ایم کیو ایم کی داخلی کشمکش

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے  تحریر: سلمان عابد   لاہور

ایم کیو ایم ایک محفوظ سیاسی راستہ کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ وہ  اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کے بغیر اپنی سیاسی بقا اور سیاسی مینڈیٹ کو بچانا چاہتی ہے ۔ یہ بات اب ایم کیو ایم سے وابستہ سیاسی قیادت جانتی ہے کہ حالات ماضی جیسے نہیں کہ وہ جیسے چاہیں اور جب چاہیں اپنی مرضی کے ساتھ سیاسی اننگز کھیل سکھیں ۔ ایم کیو ایم پاکستان کے لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر وہ اپنے بانی قائد الطاف حسین کے ساتھ پس پردہ مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تو شاید یہ عمل ان کو کوئی بڑا سیاسی ریلیف فراہم نہیں کرسکے گا۔ کیونکہ بظاہر پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ سمیت کئی فریقین اس نقطہ پر متفق ہیں کہ الطاف حسین کی ریاست اور ملک دشمنی پر مبنی سرگرمیوں کے باعث ان کا کوئی کردار قابل قبول نہیں۔

گزشتہ کچھ عرصہ میں ایم کیو ایم کی سیاسی تقسیم نے اس کی سیاسی اور انتظامی طاقت کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ اس وقت چار گروپوں میں اس کی تقسیم ہے ۔ اول ایم کیو ایم پاکستان ، دوئم پاک سرزمین پارٹی ، سوئم ایم کیو ایم لندن اور چہارم ایم کیو ایم حقیقی۔ اس کے علاوہ ایک گروپ ایسا بھی ہے جو ان سب سے نالاں ہوکر ایک اور متبادل راستہ کی تلاش کرنا چاہتا ہے ۔ الطاف حسین کے بعد ایک مسئلہ ایم کیو ایم میں سیاسی قیادت کے بحران کا بھی ہے ۔ فاروق ستار ، مصطفے کمال یا آفاق احمد کوئی بھی ایسا نہیں جس کی قیادت سب ہی فریقین کو قابل قبول ہو۔ ایک مسئلہ ایم کیو ایم پاکستان اور الطاف حسین کے درمیان ہے ۔ کیا واقعی ایم کیو ایم پاکستان الطاف حسین سے عملی طور پر لا تعلق ہوچکی ہے یا اب بھی اس کے پس پردہ رابطے ہیں ۔  جو کچھ ایم کیو ایم پاکستان دکھارہی ہے یہ محض ایک دھوکہ یا سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے اوران کی اصل طاقت الطاف حسین ہی ہیں ۔

حالیہ چند دنوں میں ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کی باہمی محبت پر مبنی پریس کانفرنس اور نئے نشان، نام ، منشور پر انتخاب لڑنے کا عہد اور چند گھنٹوں بعد اس باہمی محبت کا ڈراپ سین اور ایک دوسرے پر اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کا الزام ظاہر کرتا ہے کہ یہ مسئلہ سادہ نہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی جوابی پریس کانفرنس اور ردعمل نے ظاہرکردیا ہے کہ وہ تنہا نہیں اور کوئی تو ہے جو پس پردہ ان کا ریموٹ کنٹرول پکڑے ہوئے ہے ۔ کیونکہ ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفے کمال کی باہمی محبت پر مبنی پریس کانفرنس اچانک نہیں ہوئی تھی ۔ اس کے پیچھے گزشتہ کئی مہینوں کی مشاورت تھی ۔ خود مصطفے کمال نے پردہ چاک کیا کہ اس مشاورت میں کون کون بیٹھتا تھا اور ایک تحریری معاہدہ بھی دکھایا گیا جس میں نئی جماعت کا اعتراف شامل تھا۔

حالیہ ایم کیو ایم پاکستان کی داخلی سیاست میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ فاروق ستار کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ فاروق ستار کاے یوٹرن سے ان کا سیاسی امیج بہتر نہیں بلکہ بگڑا ہے ۔ کیونکہ اگر وہ کچھ طے کرکے آگے بڑھے تھے اور اس پر ان کی کمزوری یا ان پر جو دباؤ پڑا وہ اسے برداشت نہیں کرسکے ۔ یہ جو سمجھا جارہا ہے کہ اب ایم کیو ایم کے مقابلے میں ان میں سے ایک نئی سیاسی جماعت کا دروازہ بند ہوگیا ہے ، مکمل سچ نہیں ۔ اب ایم کیو ایم کے نام پر سیاست کرنے والوں میں اور زیاد ہ داخلی انتشار اور تقسیم بڑھے گی اور اس کا متحد رہنا اور زیادہ مشکل ہوگا۔ یہ تاثر بھی موجود ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو پس پردہ الطاف حسین ہی کے نمائندہ کے طور پر موجود ہیں اور اس کے کچھ واضح شواہد بھی اسٹیبلیشمنٹ کے پاس ہیں ۔ یہ تاثر بھی ایم کیو ایم سے وابستہ لوگوں میں موجود ہے کہ اگر وہ اپنے سیاسی موقف پر بضد رہے تو اس کے دو نقصانات ہوں گے ۔ اول ان کی تقسیم ہوگی اوراس کا اثر 2018کے انتخابی نتائج پر پڑے گا ۔ دوئم اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ اور ایک سازگار ماحول کا نہ ملنا بھی ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ سوئم جو سیاسی خلا کراچی کی سیاست میں ان کی داخلی انتشار سے بڑھ رہا ہے اس کا فائدہ کسی تیسری قوت کو ملے گا جو ان کے سیاسی مستقبل کو مخدوش کرے گا ۔

