دہشت گردی کے خلاف جنگ اورپاک فوج کے کمانڈوز

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے  تحریر: ایمان ملک   اسلام آباد

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں  وہیں اس جنگ کے نتیجے میں متعدد سیاہ ترین واقعات بھی ہماری یاداشتوں کا حصہ بنے جو ہرگز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ مگران سب سیاہ ترین واقعات میں جو امتیازی مقام جولائی 2007 کے سانحے کو حاصل ہے اس کی نظیر دیگر اقوام کی تاریخ میں شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ کیونکہ تبھی عالمی میڈیا میں پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر متعارف کروانے کے اُس تشویشناک سلسلے کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کی جھلک ہم آئے دن بین الاقوامی فورمز پر مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان پر لگنے والے ان گھناؤنے الزامات کے پسِ پردہ محرکات میں کلیدی کرداران واقعات کا ہے جو 2007 میں پاکستان کے دارالحکومت میں وقوع پزیر ہوئے۔ جب اسلام آباد کے وسط میں واقع ایک مسجد (لال مسجد) دہشت اور خوف کی علامت بن کر سامنے آئی۔ وہ مسجد جسے امن کا گہوارہ اور خیر کا وسیلہ ہونا چاہیئے تھا اُس نے ریاستی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ذاتی شرعی عدالت قائم کرنے کا اعلان کردیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی صورت میں خود کُش حملوں کی دھمکی بھی دی۔  اتنا ہی نہیں بلکہ تین چینی خواتین اور دیگر افراد کو قابلِ اعتراض بیوٹی پالر چلانے کے الزام میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلبہ و طالبات نے گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں، اسلام آباد کی رہائشی ایک خاتون پر فحاشی کا اڈا چلانے کا بہتان لگا کر اسے نہ صرف اغوا کیا گیا بلکہ اس پر ڈنڈوں سے تشدد بھی کیا گیا۔ اسی اثنا میں پولیس کے4 اہلکاروں کا اسلحہ چھین کر انہیں یرغمال بھی بنایا گیا۔  یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ مولانا غازی عبدالرشید (مولانا عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی) کی جانب سے قائد اعظم یونیورسٹی کی طالبات کے چہروں پر تیزاب پھینکنے اورمولانا عبدالعزیزکی جانب سے ایک فیشن میگزین کے منتظمین کو سزائے موت کا حکم سنانے جیسے گھناؤنے اقدامات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح کیا۔ حتٰی کہ ان کے قہر سے معصوم بچوں کی لائبریری اور دیگر سرکاری املاک بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔

پاکستان کے لئے ایسی گھمبیر صورتحال سے نبرد آزما ہونا، یقیناً ایک کڑی آزمائیش کے مترادف تھا۔ ایک طرف ریاست کی عمل داری کی بحالی کا سوال تھا تو دوسری طرف معاشرے کے ان غریب اور مسکین بچوں کی جانوں کی فکر، کہ جن کی باقاعدہ ذہن سازی (برین واشنگ) کی گئی تھی۔ اور نتیجتاً وہ اس مسجد کے انتہا پسند نظریات اور ذاتی ایجنڈے کے ہاتھوں ایسے یرغمال بنے کہ وہ اپنے ہی ملک کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔ لال مسجد کی میڈیا کوریج کے دوران ایسے مناظر بھی کیمرے کی آنکھ نےعکس بند کئے جب متعدد نوجوان اپنے منہ ڈھانپے اور گیس ماسک پہنے ہوئےتھے۔ جو کہ حیرت انگیز بات تھی کیونکہ اس قسم کے ماسک سے ایک آدھ گھنٹے میں عادی ہونا کسی بھی انسان کے لئے ہرگز ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے مہینوں پر محیط ایک مکمل تربیت درکار ہوتی ہے ورنہ انسان کو قے ہونے لگتی ہے۔  ان نوجوانوں کی ماہرانہ جنگی صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ اُن میں سے ایک نے تواچھے خاصے فاصلے سے رینجر کے ایک اہلکار کے سر کا نشانہ لے کر اُسے شہید کر دیا۔

بہرحال پاکستان نے پُرامن طریقے سے ان معاملات سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کی اوراس ضمن میں سیاستدانوں، سماجی کارکنوں حتٰکہ اس وقت کے امامِ کعبہ کی بھی خدمات حاصل کی گئیں۔ تاکہ کسی طرح یہ نوجوان طلبہ اور طالبات ہتھیار ڈال دیں اور پُر امن طریقے سے یہ معاملہ اختتام پزیرہوجائے۔ بہت سی طالبات نے تشدد کا راستہ ترک بھی کیا اوران کے ہی بھیس میں لال مسجد اور مدرسے کے منتظمین مولانا عبدالعزیز اور اُمِ حسان نے بھی مسجد میں اپنے دیگر طلبہ کوتنہا چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرنا چاہی مگر وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آگئے۔ پاکستان نے مولانا عبدالرشید کو بھی اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے اور انہیں ان کے آبائی علاقے میں محفوظ ٹھکانہ دینے کی شرط پر ہر ممکن آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور انہوں نے مزاحمت کے راستے کو ترجیح دی۔

