سیاسی دھن میں ادارے تباہ نہ کریں

  وقت اشاعت: 06 2017 تحریر: شیخ خالد زاہد   کراچی

گزشتہ کئی ماہ سے ملک خداداد پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی خاطر کیا کچھ داؤ پر لگایا جا چکا ہے۔ جمہوریت کی آڑ میں اپنی اپنی مرضی کے قوانین مرتب دئیے جاتے رہے ہیں تاکہ اپنے اقتداروں کو دوام بخشا جاسکے۔  قوانین میں  ترامیم کرتے وقت اس بات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ان ترامیم سے کیسے کیسے لوگ مستفید ہوں گے۔  محسوس ایسا ہورہا ہے جیسے فوج کے صبر کو آزمایا جا رہا ہے کیونکہ عوام تو ووٹ دینے کے ہی گنہگار ہوتے ہیں۔ پھر یہ لوگ اسمبلیوں میں اپنے مفادات کی جنگ لڑتے ہیں۔ 

یہ بات عملی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے سیاستدان پاکستان کی آزادی سے لے کر آج تک پاکستان کو مال غنیمت سمجھتے رہے ہیں۔ جس کا جو دل چاہا ہے اس نے وہ کیا ہے اور پھر یہی لوگ قوانین میں اپنی مرضی کی ترمیمیں کرکے پھر سے ایسے ہوجاتے ہیں جیسے کچھ کیا ہی نہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک ایسے شخص کو جسے اعلی عدلیہ نے نا اہل قرار دے دیا ہے سیاسی جماعت کی سربراہی کے لئے اہل قرار دے دیا ہے۔  لمحہ فکریہ یہ ہے کے کیا اس اقدام سے دنیا میں ہماری ساکھ کو کتنا نقصان پہنچے گا۔ کیونکہ دینا یا تو ہمارے عدالتی نظام کا مذاق اڑائے گی یا پھر قانون ساز ادارے میں بیٹھے ان لوگوں کا جو جمہوریت کو  اپنی اجارہ داری سمجھتے  ہیں۔  اس قانون کے حق میں ووٹ دینے والے اقتدار کے نشے میں اندھے ہوچکے ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ایک اور سال حکومت کرلیں گے لیکن اپنے مفاد کے لئے اقدار کا جنازہ نکانے کا سبب بن رہے ہیں۔

ملک کے اہم ترین ادارے سے نااہلیت کی سند لینے کے باوجود ایک فرد اپنی انا کے خول سے نکلنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ گمان کیا جاسکتا ہے کہ کہیں قانون کا آہنی شکنجہ اپنی گرفت زیادہ سخت نہ کردے۔ اس سارے معاملے میں میڈیا بھی کچھ ٹھوس تصویر نمایاں کرنے سے قاصر رہا ہے یا پھر واقعی غیر جانبدار رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔  لوگ  سوال کر رہے ہیں کہ اگر ہماری عدالتیں اور ہمارا نظام عدل بے معنی اور اعتبار کے قابل نہیں تو پھر دوسر اکون رہ جاتا ہے جس پر بھروسہ کیا جائے۔ اس سوال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کے دو اہم ترین ستون فوج اور عدلیہ ایک طرف ہیں اور بدعنوانوں کو لگ رہا ہے کہ یہ ادارے مل کر ان کے خلاف ہو گئے ہیں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ  کون سچا ہے اور کون جھوٹا،  بات ہے اصولوں کی۔ ہر ادارہ دوسرے ادارے یا اداروں کو یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ آپ اپنی حدود پار نہ کریں۔ مگر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہ ادارہ خود اپنی کتنی حدود میں رہ کر کام کر رہا اور کیا وہ اپنے ادارے کے ذمے جو کام ہو وہ کر بھی رہا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اداروں کی حدود کا تعین کون کرے گا۔ اگر ادارے خود ہی تعین کریں گے تو دوسروں کیلئے تو مشکلات ہی مشکلات ہوں گی۔  قوم کو یہ وضاحتیں مطلوب ہیں ورنہ ہم تو یہی سمجھتے رہیں گے شریف خاندان کے خلاف عدالتوں نے اپنی حدود پار لی ہیں۔

دھرنے والوں سے معاہدہ کرنے پر پاک فوج نے اپنی حدود پار کرلی ہیں۔ ایوان کے نمائندے ان اداروں پر تنقید کی صورت میں اپنے حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ کون اداروں کی حدود کا تعین کرسکتا ہے اور کون ان حدود کو پار کرنے سے روک سکتا ہے۔ کسی کو تو ذمہ داری لینا ہوگی۔  پاکستان کے اتنے برے حالات دیکھ کر دل گواہی دیتا ہے کہ کوئی غیبی طاقت ہے جو خصوصی طور پر ہمارے ملک کو چلا رہی ہے۔ بے ضابطگیاں کی ایک طویل فہرست ہے۔  اگر اب بھہ ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو شاید یہ پوچنھے کا بھی وقت نہ ملے کہ یہ منظر آخر کیسے بدلے گا۔ 

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...