معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

پاک سعودی تعلقات کو کیوں متنازع بنایا جا رہا ہے

  وقت اشاعت: 22 فروری 2018 تحریر: مزمل سہروردی   لاہور

ایک دفعہ پھر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔ ایک ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی جیسے پاکستانی افواج یمن میں لڑائی لڑنے کے لیے سعودی عرب چلی گئی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایک مضبوط لابی موجود ہے جو ہر وقت اس کوشش میں رہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات خراب کیے جائیں۔

یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ یہ لابی ماضی میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئی اور اس نے ایک موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اس حد تک خراب کر دیئے تھے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے دور ہوتے نظر آرہے تھے۔ میں اپنے ان دوستوں سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ایران بھارت کے ساتھ مل کر چاہ بہار کی بندر گاہ بنائے تو ہمارے یہ دوست چپ رہتے ہیں اور ایک لفظ بھی نہیں بولتے۔ جب ایران افغانستان میں بھارت کے ساتھ مل کر کام کرے تو تب ٹھیک ہے ۔ لیکن اگر پاکستان اپنے مفاد میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کرے تو ایک بے وجہ کا شور مچ جاتا ہے۔ حالانکہ آئی ایس پی آر اور حکومت پاکستان کی طرف سے وزیر دفاع نے دو ٹوک وضاحت کر دی ہے کہ سعودی عرب جانے والی پاکستانی افواج سعودی عرب سے باہر کسی آپریشن میں حصہ نہیں لیں گی۔جانے والے فوجیوں کی تعداد بھی ایک ہزار سے زائد نہیں ہے پھر بھی شور  مچایا جارہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں  پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بہتر ہوئے تعلقات کو ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی بھی طرح پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

عسکری ذرائع کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں اس وقت 1379پاکستانی فوجی موجود ہیں۔ جب کہ نئے بھیجے جانے والی فوجیوں کی پوری تعداد تو ابھی تک سامنے نہیں آئی لیکن ایک محتاط اندازہ کے مطابق ایک ہزار پر مشتمل نیا تازہ دم دستہ سعودی عرب بھجوایا گیا۔ یہ بھی واضح کیا جا رہا ہے کہ نئے بھیجے جانے والے دستے کا کام صرف ٹریننگ کا ہے لیکن پھر بھی بات کا بتنگڑ بنایا جا رہا ہے۔ جو لوگ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے یہ لوگ امریکا کے ڈرون حملوں پر نہیں بولتے۔ بس سعود ی عرب کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہی ان کے نشانہ پر ہیں۔ یہ لوگ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کا بھی دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت جس میں صدر روحانی بھی شامل تھے سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے ایرانیوں کو پیشکش کی ماضی میں اسلام آباد اور ایران کے درمیان دفاعی تعاون موجود رہا ہے جس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ اس وقت بھی پانچ ایرانی پائلٹ پاکستان میں تربیت لے رہے ہیں جن کی تعداد میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب کے بھی پانچ دورے کیے ہیں۔ وہاں بھی ریاض اور اسلام آباد کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر بات ہوئی ہے۔ اب بطور ایک آزاد اور خود مختار ملک پاکستان کو کیا کرنا چاہیے۔ سعودی عرب تو چاہت کا مظاہرہ کر رہا ہے تو سعودی عرب کی چاہت کا جواب چاہت سے دیا جائے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ ہفتہ ہی مشترکہ نیول مشقیں ختم ہوئی ہیں۔ یہ مشترکہ نیول مشقیں 2011سے  ہورہی ہیں۔ اسی طرح پاکستان نیوی اور سعودی نیوی کے درمیان مشترکہ مشقیں اس وقت سعودی عرب کے پانیوں میں بھی ہو رہی ہیں۔ اسی طرح پاکستان اور سعودی عرب کی اسپیشل فورسز کے درمیان گزشتہ سال نومبر اور دسمبر میں مشترکہ مشقیں بھی ہوئیں جس میں پاکستان کی اسپیشل فورس نے سعودی دوستوں کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرنے کی ٹریننگ دی ۔ سعودی عرب کے خصوصی دستہ نے پاکستان ڈے کی پریڈ میں بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ اسی طرح 2017 میں دونوں ممالک کے درمیان فضائی تعاون بڑھانے کے لیے بھی مشترکہ مشقیں اور مشترکہ ٹریننگ ہوئی تھیں۔ اگلے سال بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ مشقوں کا ایک شیڈول موجود ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر ملک اپنے دوست برادر ممالک کے ساتھ ہی مشترکہ فوجی مشقیں کرتا ہے۔ ایسی مشقیں دونوں ممالک کے درمیان بہترین دوستانہ تعلقات کا عملی مظاہرہ ہوتی ہیں۔ کوئی بھی اپنے دشمن ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں نہیں کرتا۔ دشمن کے ساتھ تو صرف جنگ ہی کی جاتی ہے۔ اتنی ساری مشقوں کا ذکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دریان عسکری تعاون کی ایک لمبی تاریخ موجود ہے۔ جس کو یک دم نہ تو رد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کو مٹایا جا سکتا ہے۔

میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ یمن سے لڑائی کے موقع پر بھی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ ہم نے فوج بھیجنی تھی یا نہیں اس بات کا اعلان اس طرح قرارداد کے ذریعے کرنا درست نہیں تھا۔ آج ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے حوالہ سے ٹویٹ برے لگ رہے ہیں تو سعودی عرب کو ہماری قرارداد بری نہیں لگی ہو گی۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ آج جب ایک طرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بڑھ رہا ہے وہاں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاشی تعاون بھی بڑھ رہا ہے۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ گزشتہ ماہ ہی سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاشی تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔ وفد کو ایوان وزیر اعظم اور ایوان صدر میں بھی خوش آمدید کہا گیا۔ بہت سے معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے اور اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان آیندہ آنے والے وقت میں معاشی تعاون بہت بڑھے گا۔

پاکستان ایک  آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ ہمیں اپنے ملک کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہیں۔ ہم کسی دوسرے ملک کی خواہش اور مفاد کے تحت نہیں چل سکتے۔ جو دوست یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا مطلب یہ ہے کہ ایران سے تعلقات ختم۔ ان کی سوچ درست نہیں ہے۔ ہمارے ہر ملک کے ساتھ الگ تعلقات ہیں۔ اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات پاکستان کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ تو ہماری یہ خواہش کیسے ناجائز ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات کا پاک ایران تعلقات پر اثر نہیں پڑے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک مرتبہ پھر متنازعہ بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ سازش پہلے کامیاب ہو گئی تھی اب اس کو ناکام بنانا ہے۔ 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...