معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

بے یقینی ختم کرنے کے لئے نادیدہ قوتوں کی مداخلت بھی روکیں

  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018 تحریر: افتخار بھٹہ   لاہور

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک بار پھر دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا نظام ہی چلے گا آئین اور دستورکی ہر قیمت پر پاسداری کی جائے گی آئین کے ایک ایک حرف کا تحفظ کیا جائے گا۔ آئین میں الیکشن کے التوا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالتی مارشل لاء یا فوجی مارشل لاء کی ہر گز توثیق نہیں کی جائے گی ، کچھ لوگ منصوبہ بندی کے تحت افواہیں اور بد گمانی پھیلا رہے ہیں۔ اب وہ وقت نہیں رہا کہ اپنے ماتھے پر غلاظت اور گندگی مل لیں۔ آئین کے مطابق الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے‘‘۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کم و بیش ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور قوم کو دو ٹوک انداز میں آئین اور جمہوریت کے تسلسل کی یقین دہانی کرواتے رہتے ہیں۔

لیکن الم نشرح ہے کہ دونوں انتہائی با اختیار زعما کی یقین دہانیوں کے باوجود ملک میں آئین اور جمہوری عمل پر خطرات کے گہرے سائے منڈلاتے بھی ہر کسی کو نظر آتے ہیں اور سامنے کی حقیقت یہ بھی ہے کہ پس پردہ قوتیں یہ سائے گہرے سے گہرے کرنے کیلئے سر گرم عمل رہتی ہیں۔ مثال دے کر وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے پس پردہ قوتوں کی بعض اوقات اچھل کود مضحکہ خیز حد تک ایکسپوز ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ جس سے حیرت ہوتی ہے کہ یہ ملک سر زمین آئین ہے بھی یا نہیں ہے۔ ظاہر ہے سر زمین آئین والے کسی بھی ملک میں آئین اور دستور کی بے حرمتی اور قانون کی بے عزتی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکت۔ بلوچستان حکومت گرانے اور اس کے بعد سینٹ کے انتخابات کے انعقاد میں پس پردہ قوتوں نے جو مداخلت کی وہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ اس مداخلت کے مقابلے میں حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔  حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کی نشریات بعض مقامات پر بند ہو گئیں لیکن کسی کو بھی پتہ نہیں ہے کہ یہ نشریات بند کرنے کا حکم کہاں سے آیا ۔ اور کس نے دیا۔  مجاز ریگو لیٹری اتھارٹی پیمرا بھی اس حوالے سے بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئی۔ اب یہ مقدمہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے۔ عدالت عظمیٰ کو اس حوالے سے بھی ایک سو وموٹو نوٹس لینا چاہیے تھا۔ زبانی  دعوے کرنے کی بجائے بہتر ہوگا چیف جسٹس آف پاکستان آگے بڑھیں اور آئین اور دستور کی حرمت اور قانون کی حکمرانی بحال کرائیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی  آئین کی پاسداری کے اعلان  کی بجائے عملاً ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں تاکہ ملک میں جاری سیاسی بے یقینی کا خاتمہ ہو سکے۔ یاد رہنا چاہیے کہ اس ملک کی بقا اور سلامتی اور اس کی آبادی اور خوشحالی کا دارو مدار آئین کی بالا دستی، ریاستی اداروں کی آئینی کارکردگی اور قانون کی حکمرانی کے قیام پر منحصر ہے۔ کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کے بغیر ملک کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ ملک کو داخلی اور خارجی خطرات سے محفوظ کرنے کا بھی سب سے زیادہ مؤثر ہتھیار یہی ہے۔

ان کالموں میں اسی لیے ایک عرصے سے کھلے لفظوں میں ملک کی مقتدرہ سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ خود کو ناقابل تسخیر نہ سمجھے بلکہ آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کے قیام کا عمل آگے بڑھنے دے۔ ویسے بھی سامنے کی حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا انسانیت میں مطلق العنان حکومتوں کا دور ختم ہو گیا ہے اور آئینی اور دستوری حکومتوں کا قیام سکہ رائج الوقت ہے۔ آمریت پرست قوتوں کی ساری کار ستانیاں تاریخ کا پہیہ الٹ چلانے کے مترادف ہیں جن کی روک تھام پوری قوت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اب بھی کہا جاتا ہے کہ ملک میں فوجی مارشل لاء یا عدالتی مارشل لاء نافذ کیا جائے۔ اسی لیے چیف جسٹس آف پاکستان کو اس کے خلاف بیان دینا پڑا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نگران حکومت کی مدت میں اضافہ کر دیا جائے۔ اس تصور کو بھی اسی مقام پر روک دینا چاہیے۔

اس کا جواب بھی ملنا چاہیے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ملک کے جمہوری تسلسل کو روک کر امریت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کون لوگ ہیں جو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے باوجود اس کے فروغ  میں ملوث ہیں۔ وہ کون لوگ ہیں جو ایک جنونی گروہ کی پشت پناہی کر کے آئینی اور جمہوری اداروں اور حکومت کے خلاف کھڑا کر دیتے ہیں۔ ان تمام سوالوں کا جواب قوم کو ملنا چاہیے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...