احمدی برانڈ گولی… احمدی برانڈ زرہ بکتر

  وقت اشاعت: 11 2017 تحریر: فرنود عالم   اسلام آباد

ڈاکٹر عاطف میاں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ایم آئی ٹی کیمبرج کے فاضل ہیں۔ ریاضیات اور کمپیوٹر سائنس میں تعلیم پائی ہے۔ معاشیات میں پی ایچ ڈی کی سند رکھتے ہیں۔ شکاگو یونیورسٹی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی میں تدریس کرچکے ہیں۔ نیو جرسی کی پرنسٹن یونیورسٹی میں تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سنہ 2001میں آپ نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی اور 2014 میں آئی ایم ایف نے دنیا کے پچیس کم عمر ترین ماہرین معاشیات میں آپ کا نام شامل کیا۔ آپ “House of Debt” نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ فائننشل ٹائمز نے اس کتاب کو اپنے موضوع پر سال کی سب سے بہترین کتاب قرار دیا ۔ یونیورسٹی آف شکاگو پریس سے اس کتاب نے بہترین کتاب کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

ڈاکٹر عاطف میاں کا یہ تعارف عمران خان  تک معروف برطانوی میگزین “دی اکانومسٹ” کے ذریعے پہنچا۔ عمران خان نے ایک ہفتے بعد دھرنے میں اعلان کیا کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو ہم وزارت خزانہ کا منصب کسی سمدھی کو سونپنے کی بجائے عاطف میاں جیسے اعلی معاشی دماغ کو سونپیں گے۔ خان صاحب نے دو انٹرویوز میں بھی ڈاکٹر عاطف کا ذکر کیا۔ عرش کے کسی نمائندے نے سوچا ، وہ سب تو ٹھیک ہے مگر احتیاطا دانت بھی تو چیک کرلیے جائیں کہ موصوف کے مذہبی رجحانات کیا ہیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ موصوف احمدی ہیں۔ عمران خان کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا۔ مولانا فضل الرحمن والی جمعیت علمائے اسلام نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علما نے بیٹھ کر فیصلہ سنایا کہ عمران خان کو ووٹ دینا ازروئے شریعت جائز نہیں۔ پاسبانِ حرم کے قہر کی تاب کون لاسکتا ہے۔ عمران خان بھاگتے دوڑتے اسکرین پر آئے ۔ اپنے عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، میں قرآن پر ایمان رکھتا ہوں، ختم نبوت میرا عقیدہ ہے، اب جبکہ مجھے علم ہوچکا کہ عاطف میاں قادیانی ہیں تو میں ان سے برات کا اعلان کرتا ہوں۔

مئی 2010کے آخری ہفتے میں لاہور میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر خود کش حملے ہوئے۔ چھیاسی (86) افراد جان سے گزرگئے اور ڈیڑھ سو سےزائد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے کتنے مستقل بستر سے لگ گئے، ان کی تعداد نہیں معلوم۔ ان خون خون عبادت گاہوں سے سنائی دینے والی چیخیں ویسی ہی تھیں جیسے مون مارکیٹ، قصہ خوانی بازار اور میزان چوک پہ لہو لہو انسانوں کی تھیں۔ ان کا خون ویسے ہی سرخ تھا جیسے کہ پریڈ لین مسجد ، حیدری امام بارگاہ اور داتا دربارمیں مارے جانے والوں کا تھا۔ ہوا مگر یہ کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے تعزیتی الفاظ سے بچنے کے لیے اپنے فون بند کرلیے۔ کوئی مصروف ہوگیا، کوئی عمرے کے لیے روانہ ہوگیا۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے تعزیت اور عیادت سے احتراز کیا۔ وہ جانتے تھے کہ اس تعزیت اور عیادت کی قیمت یہاں کیا ہے۔ عبادت گاہ پہنچنے والے پہلے سیاسی رہنما گورنر پنجاب سلمان تاثیر شہید تھے۔ ایک مناسب وقفے کے بعد میاں محمد نواز شریف بھی تعزیت کرنے گئے۔ زخمیوں کی عیادت کے بعد اسپتال کے دروازے پر میڈیا سے مخاطب ہوئے۔ فرمایا، احمدی ہمارے بھائی ہیں۔ یہ بیان سنتے ہی ان رہنماؤں کے فون کھل گئے جو دس منٹ پہلے تک بند تھے۔ باری باری سب نے میاں نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ احمدیوں کو بھائی کہنے پر قوم سے معافی مانگیں۔ اعلانیہ توبہ کریں اور تجدیدِ ایمان کریں۔ میاں صاحب فوری طور پر پردہِ غیب میں چلے گئے ، اپنا دامن پیچھے چھوڑ گئے۔ مسلم لیگ کی قیادت کئی دنوں تک اس دامنِ پاک پر سجدہ کرکے یقین دلاتی رہی کہ میاں صاحب ایک صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔

