معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

کھیل فائنل راؤنڈ میں داخل ہو رہا ہے

  وقت اشاعت: 20 جنوری 2018 تحریر: مزمل سہروردی   لاہور

سیاسی عدم استحکام پاکستان کی جمہوریت کا حسن ہے۔ ہر وقت حکومت گرانے کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ اور بیچاری حکومت ہر وقت اپنی حکومت بچانے میں ہی لگی رہتی ہے۔ چوہے بلی کا یہ کھیل دلچسپ بھی ہے اور عجیب بھی۔ اوپر سے یہ تاثر کہ حکومت آتی بھی اسٹبلشمنٹ کی مرضی سے ہے اور گرائی بھی اسٹبلشمنٹ کی مرضی سے  ہے۔ کیا عجیب کھیل ہے کہ آنے والا بھی اسٹبلشمنٹ کا لاڈلا اور نکالنے والا بھی لاڈلا۔ مجھے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے لاڈلوں کی لڑائی نے ہی پاکستان کی سیاست میں ہیجان انگیزی پیدا کی ہوئی ہے۔ اقتدار میں آنے والا کیوں صرف آنے تک لاڈلا رہتا ہے۔ اور جس کو نہیں لایا جاتا وہ کیوں لاڈلا بننے کے لئے بیتاب رہتا ہے۔

سینٹ الیکشن ہوں گے نہیں ہوں گے۔ ایک ایسا سوال تھا جس نے گزشتہ دو ماہ سے قوم کو پریشان کیا ہوا تھا۔ سیاست کے استاد شرطیں لگا رہے تھے کہ بس سینٹ کے الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ پہلے کہا جانے لگا کہ بس بلوچستان اسمبلی گئی۔ بلوچستان میں یہ کھیل کھیلا ہی اس لئے جا رہا ہے کہ سینٹ کے انتخابات کو روکنا ہے۔ دیکھیں اب وہاں کسی کے پاس ابھی اکثریت نہیں ہے۔ اسمبلی آج گئی کہ کل گئی۔ بتایا جا رہا تھا کہ بس ایک دفعہ بلوچستان اسمبلی ٹوٹ گئی توعمران خان تیار بیٹھے ہیں۔ کے پی کے کی اسمبلی بھی ٹوٹ جائے گی۔ اس طرح دو سمبلیاں ٹوٹ جائیں گی۔ بعد میں زرداری بھی جوائن کر لیں گے۔ اس طرح نون لیگ کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں رہے گا۔ اور سینٹ کا الیکشن ڈوب جائے گا۔ لیکن معاملہ الٹ گیا۔ بلوچستان اسمبلی بچ گئی۔ نیا وزیر اعلیٰ آگیا۔ سارا سکرپٹ ہی الٹا ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی سکرپٹ تھا ہی نہیں بس مفروضے اور بوگس سیاسی تجزے تھے۔ امیدیں تھیں ۔ آس تھی۔ خواب تھے۔ جو آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ گئے۔ شاید اسٹبلشمنٹ کے سکرپٹ کا کسی کو کچھ پتہ ہی نہیں۔ سب اندازے ہی لگاتے ہیں۔ اور وہ جو سکرپٹ لکھتے ہیں وہ کسی کو کچھ نہیں بتاتے۔ اس لئے ان کے دوست اور ہمدرد بھی اکثر پریشان ہو جاتے ہیں۔

یہ سوال پانی جگہ موجود ہے کہ کیا اب سینٹ انتخابات پر سے خوف سائے چھٹ گئے ہیں۔ مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ اب سینٹ کے انتخابات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اگر کچھ ہونا تھا تو بلوچستان میں ہی ہوجاتا۔ اب گیم عمران خان کے ہاتھ سے پھر نکلتی جا رہی ہے۔ اگر سینٹ کے انتخابات ہوگئے تو نون لیگ کی سینٹ میں اکثریت ہوجائے گی۔ اچکزئی اور دیگر بھی نون لیگ کا ہی ساتھ دیں گے۔ جس طرح پہلے سب نے زرداری کا ساتھ دے کر پیپلزپارٹی کا چیئرمین بنوا دیا تھا ۔ اب نواز شریف کا چیئرمین بن جائے گا۔ بلوچستان کے سارے کھیل سے نون لیگ کو سینٹ میں ایک سے دو سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ اس لئے نون لیگ کوئی خاص پریشان نہیں ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو ریفرنسز میں سزا ہونے کی بھی بازگشت ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو سزا ہو جائے گی۔ دیکھیں اسحاق ڈار کی پٹیشن بھی مسترد ہوگئی۔ انہیں بھی سزا ہو جائے گی۔ جس طرح پانامہ کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کے حوالہ سے رائے عامہ ہموار ہو گئی تھی اور سب کو یقین ہو گیا تھا کہ نواز شریف نا اہل ہو جائیں گے۔ اس طرح اب ان کو سزا ہونے کے حوالہ سے بھی ماحول بنایا جا رہا ہے۔ اب امید یہ ہے کہ ایک دفعہ نواز شریف کو سزا ہو گئی تو وہ بند جائیں گے۔ یہ مجھے کیوں نکالا کا بیانیہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اس طرح سزا کے بعد منظر نامہ بدل جائے گا۔
مجھے نہیں پتہ کہ منظر نامہ بدلے گا کہ نہیں۔ کیونکہ دوسری طرف نواز شریف کا کیمپ کہہ رہا ہے کہ ہم اب محفوظ ہو گئے ہیں۔ سزا ہو بھی جائے تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر نا اہلی کے بعد ووٹ بنک نہیں ٹوٹا تو سزا کے بعد بھی نہیں ٹوٹے گا۔ اور اگر ووٹ بنک بچ گیا تو نواز شریف کی سیاست بچ جائے گی۔ ان کا موقف ہے کہ یہ بات طے ہو گئی ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد بھی نواز شریف کی سیاست ہے۔ بس یہی کافی ہے۔ لیکن جس  طرح یہ حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے۔ انتخابات قریب آرہے ہیں۔ کھیل فائنل راؤنڈ میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ اگر سکرپٹ میں آگے کچھ نہیں تھا تو یہ نا اہلی کا بے لذت گناہ کس کام کا۔ کیوں آگے کچھ نہیں ہوا۔ کیوں گیم رک گئی۔ مائنس تھری کے سکرپٹ پر کیوں عمل نہیں ہوا۔ آصف زرداری گیم میں واپس کیسے آگئے۔ چکوال کے ضمنی انتخاب میں عمران خان کو عبرت ناک شکست کیوں ہو گئی۔ یہ روز بروز نواز شریف دوبارہ زیرو سے ہیرو کیسے بنتا جا رہا ہے۔ وقت گزر رہا ہے۔ اور کچھ نہیں ہو رہا ۔ بھائی دوست چپ کیوں ہیں۔ کیا کسی نے ان کو روک دیا ہے۔

