حالات حاضرہ


  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں جو باتیں کی ہیں، ان سے ایک بار پھر اس بات  کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خاص طور سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکمت عملی غیر واضح ہے ۔ اس طرح   یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت پاکستان کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہتا ہے اور دنیا کے باقی ملکوں کو کیا تاثر دینا اس کا مقصود ہے۔ خارجہ پالیسی میں ابہام سے پاکستان کے وسیع تر مفادات کو زک پہنچنے کا اندیشہ ہے کیوں کہ اس طرح اس کے دوست دشمن یکساں طور سے اس الجھن کا شکار رہیں گے کہ پاکستانی حکومت کا اگلا اقدام کیا ہوگا۔ اسی طرح بعض واضح اور دو ٹوک امریکی اور عالمی مطالبات کے حوالے سے بھی پاکستان نیم دلانہ  وضاحتیں اور اقدامات کرتا ہے۔ اس کی بہت واضح مثال لشکر طیبہ اور حافظ سعید کے بارے میں پاکستان کا طرز عمل، مؤقف اور مختلف اقدامات ہیں۔ حافظ سعید کو پہلے چند ماہ تک نظر بند رکھا گیا لیکن جب لاہور ہائی کورٹ نے اس نظر بندی کے بارے میں شواہد اور قانونی جواز طلب کیا تو حکومت اس میں ناکام رہی۔ اس کے نتیجے میں حافظ سعید نہ  صرف رہا ہوگئے بلکہ وہ صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف حکمت عملی کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کا حصہ بھی بننے لگے ہیں۔ دوسری طرف  امریکی وزارت خارجہ نے آج بھی حافظ سعید کو گرفتار کرکے انہیں ان کے جرائم کے مطابق سزا دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیتھر نیورٹ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ  پاکستانی وزیر اعظم کا یہ مؤقف قابل قبول نہیں ہے کہ حافظ سعید  کے خلاف پاکستانی عدالتوں میں کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ اس طرح ایک ایسے شخص کے بارے میں پاکستانی وزیر اعظم کو منہ کی کھانا پڑی ہے جسے عالمی طور سے دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور اس کی گرفتاری کے لئے کثیر انعام مقرر ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

لاہور کی مال روڈ پر آج رات گئے تک ملک میں انصاف کا بول بالا کرنے اور جمہوریت کو استحکام بخشنے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتوں کا  احتجاج جاری رہا  ۔ اس احتجاج کا اہتمام پاکستان عوامی تحریک  اور اس کے رہنما علامہ طاہرالقادری نے  2014 میں لاہور ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے لئے انصاف کے حصول کے لئے کیا تھا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ جماعت اسلامی و مسلم لیگ (ق)  نے بھی اس احتجاج کی حمایت کی تھی اور ان کے لیڈر اس احتجاجی جلسہ میں تقریریں کرنے کے لئے پہنچے تھے۔ ان پارٹیوں  کے لیڈروں میں کسی ایک مقصد پر اتفاق رائے تو موجود نہیں ہے لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف  اور شہباز شریف کے خلاف ان کی نفرت واحد قدر مشترک ہے جو ان لیڈروں کو ایک  ایسے شخص کے  پلیٹ فارم تک لے  آئی جو نہ  ملک میں مستقل قیام پذیر ہے  بلکہ اس نے کینیڈا کی شہریت بھی حاصل کررکھی ہے۔ طاہرالقادری  اپنا بیشتر وقت کینیڈا میں ہی صرف کرتے ہیں لیکن  حسب ضرورت و موقع وہ پاکستان آکر دھرنا اور  احتجاج کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش ضرور کرتے رہتے ہیں کہ وہ جب چاہیں ملک کی سیاست میں طوفان برپا کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ طوفان سڑکوں پر ہنگامہ آرائی ، لوگوں کے لئے مواصلات کی مشکلات میں اضافہ اور پاکستان کے درجنوں ٹیلی ویژن اسٹیشنوں پر  اینکرز اور رپورٹروں کو گلا پھاڑ کر ’سامنے دکھائی دیتی‘  تبدیلی کا اعلان کرنے کا موقع تو ضرور فراہم کرتا ہے لیکن طاہرالقادری اپنی  سحر انگیز شخصیت اور دینی حیثیت کے باوجود  اس احتجاج کو بیلٹ بکس تک منتقل کرنے میں  کامیاب نہیں ہو سکے۔ اسی لئے انہیں پاکستان کی سیاست میں ایک ’شر پسند ‘ مداخلت کار سے زیادہ حیثیت دینا مشکل ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

