نوجوان اپنی تقدیر خود اپنے ہاتھ میں لیں

  وقت اشاعت: 12 فروری 2018 تحریر: چوہدری ذوالقرنین ہندل   گوجرانوالہ

نوجوان ملک و ملت کا مستقبل ہوتے ہیں۔ قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ کسی بھی قوم میں نوجوان قوم کا قیمتی سرمایہ تصور کئے جاتے ہیں۔ نوجوان ملت کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دوران نوجوان طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ''میں آپ کی طرح جوان نہیں ہوں لیکن آپ کے جوش و جذبے نے مجھے بھی جواں کر رکھا ہے، آپ کے ساتھ نے مجھے مضبوط بنا دیا ہے''۔ نوجوان دماغی و جسمانی لحاظ سے باقی عمر کے طبقوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ہمت و جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ کٹھن حالات کا جواں مردی سے مقابلہ ان کی خوبی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت نوجوانوں میں مضمر ہے۔ اس قوم کی راہ ترقی میں کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی، جس کے نوجوان محنتی و ذمہ دار ہوں۔ جن قوموں کے نوجوان ان صفات سے عاری یعنی سست وکاہل ہوں گے، وہ قومیں خود بخود بربادی کی طرف رواں ہو جائیں گی۔

دنیا بھر میں نوجوان قومی ریڑھ کی ہڈی تصور کئے جاتے ہیں۔ اگر ریڑھ کی ہڈی ہی ناتواں ہو تو پورا شریر ہی کمزور پڑھ جاتا ہے، جسم میں سکت نہیں رہتی۔ راہ راست ہی نوجوانوں کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں، جن کے نوجوان درست سمت پر چل رہے ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی سب سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق 60 فیصد پاکستانی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستانی نوجوانوں میں قابلیت اور ذہانت کی کمی نہیں۔ ہمارے نوجوانوں میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں  جو نوجوانوں کا خاصہ تصور کی جاتی ہیں۔ ان میں ہمت ہے، جذبہ ہے ، یہ قابل ہیں، ذہین ہیں،  بہادر ہیں اور محنتی بھی ہیں۔ مگر برسوں سے ہمارے آباو اجدا د ہمیں شعور دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ہماری ریاست بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ 'آئین پاکستان کے آرٹیکل 25Aکے مطابق ریاست ہر شہری کو میٹرک تک مفت تعلیم دلوانے کی پابند ہے'۔ مگر یہاں تو نظام ہی الٹ ہے ، ریاست اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہے۔  پرائیویٹ سیکٹر کی اجارہ داری نے من پسند کے نصاب اور من چاہی فیسوں سے تعلیمی نظام کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔ غریب کے لئے تعلیم تو جیسے ناممکنات میں سے ہے۔ اگر کوئی غریب اس کٹھن مرحلے میں معیاری تعلیم حاصل بھی کرلے تو اس کے سامنے اگلا کٹھن مرحلا نوکری یعنی روزگار حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اب غریب اس کرپشن و سفارشی کلچر میں کیا کرے۔ اپنی جائیداد بیچ کر نوکری حاصل کرے  یا پھر ڈگری کوآگ لگا کر مزدوری شروع کردے۔

آج ہمارے ہاں نوجوانوں کو سب سے بڑ ا جو درپیش مسئلہ ہے ، وہ بے روزگاری ہے۔ تعلیم و ہنر کا فقدان تو برسوں سے چلا آ رہا ہے اس میں کمی بھی ہورہی ہے۔ مگر بے روزگاری ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ لاکھوں روپے کے خرچ اور محنت سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی نوجوان ادھر ہی کھڑا رہتا ہے، جہاں وہ ڈگری کرنے سے پہلے تھا۔ نوجوانوں کی ضروریات اور بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ہماری ریاستی ناکامیوں کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔ ہمارے ہاں ہمیشہ کی طرح سیاسی پارٹیاں اور سیاستدان نوجوانوں کو سہولتیں فراہم کرنے کی بجائے ، انہیں اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ تعلیم کا چاہے حرج ہو جائے، ان کے جلسوں میں ضرور شامل ہوں۔ حکومت اگرنوجوانوں کے لئے کوئی پالیسی بنا تی ہے  تو اس کی شرائط ہی اتنی کٹھن ہو تی ہیں کے نوجوان اس سے مستفید نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ سیاستدانوں کے لاڈلے اس سے پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کی چالاکیاں دیکھئے، اپنی سکیموں کے تحت اپنے پارٹی ورکرز کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ایسے کٹھن حالات میں مجبور نوجوان برائیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔ نام نہاد تنظیموں کے ہتھے چڑھ کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ معاشرہ دن بدن اسی کشمکش میں برائی کی چادر اوڑھتا چلا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق ہر چھٹا پاکستانی بے روزگار ہے۔ ہمارے بااثر لوگ اور حکمران ہمارے نوجوان اثاثے کو بھی دوسرے ملکی اثاثوں کی طرح بیچ رہے ہیں، برباد کررہے ہیں۔ آج ہمارے ہیرے جیسے ڈاکٹرز و انجینئرز باقی قیمتی چیزوں کی طرح ہی دوسرے ملکوں کی زینت بن رہے ہیں۔ کیونکہ ہم اپنے رب کی دی ہوئی معدنیات اور نوجوانوں جیسی نعمتوں کو تراشنا نہیں جانتے، انہیں پالش نہیں کر سکتے۔

میری اپنے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ ،وہ ان بااختیار حکمرانوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ الیکشن میں ووٹ ڈالیں۔ ہم مسلمان قوم ہیں ۔ ہمیں اسلام کی تاریخ سے سیکھ کر خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔ حضرت ابراہیم ؐ نے نوجوانی میں بت توڑ کر اپنے  اجداد کی غلط روایت کو ختم کیا۔ حضرت یوسفؐ نے نوجوانی میں گناہ کی دعوت کو ٹھکرا کر ایمان کے راستے کو ترجیح دی۔ طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، عبدالرحمن اول،  احمد شاہ ابدالی اور شہاب الدین غوری یہ سب نوجوان ہی تھے، جنہوں نے قرآن و سنت کی بالادستی اور معاشرے کی بحالی و بقاء کے لئے اپنا تن من دھن سب قربان کر دیا۔ ہمیں اپنے ملک کی بقا کے لئے خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔ عہد کیجئے کہ خود کا احتساب کرکے معاشرے میں ایک باشعورنوجوان کا اضافہ کریں گے۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...