آج سے ٹھیک گیارہ ماہ قبل قوم ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنی ہوئی تھی کہ جنرل راحیل شریف کس کو چھڑی سونپنے والے ہیں۔ اگلے آرمی چیف کا نام کیا ہے، یہ ابھی کوئی نہیں جانتا تھا۔ اگلے آرمی چیف کا عقیدہ کیا ہے، یہ سب جان گئے تھے۔ گوکہ آرمی چیف کے منصب کے لیے آئین پاکستان عقیدے کی شرط نہیں لگاتا، مگر صحافتِ اسلامیہ اور قانون اسلامی کے قلمبردار آئین کی تشریح پر رضاکارانہ جت گئے۔ عرش کے نمائندوں نے الہامی صلاحیتوں کے بل پر سپہ سالاری کے منصب کے وہ وہ قانونی پہلو بیاں کیے کہ جباری و قہاری و قدوسی و جبروت عش عش کر اٹھے۔ بحث جاری تھی کہ نئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا نام سامنے آگیا۔ عصائے کلیمی سنبھالتے ہی وہ حجاز مقدس پہنچے اور روضے کی جالیوں سے چمٹ گئے۔ بارگاہ  رسالت سے عقیدے کی درستی کی سند لے کر فوری طور پر آئی ایس پی آر کی حوالے کی ۔ مستند و غیرمستند ذرائع سے یہ تصویری اسناد قوم تک پہنچ گئیں تو چیف صاحب نے میلاد کی اوپرتلے محفلیں سجائیں ۔ محفل میں بھی افراد کم اور ڈی ایس ایل آر کیمرے زیادہ ہوتے تھے۔ میلاد کے بعد چیف صاحب نے پیرانِ ہزار رنگ سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ وردی کے بغیر کچھ فتوی ساز کارخانوں پر بھی تشریف لے گئے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے چیمپینز ٹرافی جیتی تو دنیا جہاں سے کرکٹ ٹیم کے لیے انعامات واعزات کے اعلانات ہونے لگے۔ تمام اعلانات مادیت پر اور دنیا پرستی کاشاخسانہ تھے۔ ایک چیف صاحب ہی تھے جنہیں اس موقع پربھی خدا یاد رہا۔ انہوں نے تمام کھلاڑیوں کے لیے عمرہ پیکج کا اعلان کیا۔ کھلاڑی پہلی بارکسی آرمی چیف سے مایوس ہوئے۔ مگر وہ کہاں جانتے تھے کہ چیف صاحب کو کھلاڑیوں کی آخرت سدھارنے سے زیادہ اپنی دنیا سنوارنے کی فکر ہے۔ آرمی چیف کے یہ عسکری روحانی سلسلے تب تک جاری رہے کہ جب تک پاکستان کی کُل آبادی کو یقین نہ ہوگیا کہ سپہ سالار ازروئے شریعت بھی اپنے منصب کے لیے اہل ہیں۔

انتخابی اصلاحات بل سے نیا معرکہ شروع ہوا۔ معرکے کی بنیاد کاغذات نامزدگی پر موجود لفظ “حلف نامہ” بنا جوکہ اقرار نامہ ہوگیا تھا۔ خدا کی زمین پر صدق وفا کی آخری نشانی حضرتِ شیخ رشید نے ایوان کو توجہ دلائی کہ امت مسلمہ کے ساتھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہاتھ ہوگیا ہے۔ انتخابی اصلاحات بل کا منظور ہونا طاقت کے غیر جمہوری مراکز کے لیے پریشان کن تھا۔ اب چونکہ بل پارلیمان نے منظور کیا تھا چنانچہ اس پر سوال اٹھانا ممکن نہیں تھا۔ لہذا مبشر لقمان، صابر شاکر ، عارف بھٹی ، اوریا مقبول جان، سمیع ابراہیم، ڈاکٹر شاہد مسعود اور عامر لیاقت حسین ختم نبوت کے دفاع پر کمربستہ ہوگئے۔ اسلام کا غالب حصہ ان صحافیانِ اُدھار ومستعار نے بچالیا تھا، جو باقی متاثرہ حصہ تھا اس کو ریسکیو کرنے ڈی جی آئی ایس پی آر خود چلے آئے۔ جواب میں داماد عالی مقام کیپٹن صفدر منہ میں آگ لیے اتر آئے۔ ہم یہ بدگمانی کیوں کریں کہ وہ اپنے آپ اس میدان میں اترے۔ اطمینان رہنا چاہیے کہ انہیں بہت سوچ سمجھ کر اتارا گیاتھا۔ فلائٹ کا دورانیہ طویل ہو، فون بند ہوں ، انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہ ہواور کتاب بینی کا ذوق بھی نہ ہو تو مسافرکو بہت دور کی سوجھتی ہے۔ دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ کیوں اتارا گیا۔ اور اسی مردِ معطل کو کیوں اتارا گیا۔

