1857کی بغاوت اور ہندوستان کا آخری بادشاہ

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے  تحریر: فہیم اختر   برطانیہ

1857 کی بغاوت کو اگر میں ہندوستان کی پہلی جنگِ آزادی کہوں تو اس سے آپ سبھی اتفاق کریں گے۔ دراصل انگریزوں نے اُن ہندوستانیوں کو غدّار کہہ کر مارڈالا جنہوں نے انگریزوں کا حُکم  ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ لہذٰا انگریز بڑی ہوشیاری سے ہندوستانیوں کی آزادی کی مانگ کو غدّاری کا نام دے کر اپنی مہم میں کامیاب ہوگئے اور ہندوستان پر قابض ہو گئے۔

اگر دیکھا جائے تو یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ کسی بھی ملک میں اگر کوئی اپنی آزادی یا حق کی بات کرتا ہے تو وہاں کی حکمراں جماعت یا طاقتور لوگ اسے دغاباز ، غدّار یا انتہا پسند کہہ کر اس کی تحریک ہی نہیں بلکہ اس کا جینا بھی دو بھر کر دیتے ہیں۔ پھر جب تاریخ مرتّب کی جاتی ہے تو مورّخ سے لے کر سیاستداں اس بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ کیا یہ بغاوت ہے یا آزادی کی جنگ ہے ۔ شاید ہندوستان کی پہلی جنگِ آزادی کو بھی ہم نے اسی بحث میں الجھا کر نہ صرف یہ کہ بہادر شاہ ظفر کو بھُلا دیا بلکہ اس میں شہید ہونے والے لوگوں کو بھی فراموش کر دیا۔ ویسے مجھے نہیں لگتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھلا دیا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں ایک بات ذہن میں کھٹکتی رہتی ہے کہ کیوں آج بھی ہم اگر بہادر شاہ ظفر کو یاد کرتے ہیں تو محض ایک شاعر کی حیثیت سے ۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کیونکہ بہادر شاہ ظفر بادشاہ ہونے کے علاوہ ایک معتبر اردو شاعر بھی تھے ۔ ان کے دربار میں اردو کے معروف شاعر ذوق، مومن، داغ اور مرزا غالب جیسے لوگوں کی حاضری ہوتی تھی۔

بہادر شاہ ظفر کو اردو شاعری سے کافی لگاؤ تھا۔ قید کی زندگی گزارتے وقت انگریزوں نے انہیں قلم اور کاغذ استعمال کرنے پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔  لہذٰا بہادر شاہ ظفر نے اپنے شوق کو چارکول کے ذریعہ دیواروں پر لکھ کر پورا کیا تھا۔ جس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر کو اردو شاعری سے کتنی دلچسپی تھی۔ 7 نومبر 1862 کوبہادر شاہ ظفر کا جب انتقال ہوا تو ان کے پاس مٹھی بھر رشتہ دار موجود تھے۔ انہوں نے اپنی آخری سانس رنگون میں لکڑی کے بوسیدہ سے ایک کمرے میں لی تھی جو شاید بہادر شاہ ظفر کی بے بسی کا ساتھ دے رہی تھی۔ ایک ایسی موت کی جس کی ایک شہنشاہ شاید ہی تمنّا کرتا ہے۔ لیکن بہادر شاہ ظفر کو کیا پتہ تھا کہ مغلیہ عہد کے بادشاہ کی روح ہندوستان سے کوسوں دور لکڑی کے ایک مکان میں فنا ہوگی۔ جہاں ان کی موت پر آنسوبہانے والانہ تو ہندوستان ہوگا اور نہ ہی ان کے چاہنے والے ہوں گے۔

ہندوستان میں مغلیہ بادشاہوں نے لگ بھگ 300سال تک حکومت کی تھی۔ اس دوران مغل بادشاہوں نے ہندوستان کی ترقی اور آن و شان میں نمایاں رول نبھایا تھا۔ تاہم بہادر شاہ ظفر کا مقابلہ ان کے آباو اجداد اکبر اور اورنگ زیب سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جنہوں نے ہندوستان میں ایک عمدہ اور اعلیٰ نظام کیا تھا۔ 1857کی بغاوت میں مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ تاہم ایسا مانا جاتا ہے کہ زیادہ تر مسلمانوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف بغاوت میں حصّہ لیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو اس جرم میں گرفتار کر کے رنگون میں قید کر دیا ۔عمر کا تقاضہ اور کمزور سلطنت نے بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ جس کے ساتھ ہی مغلیہ سلطنت کے ایک باب کا خاتمہ ہو گیا۔

