معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

جمہوریت ایک مشترکہ عمل ہے، سب کامیاب ہوتے ہیں یاناکام

  وقت اشاعت: 12 2017 تحریر: اسد مفتی   ہالینڈ

پیارے قارئین اور دوستو! بہت دنوں کی چھٹی کے بعد واپس پلٹا ہوں۔ وطن عزیز اور ہمسایہ ملک میں چار ہفتوں کی خاک چھاننے کے بعد تھکن سے جو سب کا حال ہوتا ہے میرا اس سے کچھ سوا ہی ہوا ہے۔ سوچا تھا ان چارہفتوں کا آنکھوں دیکھا حال اورکانوں سنی حکایتیں آئندہ کیلئے اٹھا رکھتے ہیں۔ سوچا تھا آج میں آپ سے ہلکی پھلکی باتیں کروں گا تاکہ میں پھر سے اپنی جون میں آ سکوں لیکن کشور حسین شادباد کی سیاسی ، سماجی، ثقافتی، آئینی اور ادبی صورت حال اتنی دگرگوں ہوچکی ہے کہ وہاں ہر گام مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

اس وقت ملک عزیز میں چاروں طرف مسائل ہی مسائل ہیں، آئینی مسائل، سیاسی مسائل، مذہبی مسائل، علاقائی مسائل، گروہی مسائل، ثقافتی مسائل، تعلیمی مسائل، صحت عامہ کے مسائل، لسانی مسائل، فوجی مسائل، دفاعی مسائل، بے روزگاری مسائل، زندگی کے سارے مسائل اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جہاں وسائل نہ ہوں وہاں مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہر مسئلہ سو فیصد معاشی مسئلہ سے جڑا ہوا ہے، تمام سیاسی و سماجی مسائل کی جڑیں معاشی صعوبت اور پریشانی کی تہہ میں گڑی ہوئی ہیں۔ مسائل حل نہ ہو رہے ہوں یا حل ہونے کی رفتار عوامی توقع اور صورت حال کے تقاضوں سے کہیں کم اور دھیمی ہو تو پھرپریشان حال عوام کا پریشان ذہن ہو جانا فطری بات ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ حکومت، انتظامیہ، عدلیہ، منتخب اداروں اور معاشرے سے مایوس اور بدظن ہوتے جا رہے ہیں۔ جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہو پا رہے ایسے میں مایوس عوام کا منفی سمتوں کی طرف چل نکلنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

علاقائی اور مذہبی فرقہ پرستی کوفروغ دیا جا رہا ہے، مسلکی فرقہ وارانہ بنیادوں پر گروہ اور جتھے تشکیل دے دیئے گئے ہیں اور ہنوز یہ عمل جاری و ساری ہے۔ بنیاد پرستی اور انتہاپسندی زور پکڑ چکی ہے اور کئی لوگ اسلام کے نام پر خون خرابہ کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ سو دو سو انتہا پسند کسی بھی شہر کا محاصرہ کرکے اسے مفلوج کر سکتے ہیں ۔ نفرت اور عصبیت بڑی محنت اور ”خلوص دل“ سے پھیلائی جارہی ہے۔ معاشرہ میں رواداری اور برداشت کامادہ ختم ہو چکا ہے، معاشرہ جس طرح بے لگام ہو رہا ہے بہت جلد وہ اس سے بھی سوا ہو جائے گا۔ اور یہ بات ہر کس و ناکس جانتاہے کہ جمہوریت صرف جمہوری عمل جاری و ساری رہنے اور بڑھاوا دینے، ترقی کرنے اور نشوونما فروغ سے ہی مضبوط و مستحکم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چھومنتر، کوئی ٹونا ٹوٹکہ، کوئی دوا دارو، کوئی اکسیری نسخہ، کوئی دعا و عبادت، کوئی الہ دین کا چراغ، کوئی گیدڑ سنگھی، کوئی امرت دھارا، کوئی جادو کی چھڑی یا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔ لاہور میں میرے ساتھ ایک ملاقات میں ترقی پسند رہنما عابد منٹو نے ایک نہایت اہم اور پتے کی بات کہی ہے کہ سیاستدانوں نے موجودہ نظام کو تبدیل نہ کیا ملک کو معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں یہاں اسحاق ڈار کی بات نہیں کروں گا بلکہ عابد منٹو کی بات کی تائید کرتے ہوئے ملک عزیز کی معاشی تباہی کے حل کے لئے اپنے حساب سے عرض کروں گا۔

