حالات حاضرہ


  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

سعودی عرب سے سامنے آنے والی دو خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے مہم جو، پرجوش اور اقتدار حاصل کرنے کیلئے گرم جوش ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ایسے اقدامات کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے جو کسی بھی ریاست اور باقاعدہ حکومت کو زیب نہیں دیتے۔ یوں تو سعودی عرب کبھی بھی مسلمہ عالمی اصولوں کے مطابق ایک ایسا معاشرہ نہیں رہا جہاں اقلیتوں اور انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہو۔ حتیٰ کہ ملک میں خواتین نقل و حرکت اور ضروریات زندگی پوری کرنے کیلئے اپنے خاندان کے مردوں کی کفالت اور سرپرستی کی محتاج ہیں۔ کئی دہائیوں کی تنقید اور عالمی دباؤ کے علاوہ ملک کے اندر سے اٹھنے والے احتجاج کی وجہ سے ۔۔۔۔۔ جسے سوشل میڈیا کے ذریعے کسی حد تک اظہار کو موقع ملتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔ خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے نوجوان ولی عہد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ملک میں انقلابی تبدیلیاں لا کر اسے انتہا پسندی سے نجات دلانے کی خواہش رکھتے ہیں اور معتدل اسلام کو متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ تاہم لبنان کے وزیراعظم سعد حریری اور دولت مند شہزادوں اور سابق وزرا کی گرفتاریوں کے حوالے سے اب جو معلومات سامنے آ رہی ہیں، ان سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا واحد مقصد دولت کا حصول اور قومی بجٹ خسارہ کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہے۔ اسی لئے وہ عالمی رائے عامہ کو  متاثر کرنے کیلئے سعودی معاشرہ میں تبدیلی لانے کی انہونی باتیں بھی کرتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر انتخابی بل میں ترمیم منظور کی ہے جس کے تحت ختم نبوت کا حلف نامہ جمع کروانے کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی دور کر دی گئی ہے۔ اس طرح حکومت نے دوسری بار ترمیم کے ذریعے یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ حکمران جماعت یا قومی اسمبلی کے اراکین میں ختم نبوت پر ایمان کے حوالے سے  دو رائے موجود نہیں ہیں۔ اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد میں دھرنا دینے والے لوگوں سے کہا ہے کہ عدالت میں کارروائی جاری رکھنے کے لئے انہیں دھرنا ختم کر دینا چاہئے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس حوالے سے درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ”نیکی کے کام کو اگرغلط انداز سے کیا جائے گا تو یہ عمل بھی غلط ہی ہوگا“۔ فاضل جج نے لبیک یا رسول اللہ نامی پارٹی کے مولانا خادم حسین رضوی کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف بدکلامی کا بھی نوٹس لیا اور کہا ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں اور چیف جسٹس سے معافی مانگیں۔ تاہم ان دو اقدامات کے باوجود لبیک یا رسول اللہ کی طرف سے دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیاگیاہے۔ احتجاجی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد کے مستعفی ہونے تک مظاہرہ اور دھرنا جاری رہے گا۔ اس گروہ کا موقف ہے کہ انتخابی قانون منظور کرتے وقت سازش کے تحت ختم نبوت پر ایمان کا حلف نامہ حذف کیا گیا تھا جس کے محرک وزیر قانون تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کلیریکل غلطی کی وجہ سے یہ تبدیلی رونماہوئی تھی جس کی فوری طور پر اصلاح کرلی گئی تھی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

