معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

ججز کے ریمارکس کی کوریج پر پابندی ہونی چاہئے

  وقت اشاعت: 12 مارچ 2018 تحریر: مزمل سہروردی   لاہور

میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کی عدلیہ اس وقت ایک نازک دور سے گز ر رہی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی عدلیہ کو سیاسی محاذ پر ایک محاذ آرائی کا سامنا ہے۔ سیاسی محاذ آرائی نے عدلیہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ ایسے میں عدلیہ کی ساکھ اور عدلیہ کی بقا کو سنگین چینلنجز کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میں عدلیہ کے ذمہ داران کو کیا کرنا چاہئے۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ قانون اندھا اور انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر بھی پٹی ہوتی ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ سب کے ساتھ برابر سلوک کیا جائے۔ جانبداری کا کوئی پہلو سامنے نہ آجائے۔ جب انصاف میں جانبداری کا پہلو سامنے آجائے تو انصاف کا سارا فلسفہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے میری چیف جسٹس پاکستان اور عدلیہ کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ ایسا کوئی بھی عمل جس سے جانبداری کا پہلو سامنے آئے چاہے وہ انصاف کے اصولوں کے عین مطابق ہی کیوں نہ ہو نظام انصاف کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انصاف سب کے لئے میں سب کے لئے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کسی ایک کو فوکس کرنا درست نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے دو تاثر سامنے آتے ہیں ایک جو فوکس میں ہو وہ سوال کرتا ہے میں ہی کیوں اور دوسرے جو نظر انداذ ہو رہے ہوں وہ بھی سوال کرتے ہیں کہ ہم کیوں نہیں۔ ایسے میں عدلیہ کو کم از کم سیاسی مقدمات کی سماعت کے دوران اس اصول کو ضرور سامنے رکھنا چاہئے۔ 

آج کل نون لیگ اور عدلیہ کے درمیان ایک محاذ آرائی کی کیفیت پوری قوم کے سامنے ہے۔ ایسے میں نواز لیگ کے اندر بھی دو دھڑے ہیں۔ ایک دھڑے کا خیال ہے کہ اس محاذ آرائی کا نون لیگ اور بالخصوص نواز شریف کی سیاست کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ اسے عرف عام میں کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کے بیانیہ کو مقبولیت مل رہی ہے۔ جبکہ دوسرا دھڑا وہ ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ ملک کے ادارے قومی اثاثہ ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کرنی چاہئے۔ عدلیہ اور دوسرے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا شاید وقتی طور پر تو فائدہ ہو جائے لیکن آخر میں نقصان ہو گا۔ وقتی فائدہ کو نہ دیکھا جائے بلکہ آخری نقصان کو سامنے رکھا جائے۔ قدرت کی ستم ظریفی کہہ لیں یا حالات کا جبر کہہ لیں کہ محاذ آرائی کے دھڑے کی قیادت نواز شریف کر رہے ہیں اور محاذ آرائی کی مخالفت والے دھڑے کی قیادت شہباز شریف کر رہے ہیں۔ پالیسی کا یہ اختلاف واضح اور اعلانیہ ہے۔ 
بہر حال ہم پہلے عدلیہ کو درپیش چیلنجز کی بات کر رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی مقدمات کے دوران محترم جج صاحبان کی جانب سے دیئے گئے ریمارکس موجودہ صورتحال میں محاذ آرائی کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ خود چیف جسٹس پاکستان نے ایک موقع پر سماعت کے دوران کہا ہے کہ میرے ذہن میں سوال ہے لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیسے کروں۔ جس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اس موقع پر بھی ان کے ریمارکس کا سیاسی جلسوں میں جواب دیا گیا تھا۔ اب کسی جج پر سیاسی جلسوں میں حملہ ہو جائے تو اس کے پاس جواب دینے کا کوئی راستہ موجود نہیں رہتا ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے موجودہ حالات اور عدلیہ کو درپیش چیلنجز اس بات کا تقاضہ کر رہے ہیں کہ سماعت کے دوران دیئے گئے ریمارکس کی رپورٹنگ کی اشاعت پر مکمل پابندی ہونی چاہئے۔

اس ضمن میں اس بنیادی اصول کو سامنے رکھنا چاہئے کہ جج کو نہیں اس کے فیصلوں کو بولنا چاہئے۔ مگر اب یہاں یہ مسئلہ ہو گیا ہے کہ جج بول رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسائل ججز کے ریمارکس کی اشاعت سے پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ ریمارکس فیصلہ بھی نہیں ہوتے۔ ان کی کوئی عدالتی ساکھ نہیں ہوتی۔ یہ پانی کا بلبلہ ہوتے ہیں۔ لیکن ان ریمارکس کی شہ سرخیاں اور ہیڈ لائنز نے عدلیہ کے لئے مسائل پیدا کئے ہیں۔ میرے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ان ریمارکس کی میڈیا کوریج کے محترم جج صاحبان عادی ہو گئے ہیں۔ ان کو اس کا نشہ ہو گیا ہے۔ کہ وہ جو بولتے ہیں فوری طورپر اس کے ٹکرز چلتے ہیں پھر ہیڈ لائن بن جاتی ہیں۔ پھر اخبارات کی شہ سرخیاں جاری ہوتی ہیں۔ سب کتنا اچھا لگتا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان ریمارکس کی میڈیا کوریج انصاف کے اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جج نہیں بولتے ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ اس طرح جج صاحب کی خاموشی ہی ان کی شان ہے۔ دوران سماعت ہونے والے سوال جواب یا جج صاحب کی کسی بھی آبزرویشن کی کوئی جیوڈیشل حیثیت نہیں ہے۔ لیکن عوام ان ریمارکس کو ہی فیصلہ سمجھتے ہیں۔ انہی کی روشنی میں رائے بنتی ہے۔ یہ ریمارکس رائے عامہ  بنانے کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں جو عدلیہ کا کام نہیں ہے۔ شاید اسی لئے سیاستدانوں کو اس سے تکلیف ہو رہی ہے۔ 

