فرانس: دہشتگردی کا مقابلہ یا شہری آزادیوں پر قدغن؟

  وقت اشاعت: 19 2017 تحریر: نصر ملک   ڈنمارک

یورپ کے بیشتر ممالک میں اسلامو فوبیا  اور دہشتگردی کی آڑ میں نت نئے قوانین و ضوابط  لاگو کرکے شہریوں کو یہ احساس دلانے کی کوششیں کی جارہی ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔ اور انہیں ہر طرح کا تحفظ مہیا کرنے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہنے دی جائے گی ۔ انہی کوششوں کے تحت یورپی یونین کے  بڑے اور اہم ترین ملک فرانس نے  جو اقدامات لیے ہیں وہ بظاہر تو دہشتگردی  و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ہیں لیکن مبصرین کے نزدیک یہ نئے قوانین شہری آزادیوں پر قدغن لگانے یا انہیں محدود کرنے کے مترادف ہیں اور ان سے  غیر جمہوری آمرانہ قوّت کے استعمال کی بو بھی آتی ہے ۔

فرانسیسی پارلیمنٹ نے 19 اکتوبر کو  دہشتگردی کے خلاف ایک ایسا سخت  قانون منظور کیا ہے جس کے تحت حکام کو لامتناہی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں ۔  اب حکام بڑی آسانی کے ساتھ اس نئے قانون کے تحت کسی بھی شخص کے گھر کی تلاشی لے سکیں گے اور اس کے لیے انہیں کسی عدالتی وارنٹ کی پیشگی اجازت لینا درکار نہیں ہوگی ۔ اسی طرح حکام کسی بھی فرد یا افراد کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے، گھروں پر نظر بند کرنے اور عبادت گاہوں کو  بند کرنے کے بھی مجاز ہوں گے ۔ فرانسیسی پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے اس قانون میں اس بات کا بطور خاص دھیان رکھا گیا کہ ملک میں نومبر  2015 میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات  کے بعد انسدادِ دہشت گردی کے لیے جو سخت ضوابط متعارف کرائے گئے تھے اور جن کے تحت ملک میں ’’ ہنگامی حالت‘‘ نافذ کی گئی تھی ان کی کئی شقیں جوں کی توں بحال رہیں ۔ گویا پہلے سے موجود قوانین کو نئے قوانیں کے ساتھ ملا کر یوں سخت ترین  بنا دیا گیا ہے کہ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا تحفظ کرنے والی کئی تنظیموں نے اِن پر کڑی نکتہ چینی کی ہے ۔ ملک میں ہنگامی حالت کے نٖفاذ کا قانون یکم نومبر کو ختم ہو جائے گا ۔ لیکن نئے قانون کی موجودگی اِس کمی کو پورا کردے گی ۔  پارلیمان کی ایک مجاز کمیٹی ہرسال اِس نئے قانون کا جائزہ لے گی اور اس میں کمی بیشی کے لیے سفارشات  کرے گی ۔ یہ قانون 2020تک  لاگو رہے گا ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون فرانس میں شدت پسند مسلمانوں اور شام و عراق کی جنگ وغیرہ میں حصہ لینے کے لیے جانے یا وہاں سے واپس آنے والے فرانسیسی شہریوں کے خلاف مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال  کیا جائے گا۔ لیکن جہادیوں کی بیخ کنی کرنے کے ساتھ  یہ عام شہریوں اور عام مسلمانوں کی زندگی بھی اجیرن کردے گا ۔

گھر پر نظر بندی : فرانسیسی وزیر داخلہ کے مطابق  اب  نہ صرف مشتبہ جہادی بلکہ مبینہ طور پر اُن کی حمایت کرنے والوں کو بھی کسی عدالتی وارنٹ کے بغیران کے گھروں پر نظر بند کرتے ہوئے اُن کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی جا سکے گی ۔ اور اِس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ فرد یا افراد کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں یعنی انہیں گھر پر نظر بند رکھنے کے لیے اُن کا مشتبہ ہونا ہی کافی ہوگا ۔  مشتبہ افراد کی  ’’ انفرادی نگرانی کے اقدامات ‘‘ دو سال تک رہیں گے  یعنی کسی فرد کو دو سال تک گھر میں نظر بند رکھا جا سکے گا ۔ بعض افراد کے لیے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ گھر سے نکلتے وقت صرف ’’ مین ڈور‘‘ سے گلی میں باہر نکل سکیں گے اور ان پر اپنا شہر یا قصبہ چھوڑنے پر پابندی ہوگی ۔ اور اگر کسی خاص صورت حال میں انہیں کہیں دور جانا پڑے تو ایسی صورت میں انہیں نگرانی کے لیے استعمال کیا جانے والا ’’ الکٹرانک کڑا ‘‘ پہننا ہوگا ۔ گھر پر نظر بند کیا جانے والا فرد، چوبیس گھنٹوں کے اندر اپنے پر  لاگو پانبدی کے خلاف عدالت میں اپیل کر سکے گا  اور اس پر لازم ہوگا کہ وہ دن میں ایک بارپولیس کے ہاں رپورٹ کرے ۔