آزادی اظہار، عدالتی خود مختاری اور جمہوریت کی بالا دستی کے دعوؤں کے ہجوم میں وفاقی سنسر بورڈ نے ایک ایسی فلم دکھانے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے جس میں ایک طاقتور شخص ایک لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا ہے اور وہ اس ظلم کے خلاف انصاف کیلئے جدوجہد کرتی ہے۔ اگرچہ سنسر بورڈ آج رات پھر اس فلم کو دیکھے گا اور یہ غور کرے گا کہ فلم میں کیسی کانٹ چھانٹ کے بعد اسے ریلیز کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم وفایق سنسر بورڈ کا فیصلہ کئی لحاظ سے ایک سوالیہ نشان کی حیثیت رکھتا ہے جو سماجی برائیوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش، آزادانہ طریقے سے ریپ جیسے موضوع پر گفتگو، عدالتی نظام کے بے ڈھنگے پن اور سیاسی ماحول کی سنگینی کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ اول تو ایک ایسے دور میں جب سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی وجہ سے ماں باپ بھی یہ بات کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہیں کہ ان کے بچے کیا دیکھیں اور کیا معلومات حاصل کریں، فلموں، ڈراموں کے مواد یا پیشکش پر کنٹرول کیلئے قائم اداروں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پھر جب یہ ادارہ یہ تسلیم کرنے سے انکار کرے کہ اب اس کی حیثیت رسمی ہے اور درحقیقت  آزادانہ اظہار کے حق کو بنیادی انسانی حقوق سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا تو یہ معاملہ صرف ایک فلم کو نمائش کی اجازت دینے سے متعلق نہیں رہتا۔ یہ اس اصول کے بارے میں ہے کہ کس بنیاد پر معاشرے میں آزادی اظہار پر قدغن عائد کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 2017

سیاسی اتحاد بننے اور ٹوٹنے اور مختلف مذہبی گروہوں کو سیاسی قوت کے طور پر سامنے لانے کے موسم میں ملک کا سب سے زیادہ طاقتور اور خاموش ادارہ نشانے پر ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کے مصطفی کمال نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور ڈاکٹر فاروق ستار سے حساب برابر کرنے کے جوش میں برملا یہ اقرار کیا ہے کہ وہی نہیں دوسرے سیاسی لیڈر اور گروہ بھی مقتدر حلقوں کے اشاروں پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس دوران سپریم کورٹ کے سیاسی کردار کے بارے میں بھی مسلسل سوالیہ نشان سامنے آ رہے ہیں۔ جس طرح مصطفی کمال کا بیان زیر لب کہی ہوئی باتوں کو منظر عام پر لانے کا سبب بنا ہے، اسی طرح سپریم کورٹ کی طرف سے شریف خاندان کے متعدد ارکان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے فیصلہ پر نیب کی اپیل کی سماعت کے لئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سہ رکنی بنچ قائم کرکے اس تاثر کو مزید راسخ کیا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سیاسی معاملات میں اپنی اہمیت تسلیم کروانے کے دانستہ یا نادانستہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ جسٹس کھوسہ پاناما کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے بھی سربراہ تھے اور نواز شریف کے بارے میں ان کے ریمارکس اور فیصلہ میں نوٹس سے ان کی رائے کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہا ہے۔ اس لئے یہ سوال تو سامنے آئے گا۔ جب وہی جج حدیبیہ پیپر ملزم کیس کے معاملہ کی بھی سماعت کرے گا تو وہ کس طرح غیر جانبداری برقرار رکھ سکے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2017

فرانس کے صدر ا مینیول میکراں نے اچانک سعودی عرب کا مختصر دورہ کیا ہے۔ اس دورہ کو لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کے اچانک استعفیٰ اور سعودی عرب کی طرف سے کئے جانے والے متعدد اقدامت کی روشنی میں اہم سمجھا جارہا ہے۔ اس دورہ میں فرانسیسی صدر نے سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد محمد بن سلمان سے تفصیلی بات چیت کی اور انہیں لبنان کا بحران ختم کرنے اور خطے میں تصادم کی روک تھام کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔ تاہم سعودی عرب پہنچنے سے پہلے صدر میکراں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف سعودی عرب کے الزامات سے متفق نہیں ہیں۔ ایک اہم یورپی ملک اور عالمی طاقت فرانس کے صدر کی سعودی عرب آمد اس بات کی نشاندہی ضرور کرتی ہے کہ عالمی دارالحکومتوں میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس دوران لبنان کے صدر مشعل عون نے بیروت میں سعودی ناظم الامورولید بخاری کو مطلع کیا ہے کہ ریاض میں بیٹھ کر سعد حریری کی طرف سے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کے اعلان کا طریقہ کار قابل قبول نہیں ہے۔ سعودی اقدامات کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے ۔ وہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدہ کو ختم کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ جبکہ فرانس کے صدر کے علاوہ متعدد یورپی لیڈر اس معاہدہ کے حامی بھی ہیں اور اسے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے اہم قدم بھی سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2017

