معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

لودھراں کے ضمنی انتخاب سے سبق سیکھنے کی ضرورت

  وقت اشاعت: 13 فروری 2018 تحریر: شیخ خالد زاہد   کراچی

پاکستان پر تو جیسے موروثی سیاست دانوں نے اپنا قبضہ ہی جمالیا ہے ۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں جو  صوبائی سطح پر مضبوط گرفت رکھتی ہیں جن میں سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اورخیبر پختون خوا میں عوامی نیشل پارٹی  قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ جماعتیں اپنے وجود میں آنے سے لے کر آج تک مخصوص خاندانوں کی میراث ہیں۔

پاکستان کو اس موروثیت سے نجات دلانے کیلئے ضروری ہے کہ کوئی سیاسی جماعت جو فقط منشور کی بنیاد پر کھڑی ہو اور اس منشور کی تکمیل کیلئے اپنی تمام تر کوششیں وقف کردے۔ اور عوام کو اپنے کردار اور عمل سے یقین دلایا جائے کہ نہ تو کسی قسم کے مفادات کی سیاست ہوگی اور نہ ہی موروثیت کو پنپنے کی اجازت دی جائے گی۔ اگر غور کیا جائے تو اسلام کے دیئے گئے نظام حکومت میں بھی موروثیت کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ جس سے اس بات کو اخذ کرلینا چاہئے کہ موروثیت کسی بھی طرح سے جمہوریت کیلئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتی۔ عوام جماعتوں کے منشور پر لبیک کہتے ہیں۔  مگر دل کے کسی نہ کسی خانے میں اس خاندانی نظام کا جماعتوں پر حاوی ہونا کھٹکتا رہتا ہے ۔ جب سے اس بات کا چرچا کیا جانے لگا ہے تو ظاہر سی بات ہے بہت سے کارکنان اپنی جماعتوں میں موروثیت کو بہت اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں۔ یہ موروثیت  جمہوریت کی راہ کی بہت بڑی رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ کوئی  سیاسی جماعت  عوام میں  کتنی ہی  مقبول ہو اگر جمہوری طرز پر کام کرے گی تو دیرپا اور پائیدار ہوگی جس کی وجہ اس جماعت کا نظم و نسق کسی ایک گھر سے نہیں چل رہا ہوگا۔  جماعت اسلامی اور زبوں حالی کا شکار ایم کیوایم،  وہ جماعتیں ہیں جہاں موروثیت کی کوئی جگہ نہیں  ہے۔ دراصل جمہوریت کا راگ آلاپنے والے موروثیت کے چکر سے نکلتے نہیں ہیں جس کی وجہ سے جمہوریت اپنے قدم جما نہیں پاتی ۔

اس تناظر میں اگر این اے 154 کے ضمنی انتخاب کا جائزہ کیا جائے تو صورت حال سمجھی جا سکتی ہے۔  یہاں ووٹ دینے کا کا اوسط تناسب پچاس سے ساٹھ فیصد رہا ہے جوکہ کافی مثبت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس حلقے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں دو امیدواروں کے درمیان ہی مقابلہ رہا ہے ۔ ان دو کے علاوہ کوئی ووٹوں کی گنتی کی دوڑ میں دس ہزاربھی شائد پار نہیں کر پائے ہیں۔  2013 کے انتخابات میں اس حلقے سے نواز لیگ کامیاب ہوئی تھی مگر 2015 میں پی ٹی آئی کے  جہانگیر ترین کامیاب ہوئے۔ 2017 میں جہانگیر ترین  کی نااہلی کے باعث ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر یہ نشست نواز لیگ کے پاس چلی گئی ۔ مختصراً یہ کہ کہانی جہاں سے 2013 میں جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں پہنچ گئی ہے۔ گو کہ مقابلہ دونوں جماعتوں نے خوب کیا اور ایک بار پھر دو جماعتوں میں ہی مقابلہ ہوا۔ نواز لیگ  ضمنی انتخابات میں کامیاب ہو گئی ۔

پی ٹی آئی کی شکست کا تجزیہ کرنے سے سب سے اہم جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ آپ اپنے کہے کو کر کے دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ لوگ آپ کے پیچھے آپ کے عزم اور حوصلے کی وجہ سے چل رہے ہیں اور خان صاحب اگر آپ نے بھی وہی سب کچھ کرنا ہے جو یہ عوام پچھلے 70 سالوں سے بھگت رہی ہے تو اللہ ہی حافظ ہے۔ ایک طرف موروثی سیاست کا خاتمہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے ، جس پر وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر تابڑتوڑ حملے کرتے رہے ہیں اور بلند و بانگ دعوے کرتے رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی اس نشست پر شکست کوئی خاص بات نہیں ہے ، جبکہ خاص بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں شکست جبکہ اگلے انتخابات سر پر کھڑے ہیں اہمیت رکھتی ہے۔ 

جیسا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین نے اپنے سماجی میڈیا پر یہ پیغام پی ٹی آئی کے کسی حد تک مایوس کارکنوں کیلئے جاری کیا ہے کہ عقل مند اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ خان صاحب کو اس بات کا احساس ہوگیا ہو کہ ان کا یہ فیصلہ کہ یہاں سے جہانگیر ترین کے صاحبزادے کو ضمنی انتخابات میں لڑایا جائے،  قطعی درست ثابت نہیں ہوا ۔ اگر ضمنی انتخابات میں وہ اپنے کسی اور مقامی قدرے کم حیثیت والے امیدوار کو کھڑا کردیتے تو شائد نتیجہ اس کے برعکس ہوتا اور  ووٹوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا۔ پھر جب جنرل انتخابات کا وقت آتا تو باہمی صلاح مشورے سے لودھراں کی انتظامیہ سے علی ترین کا نام ڈلوا کر اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا آنے والے انتخابات کی تیاری میں اس بات کو کس حد تک اہمیت دی جائے گی کہ پی ٹی آئی کے امیدوار بہت سوچ بچار کے ساتھ باہمی ہم آہنگی سے نامزد کئے جائیں گے۔

اس شکست سے ایک اور خوش فہمی جنم لیتی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کے عوام میں روشنی کی کرن جھلکنا شروع ہوئی ہے ۔ شعور نے بانہیں پھیلانا شروع کردیا ہے ۔ یہ ان خوش فہمیوں کی بنیاد ہی ہے کہ عوام نے اس بات کاعندیہ دیا ہے کہ اب جو کہے گا اور نہیں کرے گا تو وہ اسے اپنا قیمتی ووٹ نہیں دیں گے۔ جب تک اس موروثی سیاست کو ، اس خاص و عام کے فرق کو اور انسان کو انسان ہونے کا حق نہیں مل جاتا، اب ایسے حیران کن کام ہوتے چلے جائیں گے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...