ہائر ایجوکیشن کے مسائل کیسے حل ہوں گے

  وقت اشاعت: 12 جنوری 2018 تحریر: سلمان عابد   لاہور

پاکستان میں جہاں پرائمری تعلیم کے مسائل سنگین نوعیت کے ہیں وہیں  ہائر ایجوکیشن کی سطح پر بھی لاتعداد مسائل موجود ہیں۔  اعلی تعلیم کی بہتری کے لیے ملک میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ۔  اس کا مقصد ملک میں اعلی تعلیم سے جڑے ہوئے مسائل کی بہتری کے امکانات کو پیدا کرنا تھا ۔ کیونکہ اب دنیا میں اعلی تعلیم کے تناظرمیں ایک مقابلہ بازی کی فضا موجود ہے ۔ کئی ملکی اور غیر ملکی تعلیمی ادارے ملکوں اور ان میں قائم یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرکے کی ساکھ کا  تعین کرتے ہیں ۔

پاکستان میں 2010میں 18ویں ترمیم کو منظور کیا گیا تو اس میں تعلیم جیسے اہم اور بنیادی مسئلہ کو بھی مرکز سے صوبہ کی سطح پر منتقل کیا گیا ۔ مقصد یہ  تھا کہ تعلیم کی مرکز سے صوبہ میں منتقلی کا عملی نتیجہ صوبائی سطح پر تعلیم کی بہتر ترقی کا سبب بن کر ہمیں بہتر نتائج دے گا ۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پر ہی مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی ایک سرد جنگ نظر آتی ہے ۔  ہمارے یہاں مرکزیت پر مبنی نظام کی سوچ اور رویے ابھی تک غالب ہیں اس سے ہم باہر نہیں نکل سکے ۔ ایک مسئلہ مرکز اور صوبوں کے درمیان جنگ کا ہے تو دوسری جانب صوبوں میں بھی جو یونیورسٹیاں یا ہائر ایجوکیشن کمیشن ہیں ان کو صوبائی حکومتیں اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اختیارات اور سیاسی مداخلت یا اقرا پروری کی بنیاد پر ہم ہائر ایجوکیشن کی سطح پر بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ جامعات کی عالمی درجہ بندی کو جاری کرنے والے ادارے کیو ایس، ٹائمز ہائر ایجوکیشن اور ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق پاکستانی جامعات ہر برس عالمی رینکنگ میں تنزلی کا شکار ہیں۔ ہماری جامعات کی حالت یہ ہے کہ ہم ہمسایہ ممالک اور دیگر اسلامی ممالک سے بھی اعلی تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔

گزشتہ دنوں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی پر فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے اعلی تعلیم پر کام کرنے والے دیگر ادارے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ جوابدہی ، پاکستان سنٹر فار کلچر اینڈ ڈولیپمنٹ ، نیشنل ڈیموکریٹک فاونڈیشن ، سنٹر فار انکلیوسو گورننس، پی ایچ ڈی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی نیٹ ورک کی معا ونت سے ایک تحقیقی جائزہ رپورٹ پیش کی ہے ۔ اس جائزہ رپورٹ کی تیار ی میں اہم کام ڈاکٹر کلیم اللہ، مرتضی نور، ڈاکٹر ندیم عمر تاڑرکا ہے ۔ اس رپورٹ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے ہیں ، جو توجہ طلب ہیں۔
اس تحقیقی رپورٹ میں جن امور کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں اول وفاقی آڈٹ رپورٹ2016-17کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پندرہ برس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 49فیصد فنڈ بروئے کار ہی نہ لایا جاسکا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن گزشتہ تین برسوں میں 149ترقیاتی منصوبوں میں سے صرف66منصوبوں کی ہی منظوری لے سکا ۔ دوئم ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گورننگ باڈی کے 8ممبران کا انتخاب ہی نہیں کیا جاسکا ۔ جس کے باعث یہ باڈی غیر فعال اور غیر موثر ہوکر رہ گئی ہے ۔ جبکہ ادارے کے اہم فیصلوں میں متعلقہ عہدے داران، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بورڈ اور وزیر اعظم پاکستان جو کہ اس ادارے کی کنٹرولنگ اتھارٹی ہیں کو بھی نظر انداز کی جاتا ہے ۔ سوئم ہائر ایجوکیشن ایکٹ کے مطابق ہر برس مالیاتی بجٹ کی منظوری ایچ ای سی بورڈ سے لی جائے گی ، جبکہ 2017-18کے بجٹ کی منظوری بھی بورڈ سے نہیں لی گئی اور اسی طرح ایکٹ کے تحت سال میں دو مرتبہ اجلاس کا انعقاد بھی ضروری ہے۔ جبکہ ایک اجلاس بھی نہیں بلایا گیا ۔ چہارم کچھ برسوں سے ہائر ایجوکیشن کمیشن جامعات کو تعاون فراہم کرنے کی بجائے جامعات کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے میں ملوث ہے ، قائد اعظم یونیورسٹی اور فیڈرل اردو یونیورسٹی میں جاری ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تنازعات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ پنجم لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم آئینی درخواست پر فیصلہ صادر کیا کہ اعلی تعلیمی شعبہ میں طے کردہ معیارات کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل سے لی جائے گی لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت اس اہم فیصلے پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہے ۔ بلوچستان میں صوبائی ایچ ای سی کی تشکیل کے حوالے سے بھی صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قراردادپر بھی تاحال عملدرآمد نہیں کیا جاسکا ۔ ششم گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی اعلی تعلیم کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی جامعات کو تفویض کردیا گیا ہے  جبکہ چاروں صوبوں کی 83صوبائی جامعات بشمول 45کیمپسزکے لیے صرف43فیصد ہی رکھا گیا ہے جو جامعات کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکافی ہے ۔