سابق وزیراعظم نواز شریف پر آج احتساب عدالت میں بدعنوانی کے تین مقدمات میں فرد جرم عائد کر دی گئی۔ نواز شریف نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کو سیاسی قرار دیا ہے۔ اس دوران گزشتہ روز سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے 28 جولائی کے فیصلہ کے خلاف نواز شریف کی طرف سے دائر نظر ثانی کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا۔ اس بارے میں مختصر حکم نامہ میں ان درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ یہ حکم لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ضمنی انتخاب سے دو روز پہلے 15 ستمبر کو جاری کیا گیا تھا۔ سیاسی اور قانون دان حلقوں میں نواز شریف کی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب سے عین پہلے نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کرنے کے حکم کو معنی خیز انداز میں دیکھا گیا تھا۔ اب تفصیلی فیصلہ میں بھی سپریم کورٹ کے ججوں نے درشت اور سخت لب و لہجہ اختیار کرنا ضروری سمجھا ہے۔ 23 صفحات پر مشتمل اس فیصلہ میں نہ صرف یہ کہ درخواست دہندگان کے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا گیا ہے بلکہ سابق وزیراعظم کو دھوکے باز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’نواز شریف نے عوام اور عدالت کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ آپ کچھ لوگوں کو کچھ وقت کیلئے اور بعض لوگوں کو ہمیشہ کیلئے بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن سب لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف نہیں بنا سکتے‘‘۔ اس طرح نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دینے کے فیصلہ پر حتمی مہر ثبت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایک ایسا فیصلہ جاری کیا ہے جسے ایک سیاسی بیان سے زیادہ حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2017

سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حکم پر متعدد بارسوخ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان لوگوں کو بظاہر بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کیلئے پکڑا گیا ہے لیکن سعودی ذرائع اور عالمی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ گرفتاریاں اقتدار پر شہزادہ محمد کی گرفت مستحکم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں 11 شہزادے، 4 وزیر، 10 علما، ایک پروفیسر اور ایک شاعر شامل ہیں۔ درجنوں سرکاری عہدیداروں کی معطلی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ اسی کے ساتھ طاقتور نیشنل گارڈز کے وزیر متعصب بن عبداللہ کو برطرف کر کے یہ وزارت خالد بن ایاف کو دے دی گئی ہے۔ متعب بن عبداللہ کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ بھی گرفتارہونے والوں میں شامل ہیں۔ معاشی امور کے وزیر عادل فقیہہ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ ولی عہد محمد کے نائب محمد تویجری کو یہ وزارت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی بحریہ کے سربراہ کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں عالمی شہرت یافتہ سعودی سرمایہ کار شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں۔ سعودی حکومت نے سرکاری طور پر کسی گرفتار شدہ شخص کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے اور یہ اقدام شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے بدعنوانی کے خلاف ایک نئی کمیٹی قائم کرنے کے چند گھنٹوں کے اندر کئے گئے ہیں۔ اس کمیٹی کے سربراہ 32 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں جو سعودی عرب اور خطے کے بارے میں اپنی پالیسیوں کے خلاف کوئی بات برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 2017

