حالات حاضرہ


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

کئی ماہ کے اندازوں اور قیاس آرائیوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج صبح افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس تقریر میں بیان کی گئی باتوں سے بعض واضح نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ 16 برس پرانی اس جنگ کو ختم کرنے اور افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے تقریر میں اس تبدیلی قلب کا اعتراف کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ صدر بن کر حالات کو دیکھنا اور فیصلہ کرنا مختلف تجربہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوسروں کی جنگ نہ لڑنے کے عزم کا اعلان کرنے والے صدر نے افغانستان میں مزید فوجیں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ انہوں نے اس کی تعداد کا اعلان نہیں کیا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایسے معاملات میں قبل از وقت اعلان کرنے سے دشمن چوکنا ہو جاتا ہے۔ اس لئے اسے حیران کرنے اور اصل حکمت عملی کو پوشیدہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ صدر ٹرمپ کی سادہ لوحی کہی جائے گی کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ امریکہ مزید 4 ہزار فوجی افغانستان بھیجے گا۔ اب پینٹا گون کے ذرائع یہ تعداد 3900 بتا رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ امریکہ جو جنگ ایک لاکھ فوجیوں کی مدد سے جیتنے میں کامیاب نہیں ہوا، اس میں چند ہزار مزید فوجی بھیجنے سے کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

پاکستان کے سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف ٹیلی ویژن اسکرینوں اور اخبار کی خبروں سے نکل کر اوسلو کے منظر نامہ پر طلوع ہوئے ہیں۔ ناروے میں پاکستانی تارکین وطن کی ایک تنظیم نے انہیں یوم آزادی کی ایک تقریب میں مدعو کیا ہے۔ تاہم وہ اس تقریب سے دو روز قبل ہی اوسلو تشریف لے آئے اور اپنے میزبانوں کے تعاون سے نارویجئن سیاستدانوں سے ملاقاتوں تگ و دو  کرتے رہے۔ ہفتہ کی شام کو اوسلو میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت سے قبل ایک مقامی فاؤنڈیشن نے پرویز مشرف کے لیکچر کا اہتمام کیا۔ اس تقریر کے بعد بلوچ نوجوانوں کے احتجاج کے سبب سابق پاکستانی صدر کو سوال جواب کے بغیر وہاں سے جانا پڑا۔ جمعہ کی رات کو اوسلو میں میں قوالی کی ایک تقریب میں ان کی آمد کا اعلان کرتے ہوئے حاضرین سے پرامن رہنے اور سابق صدر کے ساتھ بدتمیزی سے پیش نہ آنے کی اپیل کی جاتی رہی۔ تاہم پرویز مشرف نے بوجوہ اس قوالی نائٹ میں شرکت کرنے سے گریز کیا۔ البتہ جمعہ کی شام کو پرویز مشرف اوسلو سٹی ہال میں میلہ اوسلو کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے پہنچے تھے جہاں وہ ناروے کی وزیراعظم ارنا سولبرگ سے ملاقات کے خواہشمند تھے۔ البتہ نامعلوم وجوہ کی بنا پر نہ تو انہیں پہلی صف میں موجود وزیراعظم ناروے کے ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی گئی اور نہ ہی ان سے ملاقات کا اہتمام ہو سکا۔ اس کے بعد پرویز مشرف تقریب میں شرکت کے بغیر خاموشی سے وہاں سے واپس چلے گئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے نسل پرست انتہاپسندوں کی طرف سے تشدد کی مذمت کرنے سے قاصر ہیں۔ اس بنا پر گزشتہ ہفتہ عشرہ سے ان کے رویہ کے بارے میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں اور سوال کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کا صدر ایک چھوٹے سے شہر میں ہونے والے تصادم کے بعد سفید فام نسل پرستوں کی حمایت میں کیسے بیان جاری کر سکتا ہے لیکن صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ صرف وہی بے باکانہ طور سے وہ بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جو دوسرے لیڈر کہتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کو ورجینیا کے شہر شارلوٹے ولے میں نسل پرستوں کے مظاہرے اور تشدد میں 19 افراد زخمی اور32 سال کی ایک خاتون ہلاک ہو گئی تھی لیکن ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ قصور دونوں اطراف کا ہے اور اس تصادم میں ملوث دونوں گروہوں میں ”بہت اچھے لوگ“ شامل تھے۔ اسی دوران جمعرات کو آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں تارکین وطن مخالف جماعت ون نیشنل پارٹی کی لیڈر پاﺅلین ہانسن برقع پہن کر ایوان میں آ گئیں اور پھر برقع اتارتے ہوئے اعلان کیا کہ ”میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس قسم کا لباس پہننا مغربی اقدار اور عورتوں کی آزادی کے خلاف ہے۔ آسٹریلیا جیسے جدید معاشرے میں اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہانسن کے اس سیاسی سٹنٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار سامنے آیا ہے لیکن یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اس طرح مسلمانوں کی رسومات کا تمسخر اڑانے کی کوشش کی گئی ہے جو کسی بھی بین الثقافتی معاشرہ کے لئے صحت مند رویہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور معاون چیئرمین آصف علی زرداری نے واضح کیا ہے کہ وہ نواز شریف کو درپیش سیاسی مشکلات سے نکالنے کیلئے مدد فراہم نہیں کریں گے۔ نواز شریف سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد آئینی ترامیم کے ذریعے سیاست میں واپسی کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان ترامیم کے حوالے سے کوئی ٹھوس تجویز ابھی سامنے نہیں آئی ہے تاہم خیال ہے کہ حکمران مسلم لیگ (ن) اپنی حلیف جماعتوں اور پیپلز پارٹی کی مدد سے آئین کی شق 62 اور 63 کو ختم کروانے یا ان میں ترمیم کروانا چاہتی ہے۔ اسی شق کے تحت نواز شریف کو امین اور صادق نہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے انہیں تاحیات نااہل کیا ہے۔ اس کے بعد سے نواز شریف اگرچہ اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں لیکن سپریم کورٹ کے فیصلہ سے پیدا ہونے والی صورتحال صرف ایک شخص کی نااہلی کا معاملہ نہیں ہے۔ آٹھ ماہ تک فیصلہ کی سماعت کرنے اور تحقیقات کروانے کے باوجود سپریم کورٹ پاناما کیس میں عائد بدعنوانی کے الزامات کے تحت سزا دینے میں کامیاب نہیں ہوئی بلکہ ایک غیر متعلقہ معاملہ میں غیر موصول شدہ تنخواہ کو اثاثہ قرار دے کر کاغذات نامزدگی میں اس کا ذکر نہ کرنے کی وجہ سے 5 رکنی بینچ نے کہا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے، اس لئے وہ وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز نہیں رہ سکتے۔ اس فیصلہ نے متعدد قانونی اور سیاسی سوالات نے جنم لیا ہے۔ قانونی سوالات کا جواب مقدمہ میں دائر اپیلوں کے دوران سامنے آ سکتا ہے لیکن اس کے سیاسی پہلو کے حوالے سے صرف چہ میگوئیاں اور افواہ سازی پر کام چلایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 اگست 2017

