ٹرمپ کی دھمکی سے شروع ہونے والا سال پاکستان کے لئے مشکلات کا سبب ہوگا

  وقت اشاعت: 19 جنوری 2018 تحریر: افتخار بھٹہ   لاہور

2017عالمی سطح پر انتہائی ہنگامہ خیز رہا۔ سال کا آغاز امریکی صدر ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب سے ہوا۔ ٹرمپ کی محنت کش دشمن اور خواتین کی طرف ہتک آمیز رویہ کے خلاف امریکہ میں لاکھوں افراد نے مظاہرے کیے، اس طرح امریکی سماج کے تضادات واضح ہو گئے۔ ایک طرف شمالی کوریا امریکی طاقت کو للکارتا رہا تو دوسری طرف امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں شکست و ہزیمت کا سامنا رہا۔

داعش کو شکست ہوئی۔ ایران ، روس اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیاں کامیاب رہیں۔ عربوں کا اتحاد پارا پارا ہوا۔ قطر کے معاملات نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا۔ سعودی عرب میں شاہی خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ شام، یمن اور لیبیا کی تباہ و بربادی کے بعد خانہ جنگی کی آگ اب خلیجی ممالک تک پہنچ رہی ہے۔ سعودی قطر تنازعہ یمن میں عبداللہ صالح کا قتل شام ، روس اور ایران کی وقتی کامیابیاں ترقی میں اردوان کا بڑھتا ہوا ریاستی جبر اور امریکہ سے تنازعہ کردوں کی مزاحمت اور عراقی کردستان کی آزادی کا ریفرینڈم خطے کے بحران کو مزید گھمبیر کر رہے ہیں۔  ٹرمپ کے اسرائیل اور سعودی عرب کے دورے اور ان کی باہمی دوستی کی پینگیں بھی عالمی منظر نامے کی تبدیلی کا پیغام دے رہی ہیں۔ ٹرمپ کا یرو شلم میں امریکی سفارتخانہ بنانے کا فیصلہ اور پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کی اس فیصلہ کی مذمت عالمی سیاست اور سٹیٹ کو کے ٹوٹنے کا واضح اظہار ہے۔ ٹرمپ اقوام متحدہ کے ادارے کے پہلے ہی خلاف تھا اب اس کی امداد بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس طرح وہ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی طرف سے قرضے روکنے کا اشارہ دے رہا ہے۔ اس سے پہلے اس نے عالمی معاہدوں کی سر عام تذلیل کی ہے۔

جرمنی اور دیگر یورپی ملک امریکہ پر سے انحصار کے خاتمہ کا اعلان کر چکے ہیں۔ یہ سب نئے بحران اور ٹوٹ پھوٹ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ چین اور روس بھی عالمی سطح پر امریکہ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ چین ایک سامراجی طاقت بن کر ابھر نے کی کوشش کر رہا ہے چین نے داخلی سطح پر تمام مخالفت کو پوری شدت سے کچلا ہے بلکہ عالمی سطح پر سامراجی عزائم کا اظہار کیا ہے۔ ورلڈ بینک اور عالمی اداروں کے مقابلے میں اپنے ادارے بنانے کے عمل کو آگے بڑھایا ہے۔ اسی طرح ڈالر کی حاکمیت کو چیلنج کرتے ہوئے یو آن کے ذریعے تجارت بڑھانے کی کوششوں کو تیز کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے روس سمیت دیگر ممالک کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ پاکستان نے بھی چین کے ساتھ یو آن میں تجارت کرنے کا عندیہ دیا ہے مگر چین تکنیکی طور پر ترقی یافتہ دنیا سے پیچھے ہے۔ وہ مالیاتی اداروں پر کنٹرول رکھتے ہیں اس لیے عالمی سطح پر ڈالر کی اجارہ داری قائم رہے گی۔  سال کے اختتام پر ایران میں ابھرنے والی عوامی تحریک سے ہوا جو کہ دراصل ملا اشرافیہ کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلم دنیا میں تضادات واضح ہوئے ہیں۔ خونریزی اور غیر معمولی فیصلے در حقیقت سماج کے بحران کی کیفیات کا اظہار ہیں۔

اب ایران کے حکمران طبقے اور ریاست کا بحران بھی سامنے آ رہا ہے اس تحریک کے واضح کیا ہے کہ ملک میں معاشی معاملات کی پالیسیوں کو عوام کی خواہشات کے بر عکس چلایا جا رہا ہے۔ معاشی مطالبات سے شروع ہونے والی تحریک تیزی سے سیاسی مطالبات میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اپوزیشن اور ریاست کے دھڑے اس تحریک کو اپنے مقاصد کار کیلئے استعمال کر رہے ہیں جبکہ امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل بھی اپنے مقاصد کے حصول کیلئے اس تحریک کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے پاکستان پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ افغانستان میں تخریبی کارروائیوں اور خود کش حملوں کا سلسلہ رک نہیں سکا ہے۔ عراق اور شام میں شکست کھانے کے بعد داعش کے اراکین فرار ہو کر افغانستان میں جمع ہو رہے ہیں۔ اور علاقائی امن کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔  امریکی صدر نے پاکستان پر طالبان اور حقانی گروپ کے خلاف کارروائیاں کرنے کیلئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس نے کہا ہے پاکستان نے اس سے حاصل کردہ امداد سے کوئی موثر کارروائی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے امریکہ اب ہماری امداد بند کرنے اور دفاعی تعاون ختم کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ پاکستان میں ریاست کے اداروں اور ایک سیاسی جماعت جو کہ مرکز اور صوبوں میں برسر اقتدار ہونے کے ساتھ اپوزیشن کا کردار بھی ادا کر رہی ہے ۔۔۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی معاملات درست سمت میں نہیں جا رہے ہیں۔