میں نے پہلے بھی کہیں لکھا ہے کہ وہ شخص پاکستان کے بارے میں کیا جانتا ہے جو صرف پاکستان کے بارے میں جانتا ہے آج کے پاکستان کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اصول، رواداری، برداشت اور جواز لوگوں کے ذہنوں سے لوگوں کی زندگیوں سے اٹھتا جا رہاہے۔ یہ الفاظ ہماری زندگی سے خارج ہو رہے ہیں۔ عدم برداشت 14 اگست کی دین ہے جس کے منفی نتائج ہم تخلیق اور تخلیق فکر پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ جو وہ کچرے کی صورت میں تیزی سے اگلتا جار ہا ہے کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہماری زندگی بے شمار ثانوی اشیا کا مجموعہ ہے اور یہ کہ ثانوی چیزیں مل کر اسے قابل برداشت بناتی ہیں۔ پاکستان جا کر ایک بات کا احساس پھر تازہ ہوا اور یقین کی تصدیق بھی کہ ہر عہد کی ایک مخصوص فکر ہوتی ہے اور طرز اظہار بھی اور ماہ و سال کے آئینے میں عہد کو دیکھنا اور آواز کو سننا آسان نہیں۔ لیکن دانا اور عارف ایک صورت حال ایسی بتاتے ہیں کہ جب اپنے سننے کو کچھ بھی نہیں رہ جاتا۔ بات پھیلتی جا رہی ہے میں اب اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ کشور حسین شاد باد کی معاشی تباہی کے حل کیلئے میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔

عام مفہوم میں ہم ایسا کہیں گے کہ جس طرح کوئی گھر یا خاندان چاہتاہے۔ قومی معیشت کو چلانے کیلئے بھی وہی اصول ہیں۔ وہی بجنٹ، وہی آمدن، وہی اخراجات، وہی سیونگ اور وہی انویسٹمنٹ۔ قومیں بھی اسی طرح چلتی ہیں جسے گھرانے چلتے ہیں۔ جب کسی گھرانے کے حالات ناگفتہ اورتنگ ہو جائیں تو وہ دوسرے سے قرض لے کر کام چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور وہ وقت بھی آ جاتا ہے یا آ سکتا ہے جب دوسرے مزید قرض دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ کہ پہلے قرضوں کی واپسی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ اب اس گھرانے کیلئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ایک تو وہ اپنے افراد کا معیار زندگی کم کرے (میں یہاں غریب لوگوں کی بات نہیں کررہا) اور دوسرے اپنے اثاثے (Assets) کو فروخت یا رہن رکھ کر روپیہ حاصل کرے۔ عام لفظوں میں اس وقت پاکستانی معیشت ایسا ہی ایک گھرانہ ہے جس کا بال بال (یہاں مراد بچے بھی ہیں) قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور وہ وقت آ گیا ہے جب قوم سال بھر میں جو کماتی ہے سب کا سب پرانے قرض اتارنے اور سالانہ سود اتارنے یا ادا کرنے پر لگ رہا ہے۔ چنانچہ ہمارے پاس واحد اور میری نظر میں یہی ایک راستہ ہے کہ ہم اپنی قومی معیشت کی ازسرنو تشکیل یا پیروسٹروئیکا کیلئے خود اپنے وسائل پیدا کرنے کی غرض سے قومی اثاثے کو (Liquidate) کریں۔

