وزیراعظم کی غلط بیانی اور تصادم کا راستہ

  وقت اشاعت: 19 2017 تحریر: سید تاثیر مصطفیٰ   لاہور

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گلہ کیا ہے کہ ملک میں عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ یہ بات انہوں نے کسی اخباری پریس کانفرنس، کسی صحافی سے انٹرویو، کسی اخباری بیان میں نہیں کی بلکہ نوشہرو فیروز (سندھ) میں غلام مرتضیٰ خان جتوئی کے گھر پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ سیاسی فیصلے، عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں ہوتے، یہ فیصلے پولنگ سٹیشنوں پر ہوں گے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حکومت نے 28 جولائی کا عدالتی فیصلہ تسلیم کیا ہے۔ اس موقع پر یہ بھی کہا کہ میثاقِ جمہوریت پر عمل نہ کرنے سے سیاست اور سیاست دان بدنام ہو رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی تجربہ کار پارلیمینٹیرین اور جہاندیدہ سیاست دان ہیں۔ وہ گزشتہ تین دہائیوں سے سیاست میں ہیں اور باربارقومی اسمبلی کے رکن اور وزیر ہوتے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ وزیراعظم نوازشریف سے بھی سچ بات کہتے ہوئے کتراتے نہیں بلکہ مہذب انداز میں اپنی رائے کا ہمیشہ اظہار کرتے رہے ہیں۔ 28جولائی کے عدالتی فیصلے کے بعد جب انہیں معزول وزیراعظم نوازشریف نے مسلم لیگ نون کی جانب سے وزیراعظم نامزد کیا تو ان کے اس بڑے عہدے کے لیے نامزدگی میں اُن کی صلاحیت، کردار اور دور اندیشی سے زیادہ اس بات کا خیال رکھا گیا کہ وہ پارٹی اور پارٹی لیڈر کے وفادار رہیں گے۔ کابینہ کی تشکیل کے مسئلے پر انہوں نے اس کا ثبوت بھی دیا اور پوری کابینہ نوازشریف کی مشاورت سے بنائی۔

نوازشریف احتجاجی مارچ پر اسلام آباد سے روانہ ہوئے تو انہوں نے کابینہ کے ارکان کے ساتھ انہیں رخصت کرکے ایک بار پھر اس تاثر کومضبوط کیا۔ اور نوازشریف کے لندن جانے کے بعد وہاں جا کر اُن سے مشاورت کرکے بظاہر گائیڈ لائن لے کربھی انہوں نے یہ تاثر قائم رکھا لیکن ساتھ ہی یہ خبریں بھی آتی رہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کے حامی نہیں ہیں۔ خاص طور پر اداروں کے درمیان تصادم کو وہ ملک و قوم کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ دوسرے امورِ حکومت چلانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کرنے اور اس کا تعاون حاصل کرنے کے نہ صرف خواہاں ہیں بلکہ اُس کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ چنانچہ اُن کے تمام بیانات اور تقاریر ایسی تھیں جن سے ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کا تاثر ابھرتا تھا۔ تقریباً اڑھائی ماہ کے اقتدار کے دوران اُن کا یہ پہلا بیان ہے جو واضح طور پر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے۔ اُن کی جانب سے اس طرح کا بیان اور وہ بھی ایک عوامی جلسے میں، حالات کی سنگینی اور مستقبل کے خدشات کا دوٹوک اظہار ہے۔

اگرچہ ان کی ساری تقریر تضادات کا شکار ہے اور کئی چیزیں حقائق کے منافی بھی ہیں لیکن اُن کی جانب سے یہ کہا جانا کہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے، انتہائی اہم ہے اور یہ بات انہوں نے محض جوشِ خطاب میں نہیں کہہ دی بلکہ سوچ سمجھ کر اور اس کے اثرات جانتے ہوئے کہی ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے لیڈر کی طرح یہ بات نہیں بتائی کہ عوامی مینڈیٹ کو کون تسلیم نہیں کر رہا۔ اگر یہ اشارہ عدالت کی جانب ہے تو اُس نے تو اپنے فیصلے میں عوامی مینڈیٹ کو چھیڑا تک نہیں۔ عدالت نے توپانامہ کیس میں کرپشن کے معاملے کا جائزہ لیا اور وزیراعظم اور پارٹی سربراہ کی سطح پر بعض اثاثے ظاہر نہ کرنے پر انہیں نااہل قرار دیا۔ اس لیے یہ اشارہ عدلیہ کی جانب تو نہیں ہے تو پھر جس جانب ہے، وہ حوصلہ کرکے اس کا نام بھی لے دیں۔

وزیراعظم کو یہ غور کرنا چاہیے کہ اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ نون نے کبھی عوامی مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا۔ کیا مسلم لیگ نون نے بے نظیر کے دونوں ادوار میں اُن کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا تھا۔ کیا اُن دونوں ادوار میں وہ ہر سطح پر بے نظیر کی مینڈیٹ یافتہ حکومت کو گرانے کے عمل میں ہرسطح پر شریک نہیں رہے تھے اور اُس کے لیے ہر غیر جمہوری بلکہ غیراخلاقی حربہ تک استعمال بھی کرتے رہے تھے۔ یہی حال پیپلزپارٹی کا تھا جو نواز حکومت گرانے کے لیے ہرحربہ استعمال کرنے کو جائز سمجھتی تھی۔ اس لیے کسی اور ادارے کو مطعون کرنے سے پہلے وزیراعظم یہ غور کریں کہ اس حکومت کے سیاست دان عوام کے مینڈیٹ کو کتنا تسلیم کرتے ہیں۔ اگر وہ تسلیم نہیں کرتے تو کسی اور سے گلہ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

