معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مقامی حکومتوں کی مشکلات ایشیا بھر میں یکساں ہیں

  وقت اشاعت: 17 2017 تحریر: سلمان عابد   لاہور

پاکستان میں ایک مضبوط سیاسی نظام کی بحث عمومی طور پر سیاسی اور اہل دانش کی مجالس میں سننے کو ملتی ہے ۔ ہماری جمہوری قوتوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ جمہوریت کی بات تو بہت کرتی ہیں لیکن ان کا اپنا داخلی اور خارجی جمہوری مقدمہ بہت کمزور ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں جمہوری عمل میں بہت زیادہ تضادات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ایک  دلیل یہ  ہے کہ اگر آپ نے کسی ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کا عمل پرکھنا ہے تو آپ کو وہاں کے مقامی جمہوری نظام کو سمجھنا ہوگا۔ سیاست کے ماہرین کے بقول جمہوریت کی مضبوطی کا براہ راست تعلق مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کے ساتھ جڑا ہے ۔ لیکن ہمارا مقامی حکومتوں کا نظام محض ریاست، سیاسی نظام ، قیادت اور دیگر فریقین کی عدم دلچسپی کے باعث وہ نتائج نہیں دے سکا جو ہماری ضرورت ہے ۔

پاکستان میں کئی طرح کے چیلنجز موجود ہیں ۔ اول سیاسی جماعتوں اور اقتدار میں شامل جماعتوں کی ترجیحات اور آئین کی شق140-Aکی پاسداری نہ کرنا ، دوئم عدم مرکزیت کی بجائے مرکزیت پر مبنی سیاسی نظام ، سوئم سیاسی اور فوجی طبقہ کے درمیان باہمی چپلقش، چہارم وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، پنجم مقامی لوگوں کو نظام حکومت میں شریک کار نہ بنانے کی روش، ششم مرکزی ، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی باہمی چپقلش، ہفتم بیوروکریسی کا سیاسی نظام میں حاوی کردار ، ہشتم موثر قانون سازی کا نہ ہونا اور آئینی تحفظ کا مسئلہ جیسے کئی مسائل موجود ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عدالتی دباؤ کے باعث مقامی حکومتوں کا نظام تو نافذ کردیا گیا  لیکن اس نظام کو موثر و شفاف بنانے میں حکومت کی عدم دلچسپی واضح نظر آتی ہے ۔ یہ مسئلہ محض پاکستان کا ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک بنیادی طور پر مقامی حکومتوں کی مضبوطی کی جنگ بدستور لڑرہے ہیں۔ ان میں بھارت، سری لنکا ، نیپال ، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ ، افغانستان ، کمبوڈیا، لاؤس ، منگولیا، میانمار، فلپائن سمیت کئی اور ممالک بھی شامل ہیں ۔ جنوبی ایشائی ممالک کا مسئلہ یہ ہے کہ ان ممالک میں حکمرانی کا نظام اور طرز حکمرانی ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشائی ممالک کا سماجی شعبوں میں خاطر خواہ کارکردگی نہیں ۔  ان ملکوں کے  اعداد وشمار اور بالخصوص انسانی ترقی سے جڑے ہوئے عوامل ان ملکوں کی طرز حکمرانی کے بارے میں  سنگین نوعیت کے سوالات کو اٹھاتے ہیں ۔ اس پورے خطہ میں بھارت کی جمہوریت دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہتر ہے اور باقی تمام ممالک میں جمہوری عمل ارتقائی مراحل سے گزررہا ہے ۔ لیکن بھارت کا بھی مقامی حکومتوں کا نظام  مضبوط  نہیں۔

مجھے 12تا 15دسمبر تین روزہ کانفرنس ’’ جنوبی ایشیا میں مقامی حکومتوں کا مستقبل ‘‘ کے تناظر میں پانچویں جنرل اسمبلی شریک ہونے کا موقع ملا، جو اہم ایونٹ تھا ۔ اس کانفرنس کا انعقاد Local Governance Initative and Network(LOGIN)Asia نے کیا تھا جو جنوبی ایشیا کے 12ممالک میں کام کررہا ہے ۔ اس فورم میں 12ممالک کے 125ممبرز شامل ہیں ۔ ان میں این جی اوز، میڈیا ، ول سوسائٹی ، حکومتی نمائدے اور ماہرین، مقامی نظام کے منتخب نمائندے شامل ہیں ۔ اس فورم کا مقصد ان تمام ملکوں میں مقامی نظام حکومت کی مضبوطی کی بحث کو آگے بڑھانا ہے اور جو تجربات ان ملکوں میں ہورہے ہیں۔ اس فورم کی مدد سے اس سے آگاہی حاصل کرنا اور ایسی حکمت عملیاں وضع کرنا ہے جو ان ملکوں میں مقامی نظام کو تقویت دے۔ میں اس اہم نیٹ ورک کا پاکستان چیپٹر کا حصہ ہوں اور کئی برس سے اس ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کی بحث کو دیگر فریقین کی مدد سے آگے بڑھارہا ہوں ۔ میرے ساتھ کنیز فاطمہ، انور حسین اور رخسانہ شمع ، افنان سعید الزماں صدیقی ور عرفان مفتی سمیت کئی لوگ اس کا حصہ ہیں ۔ اسی کام کو موثر انداز میں چلانے کے لیے ہم نے کئی برس قبل لاہور میں ’’ سول سوسائٹی فورم برائے مقامی طرز حکمرانی ‘‘ کی بنیاد رکھی تھی ، جو کامیابی سے چل رہا ہے ۔