یوں تو اس ملک میں آئینی بالا دستی اور قانونی حقوق کی بات کرنا محال ہے جہاں ہمسایہ ملک کے یوم آزادی کو یوم سیاہ قرار دیاجائے اور جہاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایک تقریر میں دو قومی نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے یہ اقرار کرنے میں کراہت اور تکلیف محسوس نہ کریں کہ غیر تقسیم شدہ ہندوستان میں دو قومیں آباد تھیں۔ ان میں سے ایک مسلمان تھے اور دوسری قوم کا نام بھی وہ لینا گوارا نہیں کرتے۔ جب ملک کے منصف اعلیٰ کے منصب پر فائز کوئی شخص دنیا کی 20 فیصد کے لگ بھگ آبادی اور ملک کی اہم اقلیت کے عقیدہ اور شناخت کے حوالے سے وکیلوں کے اجتماع میں اس قدر شدید تعصب اور نفرت کا اظہار کر رہا ہو تو آئین و قانون کے الفاظ بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ پارلیمنٹ یا سیاسی رہنماؤں کی بجائے جب ملک کی فوج کے سربراہ قوم کو یہ خوشخبری سنا رہے ہوں کہ ملک آئین اور قانون کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے اور سب ادارے اپنی جگہ کام کر رہے ہیں۔ حال ہی میں معزول شدہ وزیراعظم ناانصافی کی دہائی دے رہا ہو اور کہہ رہا ہو کہ ملک کی سپریم کورٹ نے اپنے اختیار اور مروجہ طریقہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے عوام کے منتخب لیڈر کو وزارت عظمیٰ سے برطرف کیا ہے۔ اور نیا پاکستان بنانے کے دعویدار یہ اعلان کر رہے ہوں کہ اگر ملک کی پارلیمنٹ نے ان کی پسندیدہ آئینی شق کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو وہ ایک بار پھر اسلام آباد کا پہیہ جام کر دیں گے کیونکہ اسی شق کی وجہ سے عمران خان کے اس دیرینہ خواب کی تکمیل ممکن ہوئی ہے کہ نواز شریف نااہل ہوں اور ان کیلئے قیادت کا میدان ہموار ہو سکے۔ اس سب کے باوجود یہ کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ ملک میں تصادم اور انتشار سے نہ صرف جمہوریت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو گا بلکہ ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے اندیشے بڑھ جائیں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 اگست 2017