اب اس فائنل راؤنڈ میں کیا ہو سکتا ہے۔ کچھ دوست ٹیکنوکریٹ حکومت کی بات کر رہے ہیں۔ کہ بس اب معاملہ کا واحد حل ٹیکنوکریٹ حکومت ہی ہے۔ لیکن یہ کیسے ہوگا۔ کون یہ ہونے دے گا۔ پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہی ہے لیکن کیا ٹیکنوکریٹ حکومت پر بھی تعاون کر لے گی۔ بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ آئین میں اس کی گنجائش کیسے بنائی جائے گی۔ ماروائے آئین ہی اگر کوئی کام کرنا ہے تو پھر ٹیکنوکریٹ حکومت جیسا بے لذت گناہ کیوں کیا جائے۔ جنہوں نے ٹینوکریٹ حکومت بنانے ہی اس کو طاقت دینی ہے وہ خود ہی کیوں نہ آجائیں۔ کھیر پکا کر کون کسی اور کو کھلاتا ہے۔ لیکن نواز شریف کیمپ کی رائے یہ ہے کہ بلوچستان کے حالات کو دیکھیں۔ کراچی کے حالات کو دیکھیں۔ سرحدوں کی صورتحال کو دیکھیں۔ امریکہ سے تناؤ کو دیکھیں۔ بھارت سے کشیدگی کو دیکھیں۔ ایسے میں ماروائے آئین ایک بھی قدم دشمن کو پاکستان میں اپنا کھیل کھیلنے کا موقع دے دے گا۔ بس یہی ایک آئین ہے جس پر سب متفق ہیں۔ اس کے بعد ایک آئین پر اتفاق ممکن نہیں ہے۔ اس لئے نواز شریف کا کیمپ سمجھ رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ بند گلی میں ہے۔ اس کے پاس اس نظام کو چلانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور اگر یہ نظام چلتا ہے تو ان کی دکان چلتی رہے گی۔

دوسری طرف یہ رائے ہے کہ ان حالات میں الیکشن کروانے کا رسک لیا ہی نہیں جا سکتا۔ نواز شریف کو سسٹم سے آؤٹ کئے بغیر انتخاب کروانا زہر قاتل ہے۔ اس لئے کچھ بھی ہو جائے انتخاب نہیں ہو سکتا۔ سینٹ کے انتخاب ہو بھی جائیں تب بھی عام انتخاب نہیں ہو ں گے۔ یہ نئی دلیل مارکیٹ میں آئی ہے۔ لیکن کیا یہ تھیوری بھی باقی تھیوریوں کی طرح پٹ جائے گی۔  تاہم جو بھی ہونا ہے اس کے لئے وقت کم رہ گیا ہے۔ نواز شریف کی کامیابی یہی ہے کہ وقت گزارتے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کو بھی ہضم کر لیا گیا ہے تاکہ انتخابات کا راستہ نہ رک جائے۔ ایسے لگتا ہے کہ نواز شریف انتخابات تک گیم لے جانے کے لئے کہیں نہ کہیں مفاہمت بھی کر رہے ہیں۔ جو بلف گیم بھی ہے۔ دوسرے فریق کے پاس بھی وقت کم رہ گیا ہے۔ ان کو اب سکرپٹ باہر لانا ہوگا۔ بلی کو تھیلے سے باہر لانے کا وقت آگیا ہے۔

اب دونوں فریق مٹھی بند کرکے نہیں رکھ سکتے۔ پتے شو کرنے کا وقت آگیا ہے۔ فائنل راؤنڈ ہے۔ اور ہارنے والا گیم سے آؤٹ ہو سکتا ہے۔ چاہے وہ اسٹبلشمنٹ ہی کیو ں نہ ہو۔ یہ زندگی اور موت کا کھیل ہے۔ تخت اور تختہ کا کھیل ہے۔ یہ کسی سے رعایت نہیں کرتا۔ اس لئے ا سٹبلشمنٹ سے بھی رعائت نہیں کرے گی۔ گیم کو بدلنا ہو گا۔ ورنہ چھٹی۔ 
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...