ایڈیٹرکا انتخاب

  • پلاسٹک کا بھوت اور پچاس روپیہ فی تھیلا موت

    یہ اسی کی دہائی کا ذکر ہے ہمارے گھر میں سودا سلف لانے کے لئے زین کے دو موٹے تھیلے ہوا کرتے تھے۔ ایک تھیلا بھٹی چڑھنے جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ سودا لانے والا ملازم بچھیری نامی گھوڑی کو تانگے میں جوتتا، جن بچوں نے سکول جانا ہوتا انھیں تانگے میں سوار کراتا، راستے بھر دل سے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تجزیے کا تجزیہ

    ہمارا تجزیہ خام کیوں ہے؟ گزشتہ دنوں سیگمنڈ فرائیڈ کے چند مضامین پڑھے۔ وہی فرائیڈ، جسے بابائے نفسیات کہا گیا ہے۔ ایرک فرام کی ‘خرد مند معاشرہ، (The Sane Society) کو بھی ایک بار پھر دیکھا۔ فرائیڈ نے ‘پاپولزم‘ کو موضوع بنایا جو عہدِ حاضرکی سیاست کا بھی اہم مسئلہ ہے۔ قضیے کی بن [..]مزید پڑھیں

  • سر باجوہ، نہ کریں!

    سپہ سالار جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ میں ابھی کئی مہینے باقی ہیں لیکن اسلام آباد کی اقتدار کی غلام گردشوں سے اندر کی خبر ڈھونڈ لانے والے چیتے رپورٹر اور سارے ستارہ شناس تجزیہ نگار مصر ہیں کہ ایکسٹینشن پکی۔ سپہ سالار کے مزاج اور ان کی باجوہ ڈاکٹرائن سے واقف دفاعی تجزیہ نگار ی [..]مزید پڑھیں

  • ابن بطوطہ کے مولد سے

    کوئی چوبیس سال بعد دانے پانی کی کشش نے پھر سے بحر اوقیانوس کے کنارے پر لا پٹکا ہے۔ اس سے پہلے اس سمندر کی، جسے اہلِ عرب ”اطلس“ کے نام سے پکارتے ہیں، زیارت مغربی افریقہ کے سواحل پر ہوئی تھی۔ اس بار اس خادم کا ہفتے بھر کا قیام شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے شہر طنجہ میں ہے۔   [..]مزید پڑھیں

  • زندہ ہے ، زندہ ہے جالب زندہ ہے

    یہ پینسٹھ کی جنگ کے اختتام کے بعد پہلے موسمِ سرما کی بات ہے ، جب میں کراچی میں جون ایلیا کو الوداع کہ کر لاہور پہنچا  اور لاہور کے ترقی پسندوں ، سُرخوں اور کامریڈوں سے "ہیلو ہائے" کا آغاز ہوا ۔  تب تک بھٹو کے حوالے سے " ایشیا سُرخ ہے " کا نعرہ رائج نہیں ہوا تھا ۔ ال [..]مزید پڑھیں

  • پنجاب کی تقسیم: بہاولپورصوبہ بنایا جائے

    کچھ عرصے سے پنجاب کی دو صوبوں میں تقسیم کا غلغلہ بلند ہے۔ ہر اہم معاملے کی طرح اس پر بھی عوام کی کوئی رائے نہیں اور خواص کی رائے دو حصوں میں منقسم ہے۔ سرائیکی صوبے کے حق میں بات کرنے والوں کے پاس دلائل کے انبار ہیں۔ پنجاب کی تقسیم کے خلاف بولنے والے بھی اپنی جگہ درست ہیں۔ ان کے خ [..]مزید پڑھیں

  • عید پر یہ جہاز ہمارے دلوں پر لینڈ کرتے ہیں

    ہجرتِ خوداختیاری کے تحت پردیس جانے والوں کو کوئی بتائے کہ گاؤں کا پتھریلا رستہ تکتے بوڑھے ماں باپ، متروں اور سکھیوں کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں، تب جا کر کہیں کچی منڈیروں پر کوا بولتا ہے اور ہماری عید ہوتی ہے۔ ان کی عید، جن کے ساتھ آپ نے برسوں ایسے بِتائے کہ جدائی کا تصور بھی م [..]مزید پڑھیں