اس سال 14 آزادی کے 70 سال پورے ہوئے۔ تمام ناکامیوں، تکلیفوں اور مشکلات سے قطع نظر اہل پاکستان اس دن کے حوالے سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وہ بجا طور سے اس خوشی کا اظہار بھی کر سکتے ہیں کہ 70 برس قبل ان کے آباء واجداد نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کی کامیاب جدوجہد کی تھی۔ اوروہ اس وقت ایک آزاد اور خود مختار ملک میں رہتے ہیں جہاں بار بار جمہوریت کو پامال کرنے کی کوششوں کے باوجود جمہوری سفر جاری ہے۔ ملک کے عوام نے وقتی ہیجان اور پریشانی سے قطع نظر کبھی کسی فوجی حکومت کو جمہوریت کے متبادل کے طور پر قبول نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 70 برس کے مختصر عرصہ میں 4 بار آئین معطل کرنے اور سیاستدانوں کی ناکامیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے جمہوریت کو غیر موزوں طریقہ کار بتانے کی کوشش کی گئی لیکن ہر بار ہر فوجی آمر کو اسی سانس میں یہ بھی اعتراف کرنا پڑا کہ اس ملک میں فیصلے اس ملک کے عوام ہی کریں گے اور جمہوری طریقہ کار کے مطابق ہی مستقبل کی حکومت تشکیل پائے گی۔ اسی لئے کوئی ڈکٹیٹر نیا آئین لے کر آیا، کسی نے 90 دن میں انتخاب کروانے کے وعدے کے ساتھ اسلامی نظام نافذ کرنے کا جھانسہ دیتے ہوئے اپنے اقتدار کو طول دیا، کسی نے انتخاب منعقد تو کروائے لیکن ان کے نتائج کو قبول نہ کرنے کی فاش غلطی کی پاداش میں ملک کو دولخت کروایا اور آخری فوجی آمر نیا پاکستان بناتے بناتے خود قصہ پارینہ بن گیا لیکن ہوس اقتدار کے سبب ملک میں کوئی تبدیلی لانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 اگست 2017

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا قافلہ جوں جوں لاہور کے قریب پہنچ رہا ہے اور انہوں نے جہلم کے بعد گجرات اور گوجرانوالہ میں جلسے کرتے ہوئے جو باتیں کی ہیں ، ان سے واضح ہوتا جا رہا ہے کہ نواز شریف کا مقصد نہ تو نظام کو ہلانا ہے اور نہ انقلاب برپا کرنا بلکہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے نام پر لگے داغ کو مٹانا چاہتے ہیں۔ یوں تو پاناما کیس کی جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے بعد سے نواز شریف اپنی حکومت کے خلاف سازش کا ذکر کرتے رہے ہیں اور اقتدار سے علیحدہ ہونے اور پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ اس سازش کا پردہ چاک کریں گے اور ساری کہانی عوام کے سامنے رکھ دیں گے۔ لیکن گزشتہ دو روز کے دوران انہوں نے جو تقریریں کی ہیں ، ان میں عدالت کے فیصلہ کو مسترد کرنے کے علاوہ کوئی خاص بات نہیں کہی گئی۔ سابق وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کا بالواسطہ کہنا تو یہی ہے کہ انہیں خودمختارانہ پالیسیاں اختیار کرنے پر ایک غیر اہم معاملہ کو بنیاد بنا کر نااہل قرار دیاگیا ہے۔ اس بارے میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں نااہل قرار دینے کا فیصلہ پہلے ہو چکا تھا لیکن اس کے لئے چونکہ پاناما پیپرز میں کوئی شواہد برآمد نہیں ہو سکے تھے ، اس لئے اس فیصلہ کا جواز تلاش کرنے کے لئے وقت صرف کیا جارہا تھا۔ تاہم انہوں نے ابھی تک یہ بتانے کی زحمت نہیں کی ہے کہ انہیں کون لوگ اقتدار سے محروم کرنا چاہتے تھے اور سپریم کورٹ نے آخر کس کے کہنے پر نااہلی کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 اگست 2017

