معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

حالات حاضرہ


  وقت اشاعت: 06 اپریل 2018

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)  کے تاحیات قائد  نواز شریف نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے کہ انتخابات بروقت  منعقد ہوں گے اور وہ  آئین کی بالا دستی کو یقینی بنائیں گے۔  نواز شریف کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کا وعدہ خوش آئیند ہے لیکن انہیں اپنے عملی اقدامات سے  یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ ملک میں  حقیقی جمہوریت کا راستہ روکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔   آج اسلام آباد میں نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے وہ نکات بھی پیش کئے ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے سپریم  کورٹ کے چیف جسٹس  یہ ’ثابت‘ کرسکتے ہیں کہ انتخابات واقعی آئین کے تقاضوں کے مطابق ہوں گے اور کسی ایک پارٹی یا فرد کے ساتھ  انتخابات کے دوران زیادتی نہیں ہوگی۔ ان شرائط میں پہلی شرط تو یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور لیڈروں کےخلاف نیب کی کارروائی کی روک تھام کے لئے انتخابات تک نیب کو غیر مؤثر قرار دیا جائے کیوں کہ نواز شریف کے بقول 1999 کے آرڈی ننس کے ذریعے انہیں نشانہ بنانے کے لئے ہی یہ ادارہ قائم کیا گیا تھا۔  اس طرح وہ جو کام پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود کرنے میں ناکام  رہے  ہیں، اس مقصد کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ’سو موٹو‘ کے اختیار کے تحت حاصل کروانا چاہتے ہیں۔ بطور سیاست دان یہ مطالبہ خود پر دباؤ کم کرنے اور  اپنی سیاسی حیثیت کو چیلنج کرنے والے اداروں  کے بارے میں رائے عامہ متاثر کرنے کا ہتھکنڈا تو ہو سکتا ہے لیکن  عوامی جمہوریت اور پارلیمنٹ کے اختیار کی بات کرنے والے کسی رہنما کو   بنیادی نوعیت کے معاملات  سو موٹو کے ذریعے حل کروانے کی بات کرنا زیب نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اپریل 2018

پاکستانی سیاست دان دست و گریبان ، ادارے برسر پیکار اور لوگ حیران و پریشان ہیں۔ اقوام متحدہ نے دہشتگردوں کی نئی فہرست جاری کرتے ہوئے دنیا کو یاددہانی کروائی ہے کہ پاکستان ایک ایسا ’ناقابل اعتبار ‘ ملک  ہے کہ اس کے 139 افراد یا تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث اور عالمی سطح پر مطلوب ہیں۔ ان میں القاعدہ کے ایمن الظواہری کے علاوہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید  اور بھارت سے تعلق رکھنے والا بدنام زمانہ  مجرم  ابرہیم داؤد بھی شامل ہے۔  اصولی طور پر تو جب عالمی ادارہ کسی ملک کے بعض شہریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں تو یہ اس ملک کو  خبردار کرنے کا طریقہ ہونا چاہئے تاکہ  اس کے حکام اور عوام یکساں طور سے چوکنے ہوجائیں اور جان لیں کہ کون لوگ ان کے مفادات کے دشمن ہیں۔ لیکن ہم  نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے طویل تجربہ کے بعد سیکھ لیا ہے کہ دشمن ہر جگہ گھات لگائے ہمارا منتظر ہے اور وار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔  یہ دشمن اگر دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں فیصلہ سازوں کو پاکستانی مفادات کے خلاف فیصلے کرنے پر مائل کرتا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اقوام متحدہ اس کی دسترس سے دور ہو۔ لہذا اس قسم کی چتاونی کو ہم بطور قوم ایک کان سے سنتے دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ البتہ یہ یاد رکھتے ہیں کہ دشمن ہمیشہ دوسرے کے گھر میں تلاش کیا جائے اور غلطی سے بھی اپنی صفوں  پر نظر نہ دوڑا لی جائے کہ کہیں اس نے  ہمارے بیچ ہی مورچہ نہ سنبھالا ہؤا ہو۔ اس لئے حافظ سعید ہو ، ملا عبدالعزیز ہو یا ایمن الظواہری، ہمارا دل ان کی محبت میں دھڑکنے لگتا ہے لیکن اگر ملالہ  للکار کر  فائرنگ کے حملہ سے جاں بر ہونے کے چھ برس بعد چار روز کے  لئے وطن کا دورہ کرلے اور  جذبات سے بھری آواز میں اس ارض مقدس سے اپنی محبت کا ’افسانہ‘ سنائے تو ہم فوراً چوکنا ہوجاتے ہیں کہ یہ ضرور دشمن کی سازش ہوگی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 اپریل 2018