1980کے دوران جب بہادر شاہ ظفر پر ایک ٹی وی سیریل بنائی گئی تو بہت سے لوگوں میں بہادر شاہ ظفر کے بارے میں معلومات کا اضافہ ہوا۔ مسلمان بہادر شاہ ظفر کے نام پر فخر اور ان کی بے بسی پر ماتم کررہے تھے تو وہیں ہندو انتہا پسند جماعتوں نے بہادر شاہ ظفر کے نام کو ہندوستان کی تاریخ سے مٹانے میں کوشاں تھیں۔ شاید اس کی ایک وجہ  اسلام سے نفرت تھی۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ بہادر شاہ ظفر ہندوستان کے پہلے جنگِ آزادی کے رہنما تھے۔ ورنہ کیوں انگریز بہادر شاہ ظفر کو گرفتارکرتے اور ہندوستان سے باہر لے جا کر رنگون میں قید رکھتے ۔ ان باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انگریز بہادر شاہ ظفر کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف بغاوت کا خاص ملزم سمجھ رہے تھے ۔ کیونکہ انگریزوں کو یقین تھا کہ اگر بہادر شاہ ظفر کو قید کر لیا جائے تو ہندوستان پر ان کا قبضہ لازمی ہے۔

اس واقعہ کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں میں  مایوسی پھیل گئی اور انہیں انگریزوں کے اس قدم سے شدید صدمہ پہنچا۔ انگریزوں نے مسلمانوں کو 1857کی بغاوت کا ذمّہ دار ٹھہرایا اور انہیں تعلیمی ، سماجی اور معاشی طور پر بے حال کر دیا۔ ایک تو بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری اور دوسرا انگریزوں کے امتیازی سلوک سے مسلمان اپنے آپ کو ہندوستان میں غیر محفوظ محسوس کرنے لگے۔ معروف مورخ (William Dalrymple)ولیم ڈالریمپل نے اپنی کتاب (Th Last Mughal) ’دی لاسٹ مغل ‘ میں لکھتے ہیں کہ بہادر شاہ ظفر ایک قابلِ ذکر انسان تھے۔ وہ خطاطی کے ماہر، قابل ذکر شاعر، صوفی اور ہندو مسلم اتحاد کے پیرو کار تھے۔ حالانکہ بہادر شاہ ظفر اپنے آبا و اجداد کی طرح جنگجو نہیں تھے لیکن ان میں ادب اور ثقافت کی دلچسپی خوب تھی۔  بہادر شاہ ظفر میں دیگر مذاہب کی قدر کرنا اور ان کے خلاف کچھ کہنے سے گریز کرنے کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے والد اکبر شاہ دوئم کی ماں لال بائی ایک ہندو راجپوت شہزادی تھی۔ جس کی وجہ سے بہادر شاہ ظفر میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کی کافی عزّت اور قدر کرتے تھے۔ جس کی مثال یہ تھی کہ ان کے دورِ حکومت میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ خوشی خوشی رہتے تھے اور مذہبی تناؤ کا کا نام و نشان نہیں تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بہادر شاہ ظفر کے مقبرے کا پتہ 1991میں تب چلا جب ایک مزدور اس جگہ پر کھدائی کر رہا تھا۔ دورانِ کھدائی اس مزدور نے اینٹ کے ایک قبر کو دیکھا جسے بعد میں بہادر شاہ ظفر کا مقبرہ مان لیا گیا۔ کچھ عرصے بعد مقامی لوگوں کی مدد اور چندہ سے مقبرے کو بہتر بنایا گیا اور اس کی دیکھ بھال ایک مقامی منیجمنٹ کے ذریعے کی جارہی ہے۔ مقامی لوگ روازنہ مزار پر زیارت کے لئے آتے ہیں اور اپنی مرضی سے عطیہ بھی دیتے ہیں۔

اس سال 1857کی بغاوت کو 160سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن دیکھا جائے تو اس سلسلے میں ہندوستان یا کسی اور ممالک میں ایسی کوئی تقریب نہیں منائی جا رہی ہے جس میں بہادر شاہ ظفر کو یاد کیا جارہا ہو۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ہندوستان کے عوام جنگِ آزادی کے پہلے سپاہی کو فراموش کرچکے ہیں۔ جس کی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ مغلیہ عہد کا ایک معمولی بادشاہ تھا اورجنگِ آزادی کا پہلا سپاہی۔
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے ۔ دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...