امریکہ کی طرف سے پاکستان پر تابڑ توڑ  حملوں کے بعد اب لگتا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر دونوں ملکوں کے تعلقات میں تال میل پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یکم جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف اچانک ٹویٹ پیغام میں جس پروپیگنڈا مہم کا آغاز کیا تھا ، اس کے بعد اقوا م متحدہ میں امریکی مندوب، وزیر دفاع اور سی آئی کے سربراہ نے ٹرمپ کی کہی ہوئی باتوں کو آگے بڑھایا اور یہ واضح کیا کہ پاکستان مسلسل امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کرتا رہا ہے۔ لیکن موجود ہ  ‘امریکہ سب سے پہلے والی‘ ٹرمپ انتظامیہ اس پاکستانی رویہ کو  قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس دوران امریکی وزیر دفاع  جم میٹس نے میڈیا کو بتایا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کو حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کا واضح پلان دیا ہے ۔ اب پاکستان کو اس کے مطابق عمل کرنا ہوگا تاکہ پاکستان پر اعتماد بحال ہو سکے۔ ان کی باتوں سے واضح ہوتا تھا کہ امریکہ جو جنگ اربوں ڈالر صرف کرکے اور ہزاروں فوجیوں کو مروا کر سترہ برس میں جیتنے میں ناکام رہا تھا، اب اس کی خواہش ہے کہ پاکستان اس میں براہ راست حصہ دار بن جائے تاکہ ایک طرف امریکی حکومت یہ دعویٰ کرسکے کہ وہ افغانستان میں سرخرو ہو چکی ہے تو دوسری طرف پاکستان کو ایک طویل اور  اعصاب شکن جنگ کا  حصہ بنا دیا جائے۔ پاکستان کے سیاسی اور عسکری حلقوں کی جانب سے امریکی طرز عمل کو مسترد کیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان محاذ آرائی کی کیفیت سے لگتا تھا کہ ان کے تعلقات بریکنگ پوائنٹ تک پہنچ چکے ہیں جہاں دونوں نہ تو ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اور  باہمی احترام  کا آفاقی اصول بھی نظر انداز کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے پاکستانی علاقے میں فوجی کارروائی کرنے اور پاکستان کی جوہری صلاحیت کو نظرانداز کرنے کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ بیان دیا ہے۔ نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں جنرل راوت کا کہنا تھا کہ اگر ملک کی سیاسی حکومت فوج کو پاکستان کے اندر جا کر کارروائی کرنے کا حکم دیتی ہے تو ہم پاکستانی جوہری صلاحیت کی پرواہ نہیں کریں گے اور حکم کے مطابق کارروائی ہوگی۔ یہ بات کسی بھی پروفیشنل فوج کے بارے میں کہی جانی چاہئے کہ وہ قومی ضرورت یا حکومت کے حکم کے مطابق کارروائی کرنے کی پابند ہے لیکن اس طرح کی پیشہ وارانہ ذمہ داری کا اظہار پریس کانفرنسوں کے ذریعے کرنا اور اس کو اس خطے میں موجود جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ملا کر یہ دعویٰ کرنا کہ بھاتی فوج اتنی   ’ طاقتور اور بہادر‘ ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی پرواہ کئے بغیر  جنگ کرنے کا اقدام کرسکتی ہے، انتہائی سطحی اور اشتعال انگیز رویہ ہے۔ یہ بیان کسی فوجی جنرل کی بجائے کسی دوسرے درجے کے سیاسی لیڈر کا لگتا ہے جو غیر تعلیم یافتہ اور جذباتی لوگوں کو گمراہ کرنے اور اپنی بہادری کی ڈینگیں مارنے کے لئے ہمسایہ ملکوں پر حملے کرنے کی باتیں کرے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 جنوری 2018

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ  17 جنوری سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ  شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے خلاف مہم  اب صرف ماڈل ٹاؤن کے سانحہ میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے لئے انصاف کی مہم نہیں ہوگی بلکہ یہ قصور میں ظلم کا نشانہ بننے والی بچی زینب کے لئے انصاف کا تقاضا بھی کرے گی۔  علامہ طاہرالقادری نے یہ اعلان پنجاب حکومت کے خلاف تحریک کے لئے قائم ایکشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا ہے۔ اس کمیٹی کا اجلاس آج لاہور میں منعقد ہؤا اور اس میں پیپلز پارٹی اور  پاکستان تحریک انصاف کے نمائیندے بھی شریک ہوئے۔  اس دوران عمران خان نے آج میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان  کی پارٹی  ڈاکٹر طاہرالقادری کی حکومت مخالف  تحریک کا حصہ ہوگی کیوں کہ یہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے 2014 میں بھی پاکستان عوامی تحریک اور  پاکستان تحریک انصاف  اسلام آباد کی طرف مارچ  کرنے اور دھرنا دینے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرچکے ہیں ۔ اس موقع پر دونوں جماعتوں نے علیحدہ علیحدہ اسٹیج بنا کر احتجاج کیا تھا لیکن وہ ایک دوسرے کی مکمل  حمات بھی کررہے تھے۔ تاہم ڈاکٹر طاہر القادری نے اچانک دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرکے عمران خان کو تنہا  چھوڑ دیا تھا جس کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیاتھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جنوری 2018

