میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

  وقت اشاعت: 12 جنوری 2018 تحریر: شیخ خالد زاہد   کراچی

آج صبح گھر سے دفتر جاتے ہوئے اسکول جانے والے معصوم بچوں پر جب نظر پڑ رہی تھی تو دل پر ایک خراش پڑتی تھی ۔ قصور میں ہونے والے واقعہ کی تحقیق یا اس کی گہرائی میں جانے کی مجھ میں سکت نہیں ہے۔ اور نہ ہی مجھے اس واقعہ کے سیاق و سبق سے کوئی واسطہ ہے۔ میرا اس سے واقعہ سے بہت گہرا تعلق ہے جس کے باعث گزشتہ شب بیداری کی نظر ہو گئی، در اصل میری بیٹی کا نام بھی زینب ہے اور اس نام کا تعلق ہمارے پیارے نبی ﷺ کے گھیرانے سے  ہے ۔ میری خواہش تھی کے میرے پاس اتنا اختیار ہوتا کہ میں پاکستان بھر کے اسکول آج احتجاجاً بند کروا سکتا اور زینب کے خاندان والوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کر سکتا۔ دوسرا یہ کہ ارباب اختیار تک یہ بات پہنچاسکتا کہ زینب صرف قصور ہی نہیں،  پورے پاکستان کیلئے کتنی اہم ہے۔

انسانیت سوز سلوک زینب کے ساتھ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس واقعہ کا ذمہ دار قصور شہر ہے، یہ واقعہ پورے پاکستان کے ساتھ ہوا اور پورا پاکستان  زینب کے قتل میں برابر کا شریک ہے ۔ یہ اس معاشرے کےساتھ ہوے والا سانحہ ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے خود ہی قانون شکن ہوں قانون کی دھجیاں اڑاتے پھرتے ہوں ۔ کیا قانون اتنا اندھا اور بہرا ہے کہ ابھی سرزد ہونے والے واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار نہیں کرسکا۔ یہ بات حق ہے کہ معاشرے ہر برائی کے ساتھ چل سکتے ہیں مگر انصاف کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ واقعہ کو چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی ٹیلی میڈیا پر چلتی پٹیوں میں یہ پڑھ کر کہ ہمارے قانون کے اعلی ترین حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ مجرم کو کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

دیجئیے دھرنے، نکالئے جلسے جلوس اور مفلوج کردیجئے نظام زندگی ۔ ایک معصوم سی زندگی آپ کو یہ سب کرنے کیلئے ، اس سے بڑھ کر اپنی اپنی سیاست کی دکان چمکانے کیلئے اپنی زندگی کا نذرانہ دے کر چلی گئی ہے ۔ درندگی کی مثال قائم کرنے والا قصور شہر میں ہی ہوگا بلکہ قصور کے کسی مخصوص علاقے میں ہی ہوگا اور یقیناًکسی کی پناہ میں ہوگا۔ نہیں تو اپنے گھر میں ہی روپوش ہوگا ۔ کیا یہ اس علاقے میں یا پورے قصور میں صرف ایک ہی زینب رہتی تھی۔ اب کوئی اور زینب نہیں رہتی ۔ یہ کیسے زینب کے تعلق دار ہیں، یہ کیسے زینب کے چچا ، ماموں ، بھائی اور باپ ہیں کہ وہ اپنی اپنی زینب کی زندگی کیلئے اس درندہ صفت انسان کو جو قطعی کسی بھی قیمت پرقابل معافی نہیں ہے اسے پکڑکر نشان عبرت نہیں بنا دیتے۔ یا قانون کے حوالے نہیں کرتے ۔

ایسے شخص پر فرد جرم عائد کی جائے اور یہ فیصلہ عوامی عدالت میں سنایا جائے۔ اور عبرت ناک سزا دی جائے۔ اگر ہم رودھوکر سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں یا پولیس ڈرا دھمکا کر لواحقین کو گھروں کو روانہ کردیتی ہے تو پھر یقین رکھئے کہ ہم نے اللہ کے عذاب کو دعوت دے دی ہے اور جب یہ عذاب آئے گا تو اس جرم کی پاداش میں ہم سب سزاوار ہوں گے، گیہوں ہو یا گھن سب پسے گا۔ یہ اٹل حقیقت ہے ۔ ہم کسی ایسے جرم کی ذمہ داری کسی ایک کے کاندھوں پر نہیں لاد سکتے ۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں کم از کم اپنی نسلوں کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داری خود ہی اٹھانی پڑے گی۔ اسکولوں اور ٹیوشن سینٹروں میں دی جانی فیسوں کے ساتھ اب ان کے تحفظ کی بھی فیس شروع کئے جانے کا امکان روشن ہوچکا ہے ۔ ہم لوگ اخلاقیات کی قدروں سے انحراف کرنے کی سزا ضرور بھگتیں گے۔ ہم بے راہ روی کوعام کرنے اور قبول کرنے کی سزا ضرور پائیں گے۔

مجھے یقین ہے کہ یہ مضمون مجھ جیسے بہت سارے افراد کے جذبات کی عکاسی کر رہا ہے کیونکہ میں بھی ایک زینب کا باپ ہوں۔ گو کہ میں معاشرے کی گندگی صاف کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوں مگرجیتا جاگتا انسان ہونا مجھ سے تقاضہ کرتا ہے کہ میں آواز بلند کروں اور معاشرتی عیاب کی نشاندہی کروں۔  معاشرے کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا چلوں۔ میرا ضمیر اتنی گھٹن ذدہ آب و ہوا میں ابھی تک سانس لے رہا ہے ۔ میں قلم کے ہتھیا رسے کسی کی گردن تو نہیں کاٹ سکتا مگر اسے اس کے جرم کا احساس تو دلا سکتا ہے ۔ مصطفی زیدی نے اس معاشرے کی بے حسی کو درجہ ذیل شعر میں بیان کیا ہے:

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...