10 جولائی 2007 کو علی الصبح پاک فوج کے اسپیشل سروس گروپ(ایس ایس جی) کےاعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز پر مشتمل ایک دستہ تشکیل دیا گیا تاکہ ملٹری آپریشن کیا جا سکے۔ مگر اس دوران بھی حکومتِ پاکستان کی ہر ممکن کوشش تھی کہ کسی طرح بنا آپریشن کے معاملات طے پا جائیں۔ عموماً اس طرز کے آپریشنز کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب عسکری اعتبار سے آپریشنز کی کامیابی کے لئے نہایت سودمند سمجھا جاتا ہے۔ مگر حکومتِ پاکستان نے اس وقت کوبھی صرف اس لئے ضائع کیا کیونکہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر بد قسمتی سے اس سب کے باوجود حکومتِ پاکستان کی کوششیں کارگر ثابت نہ ہو سکیں۔ اور بالاآخر ریاست کے پاس بذریعہ ملٹری آپریشن (آپریشن سائیلینس) ملک کی تاریخ کے اس سیاہ ترین باب کوبند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ اس ملڑی آپریشن میں حصہ لینے والے پاکستان کے بیٹوں میں سے ایک نام کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت، ستارہ بسالت کا بھی ہے جو آج بھی ایس ایس جی کے چند بہترین کمانڈوز میں شمار ہوتے ہیں۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان آفیسر کی پاکستان کے لئے دی جانی والی خدمات کا سلسلہ اتنا طویل ہے کہ یہاں اس کا صرف مختصراً ذکر کرنا ہی ممکن ہوگا۔

کیپٹن سلمان نوعمری ہی سے پاک فوج کے دلدادہ تھے اسی لئے وہ بحیثیت کمیشنڈ آفیسر پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے مگر ان کے والدین انہیں میڈیکل ڈاکٹر بنانے پر مضر تھے۔ کیپٹن سلمان نے اپنی ہمشیرہ کی معاونت سے بڑی مشکل سے اپنے والدین کی منت سماجت کرکے انہیں منایا۔ اوریوں انہیں 103پی ایم اے لانگ کورس کے ہمراہ پاک فوج میں شمولیت اختیارکرنے کاموقع ملا۔ کیپٹن سلمان نے پاک فوج میں اپنی افتادِ طبع کے مطابق ایس ایس جی گروپ کا انتخاب کیا اور بعد ازاں وہ اس کی ایک اینٹی ٹیررسٹ کمپنی'کرار حیدری' سے منسلک ہو گئے ۔ پاکستان کے اس جری سپوت نے  2004 کے دوران جنوبی وزیرستان میں بھی انسدادِ دہشت گردی کے ضمن میں 'آپریشن المیزان' کے دوران اپنی خدمات سرانجام دیں۔  کیپٹن سلمان کو قبائلی علاقہ جات میں ان کی گراں قدر خدمات سرانجام دینے کے عوض صدر جنرل مشرف کی جانب سے تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ اس کے بعد بھی انہیں مزید ایک بار تمغہ بسالت کے لئے نامزد کیا گیا مگر انہوں نے یہ کہہ کر اُسے لینے سے انکار کر دیا کے باقی سپاہیوں کا بھی حق بنتا ہے لہٰذا یہ اعزازدیگر افسران میں سے کسی ایک کودے دیا جائے۔

کسی نے بھی یہ گمان نہیں کیا تھا کہ محض عام سے مدرسے کے طلبہ سے انہیں اس قدد مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مدرسے کے نام نہاد طلبہ کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے خلاف راکٹ لانچرز، ہینڈ گرنیڈز اورمشین گنز کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ غرض یہ کہ پوری لال مسجد اور جامعہ حفصہ(خواتین کے مدرسے) کا احاطہ بوبی ٹریپ تھا اور بیشتر جگہوں پر بارودی سرنگوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ اس طرح حربی حکمت عملی کے اعتبار سے پورے علاقے کو تیار کرنا محض مدرسے کے عام سے طلبہ کی بس کی بات نہیں لگتی۔ وہاں یقیناً تربیت یافتہ دہشت گرد موجود تھے اسی لئے جامعہ حفصہ کی صرف سیڑھیوں پرہی ایس ایس جی کے چار جوانوں کا شہید ہو جانا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں۔ کیپٹن سلمان کے ساتھ اس وقت آپریشن میں موجود ایک لانس نائیک کے مطابق کیپٹن سلمان نے ہی انہیں پیچھے دھکیل کر ان کی جان بچائی جب ایک گرنیڈ ان کے پاؤں کے قریب آکر گرا۔ کیپٹن سلمان کے دیگر ساتھیوں اوراس آپریشن میں شریک ان کے دوستوں کے مطابق کیپٹن سلمان بہت محتاط تھےاورانہوں نے ہرممکن کوشش کی شرپسند خود ہتھیار ڈال دیں مگر ان کی بھی کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔

آج اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ لال مسجد آپریشن میں ناحق لوگوں کو مارا گیا۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پاک فوج کے 10 تربیت یافتہ کمانڈوز کو کس نے شہید کیا۔ درجنوں کمانڈوز زخمی ہوئےاورمتعدد کی ٹانگیں لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نذر ہو گئیں۔ کیا یہ سب پاکستان کے بیٹے نہیں ہیں، جو اپنے لواحقین کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑکرملکی دفاع کے لئے ہمہ وقت قربان ہونے کو تیار کھڑے رہتے ہیں۔ اوراس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ آج بھی پاکستان کے ان قومی ہیروز کے اہلِ خانہ خوف کے سائے میں اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ ان کے مجرم پاکستان کے دارلحکومت میں آج بھی دندناتے پھرتے ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...