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے بارے میں  سخت بیان کو پاکستان کے لئے شرمناک قرار دیا ہے۔ پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  پاکستان کو پہلے کبھی اتنی ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ایک طرف ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے اور سب سے بڑی پارٹی کے سربرا قوم  کو درپیش مسائل کے حوالے سے اس قدر تشویش کا اظہار کررہے تھے لیکن اگلی ہی سانس میں انہوں نے عدلیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کوئی عدالت کسی فوجی کے خلاف فیصلہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتی۔  لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ وہ عدلیہ کے نہیں بلکہ بعض ججوں کے خلاف ہیں۔  گویا وہ یہ اصول تسلیم کروانا چاہتے ہیں کہ جب کوئی جج کسی کے خلاف کوئی فیصلہ دے تو متاثرہ فریق کو ان ججوں کے خلاف مہم جوئی کا اخلاقی اور قانونی حق حاصل ہو جاتا ہے۔ ملک کے اہم ترین لیڈر کا یہ رویہ نہ صرف  ناقابل فہم ہے بلکہ اس سے تصادم، سیاسی انتشار اور ذاتی خواہشات کی تکمیل کے مناظر مزید واضح ہوتے ہیں۔ لیکن اس کھیل میں نہ  تو نواز شریف اکیلے ہیں اور نہ ہی  اس لڑائی میں صرف سیاستدان ایک دوسرے کا گریبان پکڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ اب یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ ملک کے طاقتور ادارے سیاسی  بساط پر اپنا کنٹرول بحال رکھنے کے لئے چالیں چلنے اور مداخلت کرنے کا ہر ہتھکنڈا اختیار کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 جنوری 2018

پاکستان کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ ٹویٹ اور اس کے بعد امریکی عہدیداروں کی طرف سے دھمکیاں اور پاکستان کی سیکورٹی امداد بند کرنے کے اقدامات کے بعد جوں جوں الزامات اور جوابی وضاحتوں کی دھند صاف ہو رہی ہے، یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ امریکہ پاکستان کو ایک نئی افغان جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کا اصل تنازعہ قبائیلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور اس کی افغانستان میں حملے کرنے کی صلاحیت ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس گروہ کے خلاف ہمدردانہ اور سرپرستی کا رویہ ختم کرے۔ پاکستان اس الزام سے انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم اب یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اصل مسئلہ حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے نہیں ہیں بلکہ گزشتہ برس اگست میں صدر ٹرمپ نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لینے کی جو کوشش کی تھی ، اس کا مقصد پاکستان کو ایک نئی افغان جنگ میں ملوث کرنا ہے۔ یہ نئی حکمت عملی امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میتھیس کی نگرانی میں تیار ہوئی ہے۔ اس کے تحت پاکستان سے کہا جارہا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف اپنے قبائیلی علاقوں میں بھرپور جنگ کا آغاز کرے اور افغانستان کی طرف سے امریکی افواج دباؤ بڑھائیں گی۔ اس طرح افغان طالبان کو عسکری لحاظ سے اتنا کمزور کردیا جائے گا کہ وہ سیاسی مفاہمت پر آمادہ ہو جائیں۔ اس حوالے سے سیکرٹری جیمز میتھیس نے گزشتہ روز واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان سے نمٹنے کے لئے امریکہ نے ایک حکمت عملی بنائی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اس پر عمل درآمد کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جنوری 2018

پاکستان کے لئے امریکہ کی عسکری  امداد بند ہونے کا اعلان ہونے کے بعد دو سوال سامنے آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کیا امریکہ کا یہ سخت اقدام پاکستان کو دہشت گرد گروہوں اور طالبان کے بارے میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر آمادہ کرسکے گا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک سے دو ارب ڈالر کی امداد بند ہونے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کی خواہشات کے مطابق اقدامات نہ کئے تو امریکہ کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ اس حوالے سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ امریکہ انتہائی صورت میں سرحدی علاقوں میں ان گروہوں کے خلاف یک طرفہ کارروائی کرسکتا ہے جو اس کے خیال میں افغانستان میں امریکی فوجوں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ گو کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایسی کسی کارروائی کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان یہ واضح بھی کرچکا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ تین برس کے دوران دہشت گردوں کے خلاف بلا تخصیص کارروائی کی ہے اور اب پاکستان میں کسی دہشت گرد گروہ کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ امریکہ البتہ اس دعوے کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اس کے جواب میں پاکستانی حکام نے یہ پیش کش کی تھی کہ امریکہ اگر ان عناصر اور گروہوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات فراہم کرے جو پاکستان کی سرزمین سے افغانستان میں کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں تو پاکستانی افواج ان کے خلاف کارروائی کریں گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان نے اس امکان کو قطعی طور سے مسترد کردیا تھا کہ پاکستانی علاقوں میں امریکہ یا کسی دوسرے ملک کی فوج کے ساتھ مل کر کوئی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2018

