گھر کی صفائی کیسے ممکن ہے

  وقت اشاعت: 19 2017 تحریر: افتخار بھٹہ   لاہور

آج کل پاکستانی وزیر خارجہ آصف کے بیان پہلے گھر کی صفائی، کے حوالے سے میڈیا اور سرمایہ دارانہ سیاست میں ہیجان خیز صورت حال برپا ہے۔ صفائی توگھر کی ہونی چاہیے مگر ہمارے علاقائی ممالک بھارت اور افغانستان کی سیاست سماجیت اور اخلاقی غلاظت نے ان کے معاشروں کو تعفن زدہ بنادیا ہے۔ بھارت جو کہ سیکولرازم کا علمبردار تھا اور ماضی میں غیر وابستہ تحریک سے منسلک رہا ہے، نے بے پناہ فوجی ظاقت حاصل کی۔ اس کے علاوہ گزشتہ دہائیوں میں  تجارتی مفادات کے لئے  حکمران طبقے نے  مذہب کو بطور خاص  استعمال کیا ہے۔

اس وجہ سے ہندوستان کی سیاست پر قدامت پسندی غالب آگئی ہے۔ اقلیتوں کے لئے ہندوستان میں محفوظ اور باعزت زندگی گزارنا مشکل بنا دیا ہے۔ بھارت میں بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ہم نے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے اب ہمیں پاکستان کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر رونا نہیں چاہیے۔ چین کو ہم نے رام کر لیا ہے امید ہے مارچ 2018 تک ہم پاکستان کے چار ٹکڑے کر دیں گے۔  پاکستان میں بھی ایسے انتہا پسندوں کی کمی نہیں ہے۔ بھارت کے ہندو بنیاد پرست حکمرانوں کے جنونیت پر مبنی بیانات ہندوتوا شاو نزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے بیانات پاکستان میں کسی کے لئے زیادہ تقویت کا باعث بنتے ہیں تو وہ مذہبی بنیاد پرست قوتیں ہیں جو کہ لال قلعہ پر پاکستانی پرچم لہرانے کی خواہش لئے ہوئے ہیں۔ اگر خواجہ آصف اور ان کی پارٹی کے رہنما پاکستان میں صفائی کر نا چاہتے ہیں توان کو پاکستان کے اندر موجود شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی جو کہ اندرونی طور پر پاکستان کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔  پاکستان کو ایک جدید خوشحال اور ترقی پسند قومی ریاست بناناہے تو اس کی سماجی بنیادوں کو بھی استوار کرنا ہوگا۔

حکومت کے نئے بیانیے کی مخالف قوتیں جن کا تعلق انتہائی دائیں بازو کی مذہبی و سیاسی جماعتوں سے ہے، جن میں پاکستان تحریک انصاف سرفہر ست ہے خواجہ آصف کو ملک دشمن قرار دے رہی ہیں۔ ماضی میں مسلم لیگ انہی قدامت پسند جماعتوں کی حمایت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔ مگر اب عالمی دباؤ کی وجہ سے صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ ماضی میں جنرل ضیاءالحق کی افغانستان کے حوالہ سے شروع کی جانے والی پالیسیوں کی وجہ سے  افغانستان کے اندرونی مسائل ہمارا مسئلہ بن چکے ہیں۔ ہمارے ظاہر شاہ سے لے کر اشرف غنی تک کسی کے  ساتھ تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے ہیں۔ 1974میں ذولفقار علی بھٹو افغان رہنماؤں کو پناہ دی۔  امریکہ اور اس کے اتحادیوں بشمول عرب ممالک نے سابق سویت یونین کو ایک طویل عرصہ تک سرد جنگ میں الجھائے رکھا۔ اس صورتحال کو روسی افواج کی موجودگی کے باوجود سردار داؤد نجیب اﷲ، ببرک کارمل کوئی بھی سنبھال نہ سکا۔ ساری دنیا سے جہادیوں کو افغانستان میں اکٹھا کیا گیا جبکہ پاکستان اور مذہبی سیاسی دائیں بازو کی جماعتیں افغان جہادی عمل میں مصروف رہیں۔ نتائج کی کسی کو یہ پرواہ نہیں تھی۔ صرف کمیونزم اور سوشلسٹ نظام کو شکست دینا مقصود تھا۔  بھٹو پھانسی چڑھ گیا۔ ضیاالحق غیر طبعی موت کا شکار ہو ہوا۔ پرویز مشرف 9/11 کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی آنکھوں کا تارابن گیا۔ ہمارے فوجی حکمرانوں کو ہمیشہ افغانستان راس آیا ہے۔ بے نظیر نے طالبان تخلیق کیے۔ نواز شریف جہادی رہنماؤں کو خانہ کعبہ میں لے جاکر صلح کروانے کے باوجود معصوم لوگوں کا قتل عام نہ روک سکے۔ ایک طرف افغانستان میں خانہ جنگی، خود کش حملوں کی کارروائیوں سے نقصان ہوا تو اس کے ساتھ ہی  پاکستان کے شہروں اور چھاؤنیوں پر بھی حملے ہوئے۔

