ملک کا تعلیمی نظام بوجھ بن چکا ہے

  وقت اشاعت: 12 2017 تحریر: شیخ خالد زاہد   کراچی

کسی بھی ملک کا تعلیمی نظام بنیادی طور پرریاست کے نظریات کی بنیاد پر کھڑا ہونا چاہئے ۔ دنیا میں مختلف تعلیمی نظاموں کے تحت تعلیم کو فروغ دیا جارہا ہے او یہ  وقت کے ساتھ ساتھ  سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کہیں ابتدائی تعلیم کھیل کود سے شروع کی جاتی ہے اور کہیں تعلیم کا آغاز فنی طرز پر کیا جاتا ہے۔ علم کی افزائش اور نشو نما کیلئے ضروری ہے کہ علم کو عام کیا جائے اور باآسانی دستیاب کیا جائے ۔

اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ علم کی سب تک رسائی ہو۔  یعنی بنیادی تعلیم بالکل مفت ہونی چاہئیں۔ بنیادی تعلیم دینے کیلئے ایسے مخلص اور محنتی لوگ تعینات کئے جائیں جو اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ وہ اپنے ہی نہیں بلکہ معاشرے کا مستقبل تیار کر رہے ہیں۔  اساتذہ کا تعلیم دینے کا انداز ہی بچے میں تعلیم کا شوق پیدا کرتا ہے۔  معاشرے کا ہر فرد مستقبل کے معماروں کی نشونما کا ذمہ دار ہے۔ بچوں میں صرف علم حاصل کرنے کی محبت اور شوق کو ہی نہیں پروان چڑھانا چاہئے بلکہ ایک ایسا انسان بننے کا عزم بھی اجاگر کرنا ہے جو معاشرے کو سدھارنے میں بھرپور کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہوں اور ہمہ وقت تیار ہوں۔  علم کاپیوں کو سیاہ کرنے کا نام نہیں اور نہ رٹے لگانے کا نام نہیں ہے۔ علم توسوچ بچار ، گیان اور ادب و آداب کا سبب بنتا ہے۔  کتابیں لاد کر لے جانے والا بچہ کہاں سوچ بچار کرنے کا وقت رکھتا ہے۔ اسے تو پہلے کلاس میں کام کرنے پر لگا دیا جاتا ہے  پھر اس سے بڑھ کر گھرسے بھی مزید کام کرکے لانے کا کہا جاتا ہے۔ ایسا بچہ سوچ بچار اور گیان جیسے لفظوں سے ہی شناسائی نہیں بناسکتا۔

پاکستان جیسے ممالک میں زیادہ تعلیمی نظام  نافذ نہیں ہونے چاہئیں۔ تمام اسکول سرکاری ہوں۔  تاکہ درس و تدریس کو کاروبار بننے سے روکا جاسکے۔ اس وقت ملک کے با اختیار حلقے تعلیم کو کاروابار بنا چکے ہیں اور اس کاروبار میں شراکت دار بھی ہیں۔  اس طریقہ کی وجہ سے ملک میں  بغیر لائسنس ابھی سکول کھولے گئے ہیں۔ ہر اسکول من چاہے نصاب کا اطلاق کرسکتا ہے۔  ہمارے یہاں والدین کی کثیر تعداد ان پڑھ ہونے کی وجہ سے بچوں کو معیاری وقت نہیں دے پاتی اور نہ ہی یہ نگرانی کر سکتی ہے کہ انہیں کیا پڑھایا جارہا ہے۔ 
اسکولوں کی بڑی بڑی دلکش عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور ایک ایک اسکول کے کئی کئی کیمپس ہیں۔ اور یہ ادارے خوب پھل پھول رہے ہیں لیکن تعلیم کا معیار پست ہے۔

تعلیم دور حاضر میں جہاں طالب علموں پر بوجھ بنتی جا رہی ہے وہیں والدین کیلئے بھی تعلیم کو مالی طور پر برداشت کرنا کسی بوجھ سے کم نہیں ہے ۔ خدارا تعلیم کو بوجھ بننے سے روکا جائے ورنہ اس بوجھ سے تنگ آئے ہوئے طالب علم اور والدین اسے برداشت نہیں کر پائیں گے جو ملک کی ترقی اور بہتر ممعاشرہ کی تشکیل کے لئے اہم ہے۔
 

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...