قوم کو ہوشیار نہ ہی کریں تو بہتر ہے!

  وقت اشاعت: 20 2017 تحریر: شیخ خالد زاہد   کراچی

مشہور کہاوت ہے: ‘چور سے کہو چوری کرے اور شاہ سے کہو جاگتے رہنا۔‘ وطن عزیز پاکستان میں سیاست کے ٹھیکیداروں کا یہی کردار ہے جس کی بدولت باریوں کی سیاست نے جنم لیا ہے۔ یعنی جیتنے والے جیسے بھی انتخابات  جیت گئے ہوں مگر ہم تم سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں اور وہ اس شرط پر کہ اگلی باری اقتدار ہمیں دلانے میں مددگار بنوگے۔ پاکستان میں جماعتی طرز پر انتخابات ہوتے ہیں اورگزشتہ تین دہائیوں سے دو جماعتیں ہی اس کھیل میں کلیدی کردار ادا کرتی آرہی ہیں۔

وقتاً فوقتاً یہ جماعتیں مختلف بحرانوں سے بھی گزریں مگر ہمارے ملک کے نظام کی بدولت سب کچھ کرکے پھر اقتدار کے مزے لینے ایوانوں میں ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کا تعلق بھی ملک کے دو اہم صوبوں سندھ اور پنجاب سے ہے۔ یعنی یہ اپنے اپنے صوبوں میں تو حکومت بناتے ہی ہیں، وفاق میں حکومت بنانے کیلئے یہ سارا جوڑتوڑ کیا جاتاہے۔ تحریک انصاف وہ سیاسی جماعت ہے جو گزشتہ سالوں میں ایک بڑی سیاسی جماعت کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ اس جماعت نے پاکستان کی سیاست میں بھونچال پیدا کر رکھا ہے۔ اس سیاسی جماعت  کی وجہ سے پاکستانی قوم میں بیداری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ یعنی اب کہیں جا کہ دوقومی سیاسی جماعتوں سے سیاست آزاد ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستانی سیاست کے افق پر ایک نیا ستارا نمودار ہونے کو  ہے۔

پاکستان میں ایسی کئی سیاسی جماعتیں ہیں جن کاجنم اور پرورش ڈکٹیٹروں کا مرہون منت ہے۔ دراصل برطانوی طرز کی سوچ تو ہمارے ذہنوں سے نکلتی ہی نہیں۔ جن کا بنیاد نقطہ نظر یہی تھا کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔  پاکستان میں اب مارشل لاء  کا نام لینے کی ضرورت ہی نہیں رہی کیونکہ اب ہمارے فوجی بھائیوں کو ایسے ہرکارے  حاصل ہیں کہ انہیں براہ راست حکومت پر قبضہ کرنے کی  ضرورت نہیں رہی۔ ہم پاکستانی فوجی مارشل لاء سے زیادہ اب سول مارشل لاء کو اپنے اوپر مسلط کر چکے ہیں ۔ پاکستان میں سیاست کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ آپ میں کسی کے کام نہ آنے کی بھرپور صلاحیت ہو مگر کسی کا بھی سامنا کرنے کا حوصلہ انتہائی ضروری صفت ہے۔ اضافی قابلیت الزام تراشی کرنے کا ہنر بھی خوب آتا ہو تو آپ کو کامیاب ہونے سے کوئی روک ہی نہیں سکتا۔ ان سے ملتی جلتی صفات اضافی قابلیت سمجھی جاتی ہے۔

عدالت کو ساری دنیا میں مقدس  تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں سے  ہر خاص و عام کو انصاف ملتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں انصاف کی ترسیل کا انتہائی فرسودہ نظام رائج ہے اور لوگ سال ہا سال سے اپنے مرحوم آباؤ اجداد کے لئے انصاف کی قطاروں میں نامعلوم وقت سے کھڑے ہیں۔ پاکستان میں انصاف کی بالادستی اور تبدیلی کا عمل جاری ہے اور اس عمل کی زد میں ملک کے سابقہ وزیر اعظم  اور ان کے اہل خانہ آچکے ہیں۔ یعنی انصاف کا اطلاق وہیں سے ہوا ہے جہاں سے ہونا چاہئے تھا۔ اب یہ کام تیزی سے آگے کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ عدالتیں کام کر رہی ہیں فیصلے ہورہے ہیں۔ اللہ کے حکم سے اب انصاف ہوتا چلا جائے گا۔

2018 انتخابات کا سال ہے ۔ جیسے جیسے انتخاب قریب آ رہا ہے، سیاسی گہما گہمی میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔  ہمارے تمام سیاست دان آج کل قوم کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیتے سنائی دے رہے ہیں ۔ قوم کے خیر خواہ قوم کو دوسرے سیاستدانوں سے ہوشیار رہنے کوکہہ رہے ہیں۔ اور دوسرے ان سے ہوشیار رہنے کو۔ آخر قوم کسیے ہوشیار ہوسکتی ہے۔ اس قوم کی اکثریت دن بھر محنت مشقت سے دو وقت کی روٹی کماکر اپنے اہل خانہ کا پیٹ بھرتی ہے۔ کسی نہ کسی کام کیلئے لائنوں میں لگی رہتی ہے۔ قدرتی آفات کا سامنا کرتی ہے ۔ ایسے سب سیاست دانوں سے یہی کہ اجا سکتا ہے کہ  قوم کو ایک دوسرے سے ہوشیار رہنے کا مشورہ یا صلاح نہ دیجئے کیونکہ یہ قوم ہوشیار ہوگئی تو پھرآپ  بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...