ہو، آزادی رائے کے حوالے سے بحث کا تصور بھی محال ہے۔ یہی صورتحال اس وقت پاکستان میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں بعض آزاد آوازوں کو دبانے کیلئے جب بدترین ریاستی استبداد کا مظاہرہ ہوا تو اس ظلم کو مسترد کرنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ یہ لوگ بھی خود پر غیر ملکی ایجنٹ یا مذہب دشمن ہونے کی تہمت لگوانے کا خطرہ مول لے کر ایک سادہ اور آسان بات سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سادہ بات اس بنیادی اصول سے مشتق ہے کہ اگر کوئی غلط کار ہے۔ کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ قومی مفاد پر سودے بازی کی ہے تو اسے مملکت کے قوانین کے مطابق مجاز عدالت سے سزا دلوانے کا اہتمام کیا جائے۔ اسے اس ملک کی بدقسمتی کے سوا کیا کہا جائے گا کہ اس سادہ اصول کو تسلیم کرنے اور اس پر صاد کہنے کی بجائے، اس بحث کا آغاز کر دیا گیا ہے کہ یہ سارے لوگ چونکہ مذہب دشمن ہیں، اس لئے قابل گردن زنی ہیں۔ حالانکہ جواب دعویٰ تو سادہ اور سہل ہے۔ اس ملک میں توہین مذہب کے نام پر ایسے قوانین نافذ ہیں اور ان کی آڑ میں ایسے اقدامات کا مظاہرہ کیا جا چکا ہے کہ جن لوگوں سے ایسا کوئی قصور سرزد ہوا ہے، انہیں صرف باقاعدہ گرفتار کرنا ہوگا، اس کے بعد عدالتی کارروائی کے بغیر برس ہا برس جیلوں میں قید رکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ جو موضوعات سب سے زیادہ زیر بحث ہیں، ان میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف پاناما پیپرز کے حوالے سے مقدمہ ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طورپر تقرری ، اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں سے 5 بلاگرز کا پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانا اور سب سے بڑھ کر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا جوش خطابت ہے جس میں وہ فرقہ پرستی کو دہشت گردی سے علیحدہ کرنے کی بھرپور مگر ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان نے گیارہ برس بعد میلبورن میں ہونے والے وے ڈے میچ میںآسٹریلیا کو شکست دی ہے۔ اس میچ نے ٹیسٹ سیریز اور پہلے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم کی عبرتناک شکست کو بھلا دیا ہے اور پورا پاکستان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں ، نئے کپتان کی خوبیوں اور مستقبل میں یہ سلسلہ جاری رکھنے کی امید کو بنیاد بنا کر خوشی سے دیوانہ ہو رہا ہے۔ جو مبصر ایک روز پہلے تک پاکستانی کرکٹ اور کھلاڑیوں میں موجود نقائص کی تفصیل بتاتے نہیں تھکتے تھے اب اسی سیکنڈ گریڈ اور عالمی معیار سے کمتر ٹیم کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ آج پاکستانی کرکٹ کے حوالے سے جتنی باتیں اور تبصرے کئے جائیں گے، اگر ان پرغور کیا جائے تو ملک کی سیاست اور سماجی حرکیات میں موجود نقائص کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ رویہ قومی مزاج کا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ کسی بھی معاملہ کی تہہ تک پہنچنے اور دور رس منصوبہ بندی کرنے کی بجائے وقتی ناکامی یا کامیابی سب سے زیادہ اہم قرار پاتی ہے۔ اس طرح قوم ان مسائل سے ناآشنا رہتی ہے جو اس ملک کے لوگوں کو درپیش ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

