آزاد کشمیر حکومت کی تعلیمی تخریب کاری

  وقت اشاعت: 06 2017 تحریر: قیوم راجہ   مظفر آباد

14 نومبر کو آزاد کشمیر حکومت کو نوٹس دیا گیا تھا کہ ہماری قانونی و سیاسی کو ششوں کے نتیجے میں قائم ہونے والے آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کے قیام کو پانچ سال گزرنے کے باوجود اسے نافذ نہیں کیا گیا اور پرانی فرسودہ کتابوں پر آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کا لیبل لگا کر تعلیمی اداروں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ یہ کشمیری والدین اور ان کے بچوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ کیونکہ ان میں جموں کشمیر کی تاریخ و ثقافت بارے کچھ بھی نہیں۔

آٹھ سال قبل ہائی کورٹ میں ہم نے تاریخ جموں کشمیر کو نصاب سے نکالنے کے حکومتی عمل کو تعلیمی تخریب کاری قرار دیا تھا۔ مگر اب وہ دھوکہ دہی سے قانونی جرم کا ارتکاب کر رہی ہے جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کی پہلی چئیر پرسن تنویر لطیف تاریخ کی کتب کے ابتدایہ میں اپنے پیغام کی سطر نمبر چار میں لکھتی ہیں کہ : ‘درسی مواد تیار کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کشمیری بچوں کو ریاست جموں و کشمیر کے تاریخی۔ جغرافیائی۔ مذہبی اور ثقافتی پس منظر اور ماحول سے ہم آہنگ رکھا جائے۔ نیز جعلی کتب اور خلاصہ جات کے استعمال کا سد باب کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے‘۔ جس جعلی کام کی محترمہ نے وارننگ دی ہے وہ جرم سب سے پہلے انہوں نے خود کیا ہے کیونکہ یہ کتب اور ان میں جو بھی مواد ہے اس میں ایک لفظ بھی جموں کشمیر کی تاریخ کے بارے نہیں ہے۔ بلکہ سارا مواد غیر ملکی ہے جس میں سے زیادہ تر مغلیہ دور اور برطانوی راج کی کہانیاں ہیں جن کی خوشنودی حاصل کرنے کا اب بھی کوئی موقع ضائح نہیں کیا جاتا۔  تنویر لطیف سے جب میں چند سال قبل نصاب کی درستگی کے حوالے سے ملا تھا تو بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ ان کا خاندان بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ہے اور وہ نصاب کو تاریخی حقائق سے ہم آہنگ بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔ لیکن انہوں نے خود کو نام نہاد آزاد کشمیر حکومت کی غلامانہ مشینری کا ایک زنگ آلودہ پرزہ ثابت کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ ان کو اب ہر مقام پر اپنے اس جرم کا حساب دینا پڑے گا۔ وہ بے شک اب ریٹائر ہو چکی ہیں لیکن انہیں قانونی کارروائی کے عمل میں راہ فرار کا موقع نہیں ملے گا۔

کشمیر کے ساتھ محبت کے بے شمار کشمیری گن گاتے رہتے ہیں لیکن اس ریاست کو سب سے زیادہ نقصان خود کشمیریوں نے پہنچایا ہے۔ اپنی ذات کی خاطر یہ کچھ بھی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور نمود و نمائش کی بھوک کبھی مٹتی نہیں۔ لیکن جس دھرتی میں پیدا ہو کر یہ سانس لیتے ہیں اس کے ساتھ ان کی محبت کی میں آپ کو دو مزید تازہ مثالیں دیتا ہوں۔ جب میں نے حکومت آزاد کشمیر کو مذکورہ نوٹس دیا تو اس میں صدر آزاد کشمیر۔ وزیر اعظم۔ وزیر تعلیم۔ سیکرٹری تعلیم اور چئیرمین نصاب کو فریق بنایا گیا۔ صدر آزاد کشمیر کو جب ہمارا نمائندہ نوٹس دینے گیا تو صدر دفتر کے متعلقہ اہلکار نے شکایت کی کہ صدر کا نام وزیر اعظم کے نام کے بعد لکھا گیا ہے۔ یہ نوٹس میں نے خود کمپوز کیا تھا میرے ذہن میں بھی یہ بات آئی کہ صدر کا نام پہلے ہونا چائیے تھا لیکن چونکہ بجلی جانے کا ہر وقت خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے، میں نے اس تریب کو نظر انداز کر دیا۔ البتہ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جس صدر کو اپنی قومی تاریخ دفن کیے جانے والی سازشوں کی کوئی پرواہ نہیں وہ اور اس کا سٹاف اپنے ذاتی ناموں سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔ اس طرح میری ایک حالیہ کتاب پر ایک پوسٹ گریجویٹ نوجوان خاتون نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی کتاب میں اس کے ابو کا زکر تو کیا مگر آخر میں۔ اس خاتون کو میں نے بتایا کہ اس کے ابو دوسرے لوگوں سے عمر میں چھوٹے تھے ان کا جہاں زکر بنتا تھا وہاں ہی کیا۔ لیکن وہ مطمئن نہ ہوئی۔ حیرت ہے کہ اپنے ناموں سے اس قدر محبت رکھنے والے لوگوں کو اپنی قومی تاریخ سے کوئی لگاؤ نہیں ۔

بہرحال ہم نے حکومت کو ایک موقع دیا تھا اب ان کی اور ہماری ملاقات عدالت میں ہوگی۔ اس جد و جہد میں اندرون و بیرون ملک جو محب وطن کشمیر ی ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ہم ان کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔  آر پار کے سیاستدان کہتے ہیں کہ وہ حکومت میں رہ کر سرکاری پالیسی کو چیلنگ نہیں کر سکتے جبکہ اداروں کے سرکاری ملازمین حکومت کو اپنی ماہرانہ رائے دینے کے بجائے اپنے دل دماغ اور زبانوں پہ تالے لگائے بیٹھے ہیں۔ مجبوری ہر انسان کی ہوتی ہے لیکن ضمیر اپنا اپنا ہوتا ہے۔ ایک طرف لوگ اصولوں کی خاطر پھانسی کے پھندے پر چھڑھ جاتے ہیں۔ ہم بھی یورپ میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے۔ ضمیر بیچ کر ہم بھی 22 سال قید رہنے کے بجائے بری ہو سکتے تھے اور بری ہو کر بھی ہمیں مشروط طور پر پر کشش پیشکشیں کی جا رہی تھیں۔ لیکن ہم نے ضمیر کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ جبکہ یہاں کچھ لوگ لاکھوں روپے لگا کر یورپ بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے عوام سے لیے جانے والے ٹیکس سے تنخواہ لے کر عوام ہی  کے مسقبل کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

ان حالات میں جو محب وطن اپنے انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات پر قربان کر رہے ہیں بلا شبہ وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آج قومی تاریخ کو دفن کرنے والوں کی جہاں مذمت کی جا رہی ہے وہاں آنے والا مورخ تاریخ محفوظ و زندہ کرنے والوں کو سنہری حروف میں یاد کرے گا۔  کھوئیرٹہ۔ میرپور۔ ڈڈیال اور مظفرآباد کے خصوصی دوروں کے دوران طلباء ، وکلاء اور متعدد باشعور ہم وطنوں نے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ہم دوسرے اضلاح سے بھی اپیل کرتے کہ وہ اس مشترکہ کاز میں ہمارا ساتھ دیں۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...