معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

ٹیکنالوجی کا استعمال معاشی ترقی کے لئے ضروری ہے

  وقت اشاعت: 13 مارچ 2018 تحریر: افتخار بھٹہ   لاہور

معاشی ، سیاسی اور سماجی ارتقاء میں ذرائع پیدا وار کا مرکزی کردار ہے ۔ مشینی ذرائع پیدا وار سے صنعتی عہد پیدا ہوا۔ معیشت کے تین اہم اجزاء ، پیدا وار، پیدوار کی تقسیم اور معیار زندگی ہیں۔ ان تمام عناصر کے فروغ کیلئے علم پر مبنی معیشت کا قیام نہایت ضروری ہے۔ دنیا میں آج وہی معاشرے ترقی یافتہ ہیں جن کی پیداوار جدید ٹیکنالوجی اور حجم زیادہ ہے۔ جدید عہد کی سب سے اہم قدر پیداوار ہے۔ سوال یہ ہے کہ پید وار میں کیسے اضافہ کیا جا سکتا ہے جن سے لوگوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ 

 آج دنیا تیسرے صنعتی انقلاب سے نکل کر چوتھے انقلاب میں داخل ہو رہی ہے تو ہم معیشت کے بارے میں کچھ نہیں سوچ رہے ہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بحرانوں سے دو چار ہیں ۔ جس کی وجہ سے جمہوری اداروں اور معیشت کو استحکام حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ ملک کے نظام مالیات کو چلانے کیلئے قرضوں کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ آج اندرونی اور بیرون قرضوں کی مقدار مجموعی قومی پید وار کے75%کے سے زائد ہو چکی ہے۔  قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یوں تو موجودہ حکومت معیشت کے سدھار اور ترقی کے بہت دعوئے کرتی ہیں کہ اس حوالے سے سڑکوں، پلوں، فاوئی اوورز کی تعمیرات کا ذکر کرنے کے ساتھ بجلی گھر بنانے اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا کریڈیٹ لینا بھی شامل ہے۔ مجموعی قومی معیشت کی بڑھوتی کا بھی ذکر ہے اور مجموعی قومی پید وار کی ترقی کی شرح نمو 6%ہونے کا بتایا جا رہا ہے ۔ ٹیکسوں کی وصولی میں خاصہ اضافہ ہوا ہے جبکہ جس کو سب سے زیادہ نچلے طبقات اپنی آمدنی کے تناسب سے کہیں زیادہ ادا کر رہے ہی۔، تیل کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر بھاری ٹیکس لگائے گئے ہیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ برآمدات جو کہ زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہیں صنعتی بحران کی وجہ سے ان کی آمد میں کمی واقع ہوئی ہے ۔

ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی کے حوالہ سے آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ترقی رئیل اسٹیٹ میں دیکھنے کو آئی ہے۔ لوگوں نے اپنا سرمایہ اس شعبہ میں لگانا شروع کر دیا ہے۔ جبکہ انڈسٹری کو بندش کا سامنا ہے۔ ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے جبکہ دوسری طرف کروڑوں لوگوں کے بینک اکاؤنٹس موجود ہیں ان میں لین دین سے لوگوں کے اثاثوں آمدینوں اور کمائے جانے والے منافعوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک ماہر معاشیات کے مطابق شناختی کارڈ کے نمبر کے ذریعے لوگوں کی جائیدادوں اور گاڑیوں کی ملکیت کے متعلق معلوم کیا جا سکتا ہے جو کہ ایک روپیہ بھی انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں۔ محصولات کی وصولی کا نیٹ ورک وسیع نہ ہونے کی وجہ سے ہم حکومتی اخراجات نہیں پورے کر سکتے۔  صوبائی حکومتوں کی ٹیکس وصولی کا نظام انتہائی ناقص ہے ۔ جاری اخراجات کو پورا کرنے کیلئے روزانہ مختلف اداروں اور ذرائع سے قرضے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ رواں سال 2017-18میں ہمارے بیرونی قرضے75.55ارب ڈالر(7.9کھرب روپے) تک پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان نے چین کے ساتھ فری ٹریڈ کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ پاکستان سے چین کو ٹیکسٹائل کی برآمدات پر ڈیوٹی عائد ہے ، جس کی وجہ سے چین کی پاکستان کو ایکسپورٹ 15ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی2ارب ڈالر ہے۔ ایف ٹی اے معاہدہ چین کے حق میں ہے دوسرے مرحلے میں پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات چین کیلئے فری ہوں گی ترکی کے ساتھ ہمارا ایف ٹی اے تعطل کا شکار ہے۔ اس ساری صورتحال میں بنگلہ دیش اور ہندستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، بنگلہ دیش دنیا میں چین کے بعد دوسرا گارنمنٹس کا درآمد کنندہ بن گیا ہے۔ ہماری ٹیکسٹائل میں ویلیو ایڈیشن دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ قومی تحویل میں نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری نہ کرنے کی وجہ سے حکومت کو5سو ارب روپے کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس لیے آئی ایم ایف نے مالی کرنٹ اکاؤنٹ تجارتی خسارے میں اضافہ اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی کو ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق کساد بازاری کی وجہ سے برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے مگر ویتنام میں 107%بنگلہ دیش24%بھارت31%اور سری لنکا20%برآمدی گروتھ حاصل کی ہے۔

یورپی یونین سے جی ایس پی پلس کی فری مراعات کا ہم فائدہ نہیں اٹھاسکے ہیں یہ بات ہمارے پالیسی سازوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہماری مصنوعات کی عالمی منڈی میں مقابلہ کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے ۔ یاد رہے ہم بنیادی طور پر زرعی ملک ہیں اور اس سے پیدا ہونے والی اجناس کی کھپت اور انہیں ویلیو ایڈڈ میں تبدیل کرنے کیلئے صنعتوں کا قیام ضروری ہے ہمارے لاکھوں ٹن پھل ضائع ہو جاتے ہیں جس کیلئے حکومت کو سٹوریج بنانے کیلئے قرضہ جات فراہم کرنے چاہیں۔ ہمارے پاس اجناس کی پید وار اور اس کی سائنسی بنیادوں پر تقسیم کا کوئی فار مولا موجود نہیں ہے۔ برآمدات اور درآمدات کے میکنزم کے بارے میں کسی کو علم نہیں ہے۔ اس غفلت کی وجہ سے فصلیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ زرعی پید وار میں اضافہ کیلئے تعلیم ٹیکنالوی اور جدت  سے کام لینا ہوگا تاکہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات  کی کھپت کو عالمی منڈیوں میں لایا جاسکے۔ بھارت، چین، بنگلہ دیش اور ویتنام نے جدت طرازی کے ذریعہ عالمی منڈیوں میں اپنے مصنوعات کی جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ ہم ملک کی معیشت کو پٹڑی پر ڈالنے میں ناکام رہے ہیں اور قرضہ جاتی شکنجوں میں جکڑے جا چکے ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...