آج تک کسی بھی سیاستدان یا معاشیات دان نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ ہماری وفاقی حکومت کے کل کتنے اثاثے ہیں اور کہاں کہاں ہیں؟ عام فہم پاکستانی معیشت کے بارے میں تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھنے والے ایک شخص کے طور پر میرا اندازہ ہے کہ وفاقی حکومت کے اثاثوں کی مالیت کسی طور بھی 125 ہزار کروڑ سے کم نہیں۔ سرفہرست 22 کارپوریشنز اور پاکستان ریلوے کے 20 بڑے انڈسٹریل پلانٹس اور ورکشاپ آتے ہیں جن کی مجموعی مالیت اربوں ڈالرز ہے۔ اس کے بعد آتے ہیں وہ جسے ہم دفاعی اثاثہ (Defence assets) کہتے ہیں۔ واہ کمپلیکس، حویلیاں کمپلیکس، کامرہ کمپلیکس اور کئی دوسری فیکٹریاں اور پلانٹس جن میں سے ایک ایک کی مالیت 9 سو ملین ڈالر جتنی یا زائد ہے۔ اور وہ ہزاروں ایکڑ زمینیں ہیں جو مختلف دفاعی اداروں اور محکموں کی ملکیت ہیں۔ ان کے بعد پی آئی اے، پاکستان شپنگ، سول ایوی ایشن، ٹی اینڈ ٹی، واپڈا، پورٹس اور کئی دوسرے اثاثے آتے ہیں جن کی مالیت بے پناہ ہے۔ یہ تمام کے تمام وفاقی حکومت کے اثاثے ہیں جن کی مجموعی مالیت پاکستان کو ڈوبنے سے بچا سکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک المیہ نہیں ہے کہ ملک کی بیمار معیشت کو جوں کا توں قائم رکھنے اور چلانے کیلئے زبوں حال قوم کو بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔  وفاقی حکومت کے یہ بے پناہ اثاثے اپنی جگہ محفوظ اور منجمد پڑے ہوئے ہیں۔ اتنا ہی المناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کو اپنے اثاثوں کی محض دیکھ بھال اور انتظام و انصرام پر ہر سال لگ بھگ 7 ہزار کروڑ سے زیادہ صرف کرنے پڑتے ہیں۔ ایک طرف سفید ہاتھی پالے جا رہے ہیں تو دوسری طرف عوام کی بودوباش، روزگار، صحت، تعلیم و تربیت اور ترقی و بہبود پر صرف کرنے کیلئے حکومت کے پاس بڑے بڑے قرضے لینے کے باوجود کوئی پیسہ نہیں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ اس سلسلے میں معمولی کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں مگر ان معمولی کارروائیوں سے ہماری معیشت یا ملک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اور اگر یہ خیال ہے کہ اس جزوی کارروائی کے نتیجے میں ہمارے صنعت کار اور تاجر حضرات میں اعتماد پیدا ہوگا تو یہ سراسر خام خیالی ہے اعتماد صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے کہ پوری کی پوری معاشی پالیسی ایک پیکیج (Pakage) کی شکل میں آئے۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ وفاقی حکومت کے یہ اثاثے دراصل وفاقی بیوروکریسی کے اثاثے بن چکے ہیں عوام کے اثاثے ہرگز ہرگز ںہیں رہے۔ اب ایک آخری بات.....

ایک کروڑ پتی ایم پی اے اپنے علاج کیلئے شہر کے ایک خیراتی ہسپتال میں داخل ہوا، انتظامیہ نے بتایا کہ یہ خیراتی ہسپتا ل ہے یہاں صرف غریبوں کا مفت علاج ہوتاہے۔ کروڑ پتی نے کہا ”میں غریبوں کا نمائندہ ہوں اس لئے اس ہسپتال میں علاج کروانا میرا استحقاق ہے“۔

کون عاشق خدا کی ذات کا ہے
سارا چکر معاشیات کا ہے

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...