 اس صورت حال کے مالی، عسکری، سیاسی،  سماجی اور معاشی اثرات پاکستان میں مرتب ہوئے۔  دنیا ہم پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سیاست اور خارجہ پالیسی کے حوالہ سے ایک بڑ ے تصادم کا حصہ بن چکا ہے۔ اس ساری صورتحال کی وجہ سے ہم حالت جنگ میں ہیں۔ خوف اور خطرے کے بادل چھٹ نہیں رہے ہیں۔ امریکہ ہوکہ بھارت یا افغانستان جب بھی پاکستان کے حوالہ سے کوئی بہتری آتی ہے تو کوئی شوشہ چھوڑ دیا جاتاہے۔ پاکستان جو کہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اس کو ڈو مور کا فارمولہ تھما دیا جاتاہے۔ یہ بہت بڑی بد قسمتی کی بات ہے ہماری سیاسی قیادت ، سول سوسائٹی، میڈیا، اہل دانش، عسکری قیادت، مذہبی  میں افغانستان اور اس کے پاکستان پر اثرات کے حوالہ سے یکسوئی نظر نہیں آتی۔  ہم گزشتہ تیس سال سے نہ دنیا اور نہ ہی افغانیوں کو مطمئن کر سکے ہیں۔ ہم غیر یقینی صوتحال سے  دو چار ہیں۔ ملک میں چند پریشر گروپس تقسیم اور تفریق کے کام کوآگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ کوئی فرقہ کی بات کرتاہے۔ لوگوں کو ریاست کے خلاف اکساتاہے۔ جہاد، اسلامائزیشن، بردباری اور  تحمل کے معاملات پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کیا کرنا ہے۔

امریکہ نے جس نئی افغان پالیسی کا اعلان کیاہے اس کا ایک حصہ غیر اعلانیہ ہے۔ ڈومورکا مطالبہ کرنے اور ہم پر  انتہا پسندی، دہشت گردی اور شدت پسندی کے الزامات  لگانے والوں کو دلیل کے ساتھ سمجھانا ہوگا۔ ان حالات ہماری ریاست خاموش نہیں رہ سکتی۔  ہمیں عوام اور دنیا کو ایک ساتھ لے کر چلناہے۔ امریکہ افغانستان کو عراق نہیں بنا سکتا۔ اور ہم افغانستان سے دور نہیں رہ سکتے۔ ایسے حالات میں ہماری ریاست نے خاموشی نہ توڑی تو اس سے کئی نئے گروپ پیدا ہو سکتے ہیں جو کہ ہمارے لئے مشکلات ک باعث بن سکتے ہیں۔ ان تمام مسائل کا حل نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عمل کرناہے۔ آج بھارت لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں اور سرجیکل سٹرائیک کے تناؤ کے ذریعہ سے پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہتاہے۔ جس کا جواب انتہائی دائیں بازو کی قوتیں اور نمائندے و میڈیا ایٹمی جنگ کی جوابی دھمکی دیتے ہیں۔ اسی سے بھارت میں ہندو توا  جیسی قوم پرستی میں مزید بڑھوتی ہوتی ہے۔  یہ ایسا گھناؤنا فعل ہے جس سے برصغیرکے ڈیڑھ ارب بے قصور انسان ذلتوں اور بربادیوں کاشکار ہورہے ہیں۔  بہت سے بین الاقوامی  تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کی دونوں جوہری قوتوں کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ  جوہری تصادم برصغیر کی آبادی، معیشت، صنعت و زراعت کے وسیع تر حصے کو برباد کر دے گی۔ جس سے سرمایہ درانہ مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کی بات ہرکوئی کرتاہے لیکن پھر بدعنوان سیاست میں ایسی قوتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔  جن کی صفائی کی بات کی جاتی ہے وہی قوتیں بعض معاملات میں ریاستی مدد سے قوت پکڑتی ہیں۔  اس سرطان کا علاج صر ف جراحی کے ذریعے ممکن ہے۔ پاکستان اور بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے جدلیاتی طور پر کہیں نہ کہیں جاکر ملتے ہیں۔ جن سے حکمرانوں کے مفادات وابستہ ہیں۔ جبکہ یہاں کے متروک طرز حکمرانی میں اس عفریت سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

واضع ریاستی بیانہ ہی ہمیں پیچیدہ صورتحال سے نکال سکتا ہے جس سے گھر کی صفائی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...