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے بیشتر علاقے اس وقت شدید فضائی آلودگی کا شکار ہیں۔ اسے انگریزی لفظ سموگ کے ذریعے پہچانا جا رہا ہے۔ یہ لفظ انگریزی کے دو الفاظ سموک (دھواں) اور فاگ (دھند) سے مل کر بنا ہے۔ فضا میں جب درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے دھند اور دھواں سفر کرنے کی بجائے ایک جگہ ٹھہر جاتا ہے تو اس سے سموگ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو گزشتہ چند روز سے لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں موجود ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت بارشوں یا تیز ہوا کی وجہ سے ہی ختم ہو سکتی ہے لیکن ابھی اس علاقے میں بارشوں کا امکان نہیں ہے۔ سموگ یا دھوئیں اور دھند کے تاریک بادل کی وجہ سے صرف نقل و حمل کے مسائل ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ فضا میں موجود یہ زہریلے ذرات انسانوں کی صحت کیلئے بھی مضر ہیں۔ سموگ دراصل شہریوں کے اجسام میں داخل ہونے والا زہر ہے جو ہلاکتوں میں اضافہ کے علاوہ سانس اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اس فضائی آلودگی کا فوری اثر یوں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں سموگ کی وجہ سے 17 پاور اسٹیشن خراب ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے اس وقت بیشتر علاقوں میں 12 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ گندگی کے کثیف دھوئیں کے باعث ٹرانسپورٹ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے بجلی فراہمی کے نظام اور اس کی مرمت کا کام بھی تعطل کا شکار ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

سابق وزیر اعظم نواز شریف جمعرات کی صبح کو لندن سے اسلام آباد پہنچ گئے۔ وہ جمعہ کی صبح احتساب عدالت میں اپنے خلاف دائرمقدمات میں پیش ہوں گے۔ اس طرح انہوں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ پاکستان کی عدالتوں اور قانون کو بالا دست مانتے ہیں لیکن وہ اپنی ہر گفتگو میں عدالتوں کے ہر فیصلہ پر بد اعتمادی کا اظہار بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ پاناما کیس میں ان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہو سکا ، اس لئے انہیں اقامہ کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ سے برطرف کیا گیا ہے۔ لندن سے اسلام آباد روانگی سے قبل انہوں نے اخباری نمائیندوں سے باتیں کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’ انہوں نے کیا جرم کیا ہے کہ ہر دس سال بعد جلاوطن ہوجائیں۔‘ یہ طرز تکلم عدالتوں کے فیصلوں کو مسترد کرنے کے علاوہ یہ اعلان بھی ہے کہ وہ ملک کے عدالتی نظام کا مقابلہ سیاسی قوت سے کریں گے۔ اس کا اظہار نواز شریف نے اسلام آباد میں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں سے باتیں کرتے ہوئے بھی کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تصادم کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی باتوں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ لڑائی کے موڈ میں ہیں۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے اور ان کے سیاسی مخالفین یہ کہتے بھی ہیں کہ نواز شریف کو جمہوریت سے بس اسی قدر لگاؤ ہے کہ وہ اس کا نام لے کر اقتدار تک پہنچتے ہیں۔ ورنہ وہ ان لوگوں کے لئے کچھ نہیں کرسکے جن کے ووٹ لے کر وہ تین بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور چوتھی بار بننے کے خواہاں ہیں۔ نواز شریف کو ان دعوؤں کو غلط ثابت کرنا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 2017

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے سینیٹ کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان صرف اسی حکمت عملی کو اختیار کرے گا جو اس کی ضرورتوں کے مطابق ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دوسرے ملکوں سے ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا اور ہر قیمت پر اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ خواجہ آصف نے یہ یقین دہانی سینیٹ کی ایک قرارداد پر بات کرتے ہوئے کروائی ہے جس میں پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی کو مسترد کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستانی وزیر خارجہ کی باتیں یہ واضح کرنے میں ناکام رہی ہیں کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے وہ کیا پالیسی اختیار کرے گا۔ خواجہ آصف نے سینیٹ میں اپنی تقریر کے آغاز میں امریکی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے۔ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر تبصرہ کر رہے تھے جو گزشتہ ماہ کے دوران کرم ایجنسی میں امریکی کینیڈین خاندان کو رہا کروانے کی پاکستانی فوجی کارروائی کے بعد امریکی صدر نے دیا تھا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اس بیان پر یوں شکریہ ادا کر رہے تھے گویا امریکہ کے صدر 21 اگست کو پاکستان کے خلاف کی جانے والی تقریر سے منحرف ہو کر اب پاکستان کے ساتھ تعاون پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکی کینیڈین خاندان کی رہائی پر صدر ٹرمپ نے ضرور پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی جتایا تھا کہ پاکستان ان کے دباؤ کی وجہ سے اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...