پاکستانی معیشت کا پر فریب گورکھ دھندہ

  وقت اشاعت: 05 2017 تحریر: افتخار بھٹہ   لاہور

پاکستان کی معیشت کے حوالے سے عالمی بینک کی طرف سے ششماہی رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں سماج کے معاشی کلیدی شعبوں کے حوالے تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مختلف اداروں کی طرف سے حکومت کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے ، جس میں کچھ باتیں تضادات پر مبنی ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کے ابھار کو سراہا ہے۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلسل ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے جبکہ اس کے برعکس ملک میں صنعت کاری کا عمل نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہی نئی کمپنیاں قائم ہو رہی ہیں۔ مختلف ممالک کی ریٹنگ کرنے والے ادارے عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے ہیں جس میں زیادہ تر فیصلے اُن ممالک کی سیاسی اقتصادی اور معاشی مفادات کے حوالے سے ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معیشت 4.7فیصد کی شرح سے نمو پر رہی ہے اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ
عالمی منڈی میں مختلف اجناس بالخصوص خوراک اور ٹیکسٹائل کی طلب اور قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سرمایہ کاری 5.7فیصد کی انتہائی کم سطح پر ہے عالمی تجارت میں حصہ داری برآمدات کی گراوٹ کی وجہ سے کم ہو رہی ہے۔ بجٹ خسارہ پچھلے سال کی نسبت کم ہو گیا ہے جبکہ ٹیکسوں کی آمدنی میں 20فیصد اضافہ ہو اہے ۔ مجموعی طور پر معیشت ترقی کر رہی ہے 2017اور2018کیلئے معاشی شرح نمو 5%اور5.3فیصد کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ عالمی بینک کے بعقول 7فیصد سے زیادہ کی شرح نمو کے کیلئے طویل عرصہ درکار ہے جس سے لوگوں کے نئے روز گار کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ زرداری کے عہد حکومت میں معیشت کی صورتحال اور کارکردگی بد ترین تھی ۔ مگر پھر بھی 13لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو رہے تھے مگر اب صرف 7لاکھ لوگوں کو ملازمتیں مل رہی ہیں۔ ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کے بقول آج پڑھے لکھے گریجوٹ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کہیں کم تر پوسٹوں پر کام کر رہے ہیں لہذا نوجوانوں کی زندگیوں میں فوری بہتری کی امید نہیں ہے۔ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں اقتصادی کساد بازاری جاری ہے جس میں کوئی اکیلی معیشت ترقی نہیں کر سکتی ہے۔ چین کی انتہائی تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والی معیشت بھی کساد بازاری سے دو چار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اپنی معاشی سر گرمیوں کو جاری رکھنے کیلئے دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔

پاکستان کی60فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے 3کروڑ بچے سکول نہیں جاتے ہیں ملک کی ترقی کی دعویدار صوبہ میں 80فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ جس سے لوگ پیٹ اور گردوں کی بیماری کا شکار ہو رہے ہیں ۔  پاکستان افغانستان سے صرف دو پوائنٹ بہتر پوزیشن میں ہے۔ افغانستان جنگ زدہ اور کئی دہائیوں سے سامرآج کی پراکسی جنگوں کی وجہ سے کھنڈر بن چکا ہے جبکہ ہم نے دہشت گردی کی وجہ سے اربوں روپے کا خسارہ برداشت کیا ہے۔ اس رپورٹ میں معاشی ترقی کو سی پیک کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور بھاری صنعت کی پیدا وار میں اضافہ کو اس کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ جو کہ سی پیک کے شاہراتی منصوبوں اور دیگر توانائی کے منصوبوں کے آغاز کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ ان تمام رپورٹوں میں جانبداری بھی ہو سکتی ہے مگر یہ پاکستان کی جامد معیشت کو متحرک کر سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی ملک کے بنیادی صنعتی ، سماجی ڈھانچہ یا انفرسٹرکچر کی تعمیر ایک مثبت اقدام ہوتا ہے۔ وہ چاہے بجلی کی پیدا وار یا تعلیم اور علاج کی سہولیات ہوں۔  مگر ان تمام کے باوجود گوادر میں پانی کی کامیابی اہم معاملہ ہے۔ یہاں بارش دو سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے جس کو ڈیم میں جمع کیا جاتا ہے یہ وہ 80کلو میٹر دور سے ٹینکر میں بھر کر لایا جاتا ہے۔ جس کی قیمت16000فی ٹینکر سے کم نہیں ہوتی ہے۔  بلوچستان کے اقتصادی امور کے مشیر ڈاکٹر قیصر بنگالی کے بقول پانی کی سپلائی کے نظام کو موثر بنائے بغیر یہاں پر رہائشی کالونوں اور پلازوں کی تعمیر کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے سب سے پہلے سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹ لگانے ہوں گے۔ مگر اس سے حاصل ہونے والا پانی خاصا مہنگا ہوگا۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے تجارتی سر گرمیوں کی امید نہیں کی جا سکتی ہے ۔