بھارتی فوج کے نئے سربراہ جنرل بیپن راوت نے دسمبر کے آخر میں عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستان کے حوالے سے اشتعال انگیز بیانات دیئے ہیں۔ انہوں نے اوڑی حملہ کے بعد پاکستانی علاقے میں ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کے دعوے کو دہراتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ضرورت پڑنے پر اس قسم کے مزید حملے بھی کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے بھارتی دعوے کو مسترد کرتا رہا ہے۔ بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کے بعد پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر بھارت کے دعویٰ کو جھوٹ اور دھوکہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان ہر قسم کے حملہ سے اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران جنرل راوت نے ’’انڈیا ٹو ڈے‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارت کی متنازعہ جنگی ڈاکٹرائن ’’کولڈ اسٹارٹ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگی حکمت عملی اب بھی موجود ہے اور سیاسی قیادت کا اشارہ ملنے پر بھارتی فوج دشمن پر فوری حملہ کرنے اور نقصان پہنچا کر واپس اپنی سرحدوں میں آنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سے پہلے بھارت کی طرف کولڈ وار حکمت عملی کے حوالے سے ملے جلے اشارے دیئے جاتے تھے۔ تاہم  بھارتی آرمی چیف کی طرف سے  اس حکمت عملی کی تصدیق کے بعد پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کیونکہ پاکستان نے اس قسم کے بھارتی جنگی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تھوڑے فاصلے پر مار کرنے والے موبائل جوہری ہتھیار تیار کئے ہیں۔ اس طرح یہ اندیشہ موجود ہے کہ اگر بھارت حملہ کرنے کی غلطی کرتا ہے تو اس کے اندوہناک اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

ایک افغان تنظیم اے جی ٹی AGT کے زیر اہتمام لوگوں کے ایک گروہ نے آج کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے اور پاکستان دشمن نعرے لگا رہے تھے۔ تاہم اس موقع پر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ مظاہرہ کا اہتمام کرنے والی تنظیم کا لیڈر افغان انٹیلی جنس کا سابق  سربراہ ا مان اللہ صالح ہے اور اس کے مبینہ طور پر بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ یہ مظاہرہ اس ہفتے کے شروع میں کابل اور قندھار میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد ہوا ہے۔ ان حملوں میں 60 لوگ جاں بحق ہو گئے تھے جن میں قندھار میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے میں کام کرنے والے 5 سفارتکار بھی شامل تھے۔ ان حملوں کے بعد افغان حکومت کے ترجمان نے الزام لگایا تھا کہ دہشت گردوں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ اس لئے وہ آسانی سے پاکستانی علاقے سے افغانستان آ کر حملے کرتے ہیں اور پھر پاکستان میں اپنے ٹھکانوں پر واپس چلے جاتے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے افغان الزامات کی تائید کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے سب ٹھکانے تباہ نہیں کئے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے آج ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ہوئے یہ پاکستانی موقف دہرایا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 جنوری 2017

کل سینیٹ اجلاس کے دوران اور بعد میں اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جو گفتگو کی ہے، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ ملک کے وزیراعظم سب عقائد اور مسالک کے مل جل کر رہنے اور انسانیت کے رشتے سے ایک ہونے کی باتیں کر کے تالیاں سمیٹتے اور ان پر خوش ہوتے ہیں لیکن انہیں اپنے چہیتے وزیر داخلہ کے طرز تکلم اور غیر ذمہ دارانہ رویہ پر قطعی تشویش نہیں ہوتی جو کبھی سینیٹ کے فلور پر فرقہ وارانہ قتل و غارتگری میں ملوث تنظیموں کی حمایت میں زور بیان صرف کرتے ہیں اور کبھی کوئٹہ کی دہشت گردی کے اسباب و علل پر سامنے آنی والی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے خود کو درست اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لئے  اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔  اگر وزیراعظم اس ملک میں ہم آہنگی اور اقلیتوں کو تحفظ دینے کی باتیں کسی اقلیتی اجتماع میں صرف اپنی توصیف سننے کیلئے کرتے ہیں تو اس سے زیادہ افسوسناک رویہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر وہ اپنے ان دعوؤں میں سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے وزیر داخلہ سے اس کی نااہلی اور اشتعال انگیزی کا حساب لینا چاہئے۔ یہ ماننے کے باوجود کہ اس ملک میں بہت سی باتیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے کی جاتی ہیں، یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والی حکومت ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں غیر سنجیدہ طرز عمل اختیار کرے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 جنوری 2017

امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور خود کو اپنے تمام کاروبار سے علیحدہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن وہ ہر شبہ کو ختم کرنے کیلئے یہ اقدام کر رہے ہیں تا کہ اپنی تمام تر صلاحیتیں صدر کے طور پر عوام کی خدمت کرنے اور امریکہ کو عظیم بنانے پر صرف کر سکیں۔ امریکی امور کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آج کی پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران نعرے لگانے والے اور للکارنے والے شخص ہی ہیں اور انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کیا ہے کہ وہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں معتدل اور متوازن رویہ اختیار کریں گے۔ ٹرمپ نے آج بھی اپنی اور اپنے ساتھیوں کی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور بعض میڈیا گروپس پر غلط خبریں نشر کرنے پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے روس یا انتخابات کے دوران سائبر حملوں کے حوالے سے براہ راست سوالوں کے جواب دینے سے بھی انکار کیا۔ تاہم انہوں نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ روس نے ہی انتخابات کے دوران امریکی سیاسی پارٹیوں پر سائبر حملے کئے تھے لیکن وہ اس کا ذمہ دار ڈیمو کریٹک پارٹی کے ناقص حفاظتی نظام کو قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ جب وہ صدر بن گئے تو روس اور دیگر ممالک امریکہ کی زیادہ عزت کریں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جنوری 2017

شام کے صدر بشار الاسد نے واضح کیا ہے کہ وہ ملک میں امن کی بحالی کیلئے کھلے دل سے ہر قسم کی تجاویز پر غور کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اس بارے میں صدر کے طور پر ان کا عہدہ بھی زیر غور آ سکتا ہے تاہم یہ ایک آئینی معاملہ ہے۔ کسی آئینی ترمیم یا نئے آئین پر اتفاق رائے کی صورت میں اسے شام کے عوام کے سامنے ریفرنڈم کیلئے پیش کیا جائے گا۔ صدر بشار الاسد کے اس بیان سے شام میں 6 سالہ خانہ جنگی کے خاتمہ کیلئے سفارتی کوششوں کے باور آور ہونے کی امید دکھائی دینے لگی ہے۔ روس اور ترکی نے حلب پر سرکاری افواج کے قبضہ کے بعد شام میں جنگ بندی کا معاہدہ کروایا تھا۔ اگرچہ فریقین اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی شکایات کرتے ہیں لیکن مبصرین کے مطابق اس معاہدہ پر بڑی حد تک عمل ہو رہا ہے۔ معاہدہ کے مطابق جنگ بندی کے بعد ایک ماہ بعد قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں سیاسی مذاکرات شروع ہوں گے۔ روس کے علاوہ ترکی اور ایران ان مذاکرات کو کامیاب کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بحران میں روس اور ایران نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت جاری رکھی تھی تاہم ترکی امریکہ اور عرب ملکوں کی طرح بشار الاسد سے اقتدار سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ تاہم گزشتہ دو برس کے دوران ترکی کو یکے بعد دیگرے متعدد داخلی اندیشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کی روشنی میں صدر طیب اردگان اب شام میں امن کیلئے کوشاں ہیں اور وہ بشار الاسد کی علیحدگی کا مطالبہ بھی نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 جنوری 2017

حکومت کے سوا ملک کا ہر شخص جنرل (ر) راحیل شریف کے نئے عہدہ کے بارے میں رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ دو روز قبل وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں سوشل میڈیا پر چند ہفتوں سے گردش کرنے والی افواہوں کی تصدیق کی تھی۔ تاہم متعلقہ امور کی ذمہ دار وزارت کا سربراہ ہونے کے باوجود انہوں نے چند ہفتے پہلے ریٹائر ہونے والے پاک آرمی چیف کی سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کے کمانڈر کے طور پر  تقرری کے بارے میں اپنی کم علمی کا اظہار کیا تھا۔ فطری طور سے یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ خواجہ آصف کو اگر پوری معلومات حاصل نہیں تھیں تو انہوں نے اس معاملہ پر اظہار خیال کر کے وزیر دفاع کے طور پر اپنی بے وقعتی ظاہر کرنا کیوں ضروری سمجھا۔ حسب توقع خبر کی تصدیق ہوتے ہی دنیا بھر کے میڈیا میں اس کی تشہیر ہوئی اور پاکستان میں ایک افسوسناک بحث کا آغاز ہو گیا۔ رائے عامہ کا ایک طبقہ اسے عظیم اسلامی اتحاد سے تعبیر کرتے ہوئے ایک پاکستانی جنرل کی اس عہدہ پر تقرری کو اعزاز قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے خطرناک رجحان بتاتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں سعودی کردار کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستانی جرنیل کی سعودی نگرانی میں بننے والے اتحاد کے کمانڈر کے طور پر تقرری سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کس حد تک متاثر ہو گی اور اس کے پاکستان کی سلامتی کی صورتحال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت تادم تحریر اس معاملہ پر کوئی واضح موقف اختیار کرنے اور عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے تیار نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more