معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

زینب ۔۔ حوا کی بیٹی ‎

  وقت اشاعت: 12 جنوری 2018 تحریر: ام فاطمہ   آسٹریلیا

زینب ۔۔ زینب ۔۔ زینب ۔۔ آج صبح سے ایک یہی نام ہر جگہ گونج رہا تھا۔ کہرام مچا تھا سوشل میڈیا اور ہر ٹی وی چینل پر ۔۔ ایک لمحے کو میرا ذہن جامد ہو گیا کیونکہ زینب کوئی عام نام نہیں تھا۔ میں جب بھی یہ نام سنتی تھی کربلا کے واقعے کی یاد تازه ہو جاتی تھی۔ بے مثالی قربانیاں منسلک تھیں اس نام سے۔۔۔ ایسا نام جس نے ظلم کے ایوانوں پر لرزه طاری کر دیا تھا لیکن آج جس زینب کا نام لیا جا رہا تھا وه سات سالہ معصوم وجود تھا۔ آج قربانی جیسا لفظ اس وجود سے بھی منسلک ہو گیا تھا۔ کربلا تب بھی گزری تھی ۔۔ کربلا آج بھی گزری۔ ظلم و بربریت کی داستانیں رقم کرنے والے ہر دور میں پائے جاتے ہیں ۔۔ بس ان کے نام الگ ہوتے ہیں ۔

یزید ہوتے ہیں ہر زمانے میں

وقت دوہراتا ہے کربلا کو

بیٹیاں جب کسی گھر میں پیدا ہوتی ہیں تو رحمت کی نوید ہوتی ہیں۔ ماں باپ کے دکھ سکھ کی ساتھی۔ آج جس گھر کی زینب گئی اس گھر میں اس کی پیدائش پر کتنا خوشی کا سماں ہو گا۔ وه رحمت کسی درندے نے والدین سے اپنی ہوس میں چھین لی ۔۔ زمین پھٹی نہ آسمان نے قہر برسایا ۔ ماں باپ سے دوری ۔۔ اداسی اور نجانے کس عالم میں زینب چلی گئی ۔ اس کے والدین کس کرب سے گزر رہے ہوں گے اس کا علم بس خدا کی  ذات کو ہے۔۔

‏میری ماں آ کے دیکھ سہی

‏تیری زینب کہاں کھو گئی

‏بچے گلیوں میں کھیلتے رہے

‏میں منوں مٹی تلے سو گئی

‏میں بھی بنی ہوس کا نشاں

‏تیری زینب کتنی بڑی ہو گئی

‏تیرے آنے پہ لپٹنا تھا تجھ سے

‏میں قبر کو لپٹ کے سو گئی

کربلا کا واقعہ جس طرح اکنافِ عالم میں ہر آنکھ کو اشک بار کرتا ہے اسی طرح زینب کے واقعے نے بھی ہر  دل پسیج دیا ۔ ہر دردِ دل رکھنے والا انسان اس دکھ کو محسوس کر رہا ہے۔  بس ٹوٹے نہیں تو وه ہاتھ نہیں ٹوٹے جنہوں نے اس نازک کلی کو مسل ڈالا۔ کیا لڑکی ہونا اتنا بڑا جرم ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کو جنسی تسکین کا سامان کیوں سمجھا جاتا ہے ۔ چاہے وه بیس سالہ لڑکی ہو، تیس ، چالیس سالہ عورت یا سات سالہ زینب۔ ہمارے معاشرے میں راه چلتی عورت سے لے کر سکول ، گھر یا گلی میں کھیلتی بچی کو بھی مفت کا مال سمجھا جاتا ہے۔ جس معاشرے میں راه چلتی عورت کو دیکھ کر سر تا پا اس کا معائنہ نظروں سے کرنے کا رواج ہو اس معاشرے میں زینب جیسے واقعات ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔  ظلم تو یہ ہے کہ ہمارے بچوں کیلئے اب گھروں کے سامنے گلیاں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ میڈیا کے مطابق اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات درج ہو چکے ہیں ۔ احتجاج کے دوران دو لوگ جاں بحق بھی ہوئے۔ ہمارے ملک میں آواز اٹھانا ایک مشغلہ بن چکا ہے۔ اور آواز اٹھانے کیلئے بھی ہم کسی بڑے اور برے سانحے کا انتظار کرتے ہیں ۔ دو چار دن کیلئے ہم زور دار آواز اٹھاتے ہیں۔ پورے ملک کا نظام درہم برہم کر دیتے ہیں اور پھر لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں  چار دن اپنے قد سے بلند آوازیں اٹھانا۔ ہر کیس کو ہائی پروفائل بنا کر میڈیا پر پیش کرنا  فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے اور پھر اس کا نتیجہ صفر نکلتا ہے۔

اللہ تعالی نے فطری اصولوں اور انسانی ضرورت کے مطابق کچھ اصول وضع کئیے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں دین سے برائے نام واسطہ۔۔ ناقص نظام تعلیم ۔ تربیت کا شدید فقدان ۔۔ فوری انصاف کی کمی۔۔ بے روزگاری ۔۔۔ دیر سے شادیاں ۔۔۔ یہ سب ایسےاسباب میں جو مل کر ایسی مجرمانہ سوچ کو جنم دیتے ہیں ۔۔ ایک کم تعلیم اور ناقص تربیت کا حامل فرد جب بے روزگار ہوگا تو خالی ذہن شیطان کا گھر بنے گا۔  زینب جیسا واقعہ بس ایک فرد کی سوچ کو عیاں نہیں کرتا ۔ یقیناً آج جو مرد آواز بلند کر رہے ہیں مجھے یقین ہے کہ یہ راه چلتی کسی عورت کو دیکھے بغیر گزرنے نہیں دیتے ہوں گے۔ پھر افسوس کس بات کا۔

تہی دامن تو ہم پہلے ہی ہیں بس آج لُٹ گئے تو کیا ہوا۔  ہمیں اجتماعی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ نجانے اور کتنی زینب اس معاشرے میں اس قبیح فعل کی بھینٹ چڑھیں گی۔ نجانے کب صبح طلوع ہوگی۔ کب یہ مرده اور بیمار سوچ کا اندھیره چھٹے گا۔ میں نے ان بلند آوازوں میں ایک نحیف سی آواز اٹھائی ہے اور میں نے اپنے حصے کا حق ادا کر دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ "نقار خانے میں طوطی کا آواز کون سنے گا "
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...