ایم کیو ایم پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ کو صاف پیغام دینا چاہتی ہے کہ اس کا اب الطاف حسین سے کوئی تعلق نہیں  لیکن اس کا کھل کر عملی مظاہرہ  دیکھنے کو نہیں ملتا۔  یہ ہی وہ بنیادی نقطہ ہے جہاں ایم کیو ایم پاکستان اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان تضاد ہے ۔ یہ جوتاثر دیا جارہا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ کراچی کی حالیہ لڑائی میں فریق ہے ۔ اس کی وجہ عملاٌ یہ ہی ہے کہ الطاف حسین کا ریاستی اورملک دشمنی پر مبنی ایجنڈا ہے، اس کا عملی مظاہرہ وہ کئی بار دکھا چکے ہیں ۔ خود ایم کیو ایم پاکستان نے بھی ان کے اقدامات سے لاتعلقی ظاہر کی ۔ اس لیے مسئلہ کسی کی سیاست کی بے دخلی کا نہیں بلکہ ریاست کی اپنی رٹ کا ہے کہ کیونکر وہ کسی کو اس طرح کی اجازت دے گی کہ وہ ریاست مخالف ایجنڈے کو طاقت فراہم کرے۔

کراچی کی حالیہ سیاست میں سابق صدر پرویز مشرف بھی کافی سرگرم نظر آتے ہیں ۔ دوبئی میں ایم کیو ایم سے وابستہ کچھ افراد کی ان سے ملاقاتیں بھی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوئیں ۔ یہ جو نئی جماعت اورنئے نشان کا نعرہ ہے اس کے پیچھے بھی جہاں ایم کیو ایم سے وابستہ یا مصطفے کمال کی سوچ ہے تو اس میں ایک بڑا حصہ خود جنرل پرویز مشرف کا بھی ہے ۔ یہ ہی وہ نقطہ ہے جو ایم کیو ایم سے وابستہ لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ ان کی سیاسی پرامن طاقت کو برقرار رکھ سکتا ہے ۔ ایم کیو ایم کو جو بڑی سیاسی طاقت کراچی اور حیدرآباد کی سیاست میں ملی تھی اس کی ایک بڑی وجہ جنرل مشرف اور ایم کیو ایم کی باہمی محبت بھی تھی ۔ یہ محبت اب بھی بہت سے لوگوں کے دلوں میں موجود ہے لیکن جنرل مشرف کا نیا سیاسی کردار کیاہوگا ، یہ سوالیہ نشان ہے اور ان کا سیاسی مستقبل بھی فی الحال وہ نہیں جو وہ خود اپنے لیے دیکھ رہے ہیں۔ البتہ اگر کوئی مشترکہ نئی جماعت کراچی کی سیاست سے ابھرتی ہے تو اس میں یقینی طور پر وہ اپنا سیاسی راستہ تلاش کرسکتے ہیں ۔

ایک مسئلہ ایم کیو ایم کے ووٹرز کا ہے ۔ یقینی طورپر اس پر ایک کنٹرول الطاف حسین کی سیاست کا ہے ، لیکن اب یہ عمل ماضی کی طرح کا نہیں اور یہ کافی کمزور بھی ہوا ہے اور الطاف حسین کے مقابلے میں ایک متبادل قیادت بھی چاہتا ہے ۔ کیونکہ اس کو بھی اندازہ ہے کہ اب وہ حالات نہیں کہ وہ الطاف کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ مصطفے کمال کی خوبی یہ ہے کہ وہ کھل کر الطاف مخالف سیاست کو لیڈ کررہے ہیں جبکہ اس کے برعکس ایم کیو ایم پاکستان اس مسئلہ پر الجھاؤ اور کشمکش کا شکار ہے ۔ اگر ایم کیو ایم پاکستان سے بحران سے باہر نہیں نکلی تو اس کا ایک بڑا نقصان ایم کیو ایم پاکستان کو ہوگا۔ اب وقت ہے کہ ہمیں کراچی کی سیاست میں جو گھٹن ہے یا جو مافیا کی شکل اختیار کرگیا تھا اس کو توڑ کر ایک ایسی سیاسی فضا قائم کرنی ہے جو سب فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔ فیصلہ ووٹوں کی سیاست کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور اس کا واحد طریقہ لوگوں کے ساتھ کام کرنا اور ان کی سیاسی حمایت حاصل کرنا ہوتاہے ۔ بندوق یا انتظامی طاقت یا مافیا کی سرپرستی میں شہروں پر ووٹ اور سیاست کے نام پر قبضہ کسی کا بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ سب فریقین کو کراچی میں یرغمالی سیاست کو ختم کرکے آزدانہ بنیادوں پر سیاست کا حق ملنا چاہیے تاکہ وہ اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق اپنی سیاست کا فیصلہ کرسکیں ۔

کراچی محض ایک شہر ہی نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بھی ہے ۔ کراچی کو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ہوگا ۔ کراچی کے لوگ گزشتہ کئی دہائیوں سے جس بری حکمرانی اور برے نظم و نسق سمیت لاقانونیت کی سیاست کا شکار ہیں ان کو ایک اچھی سیاست اور حکمرانی ضرور ملنی چاہیے ۔ لیکن اب اس کا دارومدار سیاسی فریقین اوربالخصوص ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں  کے درمیان معاملات سے ہے۔  کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے سیاسی کارڈ کیسے کھیل کر خود کو بھی محفوظ کرتے ہیں اور کراچی کی سیاست کو بھی طاقت فراہم کرتے ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...