سی پیک کے منصوبے میں عوام اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں بلکہ اس میں اصل فریقین چینی سرمایہ کار اور پاکستان کے حکمران ہیں۔ پاکستان کا نظام ایسے بحران سے دو چار ہے جہاں پر سرمایہ کاری میں مقامی کمیشن ایجنٹوں کی حصہ داری کا تناسب بڑھ گیا ہے جس سے عام آدمیوں کی زندگی میں بہتری نہیں آ سکتی ہے۔  درمیانے اور اعلیٰ درجے کی ملازمتیں بھی چینی انجینئروں ، اور مینجروں کو دی جائیں گی ۔ دوسرا مسئلہ ٹیکنالوجی کا ہے جس میں غیر تربیت یافتہ ورکروں کے کھپنے کی گنجائش موجود نہیں ہے بلکہ یہ معیشت میں مساوی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے روز گار کے مواقع کم کر رہی ہے۔ پھر پاکستان میں قرضہ جاتی مسائل ہیں۔ ہم نے زر مبادلہ کے ذخائر قرضے حاصل کرکے قائم کر لیے ہیں جس کے عوض بھاری سود ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے تین ماہ میں369ارب روپے ریونیو حاصل کیا ہے جبکہ اس عرصہ کیلئے سود کی ادائیگی21ارب روپے ہوگی۔ جس کا مطلب ہے ہمیں تنخواہوں کی ادائیگی حکومتی اور دفاعی اخراجات کیلئے مزید قرضے حاصل کرنا ہوں گے۔ پہلے ہماری ریاست ریاستی امور اور دفاع کیلئے رقوم اپنی آمدنی سے نکال رہی تھی جبکہ ترقیاتی کاموں کیلئے قرضے حاصل کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم قرضہ جاتی شکنجے میں پھنس چکے ہیں۔

دوسری طرف ہماری تمام سیاسی جماعتیں معیشت کے حوالے سے کوئی سنجیدہ سوچ نہیں رکھتی ہیں بلکہ وہ اپنی سیاسی محاذ آرائی کو تیز کر رہی ہیں۔ یہ دولت مند طبقات کی اقتدا ر کے حصول کے لئے جنگ ہے۔ یہ جنگ دھرنوں، پانامہ لیکس اور عدلیہ کے بعد اب پارلیمنٹ میں ہو رہی ہے جہاں پر عوام کے حقوق کی بات نہیں کی جا رہی ہے۔ بلکہ نان ایشوز کو ابھارا جا رہا ہے۔ حکمران دھڑے جعلی اپوزیشن کا ڈرامہ رچاتے ہیں۔  عوام کے نچلے طبقے کے حقوق اور ریلیف کے بارے کوئی بات نہیں ہوتی ہے جس سے ملک کی اکثریتی محنت کش آبادی میں مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔ عوام حکمرانوں کی شاہ خرچوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نیشنل ڈساسٹر مینجمنٹ ADMکو سالانہ 20کروڑ دیئے جاتے ہیں جبکہ وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں پر 150کروڑ خرچ کر دیئے جاتے ہیں ۔ وفاقی حکومت کی چھوٹے صوبے میں عدم دلچسپی کی وجہ سے تعلقات میں خلیج وسیع ہو رہی ہے۔ یہ صورت حال ملکی سلامتی کیلئے ہر گز فائدہ مند نہیں ہو سکتی ہے۔ حکومت کو محصولات کی حصولی کیلئے براہ راست ٹیکسوں کی وصولی کو بڑھانا ہوگا۔

صرف  قرضوں کے ذریعے ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکومت  گزشتہ چار سال سے بر سر اقتدار ہے۔ مسلم لیگ (ن) ملک کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار نواز شریف کی اقتدار میں عدم موجودگی کو ٹھہرا رہی ہے حالانکہ دیکھا جائے تو یہ سب ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہؤا ہے۔ جس میں بے پناہ قرضے حاصل کیے گئے ہیں اور تمام تر توقع سی پیک سے لگا لی گئی۔  برآمدات تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ چین کی صنعتی اور زرعی شعبہ زون قائم کرنے سے ہماری مقامی صنعت اور زراعت کا کیا حال ہوگا۔ یہ بد نصیبی ہے ہماری حکومت نے چین کے ساتھ شرائط طے کرتے ہوئے منافع سے کوئی مناسب حصہ طلب نہیں کیا۔ حکومت کو چینی سرمایہ کاری میں اپنے منافع اور مقامی افراد کے روز گار کے حصول کو یقینی بنانا چاہیے ۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...