بنکاک میں ہونے والی کانفرنس میں دیگر ممالک کے تجربات سے اندازہ ہوا کہ مقامی نظام کا بگاڑ ان تمام ممالک میں ہمیں سیاسی ، انتظامی ، قانونی اور مالی وسائل کی شکل میں غالب نظر آتا ہے ۔ کئی ملکوں میں اچھے تجربات بھی ہوئے ہیں لیکن سیاسی نظام کی کمزور کمٹمنٹ کی وجہ سے اچھے اقدامات کو بھی وہ پزیرائی نہیں مل سکی ، جو ان کا حق بنتا تھا۔ بنیادی طور پر یہ بات سمجھنے میں مزید آسانی ہوئی کہ ہماری سیاسی جماعتو ں کی  قیادت، بیوروکریسی اور قومی و صوبائی سطح کے نمائندے خود اس نظام میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ سب ہی اختیارات کو اپنی حد تک محدود کرنا چاہتے ہیں ۔ کوئی بھی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کو عوامی سطح پر یا مقامی حکومتوں کے نظام کو نہیں دینا چاہتا۔ اہم بات یہ ہے کہ سب ممالک کے ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ ان کے ملکوں میں سیاسی نظام عملی طور پر ایک بڑے مافیا کے ہاتھوں میں یرغمال بن گیا ہے ۔ یہ مافیا سیاسی جماعتوں میں نہ صرف بڑا اثر نفوذ رکھتا ہے بلکہ سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں پر حاوی ہوگیا ہے ۔ سیاست میں پیسے کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر سب ماہرین کو تشویش تھی ۔ ان کے بقول اس روش سے عام لوگوں کی سیاسی نظام میں بطور عوامی نمائندے کی شرکت ناممکن ہوگئی ہے اور عملی طور پر مالی طور پر مستحکم افراد سیاسی نظام پر غالب ہوگئے ہیں ۔

بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ماہرین کے بقول ان کے نظام میں کرٖپٹ لوگ حصہ بن گئے ہیں اور قانون ان کے سامنے بے بس نظر نظر آتا ہے ۔ بھارت سے آئی ہوئی معروف پروفیسر نے تو دواہم نقطوں پر سوال اٹھائے۔ ان میں ایک سیاست اور جرائم کا باہمی تعلق اور نوجوان اور عورتوں کی طاقت کو نظرانداز کرنے پر مبنی نظام کیسے مستحکم مقامی نظام لاسکتا ہے ۔ یہ بات بھی تواتر سے دہرائی گئی کہ جب تک ہم مجموعی طور پر بڑے سیاسی فریم ورک کو جمہوری طور پر نہیں قبول کریں گے مقامی نظام کی بحث بے معنی ہوگی ۔ یہ بات بھی دہرائی گئی کہ ان ممالک میں جو طرز حکمرانی کا بحران ہے وہ ان ملکوں میں تنازعات، تفریق، محرومی اور انتہا پسندی کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں ۔ اسی طرح مقامی نظام کی کمزوری کا ایک سبب کمزور اداروں کو قرار دیا گیا اور کہا کہ یہاں اداروں کی خود مختاری کو نظر انداز کرکے اور ایک خاص طبقہ اپنے حق میں استعمال کرکے عام آدمی کا استحصال کررہا ہے ۔ الیکشن کی مجموعی سیاست کا بھی جائز ہ لیا گیا اور کہا کہ اگر ہم نے عام آدمی اور قابل لوگوں کو سامنے رکھ کر انتخابی اصلاحات اور انتخابی قوانین کو موثر نہیں بنایا تو اس انتخابی سیاست اور انتخابات لوگوں میں اپنی اہمیت کھودیں گے۔

کانفرنس میں دوسرے ملکوں کے تجربات سے سیکھنے کا اہم موقع ملا۔ یہ بات سمجھنے کو ملی کہ کہاں کہاں اچھے تجربات ہورہے ہیں ان کی مدد سے کیسے آگے اپنے ملکوں میں اس بحث کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے ۔ یہ بات پاکستان کے تناظر میں بھی اہم ہے کہ اگرچہ یہاں مقامی نظام کسی بھی طور پر مضبوط نہیں لیکن اب یہ بحث میڈیا کی مدد سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس میں  LOGIN اور اس جیسے دیگر فورمز کا بھی بڑا حصہ ہے جو اس مسئلہ کو لوگوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیا کو کیسے اس مقامی نظام کی بحث میں ایک مضبوط فریق کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے اس پر بھی کافی تبادلہ ہوا ۔ بنیادی طور پر ہمیں اپنے اپنے ملکوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کی بحث کو ایک بڑے سیاسی فریم ورک اور سیاسی ایجنڈے کے حصہ کے طور پر جوڑنا ہوگا ۔ کیونکہ مقامی حکومتوں کا نظام سیاسی تنہائی میں کامیاب نہیں ہوگا اور اس بحث میں نئی نسل کے نوجوانوں کو حصہ دار بنانا ہوگا ۔ ان کو سمجھانا ہوگا کہ ان کے جو بیشتر مسائل ہیں ان کا براہ راست تعلق مقامی حکومتوں کے کمزور نظام کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ کیونکہ مقامی نظام میں اداروں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ نظام کو موثر اور شفاف بنانا ہوگا ۔  اگر نظام شفاف ہوگا تو لوگوں کے بنیادی مسائل پر بحث بھی ہوگی اور وہ قومی سیاست کا حصہ بھی بنیں گے ۔

ہماری پڑھے لکھے طبقہ کو بھی اس بحث میں شامل کرنا ہوگا اور بالخصوص وہ طبقہ جو رائے عامہ کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے وہ اس جنگ میں خود بھی شامل ہو اور دوسروں کو بھی شامل کرے ۔  دنیا کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ طرز حکمرانی اور جمہوریت کے بحران کا واحد حل مضبوط مقامی نظام ہے اور اسی کو اپنی جدوجہد کا حصہ بنانا ہوگا ۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...