صادق وامین اور مظلوم عوام

  وقت اشاعت: 20 2017 تحریر: محمد ارشد قریشی   کراچی

جب بھی صادق و امین کا لفظ سنائی دیتا ہے تو ذہن میں ہمارا سیاسی نظام آتا ہے  کیوں کہ اس لفظ کی بازگشت حکومتی ایوانوں میں ہی زیادہ سنائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ صادق و امین اگر کہیں پائے جاتے ہیں تو وہ یا تو سیاسی برادری ہوتی ہے یا پھر سرکاری ملازمین،  رہے عوام تو جناب یہ کس کھیت کی مولی ہیں کہ ان میں کوئی مائی کا لال صادق و امین ہو۔ یہ تو وہ برادری ہے جو صادق و امین ہونے کی مہر ایک پرچی پر لگا کر صادق و امین  امیدوارکے ہاتھ میں تھما دیتی ہے۔ اپنی ہی دی ہوئی اس سند کی ہر پانچ سال بعد   تجدید بھی کردیتی ہے ۔

ویسے صادق  اور امین شخص کو پرکھا کیسے جائے۔    مطلب ایسی کون سی کسوٹی ہے جس سے ہمیں معلوم ہو کہ فلاں شخص  صادق و امین ہے ۔ دنیا  بھر میں ایمانداری کا ایک ہی پیمانہ ہے جانچنے کا کہ جو شخص سچا اور ایماندار ہو رزق حلال کماتا ہو ، باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہو، ملکی قوانین پر عمل کرتا ہو، اس کا ماضی بے داغ ہو، محب وطن ہو، اپنے یوٹیلیٹی بلز باقاعدگی سے ادا کرتا ہو وغیرہ وغیرہ۔ الحمداللہ ہمارا ملک ایک اسلامی مملکت ہے اس لئے  دنیاوی قوانین کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین پر  عملدرآمد کرنا بھی ضروری ہے۔  تمام دنیا میں سب  لوگوں  کے ساتھ یکساں سلوک ہو تا ہے خواہ وہ سیاست دان ہوں یا عام لوگ۔  لیکن افسوس یکساں سلوک کرنے   اور تفریق نہ کرنے کا حکم تو مسلمانوں کو دیا گیا تھا مگر اس حکم کی تعمیل  مغرب کررہا ہے ۔

آخر یہ نا انصافی اس عوام کے ساتھ ہی کیوں  جو نہ صرف ملکی قوانین کا احترام کرتے ہیں بلکہ باقاعدگی سے ٹیکس اور تمام یوٹیلیٹی بلز بھی جمع کراتے ہیں۔  پھر اسی حلال کمائی  سے پیسے بچا کر  مذہبی فرائض بھی ادا کرتے ہیں،  بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں اور سرکاری شفا خانوں سے علاج معالجہ بھی کرواتے ہیں۔  شناختی کارڈ، پاسپورٹ، لائسنس،  پینشن   وغیرہ  کے حصول کے لئے دھوپ ، گرمی، سردی میں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔   ستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہی عوام ٹیکس اور یوٹیلیٹی بلز دینے کے لئے بھی  قطاروں میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔  حادثۃ رونما ہوجانے کے بعد یہی عوام سب سے  پہلے  اپنے ہم وطنوں کی مدد کےلئے دوڑ دھوپ بھی کرتے ہیں۔  وی آئی پی  موومنٹ کے نام پر دوران سفر انہی عوام کو شاہراہوں پر گھنٹوں کھڑا کردیا جاتا ہے۔  یہی عوام ان وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے بند ہونے والی سڑکوں پر ایمبولنس کو جگہ نہ ملنے کی وجہ سے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔

نام نہاد صادقوں اور امینوں کی موومنٹ کی وجہ سے ملک بھر میں روزانہ جو تضحیک اور ذلت ان حقیقی امین و صادق عوام  کو برداشت کرنا پڑتی ہے،  اس کی کوئی مثال کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی ۔ ملک بھر میں ایسی ہزاروں شاہراہیں موجود ہیں جہاں سے یہ سیاسی اور سرکاری صادق و امین جب  شاہانہ انداز میں اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو شاہراہوں کو اس طرح بند کردیا جاتا ہے جیسے کہ کرفیو لگا دیا گیا ہو۔ اگر ٹریفک کی روانی کے دوران  کسی کی گاڑی ان کی گاڑی کے سامنے آجائے تو اس طرح سائرن بجائے جاتے ہیں جیسا کہ آپ نے اس شاہراہ پر چل کر بہت بڑا جرم کیا ہے۔ اگر آپ نے باوجود ان کے سائرن کے یہ مان کر جگہ نہیں دی کہ آپ اس ملک کے معزز شہری ہیں اور آپ کو پورا حق ہے کہ آپ قانون کے مطابق اس شاہراہ کا استمال کریں تو بس پھر آپ کو ایسی ذلت اور تضحیک کا سامنا ہوگا کہ آپ کو احساس ہونے لگے گا کہ آپ کا اس وطن پر کوئی حق نہیں۔  چاہے آپ  قانون پر عمل کرتے ہوں  کیوں کہ آپ کے لئے قانون کچھ اور ہے اور ان کے لئے کچھ اور۔

 بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس ملک میں لاتعداد ایسی شاہراہیں بھی ہیں جو یوں تو بہت کشادہ ہیں لیکن ان پر مختلف جگہوں پر ٹریفک جام نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چار پانچ ٹریک پر مشتمل وہ سڑک کئی جگہ پر عوام کے لئے صرف دو تین ٹریک میں تبدیل ہوجاتی ہے باقی ایک   دو ٹریک کو بلاکس لگا کر اس دفتر کی حدود میں شامل کرلیا جاتا ہے جو وہاں پر موجود ہوتا ہے۔ اگر کوئی سوال کرے تو بتایا جاتا ہے کہ یہ حفاظتی انتظامات ہیں ۔ حکومت یہ دعوے تو کرتی ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں اب کوئی نو گو ایریا نہیں لیکن ایسے بیان دیتے ہوئے  ان نمائیندوں کو یہ وضاحت کردینی چاہیئے کہ کوئی نجی نو گو ایریا نہیں ہیں لیکن عوامی گزرگاہوں پر بے شمار سرکاری نو گو ایریاز اب بھی موجود ہیں جہاں سے عوام کا  گزرنا محال ہے ۔

گزشتہ دنوں ایک خبر نظر سے گزری کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی گاڑی کا چالان  لندن میں ان کے ہی فلیٹ کے سامنے اس لئے ہوا کہ گاڑی غلط پارک کی گئی تھی۔ لیکن ایسا ہمارے ملک میں ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ یہاں تفریق کا نظام ہے۔ یہ لوگ نہ کبھی سڑک پرلگے لال سگنل پر رکتے نظر آتے ہیں، نہ نادرا، پاسپورٹ آفس، بینکوں، انکم ٹیکس کے دفاتر کے باہر لگی قطاروں میں نظر آتے ہیں اور نہ ہی کوئی قانون ان پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر ہوتا ہے تو صرف ان عوام پر جنہوں نے اپنے ووٹ سے انہیں چن کر ایوانوں میں بھیجا ۔  اور اپنی جیب سے ٹیکس ادا کرکے انہیں تنخواہ دیتے ہیں تاکہ وہ  ہمارے مسائل حل کریں۔ افسوس عوام کے مسائل حل کرنا تو کجا وہ خود عوام کے لئے مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...