نواز شریف آج اسلام آباد سے لاہور کی طرف سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس سفر کے حوالے سے سیاسی مخالفین کے علاوہ بعض مبصرین کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں میں اسے ایک عام جمہوری اقدام کی بجائے نظام کو چیلنج کرنے کا نام دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف دراصل تصادم کے راستے پر چل پڑے ہیں جو ملک اور یہاں پر قائم نظام کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ اس طرح وہ اپنے لئے مشکلات پیدا کرنے کے علاوہ جمہوریت اور ریاست کے لئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ ان افواہ نما تبصروں کو گزشتہ چند روز کے دوران نواز شریف کی طرف سے دیئے جانے والے بیانات سے بھی تقویت ملتی ہے۔ کل ہی میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ صرف وہی جانتے ہیں کہ انہوں نے وزیراعظم کے طور پر 4 برس کس طرح گزارے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی نااہلی کے فیصلہ کو پہلے سے طے شدہ قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے لیکن وہ انجام سے بے پروا ہو کر میدان میں نکل رہے ہیں۔ نواز شریف کا کہناہے انہیں نااہل کرنے کے لئے ان کے خلاف سازش کی گئی ہے اور وہ اس راز سے پردہ اٹھائیں گے۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ نواز شریف کے تھیلے میں کوئی ایسی بلی ہے، جس کے باہر نکلنے سے کوئی قیامت بپا ہو جائے گی لیکن سب جانتے ہیں کہ جب وہ ایک مظلوم کے طور پر اپنے انتخابی حلقہ سے گفتگو کریں گے تو ان کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوں گے اور مستقبل کے سیاسی منظر سے نواز شریف کا نام مٹانا آسان نہیں ہو گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 اگست 2017

سابق وزیر اعظم نواز شریف خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان بھی میاں نواز شریف کو سیاسی طور پر تنہا کرنے اور کسی باقاعدہ عدالتی فیصلہ سے پہلے بدعنوان اور چور ثابت کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ آج عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ شریف خاندان کا ساتھ چھوڑ دیں کیوں کہ ان کی لڑائی اس پارٹی سے نہیں ہے بلکہ ایک بدعنوان خاندان سے ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر پارٹی نے خود کو نواز شریف اور ان کے خاندان سے الگ نہ کیا تو وہ شدید نقصان اٹھائے گی۔ عمران خان مسلم لیگ (ن) کے ’اقتدار کے ضرورت مندوں‘ کو اس سے زیادہ کھلے الفاظ میں اپنے ساتھ ملنے کی دعوت نہیں دے سکتے۔ تاہم ایسے ضرورت مندوں کے لئے ان کے پاس دینے کے لئے فی الحال کچھ نہیں ہے۔ نواز شریف نے اپنا متبادل وزیر اعظم منتخب کروانے کے بعد اب سیاسی مہم جوئی کے ذریعے عمران خان اور تحریک انصاف کی مشکلوں میں اضافہ کیا ہے۔ وہ جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور کا سفر کرتے ہوئے اپنے حامیوں کے اجتماعات سے خطاب کریں گے اور سیاسی دشمنوں اور نظام کے اندر اپنے مخالفین کو یہ پیغام دیں گے کہ وہ میدان چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لیکن وہ سازش کا ذکر کرنے کے باوجود یہ بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ کون ان کے وزیر اعظم رہنے سے ناخوش تھا کہ انہیں ’پہلے سے طے شدہ‘ عدالتی فیصلہ کے ذریعے اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اگست 2017

عمران خان نے ایک بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خبروں کے مطابق نواز شریف بدھ کو لاہور روانہ ہوں گے اور راستہ میں اپنے حامیوں کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے لاہور پہنچیں گے جہاں ان کے شاندار استقبال کی تیاری کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں قانونی جنگ ہارنے کے بعد اب مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف عوامی رابطہ مہم پر زور دینا چاہتے ہیں تا کہ خود کو مظلوم ثابت کر کے 2018 کے انتخابات میں کامیابی کیلئے کام کیا جا سکے۔ اس لحاظ سے سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلہ نے اگرچہ انہیں وزارت عظمیٰ سے محروم کر دیا ہے لیکن یہ محرومی ایک نئی اور بڑی کامیابی کی نوید بھی بن سکتی ہے۔ نواز شریف ایک طرف نااہل ہونے کے باوجود امور مملکت کے نگران رہیں گے اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت ان کی مرضی اور منشا سے ہی معاملات طے کرے گی تو دوسری طرف عہدے سے علیحدہ ہونے کے بعد نواز شریف زیادہ کھل کر بات کر سکیں گے اور اس طرح اپنی کامیابی کیلئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہی عمران خان کی پریشانی ہے۔ اسی لئے پاناما کیس کی سماعت کے دوران وہ نہ صرف نواز شریف کے نااہل ہونے کی بات کرتے تھے بلکہ اس خواہش کا اظہار بھی برملا کرتے رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہاؤس سے سیدھے اڈیالہ جیل جائیں گے۔ سپریم کورٹ عمران خان کی صرف ایک ہی خواہش پوری کر سکی۔ اب نواز شریف کی سیاسی جدوجہد میں عمران خان کو جمہوریت کے علاوہ سپریم کورٹ اور ملک کا عدالتی نظام بھی خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...