نون لیگ اور نااہل نواز شریف کا نظریہ

  وقت اشاعت: 06 2017 تحریر: حسین شہادت   کراچی

مسلم لیگ 1906میں برصغیر کے مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت کی حیثیت سے قائم ہوئی۔  یہ نظریہ فکر تھی، سوچ تھی ، ایک خواب تھا، ایک معرکہ تھا جو مسلمانوں کو مذہب سمیت ہر طرح کی آزادی فراہم کرنے کا ذریعہ تھا۔ مسلمانان ِ ہند اس پر متفق ہوگئے تھے۔  اس نظریہ کے تحت مملکتِ خداداد پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان میں نظریاتی ہونے کا تصور بعد کے حالات اور افراد کی ذہنی قابلیت مسدود ہونے کی وجہ سے تبدیل ہو گیا۔  نظریاتی اساس میں اپنی ذات کے سوا معاشرہ کی بہبود، اس کی ترقی ، تعمیر اور بقا پنہاں ہوتی ہے جو آج کی سیاسی وسماجی زندگی کی تیزرفتاری ، افراتفری اور نفسا نفسی کے باعث کئی پردوں میں جاکر چھپ گئی ہے ۔

وہ جماعتیں جو نظریاتی ہیں انہیں کبھی موقع نہیں ملا کہ وہ عوامی خدمت کیلئے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ اگرچہ مشرف دور میں متحدہ مجلسِ عمل کو میدانِ عمل میں کارگزاری کا موقع  ملا ۔ مگر مشرف کے مسلسل حربوں نے نہ صرف یہ اتحاد توڑ ڈالا بلکہ پھر کبھی کسی نے اس جیسا اتحاد کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ عوام میں نظریاتی شعور بھی پھر سے غائب کردیا گیا۔ نظریاتی لوگوں کی خصوصیات میں سب سے بڑا پہلو یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ ہر اس خواہش کی نفی کرتے ہیں جس سے ان کی ذات کی نفسانی تشفی ہو البتہ اس سے روحانی سکون ملنا خاص بات ہوتی ہے ۔ جہاں آپ کو نظریاتی لوگ ملیں وہاں معاملات درست سمت جاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ البتہ یہاں عیش و عشرت کا تصور نہیں ملے گا، یہ لوگ اپنے لئے ، اقرباء کیلئے اور دیگر کیلئے ایک ہی طرح کے اصولوں پر کاربند ہوں گے۔ 

نواز شریف ایک کاروباری گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ، انہیں عوامی خدمت کا بخار چڑھا تو یہ ایک آمر کی آغوش میں رموز سیاست سیکھنے چلے گئے ۔ آمرانہ ذہنیت سے وہ جمہوریت کی تعلیم لینے لگے اور اسی تربیت کے باعث ان کی سیاسی جماعت عرصہ سے اقتدار کی جہد کررہی ہے۔  پنجاب کی وزرات اعلیٰ سے لے کر ملک کے تین بار وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر رہنے کے باجود ہر باراپنے اقتدار کی آئینی مدت پوری نہ کرنے کے بعد انہیں خیال آیا کہ اب تک ان کا نظریہ عوام پر غیر واضح تھا ۔ سوچا اب وضاحت کردینی چاہئے قبل اس کے کہ لوگ ان سے ایک بار نااہل ہونے کی وجہ نہ پوچھ بیٹھیں۔ تین بار ملک کے وزیر اعظم  بن کر کسی نہ کسی وجہ سے نوا ز شریف نااہل ہوئے۔ آخری بار کی نااہلی نے انہیں غم زدہ کردیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی کیلئے مارچ کریں گے، عوام کو ووٹ کے تقدس کی خاطر ان کا ساتھ دینا ہوگا۔ کون سا ووٹ اور کون سی عظمت ۔ یہ آپ NA-120میں نون لیگ کی کامیابی کے بعد بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کامیابی کے باوجود تاحال اس حلقے کے عوام کی نمائندگی پارلیمان نہیں ہورہی۔ 

وطنِ عزیز میں انصاف کا حصول مشکل رہا ہے۔  ججز بحالی کی تحریک کے بعد سے ہر ایک کی نگاہ ریاست کے اس اہم ترین ستون کی جانب لگی ہوئی ہے۔  پاناما کے کیس کے بعد چاہے کچھ بھی ہوجائے عام آدمی سے لے کر اہل سیاست کے تمام لوگ اس سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی بھی جمہوریت انصاف کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ اس کے باوجود سیاستدانوں نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کردیا ہے جو کسی آزمائش سے کم نہیں ۔  قومی اسمبلی میں گزشتہ ماہ نااہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے پر پابندی کا بل مسترد ہوا ، یہ بل بنیادی طور پر سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل کئے گئے نواز شریف کے پارٹی سربراہ بننے سے متعلق تھا ۔ حکومت نے عددی اکثریت سے یہ بل مسترد کروایا۔ پاکستان میں جمہوریت مخالف قوتیں بہت زیادہ مضبوط ہیں ، پاکستانی سیاست میں عوامی و قانونی مسائل کو پارلیمان سے ہٹ کر سڑکوں پر پیش کئے جانے کا چلن عام ہے ۔ نواز شریف بھی اسی راہ کے مسافر ہوچکے ہیں ، وہ اپنی نااہلی کا بوجھ لئے ملک بھر میں جلسے کررہے ہیں ۔ مخالفین بھی انہیں زیر کرنے اسی شاہراہ پر کمر بستہ ہیں ۔

جمہوری لڑائی کا عام مطلب جمہوریت کی بحالی اور اس کے تادیر قیام کی خاطر جدوجہد کرنا ہے۔  مسائل کا حل چونکہ جمہوری اداروں کے وجود سے ممکن ہے لہٰذا یہ بات تو طے ہے کہ ملک اور جمہوریت کی بقا جمہوری اداروں کے قیام اور جمہوری اقدار کی پاسداری میں مضمر ہے۔ نہ کہ ذاتی نظریے کو قومی نظریہ پر مسلط کردیا جائے۔ اسلام آباد دھرنے کا اختتام ایک معاہدے پر ہوا جس میں فوج نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔  یہ بات عدلیہ کو پسند آئی اور نہ ہی نواز شریف اس کے حق میں نظر آئے۔ نون لیگ کا نظریہ ریاستی اداروں کے خلاف محاذ آرائی پر مبنی نظر آتا ہے ۔ نون لیگ کے بعض عناصر اس پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ بعض کا استدال کمزور ترین ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہ اس طرز کی سیاست سے گریز کریں۔ عدلیہ اور فوج کو متنازع بنانے کی روش سے  نقصان ہوگا۔

اس وقت تو یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ  نواز شریف  کی سیاست اور نظریہ ملک کو تقسیم کی جانب لے کر جارہا ہے جہاں ادارے باہم دست و گریبان ہوں گے۔ اور کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...