سندھ حکومت کی کارکردگی کے خلاف سپریم کورٹ کے اقدامات اور چیف جسٹس کے یکے بعد دیگرے سخت ریمارکس کے بعد آج حیدرآباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جوڈیشل ایکٹوازم کو جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے اور انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے ۔ انہوں نے بھی  نواز شریف کی طرح عدالتوں میں زیر التوا اٹھارہ لاکھ مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو عوام انہیں ووٹ کے ذریعے حق نمائیندگی سے محروم کرسکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے انتظامی امور میں عدلیہ کے کردار کے بارے میں وہی باتیں کی ہیں جو چند روز پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی کرتے رہے ہیں۔  لیکن  عدالتوں کو حکومتی امور میں مداخلت سے باز رکھنے کے اصول پر بالواسطہ متفق ہونے کے باوجود   مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اس حوالے سے کسی سیاسی اصول پر  متفق ہونے یا  کوئی واضح لائیحہ عمل اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آصف علی زرداری نے سینیٹ کے انتخابات اور اس کے بعد ایوان بالا کا چیئرمین منتخب کروانے کے لئے جو  ’سیاست ‘ کی ہے ،  شاید اس کا  ’تحفظ‘ کرنے کے نقطہ نظر سے بلاول بھٹو زرداری نے یہ کہنا ضروری سمجھا  کہ نواز شریف اداروں کو کمزور کرنے کے ذمہ  دار ہیں۔ حالانکہ ماضی میں پیپلز پارٹی بھی نواز شریف ہی کی طرح عدالتوں اور ججوں کے ساتھ  متصادم رہی ہے اور حکومت کو فعال ادارہ بنانے میں  کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کرسکی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 مارچ 2018

پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر  اجے بساریا نے  دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی ختم کرنے اور  امن بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ عالمی بنک کے اندازے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان 30 ارب ڈالر  تک تجارت کی گنجائش موجود ہے لیکن ان دونوں  ہمسایہ ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم بمشکل دو ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔ دونوں ملکوں کو اپنی نوجوان نسل کے لئے اب پرانی دشمنی بھلا کر آگے کی طرف دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ بھی جلد بحال ہو سکے گی۔ بھارتی ہائی کمشنر نے امن کے بارے میں جو باتیں کی ہیں ان سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں لیکن گزشتہ  چند برس کے دوران بھارتی حکومت نے جس طرح امن کی ہر کوشش کو ناکام بنایا ہے، مذاکرات سے مسلسل انکار کیا ہے، عالمی سطح پر پاکستان  کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور لائن آف کنٹرول پر جارحیت میں اضافہ کرکے  یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ  پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا اور موقع ملتے ہی بہرصورت اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ بھارت کے سیاسی اور عسکری لیڈروں کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات اس صورت حال کو پیچیدہ اور مشکل بناتے ہیں۔ ایسی صورت میں اجے بساریا کی یہ تقریر  لاہور کی بجائے نئی دہلی کے کسی اہم فورم  پر ہونی چاہئے تھی جہاں سے ان کے ملک کی قیادت بھی ان خوبصورت باتوں کو سن کر پاکستان کے بارے میں  اپنے گھناؤنے عزائم سے گریز کا راستہ تلاش کرسکتی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 مارچ 2018

نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اس وقت اپنے اہل خاندان کے ہمراہ چار روز کے مختصر دورہ پر پاکستان آئی ہوئی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی ہے اور وزیر اعظم ہاؤس میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا ہے کہ وہ چھ سال کے طویل انتظار کے بعد بالآخر پاکستان کی سرزمین پر واپس آسکی ہیں۔ وزیر اعظم نے بھی ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک بیٹی کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملالہ کو سیکورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسی لئے ملالہ کی آمد کو آخری لمحہ تک خفیہ رکھا گیا اور ان کا جہاز اسلام آباد میں لینڈ کرنے سے چند گھنٹے پہلے ہی اس خبر کو عام کیا گیا تھا۔ ملالہ یوسف زئی کا باقی دنوں کا پروگرام بھی صیغہ راز میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ ان دنوں میں وہ کیا کریں گی اور کن تقریبات میں شریک ہوں گی۔ اور کیا وہ  سوات میں اپنے گھر کا دورہ کرسکیں گی جسے وہ آج بھی یاد کرتی ہیں اور یہ امید کرتی ہیں کہ ایک دن وہ پاکستان واپس آکر اپنے عوام کی خدمت کرسکیں گی اور خواتین کے حقوق اور  بطور خاص بچیوں کی تعلیم کے لئے اپنے خوابوں کی تکمیل کریں گی۔  ملالہ کی وطن واپسی اگرچہ  ملک میں سیکورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورت حال کی طرف ایک مثبت اشاریہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی  اس دورہ سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا پاکستان میں حالات معمول پر آچکے ہیں۔  ملالہ کو پاکستان واپس بلانے کا اہتمام کرنے کے باوجود حکومت یہ دعویٰ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتی۔  ملالہ کی واپسی پر ملک کا ایک طبقہ خوشی اور فخر کا اظہار کررہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان  لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے  جو ملالہ کو  ملک دشمن اور مغربی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دینے میں دیر نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 مارچ 2018

ملک کے وزیر اعظم نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے  جسٹس ثاقب نثار کو یقین دلایا  ہے کہ  عوامی بہبود کے بارے میں  ان کے نظریہ کی تکمیل کے لئے حکومت سپریم کورٹ سے مکمل تعاون کرے گی۔ اور  سپریم کورٹ کے ایک بیان کے مطابق چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ عدالتیں بے خوفی اور خود مختاری سے انصاف فراہم کرتی رہیں گی۔ وزیر اعظم ہاؤس اور سپریم  کورٹ اسے معمول کا واقعہ کہیں گے لیکن کیا یہ واقعی معمول کی بات ہے کہ  ایک ایسا وزیر اعظم جو چند ہفتے پہلے پارلیمنٹ میں یہ اعلان کررہا تھا کہ عدالتوں کے دائرہ کار اور اختیار کے بارے میں ایوان میں کھل کر بات ہونی چاہئے اور جس کی حکومت اور پارٹی سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کے لئے آئینی ترمیم کی تگ و دو کرتی  رہی ہے ، اب اسی چیف جسٹس سے مل کر  ان کے ’ نظریہ ‘   کے مطابق قومی بہبود کے  مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروانا ضروری سمجھتا ہے۔     اس حیرت انگیز وقوعہ میں اگر اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ عدالتوں پر تنقید کرنے والے میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے چند روز سے اپنے تیر ترکش میں محفوظ رکھے ہوئے ہیں اور سابق سینیٹر نہال ہاشمی کو دوبارہ توہین عدالت پر طلب کرنے کے بعد با لآخر ان کی معافی منظور کرلی گئی ہے۔ حالانکہ چیف جسٹس  قید سے رہائی کے بعد ان کی  دشنام طرازی سے اس قدر نالاں تھے کہ انہیں ’نشان عبرت‘ بنانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ پھر اچانک کسی فرشتے نے ان کے کان میں کہا کہ وکیلوں کے مشورہ پر معافی ہی بہتر حل ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 مارچ 2018

