ایڈیٹرکا انتخاب

  • جمہوریت پسند دوستوں سے چند گزارشات

    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملکی سیاست میں غیر ذمہ دارانہ لب و لہجے اور ذاتیات کی حد تک اترنے والی دشمنی نما مخالفت کا جو چلن شروع ہوا ہے اس نے صرف ایک گروہ ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ قوم کا اجتماعی مزاج اب اپنے سیاسی مخالفین کے لئے ’چول‘ (استغفراللہ) اور ’لفافہ&l [..]مزید پڑھیں

  • اہل کراچی، کچھ دبئی اور لاہور والوں سے سیکھ لیں

    لکھنے کے لیے بہت باتیں پڑی ہیں اس لیے ابھی یہ نوبت نہیں آئی کہ دبئی کے سفر کا احوال لکھنے بیٹھ جاؤں۔ جس کے پاس لکھنے کے لیے کچھ نہ ہو وہ دبئی کے سفر کا حال احوال لکھ سکتا ہے۔  یعنی آنا جانا بھی کیا اور جگہ بھی کیا۔ ایک پرانے شاعر تھے نوح ناروی۔ انھوں نے اپنے بارے میں لکھا کہ نا [..]مزید پڑھیں

  • انی کنت من الظالمین سے عشائے ربانی تک

    منیر نیازی نے کہا تھا، رات دن کے آنے جانے میں یہ سونا جاگنا / فکر والوں کو پتے ہیں اس نشانی میں بہت۔ منیر نے اس اشارے سے روشنی پانے والوں کے لئے فکر کی شرط رکھی۔ ہم ایسے درماندہ تو تفکر کی استطاعت نہیں رکھتے، ہمیں تو فکر مندی کی صلیب بخشی گئی۔ درد کی سولی پر کھینچا گیا۔ اس نیند میں [..]مزید پڑھیں

loading...
  • پلاسٹک کا بھوت اور پچاس روپیہ فی تھیلا موت

    یہ اسی کی دہائی کا ذکر ہے ہمارے گھر میں سودا سلف لانے کے لئے زین کے دو موٹے تھیلے ہوا کرتے تھے۔ ایک تھیلا بھٹی چڑھنے جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ سودا لانے والا ملازم بچھیری نامی گھوڑی کو تانگے میں جوتتا، جن بچوں نے سکول جانا ہوتا انھیں تانگے میں سوار کراتا، راستے بھر دل سے [..]مزید پڑھیں

  • تجزیے کا تجزیہ

    ہمارا تجزیہ خام کیوں ہے؟ گزشتہ دنوں سیگمنڈ فرائیڈ کے چند مضامین پڑھے۔ وہی فرائیڈ، جسے بابائے نفسیات کہا گیا ہے۔ ایرک فرام کی ‘خرد مند معاشرہ، (The Sane Society) کو بھی ایک بار پھر دیکھا۔ فرائیڈ نے ‘پاپولزم‘ کو موضوع بنایا جو عہدِ حاضرکی سیاست کا بھی اہم مسئلہ ہے۔ قضیے کی بن [..]مزید پڑھیں

  • سر باجوہ، نہ کریں!

    سپہ سالار جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ میں ابھی کئی مہینے باقی ہیں لیکن اسلام آباد کی اقتدار کی غلام گردشوں سے اندر کی خبر ڈھونڈ لانے والے چیتے رپورٹر اور سارے ستارہ شناس تجزیہ نگار مصر ہیں کہ ایکسٹینشن پکی۔ سپہ سالار کے مزاج اور ان کی باجوہ ڈاکٹرائن سے واقف دفاعی تجزیہ نگار ی [..]مزید پڑھیں

  • ابن بطوطہ کے مولد سے

    کوئی چوبیس سال بعد دانے پانی کی کشش نے پھر سے بحر اوقیانوس کے کنارے پر لا پٹکا ہے۔ اس سے پہلے اس سمندر کی، جسے اہلِ عرب ”اطلس“ کے نام سے پکارتے ہیں، زیارت مغربی افریقہ کے سواحل پر ہوئی تھی۔ اس بار اس خادم کا ہفتے بھر کا قیام شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے شہر طنجہ میں ہے۔   [..]مزید پڑھیں