معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

ایک منہدم معاشرت کا نوحہ

  وقت اشاعت: 22 فروری 2018 تحریر: مسعود منور   ناروے

یہ اکیسویں صدی ہے ۔ اسلام کو دنیا میں نازل اور نافذ ہوئے پندرہ صدیاں بیت چُکیں ، وقت کا پہیہ گھوم رہا ہے اور گھڑی کی ٹِک ٹِک اِس پہیئے کو مسلسل رواں رکھ رہی ہے لیکن پاکستان جہاں ستّر سال پہلے تھا ، اب اور آج بھی وہیں کا وہیں ہے :
مُنیر اس مُلک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

نہ کوئی روحانی اور اخلاقی ارتقا ، نہ معاشی پیش رفت ، لیکن قوم پر قرضوں کے اعداد و شمار میں ہوش رُبا اضافہ ہوا ہے ۔ جرائم پیشہ لوگوں نے سیاسی اداروں میں اپنے اَڈّے قائم کر رکھے ہیں ، پولیس کی چوکیاں اورتھانے اُن کی نجی خدمت گزار ہیں اور وہ جرم ، لاقانونیت ، کرپشن اور منی لانڈرنگ کو ایک سیاسی نظریہ بنا کر پیش کرنے میں خاصے کامیاب ہیں ۔ اس لاقانونیت ، افراتفری اور بحران نے پاکستانی معاشرت کی روحانی ، اخلاقی اور تہذیبی قدروں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے ۔ اب اس منہدم معاشرت پر یا تو شہر آشوب بنتا ہے یا مرثیہ ۔

موجودہ سیاسی منظر نامہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں سیاسی بُت کدے میں بہت سے انقلابی ، مُصلح ، اور تبدیلی کے نظریاتی اور سیاسی بُت نصب ہیں لیکن اِن بُتوں نے پاکستان کے مسجد آثار آنگن کو ناپاک کر کے رکھ دیا ہے ۔ ہمارے ہاں اس وقت عمران خان ، مولانا طاہر القادری ، شیخ رشید ، اسفند یار ولی ، اور ایم کیو ایم کے ان داتا انقلاب کی بولی بول بول کر تھک گئے ہیں مگر انقلاب نہیں آیا ، تبدیلی نہیں آئی ۔ تاریخ کی شاہراہ پر ایک اکیلا شخص سب سے الگ دکھائی دیتا ہے جس کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا ، جس نے اس مُلک کو ایک تازہ تر بیانیہ دیا لیکن اقتدار کی بنیاد پرست قوتوں نے اُسے بھی گمراہ کر دیا اور وہ اپنی ہی پارٹی کے نالائق ، ناعاقبت اندیش وڈیروں اور جاگیر داروں کی سازش کا شکار ہو کر پھانسی گھاٹ پر جا اُترا لیکن اُس کا سیاسی بیانیہ آج بھی زندہ ہے جس کی کمائی کھانے والے آج بھی ایک نیم جان قوم کی ہڈیاں چچوڑ رہے ہیں اور پیشہ ور قاتلوں کو بہادر بچے کا خطاب دے رہے ہیں ۔

لیکن ہمیں اُس جیسی تبدیلی درکارہے جو پندرہ صدیاں پہلے جزیرہ نمائے عرب میں آئی اور جس نے ادارے نہیں فرد کو بدلا ۔ اور یہی کتاب میں لکھا ہوا ملتا ہے کہ  قوم کو بدلنا چاہتے ہو تو فرد کو بدلو کیونکہ نظام کی تبدیلی اور فرد کی فرسودگی اور جہالت دونوں ایک دوسری کی ضِد ہیں ۔فرد کی جہالت اور فکری فرسودگی تبدیلی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔  چنانچہ اسلام نے علیؓ ، عثمانؓ ، عمرؓ اور ابوبکر ؓکو بدلا  ، بلالؓ کو بدلا  ، سلمان فارسیؓ ، صہیب رومیؓ کو بدلا تو تبدیلی کی بنیاد پڑی ۔ یہ نہیں ہوا کہ مکے میں اسلام  کے نام پر کسی ایک شخص اقتدار حاصل کر کے عرب معاشرے کی کایا پلٹ دی بلکہ یہ کام بدلے ہوئے افراد نے مل کر  کیا جو لا الہ الاللہ محمد الرسول اللہ کے اجتماعی پیغام کی حقیقی اور عملی تصویر تھے ۔