ملک میں چیف جسٹس کی فعالیت اور عوامی ضرورتوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ڈاکٹرائن کا چرچا ہے۔  پاکستان کی خبروں  میں ان دو معاملات کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ صرف پاکستان سپر لیگ ہی ان کے علاوہ خبروں میں جگہ بنانے کے قابل رہی ہے۔ اس  دوران ملک کی معیشت کے ساتھ کیا بیت رہی اور دنیا میں ایسے کون سے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو پاکستان کے مفادات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس کے بارے میں نہ تو اہل پاکستان جاننا چاہتے ہیں اور نہ انہیں کوئی زیر بحث لانے میں  دلچسپی رکھتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو  دھوبی پٹرا دینے کے نت نئے طریقےسوچنے میں مصروف ہیں اور میڈیا کی دلچسپی اس بات تک محدود ہے کہ کس طرح کوئی ایسی سنسنی خیز بات سامنے لائی جائے کہ ریٹینگ یعنی چینل کی آمدنی میں  اضافہ ہو۔   قوم کا بوجھ اٹھائے ان دو طبقات کی ان پریشانیوں میں پھنسے پاکستانی عوام کو جب روز کی دال روٹی کا انتظام کرنے سے فرصت ملتی ہے تو انہیں صرف یہ سننے کو ملتا ہے کہ ملک پر مافیا کا قبضہ ہے جو اسے بیچ کھانے کا انتظام کئے ہوئے ہے یا اس صدا کو مسترد کرنے کے لئے خبر آتی ہے کہ کرپشن کا شور مچانے والوں کی اپنی زندگیاں کیسے گھناؤنے افعال کی زد میں ہیں۔ وہ تو اخلاقی طور پر بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ ایسے میں نہ کسی کی نجی زندگی محفوظ ہے اور نہ باہمی احترام کا کوئی رشتہ باقی بچا ہے۔ ہر شخص دوسرے کے بارے میں مشکوک ہے اور یہ شبہات معاشرے میں یوں سرایت کرچکے ہیں کہ ہر کسی نے اپنا پنا مسیحا تلاش کر رکھا ہے اور  دوسرے کے کھیون ہارے  کو مسترد کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا جائز سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 مارچ 2018

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور خبروں میں رہنے کے شوقین سیاست دان شیخ رشید کی طرف سے ملک میں غیر جانبدارانہ انتخابات کروانے  کے لئے ’جوڈیشل مارشل لا‘  نافذ کرنے کی تجویز اس قدر  پریشان کن نہیں تھی، جتنا ملک کے چیف جسٹس کی طرف سے اس پر تبصرہ حیران کن ہے۔   شیخ رشید نے ساری سیاسی زندگی  اقتدار میں رہنے کی جد و جہد کی ہے اور اب بھی وہ اسی خواہش کی تکمیل کے لئے پاکستان تحریک انصاف اور اس کے سربراہ عمران خان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں حالانکہ وہ خود ایک عدد سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں ۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ ان کی سیاسی پارٹی کا سوائے اس کے نہ کوئی مقصد ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ اس کی کوئی ضرورت ہے کہ اس کے طفیل یہ واضح ہو سکے کی شیخ رشید بھی  ایک پارٹی کے سربراہ ہیں۔  وہ ماضی میں نواز شریف کی حکومتوں کے علاوہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی حکومت میں بھی وزیر کے عہدے پر فائز رہے ہیں ، اس لئے پھر سے وزیر بننے کی خواہش انہیں بے چین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نواز شریف کے سخت دشمن ہیں کیوں کہ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف نے بہت لوگوں کو ’معاف‘ کردیا اور برے وقت میں دھوکہ دینے کے باوجود اپنے ساتھ ملالیا لیکن انہوں نے شیخ رشید کو واپس مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی۔  اس طرح بیچارے شیخ صاحب گزشتہ دس برس سے اقتدار کا مزہ چکھنے سے محروم ہیں ۔ اسی محرومی  میں وہ جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں ۔ سننے والوں کو ان کی لچھے دار گفتگو اچھی لگتی ہے اور خود شیخ رشید غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کی  وجہ سے میڈیا کی آنکھ کا تارا بنے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 مارچ 2018