خانہ تلاشی : کوئی بھی مقامی پولیس سربراہ کسی بھی مشتبہ جہادی یا دہشتگردی کے کسی نیٹ ورک کےساتھ مبینہ تعلق رکھنے والے کے گھر کی تلاشی کے لیے  مقامی عدالت کے جج سے ’’ ریسرچ وارنٹ ‘‘ کے لیے استدعا کر سکتا ہے  اور مطلوبہ وارنٹ موقع ہی پر حاصل کر سکتا ہے ۔ جس فرد کے گھر کی تلاشی لی جا رہی ہوگی اسے عدالت میں پیش کئے بغیر چار گھنٹوں تک حراست میں رکھا جا سکے گا اور اُس کے گھر سے حاصل  ہونے والی دستاویزات، پروپیگنڈا مواد، الیکٹرانک ڈاٹا ، کمپؤٹر اور اسی طرح کا دوسرا مواد قبضے میں لیا جا سکے گا ۔

عبادت گاہیں : فرانس کے ہر علاقے میں اعلیٰ حکومتی اہلکار عبادت گاہوں مثلاً  مساجد، گرجا گھر یا کوئی  بھی دوسری عبادت گاہ  جو اُن کے نزدیک  دہشگردی کے لیے یا اسی طرح کے  کسی بھی مقصد مثلاً جہاد وغیرہ کے لیے تبلیغ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہو،  اسے چھ ماہ کے لیے فوری طور پر بند کر دینے کا حکم دینے کے مجاز ہوں گے ۔ ایسا کرنے  اور اس سلسلے میں تفتیش کے لیے انہیں موقع  پر شواہد و ثبوت کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی البتہ وہ یہ بات دھیان میں رکھیں گے کہ وہاں عباد ت گزاروں سے امام، پادری، پنڈت یا کوئی اور مذہبی رہنما کیا کہہ رہا ہے اور کس طرح کی تبلیغ کی جا رہی ہے ۔ اگر کسی عبادت گاہ کو اپنی بندش کا سامنا ہو تو وہ اڑتالیس  گھنٹوں کے اندر اس بندش کے خلاف اپیل کر سکے گی ۔  جہادی پروپیگنڈا کرنے اور دین و مذہب کے نام پر لوگوں کو اکسانے والی عبادت گاہوں کی انتظامیہ کو  تین سال تک کے لیے جیل کی سزا اور پنتالیس ہزار یورو  جرمانہ کیا جا سکے گا یا یہ دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی ہو سکتی ہیں ۔

سیکورٹی زون:  نئے فرانسیسی قانون کے تحت حکام  کسی بھی مشتبہ جگہ یا مقام کے ارد گرد کے علاقے کو  سیل کرکے عوام کے لیے  مکمل بند کر سکیں گے  اور جو لوگ اس علاقے میں جانا چاہیں گے بے شک وہ وہاں کے رہائشی ہی کیوں نہ ہوں انہیں وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں  یا گارڈز کو  جامہ تلاشی کرانی  ہوگی اور اپنی باقاعدہ شناخت کرانی پڑے گی ۔

سرحدی پڑتال : پولیس کو مزید ایسے سخت اختیارات دے دیئے گئے ہیں کہ وہ سرحدوں پر اور سرحدی علاقوں میں بغیر کسی روک ٹوک کے کسی بھی مشتبہ فرد کی تلاشی لے سکے گی اور پڑتال کر سکے گی ۔ مبصرین کے مطابق یہ قانون یورپی یونین کے اُس قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے جو یورپی یونین کے شہریوں کو بلا روک ٹوک ایک ملک سے دوسرے ملک کے اندر  داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے ۔  عفو عامہ کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ قانون ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن ( مہاجرین ) اور مسلمانوں  کے خلاف بطور خاص استعمال کیا جا سکتا ہے ۔  ویزا فری شنگن ممالک کے ضوابط کے تحت فرانس پہلے ہی سے  اپنی سرحدوں ، عالمی ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں  پر لوگوں سے اپنی  شناخت کرانے کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔ لیکن نئے قانون کے تحت اب ان متذکرہ بالا مقامات سے ملحقہ  ارد گرد کے دس دس کلر میٹر تک کے علاقوں کو  شامل کرلیا گیا ۔

انتہا پسند پبلک  ملازمین: سیکورٹی یا دفاع کے محکمے میں کام کرنے والے کسی بھی سرکاری اہلکار کے متعلق  اگر یہ محسوس ہو جائے گا کہ وہ انتہا پسند نظریات و خیالات رکھتا ہے  تو اسے فوری طور پر ملازمت تبدیل کرنے کو کہا جائے گا یا پھر اسے ملازمت سے معطل یا  برطرف بھی کیا جا سکے گا ۔ یہاں تک کہ پولیس، سیکورٹی اور دفاع کے شعبوں میں کام کرنے والے مبینہ طور پر انتہا پسند نظریات کے حامل اہلکار بھی اسی طرح کی سزا کے مستحق ہوں گے ۔

سراغ رسانی اور مواصلات ریکارڈنگ : نئے قوانین کے تحت فرانس میں مشکوک افراد کی ٹیلیفونک گفتگو کی ریکارڈنگ کے لیے انٹیلی جنس حکام کو جدید ترین ٹکنالوجی ’’ الگورتھم ‘‘ کے استعمال کی اجازت ہوگی جس کے ذریعے وہ نہ  صرف مشکوک افراد کے ٹیلیفون ٹیپ کر سکیں گے بلکہ  ان کے ای میلز اور اسی طرح دیگر مواصلاتی ذرائع سے ہونے والی مراسلت کو بھی عدالتی وارنٹ کے بغیر چیک کرنے کے مجاز ہوں گے ۔ اس قانون نے تحت  انٹیلی جنس حکام فرانس کے اندر یا وہاں سے باہر آنے جانے والے ہوائی مسافروں کی فہرست بھی کنٹرول کر سکیں گے ۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...