حال ہی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے جس کے مندرجات ابھی تک منظر عام پر نہیں آ سکے ہیں۔ جبکہ نواز شریف کا یہ کہنا کہ ہمیں اپنے اندرونی معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے خاصا معنی خیز ہے۔ امریکہ و چین کی سامراجی لڑائی ہو یا سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگیں ہر بحران میں ہماری کوئی قومی متفقہ پالیسی نہیں ہے۔ اس ساری صورتحال میں بیانیہ کی اصطلاح کی گردان بہت زور شور سے سنائی دی ہے۔ بہت سے ریٹائرڈ سول اور فوجی بیورو کریٹس اور دائیں بازو کے دانشور اس اصطلاح کو استعمال کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ ان کے خیال میں بیانیہ بدلنے کی ضرورت ہے حالانکہ ملک کی مقبول قیادتوں کا بیانیہ ہی دائیں بازو کے نظریات ہیں۔ دونوں ہی رجعت پسندوں کی حمایت سے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ریاست نے پہلے جہاد افغانستان میں ایک فرقہ کے جہادیوں کو استعمال کیا درمیان میں صوفی ازم کی اصطلاح کو پروموٹ کیا۔ اب ایک پر امن فرقہ بھی اسی لڑائی کا ایندھن بن رہا ہے۔

بیانیہ کی تعریف تشریح کا تعلق صرف ریاست سے ہے مگر یہاں پر تو سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپس اپنا اپنا راگ الاپ رہے ہیں۔ ہمارے تجزیہ نگاروں اور اینکرز کو عوام کی غربت، صحت اور تعلیم کے معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ وہ صرف اپنی خبروں اور تجزیوں کو اہم سمجھتے ہیں تاکہ لوگ ان کو سچ تسلیم کر لیں اور سامراجی جنگ کیلئے تیار ہو جائیں۔ اور موروثی غیر نظریاتی سیاست کا حصہ بن کر نظام کے خلاف بغاوت نہ کریں۔ پاکستانی حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے یا پھر وہ اچھے اور ذمہ دار شہری بن چکے ہیں۔ سیاسی جماعت میں اسٹیٹس کو ٹوٹ چکا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا عوام کے حقیقی مسائل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ سب پارٹیاں لوئر اور اپر مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں یہاں پر نظریات غیر متعلق ہو چکے ہیں مسلم لیگ ریاست میں محاذ آرائی اور اقتدار کے مزے بیک وقت لوٹ رہی ہے۔ ایم کیو ایم ٹوٹ پھوٹ، پیپلز پارٹی کا زوال اور قوم پرست و مذہبی پارٹیوں اور تحریک انصاف کی مکمل ناکامی ان پر عیاں ہو چکی ہے۔

ہندوستان میں 130سال پرانی پارٹی کانگریس تاریخ کے بد ترین بحران سے گزر رہی ہے اور انہدام کے قریب ہے۔ یہی صورتحال علاقائی پارٹیوں کی ہے۔ اس ساری صورتحال کا فائدہ یہ بھی اٹھا رہی ہے اس سارے پس منظر میں پاکستان کا معاشی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں گراوٹ سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ چکا ہے جبکہ آنے والے سال میں روپے کی قدر میں مزید دس فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ آئندہ چھ ماہ میں چھ ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات سے قبل خزانہ حالی ہو جائے گا۔ آنے والے سال کے دوران حکمران طبقہ نجکاری بیروز گاری اور مہنگائی کے حملوں میں کئی گناہ اضافہ کرے گا۔ سال کے شروع ہی میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں بیروز گاری ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ ایک نجی ادارے نیلسن کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 49فیصد لوگ بیروز گار ہیں جبکہ سرکاری رپورٹ کے مطابق چھ فیصد لوگ بیروز گار ہیں۔ نیلسن نے 38شہروں اور270دیہاتوں میں سروے کرکے یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔ 49فیصد لوگوں کی تعداد کروڑوں میں بنتی ہے جن میں گریجویٹس کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ حکمران نجکاری کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں لاکھوں لوگوں کو بیروز گار کر رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل بحران سے 30لاکھ محنت کش بیروز گار ہو چکے ہیں۔

 دوسری طرف پاک امریکہ تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں پر پاکستان کو قرضے دینے سے روکنے کیلئے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ اب قرضوں کی ادائیگی کیلئے بانڈ مارکیٹ پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت نے چار سالوں میں35ارب ڈالر کے قرضے لیے ہیں جبکہ بیرون قرضے83ارب ڈالر ہو چکے ہیں۔ ان بیرونی قرضوں کے علاوہ مقامی بینکوں سے قرضے حاصل کر رہی ہے قرضوں کا یہ گورکھ دھندہ پاکستانی معیشت کو بند گلی میں دھکیل رہا ہے۔ 2018 پاکستان کیلئے مالیات کے حوالے سے بہتر دکھائی نہیں دے رہا ہے جبکہ سیاسی جماعتیں نظام کی بہتری کے دعوے کرنے کا چورن بیچتی رہیں گی۔ نواز شریف کا یہ کہنا کہ وہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ہدایت کریں گے کہ آئندہ امریکی امداد پر انحصار ختم کرنے کا کہیں گے۔ بڑے اچنبھے کی بات ہے کہ  خود انہوں نے کبھی اقتدار میں ایسا قدم اٹھانے کا نہیں سوچا۔  یہ سب باتیں ہمارے حکمرانوں کو اسی وقت یاد آتی ہیں جب وہ خود اقتدار میں نہیں رہتے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...