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ حکومت نے حافظ سعید کی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ امریکہ کی دھمکیوں اور دباؤ کے نتیجہ میں نہیں کیا ہے بلکہ یہ سرکاری پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں ہو رہی ہے۔ یہ آپریشن جنرل قمر جاوید باجوہ نے نومبر 2016 میں فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد شروع کیا تھا۔ اس آپریشن کو آپریشن ضرب عضب کا تسلسل قرار دیاگیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اس کے تحت ملک کے قبائیلی علاقوں کے علاوہ شہروں اور دیہات میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیر دفاع کے اس تبصرہ سے قطع نظر جماعت الدعوۃ کے سربراہ نے بی بی سی کو انٹریو دیتے ہوئے واضح طور سے کہا ہے کہ ان کی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ امریکہ اور بھارت کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ حافظ سعید نے حال ہی میں ہائی کورٹ کے حکم سے نظر بندی سے نجات پائی ہے اور ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاسی پارٹی بنا کر آئیندہ انتخابات میں ملکی سیاست کا باقاعدہ حصہ بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد بھارت کے علاوہ امریکہ کی طرف سے بھی سخت احتجاج کیا گیا تھا اور امریکی وزارت خارجہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ دہشت گردی میں ملوث لوگ انتخابات میں حصہ لینے اور جمہوری عمل کا حصہ بننے کے قابل نہ ہوں۔ وزیر دفاع اور حافظ سعید کے متضاد بیانات کے باوجود عام طور سے یہی مانا جائے گا کہ گزشتہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے شدید الزام تراشی کے بعد پاکستان کچھ ایسے اقدامات کرنا چاہتا ہے کہ امریکی صدر کا ’غصہ‘ کم کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 جنوری 2018

یوں تو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ٹویٹر ڈپلومیسی کے حوالے سے اس قدر بدنام ہو چکے ہیں کہ اگر ان کی طرف سے کوئی اچھا یا برا پیغام ٹویٹر کے ذریعے موصول ہوتا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کی بجائے ہنسی مذاق زیادہ کیا جاتا ہے۔ تاہم اگر یہ معاملہ پاکستان سے متعلق ہو اور پیغام دینے والا خواہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا مسخرہ اور غیر سنجیدہ ہی سہی لیکن امریکہ کا صدر ہو جو اس وقت سپر پاور کی حیثیت رکھتا ہے اورجس کے بغیر دنیا میں کہیں بھی کوئی اچھی یا بری خبر ظہور پذیر نہیں ہوتی ، تو اس ٹویٹر پیغام کو اتنی غیر سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا جیسا کہ بعض امریکی ’فیک نیوز‘ چینل لیتے ہیں اور اس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پاکستان کو اس پر محتاط ہونے، اپنے ارد گرد دیکھنے، پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے اور دھمکی کا جواب بھبکی سے دینے کی بجائے اس پر غور کرکے دلیل سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ بھلا ہو پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہ انہوں نے ٹرمپ کے جواب میں ٹویٹ تو ضرور کیا لیکن وہ لب و لہجہ اختیار کرنے سے گریز کیا جو صدر ٹرمپ کا خاصہ بن چکا ہے اور نہ ہی کوئی واضح بات کرنے کی کوشش کی کہ وہ خود نئے نویلے وزیر خارجہ ہیں اور جو اپنی دانست میں بات تو ملک کے مفاد اور قومی وقار کے لئے کرتے ہیں لیکن اس کا الٹ اثر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ ایسے بیان پر وزارت خارجہ کو یا تو  خاموشی اختیار کرنا پڑتی ہے یا بلاواسطہ طور سے بات کرتے ہوئے اس کی تصحیح کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے خواجہ صاحب کا شکریہ ادا کرنا تو بنتا ہے کہ اس بار انہوں نے ٹرمپ کو للکارنے کی بجائے یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ اس ٹویٹ پیغام کا مدلل جواب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...