حالت یہ ہے کہ 2017میں پاکستان کی کئی اہم جامعات بغیر وائس چانسلرز کے  چلائی جاتی رہی ہیں یا وہاں قائم مقام وائس چانسلرز لگاکر صوبائی حکومتوں نے اپنی سیاسی مداخلت کو برقرار رکھا ۔ ان یونیورسٹیوں کی تعداد تقریبا 20کے قریب ہے ۔ ابھی پنجاب یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نے اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے ، ان کے بقول ان پر سیاسی مداخلت اور یونیورسٹی کی سرکاری ذمین کو ایک مدرسے کو دینے کے لیے بہت زیادہ سیاسی دباو ڈالا جارہا تھا۔ اسی طرح یہ دیکھنے کو بھی مل رہا ہے کہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان جو موثر رابطہ کاری ہونی چاہیے اس کا بھی فقدان نظر آتا ہے ۔ اسی طرح اٹھاوریں ترمیم پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان رسہ کشی یا کشمکش کی وجہ سے اس ترمیم کی منظوری کے سات برس گزرنے کے باوجود اعلی تعلیمی شعبہ میں صوبوں کو ان کے آئینی اختیارات نہیں مل سکے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ وفاق، صوبوں اور جامعات کے درمیان جاری ان تنازعات اور کشمکش یا اختیارات کی اس جنگ میں سب سے بڑا نقصان اعلی تعلیم کے حقیقی مسائل اور نئی نسل پر ہورہا ہے ۔ یہاں توجہ معیاری تعلیم کو دینے کی بجائے انتظامی مسائل میں الجھ کر اعلی تعلیم پر سمجھوتہ یا اپنی کمزوری دکھائی جارہی ہے ۔ جامعات کا کام قومی مسائل میں ایک تحقیق پر مبنی متبادل بیانیہ کو سامنے لانا ہوتا ہے ۔ لیکن ہماری جامعات میں سب کچھ ہورہا ہے اور اگر کچھ نہیں ہورہا تو وہ تحقیق کے شعبہ میں کچھ نہ ہونا ہے ۔ اگر آپ جامعات کے تحقیقی جنرلز دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہماری جامعات سے نکلنے والے طالب علم اور ان کی ڈگریاں دونوں سوالیہ نشان ہیں ۔

وائس چانسلرز سے لے کر استادوں  تک سب انتظامی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اور اس کی بھاری قیمت یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالب عملوں کو دینی پڑتی ہے ۔ اب پبلک جامعات کے مقابلے میں نجی شعبہ میں جس تیزی سے جامعات بن رہی ہیں اور اس نے ایک بڑے کاروبار کی شکل اختیار کرلی ہے وہ بھی توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ نجی جامعات کا بننا بری بات نہیں لیکن ان کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا نظام کیسے موثر ہوگا ، اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ یا د رکھیں ہم ایک بہتر مستقبل اور بہتر ترقی کا عمل اسی صورت میں یقینی بناسکتے ہیں جب ہم اپنی نئی نسل کی تعلیم وتربیت پر بڑی سرمایہ کاری کریں گے ۔
 اس سارے عمل میں ہمیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی مایوس کن نظر آتی ہے ۔ وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت جامعات کو مکمل خود مختاری دینے کے حامی نہیں ۔ سیاسی مداخلت اور کمزور وائس چانسلرز ان کی اہم ترجیح ہوتی ہے تاکہ وہ ان کی مدد سے اپنے سیاسی معاملات کو مستحکم کرسکیں ۔ یہ نہیں کہ یہاں وائس چانسلرز بلاصلاحیت نہیں بلکہ مسئلہ ان پر اعتماد نہ کرنے کا ہے ۔ پنجاب کی سطح پر وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے اب جو شرائط رکھی جارہی ہیں اس میں اس کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہونا ضروری نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں جامعات کے معاملات نان پی ایچ ڈی کے سپرد کرکے اپنی من مانی کو یقینی بنانا ہے ۔ صوبائی سطح پر وائس چانسلرز کی سلیکشن کے لیے سرچ کمیٹی بنائی گئی ہے اس میں ماہر تعلیم کی جگہ بڑی بڑی کاروباری اور تعلیم سے غیر متعلقہ لوگوں کو شامل کی گیا ہے ۔

ضرورت ہے کہ ہم اعلی تعلیم کے معاملات پر توجہ دیں۔ صوبائی سطح پر ہائر ایجوکیشن کمیشن جتنے زیادہ بااختیار ہوں گے اور جامعات کو خود مختاری دی جائے گی اور سیاسی مداخلتیں کم ہوگی ، ہم اعلی تعلیم میں نمایاں کام کرسکیں گے ۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...