وزیراعظم نے ایک بھرے مجمعے کے سامنے کھلا جھوٹ بولا ہے کہ حکومت نے 28 جولائی کا عدالتی فیصلہ تسلیم کیا۔ حالانکہ حکومت ہی نہیں اُن کی جماعت اور لیڈر نے بھی یہ تسلیم نہیں کیا۔ اگر فیصلہ تسلیم کیا تھا تو نوازشریف کس مہم پر جی ٹی روڈ کے راستے لاہور پہنچے تھے۔ وہ سارے راستے کیا پیغام دیتے رہے تھے، یہی کہ عدالتی فیصلہ ناانصافی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس فیصلے کے بعد وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ نہ صرف نوازشریف نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے باقاعدہ انکار کیا اور اُس کے خلاف مہم جوئی کی، جو اب تک جاری ہے۔ بلکہ وزیراعظم خاقان عباسی کی پوری کابینہ نے نوازشریف کو عدلیہ مخالف مہم پر عزت و وقار کے ساتھ رخصت کرکے یہ اعلان کیا کہ وہ بھی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔

لاہور میں اُن کے جی ٹی روڈ کمپین کے آخری مرحلے میں جو جلسہ ہوا، اُس میں وزیراعلیٰ پنجاب، وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیراعظم آزاد کشمیر سٹیج پر موجود یہ پیغام دے رہے تھے کہ انہیں اوراُن کی حکومتوں کو یہ فیصلہ منظور نہیں ہے۔ اگر پارٹی یہ فیصلہ مانتی تو فوری طور پر نوازشریف کو مسلم لیگ نون کی صدارت سے ہٹا کر نیا صدر منتخب کرتی لیکن حکومت اور پارٹی دونوں نے انتہائی غیر جمہوری اور غیر اخلاقی رویہ اپناتے ہوئے نہ صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ سے یہ قرارداد منظور کروائی کہ نااہل شخص پارٹی سربراہ ہوسکتا ہے بلکہ مسلم لیگ نون کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور جنرل کونسل دونوں سے نوازشریف کو دوبارہ صدر منتخب کروایا۔ یہ عمل ایک طرف غیر جمہوری اور غیر اخلاقی تھا اور دوسری جانب یہ عدلیہ کے خلاف اعلانِ جنگ اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کا واضح اعلان بھی تھا۔

وزیراعظم نے نوشہرو فیروز کے جلسے میں میثاقِ جمہوریت پر عمل نہ ہونے کا رونا بھی رویا ہے اور کہا ہے کہ اس سے سیاست دان بدنام ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب! اس ملک کے سیاست دان اپنی کرتوتوں سے بدنام ہو رہے ہیں۔ نہ ان سیاست دانوں کے رویے اور مزاج عوامی ہیں نہ ان کی پارٹیوں کے اندر جمہوریت کا کوئی رنگ نظر آتا ہے۔ نہ یہ عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ اپنے کیے ہوئے فیصلوں پرعمل درآمد کرتے ہیں۔ یہ تو صرف مفادات کی سیاست کرتے ہیں اور لوٹ مار کے مشن پر کاربند ہیں۔ ان کی بدترین حکمرانی (بیڈ گورننس) نے عوام کو جیتے جی مار دیا ہے۔

وزیراعظم کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ اُن کی پارٹی اور لیڈر دونوں نے اپنے چار سالہ اقتدار کے دوران کبھی میثاقِ جمہوریت کا ذکر نہیں کیا اور کبھی اُس پر عمل درآمد کے لیے نہ تو خود کوشش کی اور نہ پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کواس پرعمل درآمد کے لیے شریک مشورہ کیا۔ کیونکہ حکومت میں آنے کے بعد انہیں میثاقِ جمہوریت کی کوئی ضرورت نہیں رہی تھی۔ وہ حکومتی عہدے انجوائے کر رہے تھے۔ شاہانہ کروفر کے ساتھ زندگیاں گزار رہے تھے، حقوق کے طور پر اختیارات استعمال کر رہے تھے اوراپنی بساط کے مطابق لوٹ مار کر رہے تھے۔ اب پکڑ شروع ہوئی ہے تو انہیں میثاقِ جمہوریت یاد آ گیا ہے مگر دوسری جماعتیں خصوصاً پیپلزپارٹی اتنی سادہ نہیں ہے کہ مسلم لیگ نون یا حکومت کی پریشانی اور مشکل گھڑی میں میثاقِ جمہوریت کے نام پر جذباتی ہو جائے۔

اس لیے وزیراعظم نوٹ کر لیں کہ اُن کی پارٹی نے جو بویا ہے وہ اُسے کاٹنا پڑے گا اور جہاں تک اُن کی ذات کا تعلق ہے وہ نوازشریف کے وفادار رہیں یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوستی کر لیں، اب حکومت کی پکڑ شروع ہو چکی ہے جس سے بچنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...