پانچ مذہبی جماعتوں نے کئی برس کی علیحدگی کے بعد متحدہ مجلس عمل کے احیا پر اتفاق رائے کیا ہے اور  اپریل کے پہلے ہفتے میں ایم ایم اے کا ورکرز کنونشن منعقد کرنے اور مستقبل یعنی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لئے حتمی لائحہ عمل تیار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کراچی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں البتہ نئے ملاپ کے بعد جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اس نئے اتحاد کا صدر اور جماعت اسلامی کے  رہنما لیاقت بلوچ کو جنرل سیکریٹری بنا دیا گیا ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اپریل میں جو کنونشن منعقد ہوگا، وہ کوئی اہم فیصلہ  کرنے کی بجائے ان رہنماؤں کے اس نادر روزگار فیصلہ پر واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ہوئے ان تمام فیصلوں ، امیدوں اور سیاسی امنگوں کی تائد و توثیق کرے گا جو  ان بظاہر مذہبی مگر درحقیقت سیاسی لیڈرں نے کراچی میں ہونے والے اجلاس میں اس سال کے دوران منعقد ہونے والے متوقع انتخابات سے وابستہ کی ہیں۔ ان میں سب سے اہم تو خیبر پختون خوا میں ایک بار پھر حکومت کے مزے لینے کے خواب کی تکمیل ہے ۔ اس کے علاوہ بلوچستان  میں بادشاہ گری  کا حصہ بن کر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ مذہبی بھیس میں سیاست کرنے والے ان رہنماؤں کی دلی خواہش ہوگی کہ وہ کسی طرح ایسی سیاسی حیثیت اختیار کرلیں یعنی قومی اسمبلی میں اتنی نشستیں جیت لیں کہ 2018 کے انتخابات کے بعد بننے اور ٹوٹنے والی حکومتوں میں ان کو بھی حصہ ملتا رہے یعنی وہ بھی قوم کی خدمت میں ویسا ہی کردار ادا کرسکیں جو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ادا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 مارچ 2018

ایک  طرف اسلام آباد  کی دہشت گردی عدالت نے لبیک تحریک کے دو رہنماؤں خادم رضوی اور پیر افضل قادری کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں تو دوسری طرف سپریم کورٹ نے گزشتہ نومبر میں فیض آباد دھرنا کے بارے میں سو موٹو نوٹس کی دوبارہ سماعت شروع کی ہے۔ آج کی سماعت میں آئی ایس آئی کی طرف سے اس دھرنا، لبیک تحریک اور اس کے لیڈروں کے بارے میں 46 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی۔ تاہم سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس رپورٹ پر عدام اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے  ایجنسی کو مزید دو ہفتے کا وقت دیا ہے تاکہ وہ اس تحریک کے مالی معاملات کی تفصیلات  سامنے لاسکے۔ سپریم کورٹ کا دو رکنی  بینچ  جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فیض عیسیٰ پر مشتمل ہے ۔ اس مقدمہ کی آئیندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو طلب کیا گیا ہے۔ تاہم ججوں نے آج کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیئے ہیں ان سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ  ایک طرف اس معاملہ میں آئی ایس آئی کی کارکردگی  پر برہم ہے  تو دوسری طرف  وہ لبیک تحریک کے رہنماؤں کے کردار اور طرز عمل کے بارے میں بھی مطمئن نہیں ہے۔  جسٹس قاضی فیض عیسیٰ نے سماعت کے دوران آئی ایس آئی کی رپورٹ پر  پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے  کہا کہ ’ اگر ملک کی اہم ترین ایجنسی کی کارکردگی کا یہ عالم ہے تو مجھے ملک کے بارے میں خوف آتا ہے‘۔  گویا عدالت کے نزدیک آئی ایس آئی نے فیض آباد دھرنا اور لبیک تحریک کے حوالے سے  پورا ہوم ورک نہیں کیا اور  وہ  ملک و قوم کی سلامتی کو درپیش اس خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔  عدالت عظمیٰ کے ایک جج کی طرف سے ملک کی اہم ترین ایجنسی کے بارے میں یہ  ریمارکس تشویشناک صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ اس سوموٹو کے تحت وفاقی حکومت اور اداروں کی سرزنش کرنے کے علاوہ کیا مقصد حاصل کرنا  چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...