آپ سوال کر سکتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ ایک آزاد عدلیہ ہے۔ یہاں مقدمات کی سماعت اوپن کورٹس میں ہوتی ہے۔ او پن کورٹس کا بنیادی فلسفہ ہی یہ ہے کہ کوئی بھی مقدمہ کی کارروائی دیکھ اور سن سکتا ہے ایسے میں میڈیا کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ یہ سب ٹھیک ہے ۔ لیکن پھر بھی عدلیہ کو کوئی ایسا میکنزم بنانا پڑے گا کہ قابل اشاعت صرف اور صرف مقدمہ کی کاروائی ہو۔ یہ عدلیہ کا حسن ہے کہ ہر سماعت پر جو بھی کارروائی ہو اس کا حکم لکھوایا جاتا ہے۔ ساری کارروائی کا ایک حکم بنتا ہے۔ اس طرح ہر سماعت پر جو بھی کارروائی ہو اس کی رپورٹنگ کی کھلی اجازت ہونی چاہئے۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ مقدمہ میں کیا کارروائی ہوئی ہے۔ لیکن ریمارکس کی اشاعت کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ پتہ نہیں کیوں لیکن ایک ایسا تاثر بھی ابھر رہا ہے کہ ریمارکس کے ذریعہ ملنی والی میڈیا کوریج ججز کو پسند آنے لگی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں ایسی کوئی صورتحال ہو ہی نہیں سکتی۔ ججز کوئی سیاستدان ہیں جو انہیں اپنی میڈیا کوریج پسند آنے لگے۔ ایک جج ان سب چیزوں سے مبرا ہوتا ہے۔ اسے اس سے کوئی سروکار ہو ہی نہیں سکتا۔  ویسے بھی افتخار چودھری کی مثال سب کے سامنے ہے۔ وہ اپنے ریمارکس کے ذریعے روزانہ میڈیا میں چھائے ہوتے تھے۔ جب تک وہ چیف جسٹس رہے کوئی ایسا دن نہیں رہا جب ان کے ریمارکس ہیڈلا ئن نہ بن جائیں۔ لیکن دیکھ لیں یہ تمام میڈیا کوریج پانی کا بلبلہ ہی ثابت ہوئی ہے۔ اس ساری میڈیا کوریج کا نہ تو عدلیہ کو کوئی فائدہ ہوا ہے۔ نہ ہی افتخار چودھری کو کوئی فائدہ ہوا ہے۔ ان کی عوامی ساکھ زیرو ہی رہی۔ عوام نے ان کے کام کو کوئی پسند نہیں کیا۔ وہ ایک اچھے جج کے طور پر بھی یاد نہیں کئے جاتے۔ خود عدلیہ میں بھی انہیں اچھے نام سے یاد نہیں کیا جاتا۔ 

ان ریمارکس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ عوام ان ریمارکس کو سیاسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ بلا شبہ یہ ریمارکس سیاسی تناظر میں نہیں دیئے جاتے۔ ان کا کوئی سیاسی تناظر نہیں ہوتا۔ لیکن سیاسی مقدمات اور سیاستدانوں کے مقدمات کی سماعت کے دوران دیئے گئے ریمارکس کے سیاسی محرکات بن جاتے ہیں۔ ان کو سیاسی تناظر میں دیکھا جانے لگتا ہے۔ ریمارکس جس کے خلاف ہوں وہ سمجھتا ہے کہ اس سے اس کی سیاست کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے لہذا اس کا جواب دینا ضروری ہے۔ ورنہ عوام ان پر یقین کر لیں گے۔ اور جس کے حق میں ہوں وہ بھی ان سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ان کو بار بار دہراتا ہے۔ اس طرح یہ ریمارکس جن کی کوئی جیوڈیشل حیثیت نہیں ہوتی۔ وہ ملک کے سیاسی منظر نامہ پر ایک طوفان برپا کر دیتے ہیں۔ اس طرح ان ریمارکس میں سے کوئی اپنے لئے سلطان راہی تلاش کرتا ہے۔ جب کے کوئی مصطفی قریشی تلاش کرتا ہے۔ سیاسی  مخالفین ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لئے بھی ان ریمارکس کا سہارا لیتے ہیں۔ جو عدلیہ اس کے مستقبل اس کو درپیش چیلنجز کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ 

اگر ان ریمارکس کی میڈیا کوریج پر پابندی لگ جائے تو سیاسی منظر نامہ پر جو ایک طوفان اور جواب الجواب کا  ماحول نظر آتا ہے۔ وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اداروں سے لڑائی کے درجہ حرات میں بھی کمی آجائے گی۔ کیونکہ کوئی بھی لڑائی یک طرفہ نہیں چل سکتی۔ جب ریمارکس ہی نہیں ہوں گے تو جواب کس کا دیا جائے گا۔ ملکی منظر نامہ میں سکون آجائے گا۔ مجھے امید ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور عدلیہ کے محترم ذمہ داران میری اس تجویز پر ضرور غور کریں گے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...