یہ سب لوگ مروجہ عرب روایت کے باغی تھے  جس کے بارے میں قرآن کا بیانیہ ہے کہ وہ "وما یشعرون" کی قید میں تھے ۔ وہ روایتی معاشرت میں ایک نئے شعور کے نقیب تھے ۔ کیونکہ جب فرد کے شعور میں تبدیلی آئے تو  پھر معاشرے کا ڈھانچہ اُس کی پیروی کرتا ہے اور اس کے مقابلے میں نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگانے والے انقلابی ناکامی کا مونہہ دیکھتے ہیں ۔ پاکستانیوں سے جنرل ضیا الحق نے اسلام کے حق میں ریفرنڈم کروایا لیکن اسلام نہ آیا بلکہ ملک مسلسل ، زوال اور انہدام کے بوٹ پہن کر چلتا رہا ۔ ستر برس میں سیاستدانوں کی ناکامیاں دیکھ کر ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔ لگتا ہے کہ ہمارے  لیڈروں کے پاس تبدیلی کا کوڈ ورڈ ہی نہیں ہے ۔ عمران خان کے پاس نہیں ، مولانا طاہر القدری کے پاس نہیں ، سراج الحق کے پاس نہیں ، مولوی فضل الرحمان کے پاس بھی نہیں ۔ سب اپنی اپنی تفسیریں اور تقریریں  ہانک رہے ہیں مگر ان سے معاشرے کے اونٹ کی کروٹ  کا تعین نہیں ہو رہا ۔ اور اس کے باوجود وہ نظام اور آئین کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں  جو حکومت اور چہروں کو بدلنا چاہتے ہیں ، نوکر شاہی اور پولیس کو بدلنے کی بات کرتے ہیں اور یہ سب اپنی اپنی برانڈ کے انقلابی ہیں لیکن سب کے سب ناکام ہوئے ہیں اور ابھی تک اسی نعرے کی جگالی کر رہے ہیں کہ ملک کو اقبال اور قائد اعظم کے خوابوں کا پاکستان بنانا ہے ۔ ارے کب ؟ ملک دو لخت ہو گیا ، تم نے کچھ نہیں سیکھا ، اب تمہارے لچھن کہہ رہے ہیں کہ اس بچے کھچے کو چار ٹکڑوں میں بانٹو گے ۔ ۔ ۔ میرے مونہہ میں خاک اور تمہاری نالائقی پر تُف ۔

نظام کی تبدیلی کوئی رانا ثناء اللہ کی مونچھ کا خضاب نہیں کہ جب چاہا نئے سرے سے کالک مل لی ۔ پچھلے ستر برس سے یہ انقلابی جانور ، نظریاتی ڈھور ڈنگر اور تحریکوں کے ریوڑ ملک اور قوم کو خوش حالی کا فریب دیتے چلے آرہے ہیں مگر سب بےسود ۔اِ ن نابغوں کی چھتر چھاؤں میں  دہشت و بربریت ، ڈاکہ زنی ، رسہ گیری ، سٹریٹ کرائم ، فیشن ایبل کرپشن ، فنکارانہ منی لانڈرنگ اور را گردی جاری ہے ۔ ملک کے خزانے پر ہر جگہ اسراف کار ، عیاش اور فضول خرچ لوگ بیٹھے ویاگرا درآمد کر رہے ہیں اور گلچھرے اُرا رہے ہیں۔ سرحد کے اِس طرف بھی جاتی اُمرا ہے اور اُس طرف بھی اور دونوں بُت کدوں  کو ایک ہی قوت چلا رہی ہے ۔  لیکن ہمیں اس قسم کے بُت کدوں کے پجاری نہیں بننا جہاں شیر کی مورتی کی پوجا ہوتی ہو ۔ اور یہ بات ذہن نشین رہے کہ بت کدے کو پجاریوں کی بھیڑ کی ضرورت ہوتی ہے ، ایک سیاسی اُمت درکار ہوتی ہے  اور ایک انتظامیہ چاہیئے ہوتی ہے جو مطلق العنان کی غلام  ہو ۔ اور جب وہ مطلق العنان اقتدار پر قبضہ کر لے تو اقتدار اُس کی مت مار دیتا ہے ۔ کیونکہ اقتدار وہ قوت ہے جو کرسی والوں کے ذہنوں اور دلوں کو بدل دیتی ہے ۔ اُنہیں " چَوڑ " کر دیتی ہے اور جب یہ قوت کسی ایک شخص کے پاس ہو تو اُس کے منحوس سائے میں سارے ادارےکرپٹ ہو جاتے ہیں ۔

صرف نام بدل جاتے ہیں لیکن  اداروں پر مسلط "جُوٹھیں " جوں کی توں رہتی ہیں اور جب اُن پر احتساب کی گھڑی اُترے ، جو محشر کی گھڑی ہوتی ہے تو وہ بوکھلا جاتے ہیں اور بِلبلا اُٹھتے ہیں جیسے نون لیگ ۔
لیکن ایک بات تو طے ہے کہ  پاکستان وہ جہیز نہیں جو مریم صفدر کو میاں محمد نواز شریف سے شادی پر ملا ہو ۔ یہ بائیس کروڑ لوگوں کا گھر ہے جس کا احترام لازم ہے اور اگر یہ احترام روا نہ رکھا جائے تو   قدرت کا انتقام شروع ہو جاتا ہے ، جو ہو چکا ہے:
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ  محشر میں ہے
پیش کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...