شام بڑی طاقتوں کا اکھاڑہ بن چکا ہے

  وقت اشاعت: 17 2017 تحریر: چوہدری ذوالقرنین ہندل   گوجرانوالہ

شام میں خانہ جنگی شروع ہوئے چھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ لاکھوں لوگ جان کی بازی ہار چکے۔ انسانیت کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ مگر شام کا داخلی بحران ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔ شاید اسے ختم ہونے نہیں دیا جاتا۔ ہر دور اور ہر زمانہ میں طاقتور ریاستیں چھوٹی اور مفادات سے جڑی ریاستوں کی جان نہیں چھوڑتیں۔ ایسا ہی معاملہ یہاں ہے۔ امریکہ اور روس ہرگز شام سے اپنا اثر رسوخ کم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے اور اس کے پس پشت ان کے کئی مقاصد ہوں گے۔

شام مغربی ایشیا کا ایک اسلامی ملک ہے جسے انگلش میں(syria) کہتے ہیں۔ اس کے ہمسایہ ممالک میں ترکی، عراق، لبنان، اردن اور اسرائیل ہیں۔1967میں اسرائیل نے شام کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا جو بعد میں کامیابی سے اسرائیل سے منسلک ہو گئے۔ شام کی  خانہ جنگی عرصہ دراز سے جاری ہے جسے ہر گروپ اپنی انا کی جنگ تصور کرتا ہے۔ 2011 میں  بشارالاسد کی طرف سے کچھ پرامن مظاہرین کو کچلنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجہ میں شام پچیدہ صورتحال کی طرف رواں ہوا۔ پرامن مظاہرین بپھر گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے خطرناک باغیوں نے جنم لے لیا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اور بشارالاسد کی انا اور غلط پالیسیوں کی بدولت انتہا پسند تنظیموں کو بھی متحرک ہونے کا موقع مل گیا اور انتہا پسند تنظیموں نے باغیوں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف جنگ شروع کردی۔ ملکی حالات دن بدن بگڑنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شام کے کرد بھی متحرک ہوگئے۔ حزب اللہ نے شامی حکومت یعنی بشارالاسد کا ساتھ دیا۔ وقت آیا کہ عراق میں موجود داعش نے شام میں بھی پنجے گاڑنے شروع کردیئے۔

ملک شام مکمل طور افراتفری کی لپیٹ میں آگیا۔  قتل و غارت کا منظر پیش کرنے لگا۔ باغیوں نے بھی قبضے جمائے مگر داعش نے سب کو پس پشت ڈال کر اپنا تسلط جمانا شروع کردیا۔ ایسے میں ایران اور حزب اللہ بشارالاسد کے بڑے اتحادی رہے۔ جبکہ اسرائیل ، امریکہ، اور ترکی باغیوں کو سپورٹ کرنے لگے۔ یہاں تک کہ امریکہ نے باغیوں کو اسلحہ فراہم کیا۔ وہی اسلحہ پھر داعش کو میسر آ گیا۔ مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق شروع میں داعش کی مدد کے لئے سعودی عرب ، کویت اور قطر کی طرف سے کثیر دولت براستہ ترکی داعش تک پہنچائی جاتی رہی۔ ایسے میں مسلمانوں کی فرقہ وارانہ نفرت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب سمیت دوسرے عرب ممالک یہ چاہتے ہیں کہ ایران اور اس کے قریبی اتحادیوں کی طاقت اور خودمختاری کو محدود کیا جائے۔  جبکہ ایران اور اس کے حلیف  چاہتے ہیں کہ عالم اسلام میں صرف ان کا بول بالا ہو۔

مسلمانوں میں مسالک کی لڑائی سے امریکہ کو خوب فائدہ ہوا۔ اسی بدولت امریکہ نے عربوں کی سرمایہ کاری سے مسلمانوں کے ہی کچھ علاقوں میں اپنے مفادات کی جنگ لڑی۔ داعش سمیت بہت سی انتہا پسند تنظیموں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کی۔ مغربی ایشیائی ممالک کی بربادی اور افراتفری سے ہی اسرائیل کے مفاد بھی منسلک ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک ایشیائی بالخصوص مغربی ایشیائی ریاستوں کی موجودہ بحرانی صورتحال میں اسرائیل کا بڑا عمل دخل ہے اور امریکہ سمیت یورپی یونین بھی اسرائیل کو مکمل پنپنے کا محفوظ ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ تاکہ  گریٹر اسرائیل کا منصوبہ مکمل ہو سکے۔ دوسرا بڑا فائدہ جو اٹھایا جا رہا ہے وہ یہ کہ عراق، لیبا  اور شام جیسے مسلم ممالک خام تیل کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں ۔ امریکہ اس جنگی بحران سے فائدہ اٹھا کر ان ذخائر سے استفادہ چاہتا ہے۔  تمام متنازعہ علاقوں میں امریکہ اپنے تیل نکالنے کے مشن پر گامزن ہے۔

روس بھی ایک مفاد پرست ملک ہے۔ اور دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی عالمی حیثیت کو بحال کرنا چاہتا ہے۔ روس نے بھی شام کی بحرانی صورتحال میں ملوث ہے۔  روسی  حکومت نے بشارالاسد کو سپورٹ کیا اور اسلحہ دیا، مالی مدد کی۔ بشارالاسد کا پلڑا بھاری کرنے میں روس اور چین کے اسلحے کا بھی بڑا کردار ہے۔ گزشتہ روز روسی صدر کی جانب سے شام کی خانہ جنگی کے ختم ہونے کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شام مکمل طور پر آزاد ہے داعش ختم ہو چکی ہے۔ امریکہ کا مؤقف ذرا مختلف ہے۔ امریکہ ابھی شام میں مزیدعمل دخل چاہتا ہے۔ شاید بدلتی صورتحال میں امریکہ مسلم ممالک کو مزید غیر مستحکم کرنے کی پالیسیوں پر گامزن رہنا چاہتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شام میں شکست کے بعد  داعش کے کارندے بھاری اسلحے سمیت شام سے کہیں اور منتقل ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب ان کا اگلا پڑاؤ کہاں ہے۔ ان کے پاس مالی وسائل اور اسلحہ بھی موجود ہے۔ یہاں دو پہلو نکل سکتے ہیں۔ یا تو امریکہ کچھ دیر بعد پھر انہیں واپس شام کی طرف دھکیل دے گا یا پھر کسی اور اسلامی ریاست کی طرف قافلے رواں ہوں گے۔ ایسے میں ایشیائی ممالک کو بالخصوص مغربی ایشیائی ممالک کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا کیپیٹل ماننے کے بعد کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ کسی بھی مسلم ریاست کے حالات بہتر ہوں۔ بلکہ وہ مسلم ریاستوں کو مزید افراتفری کی فضا میں جھونکنا چاہتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو بھی چاہئے کہ اپنی اندرونی معاملات جتنی جلد ہو سکے احسن طریقے سے نمٹائے تاکہ کوئی بھی دشمن ہمارے داخلی معاملات کو الجھانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جہاں تک شام و عراق کے جنگی بحران کی بات کی جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ سلسلہ کچھ وقت کے لئے  دھیما ہوا ہے۔ امریکہ اسے پھر سلگائے گا۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...