منو بھائی: ایسا کہاں سے لائیں کے تجھ سا کہیں جسے

  وقت اشاعت: 19 جنوری 2018 تحریر: طاہر ملک   اسلام آباد

معروف صحافی کالم نگار شاعر اور ڈراما نگار منو بھائی نے چھ فروری 1933 کو وزیر آباد میں جنم لیا۔ گورنمنٹ کالج کیملپور موجودہ اٹک سے تعلیم پائی۔ فتح محمد ملک اور شفقت تنویر مرزا ان کے کلاس فیلو تھے۔ ان دنوں کالج کے پرنسپل معروف اسکالر ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور ڈاکٹر محمد عثمان بھی اسی کالج سے وابستہ تھے۔ ان دنوں کالج کے پرنسپل اور طالب علموں کے درمیان فاصلے نہیں ہوتے تھے۔ ان طالب علموں اور ڈاکٹر برق کے درمیان ایک علمی روحانی رشثہ استوار ہوا اور یوں اس درسگاہ سے عظیم لکھاری اور صحافیوں نے جنم لیا۔

فتح محمد ملک بتاتے ہیں کہ منو بھائی جب صبح بیدار ہوتے تو کلاس کا وقت ختم ہو چکا ہوتا تھا۔  پھر درس و تدریس کا سلسلہ کالج کینٹین پر شروع ہوتا۔ امتحانات کے دنوں میں دقت ہوتی کمرہ امتحان میں سگریٹ نوشی کی ممانعت ہوتی تھی۔  اور نہ ہی طالب علم آدھے وقت سے پہلے رخصت ہوسکتا تھا۔ ایسے میں منو بھائی پیپر شیٹ پر ڈرامہ تحریر کر لیتے۔ منو بھائی کہتے ہیں کہ کوچہ صحافت میں وارد ہوتے وقت احمد ندیم قاسمی کی نصیحت عمر بھر یاد رکھی کہ صحافت میں کامیابی کے لئے پوٹہ چھوٹا رکھنا۔ منو بھائی  60 سال تک گریبان کے نام سے کالم لکھتے رہے۔ منو بھائی نے صحافت کا آغاز راولپنڈی سے شائع ہونے والے روزنامے تعمیر سے کیا۔ بعد میں فتح محمد ملک اور شفقت تنویر مرزا بھی اسی اخبار سے وابستہ ہوگئے۔

فتح محمد ملک بتاتے ہیں کہ منو بھائی بشیر اسلام عثمانی ایڈیٹر تعمیر اخبار اور مالک کے مابین اختلاف کے باعث منو بھائی اور عثمانی صاحب دونوں استعفیٰ دے کر اخبار سے علیحدہ ہو گئے۔ بےروزگاری کے باعث نوبت فاقہ کشی تک آن پہنچی۔ بھلا ہو ریڈیو پاکستان کا جس نے منو بھائی اور فتح محمد ملک کو اسکرپٹ رائٹنگ کا کام دیا۔ جنرل ضیاء کے مارشل لاء میں حکمرانوں کی کاسہ لیسی سے انکار کیا۔ لہذا امروز اخبار میں ان کا تبادلہ لاہور سے ملتان کردیا گیا۔ جب بڑے صحافی پلاٹ، مراعات اور بچوں کی نوکریاں حکمرانوں سے وصول کر رہے تھے منو بھائی جنوں کی حکایت لکھتے رہے لیکن قلم کی حرمت پر سمجھوتہ نہ کیا۔

آخر دم تک منو بھائی لاہور میں سات مرلے کے گھر میں رہائش پذیر رہے۔ منو بھائی کے بقول ان کے ساٹھ سال سے شائع ہونے والے کالم گرہبان اخبار کے نچلے حصے میں شا ئع ہونے پر انہوں نے اخبار کے مالک کو یہ مشورہ دیا کہ برائے مہربانی کالم کا نام گریبان کے بجائے پائنچہ رکھ دیا جائے۔ منو بھائی صحافت کے ساتھ ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف رہے۔ تھلیسمیا کے مریضوں کے لئے سندس فاؤنڈیشن کے نام سے خود کو وقف کردیا۔ آج ہمارے درمیان سے ایک ایسا صحافی، شاعر اور ادیب چل بسا جو حکومت سے پلاٹ، مراعات، نوکری اور فنڈز لینے کے بجائے دکھی انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتا تھا۔ رب کریم منو بھائی کو کروٹ کروٹ جن ت نصیب کرے۔  ایسا کہاں سے لائیں کے تجھ سا کہیں جسے!

(بشکریہ: ہم سب ۔ لاہور)
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...