معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

سیاست ، تنقید اور احترام

  وقت اشاعت: 12 مارچ 2018 تحریر: غلام مرتضیٰ باجوہ   لاہور

صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ آئند عام انتخابات کیلئے عوامی جلسوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی قائدین ملکی وقوم کی فلاح وبہبود کی بجائے قومی اداروں پر شدید تنقید کرتے نظر آرہے ہیں۔   احسن اقبال حلقہ این اے117نارووال سے 2013میں95481ووٹ ،2008 میں66633ووٹ ، 1997 میں 59677ووٹ ،1993میں 54893ووٹ لےکر کامیاب ہوئے ۔  ایک تقر یب میں ان پر جوتا پھینکنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ چند دنوں بعد خواجہ محمد آصف  جو سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کے کئی بار رکن رہے۔ان کے ساتھ کچھ ایسا ہی افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں نوجوان نے ان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی ۔ تیسرے واقعہ میں تین بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف کو ایک شخص نے تقریب کے دوران جوتے کا نشانہ بنا ڈالا۔

ان افسوسناک واقعات پرپاکستان کی تمام سیاسی ، مذہبی جماعتوں سمیت وکلاء ، سماجی و تاجرتنظیموں کے نمائندوں کی جانب سے شدید ردعمل کااظہارکرتے ہوئے بھرپور مذمت کی اور ملوث افراد کو سزادینے کا بھی مطالبہ کیا گیا تودوسری جانب سستی شہرت حاصل کرنے والے چند افراد کی جانب سے یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ یہ عوامی احتساب ہے۔ لیکن پاکستان کا قانون اورآئین کسی بھی شہری کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیتا چاہئے وہ کسی سیاسی ، مذہبی ، سماجی تنظیم سمیت دیگر شعبے زندگی سے تعلق رکھتاہو۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنماء اس حقیقت سے انکارکرتے رہے اور کررہے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ نوازشریف کو نیوکلیئر میزائل کے دھماکوں کی قیمت خود جلاوطنی اور پارٹی کو تقسیم کرنے کے ذریعے ادا کرنا پڑی۔ اور اب بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر حکومت سے آؤٹ کردیاگیا ہے۔ مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ‘درحقیقت وہ اسی درخت کے شاخ کاٹ رہے ہیں جس پر وہ خود براجمان ہیں‘ وغیرہ وغیرہ

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جس معاشرے میں آداب احترام کی تمیز نہیں رہتی وہ معاشرہ تباہ ہوجاتاہے ۔ سیاستدانوں کو بھی اپنے رویے تبدیل کرنے چاہئے۔ جلسے ، جلوس ، کنونشن، سیمینار وں کا انعقاد کرنے کا مقصد ذاتی مفادات یا قومی اداروں پرتنقید نہیں ہونا چاہئے بلکہ ملک وقوم کی فلاح وبہبود کیلئے کئے گئے اقدامات بارے تقریر کی جائے اور ان پر عوامی رائے اور عوام کو درپیش مسائل پر بھی غورکیا جائے۔
ماہرین ، مبصرین کا کہنا ہے کہ چند دنوں میں تقریبات میں افسوسناک واقعات پیش آنا پاکستان مسلم لیگ نواز سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کیلئے نیک شگون نہیں۔  بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لئے باعث تشویش ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے عدم برداشت کے رویوں کا خاتمہ کرنا چاہئے ۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما  قمر زمان کائرہ سمیت کئی سیاسی رہنما ؤں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ نوازشریف ہرحال میں عدالت پر حملہ آورہوں گے۔

نوازشریف سپریم کورٹ پر 1998 سے بڑاحملہ کرنے والے ہیں۔ ان کا مزاج ہی ایسا ہے، وہ میرٹ کی پالیسی کے قائل ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتقام، مفادات پرمبنی قانون سازی کی مزاحمت کریں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تنقید جمہوریت کا حسن ہے لیکن قومی اداروں کو گالیاں دینا مہذہب قوم کاشیوہ نہیں۔ اس لئے پاکستان مسلم لیگ نواز کو 1998کی سیاست اور ملکی نظام سے بغاوت جسے اعلانات کو ترک کرناہوگا ۔ کیونکہ اب وہ صورتحال نہیں اور2018 کے عام انتخابات بھی قریب ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...