اتارا اس لیے کہ قوم کو اس جانب توجہ دلانے کی بھونڈی کوشش کی جائے کہ جو ادارہ ناموس رسالت کے تحفظ کا ضامن بنا ہے خود اس ادارے میں احمدی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ناموس رسالت کے معاملے میں کیپٹن صاحب پہلے ہی بہت نام کما چکے ہیں، اس لیے معرکے کی کپتانی انہیں سونپی گئی۔ پھر کیپٹن صاحب چونکہ مسلم لیگ میں کسی غیرلازمی سوال کی مانند ہیں ، اس لیے مسلم لیگ ان کے کہے کو ان کی ذاتی حماقت قرار دے کر بہت سہولت سے دامن بھی چھڑاسکتی ہے۔ سیاست کے آسمان پر ابھرتے ستاروں کی مستانہ چالیں اپنی جگہ مگر سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ اس گھناؤنے کھیل میں خودآسمان کہاں کھڑا ہے ۔

یہ سلسلہ دراز ہے۔ جوں جوں انتخابات قریب آتے رہیں گے یہ معرکہ آگ پکڑتا رہے گا۔ اس پورے منظرنامے میں دو مناظر آپ کو دکھانے ہیں۔ پہلا منظر یہ ہے کہ عمران خان 2013 کے الیکشن سے پہلے تین بار احمدیوں سے برات کے اعلان پر مجبور ہیں۔ عاطف میاں کے معاملے میں معافی مانگنے اور احمدیوں پر لعنت بھیجنے پر مجبور ہیں۔ حالیہ دنگل میں بھی وہ مکمل خاموشی پر مجبور ہیں۔ مسلم لیگ کی قیادت یہاں تک کہ خواجہ آصف اور پرویز رشید بھی اپنے عقیدے کی صفائی دینےاور احمدیوں کے لیے نفرت انگیز الفاظ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ آرمی چیف منصب سنبھالتے ہی میلاد کی محفلیں سجانے پر مجبور ہیں۔ آئی ایس پی آر کو آگے کرکے احمدیوں کے حوالے سے پیغام دینے پر مجبور ہیں۔ دوسرا منظر یہ ہے کہ اسلام کی بقا کی جنگ شیخ رشید، مبشرلقمان، خادم حسین رضوی، عامر لیاقت حسین، میجر ظہیر اور کیپٹن صفدر کے حوالے ہے۔

ان دو مناظر کے بیچ اگر آپ اسلام ڈھونڈرہے ہیں تواب بھی غلطی پر ہیں۔ ان دو مناظر کے بالکل بیچوں بیچ ایک خط کھینچا ہوا ہے۔ اس کو خطِ اعتدال کہتے ہیں۔اس خط ِ اعتدال پر سماج کا ایک طبقہ ایک پاؤں پرکھڑا ہے۔ یہ طبقہ ایک جبڑے سے لبرلز کو دوسرے جبڑے سے مولوی کو گالی دے کر ایک اور خط کھینچتا ہے۔ اس کو خط مستقیم کہتے ہیں۔ اس طبقے نے دوسرا پاؤں اسی خطِ مستقیم پر رکھا ہوا ہے ۔ یہ طبقہ مزے میں ہے۔ یہ راہ اعتدال پہ بھی ہے اور راہ راست پر بھی۔ یہ بہترین مسلمان بھی ہیں اور چنے ہوئے لبرل بھی ۔ اعتدال کی ایسی قسم کھارکھی ہے کہ قاتل اور مقتول کے بیچ سے بھی ایک راہ نکال لیتے ہیں۔ طالبان والے معاملے کی طرح احمدیوں کے معاملے میں بھی اس طبقے نے اعتدال کا ایک ثبوت درج کیا ہوا ہے۔ فرماتے ہیں، ہم ریاست کا حق مانتے ہیں کہ وہ کسی شہری سے شناخت غصب کرکے اس کو اقلیت قرار دے، مگر ہم اس شہری کے بنیادی حقوق کا تقاضا بھی کرتے ہیں۔ یعنی کوئی چھیننے والا اگر کسی شہری کا موبائل چھینتا ہے تو اسے ہم درست سمجھتے ہیں، مگر ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ موبائل چھین کر سِم واپس کردینی چاہیئے۔ اور ہماری اس سمجھ کو ہمارا احسان مانیے۔

چلیے، اس عنایت پر شکر بھیجتے ہیں۔ مشکل مگر یہ ہے کہ یہ طبقہ کبھی آپ کو سِم واپس کروانے کے لیے بھی فکر مند نظر نہیں آئے گا۔ یہ طبقہ آپ کو لاہور میں بہنے والے احمدیوں کے خون کےساتھ کھڑا نظر نہیں آئے گا۔ یہ طبقہ ان علما کی مذمت نہیں کرے گا جنہوں نے احمدیوں کو بھائی کہنے پر میاں نواز شریف کا گھیراؤ کیا تھا۔ یہ طبقہ آپ کو کبھی عمران خان کے ساتھ بھی کھڑا نظر نہیں آئے گا کہ جناب معافی مت مانگیے، عاطف میاں سے ہم نے نکاح نہیں پڑھوانا بلکہ معیشت کے شعبے میں ان سے استفادہ کرنا ہے۔ یہ طبقہ آپ کو نئے آرمی چیف کے ساتھ بھی کھڑا نظر نہیں آئے گا کہ اس ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے آپ کا حق ہے کہ اپنی اہلیت کی بنیاد پر منصب سنبھالیں۔ یہ طبقہ آپ کو کیپٹن صفدر کے منہ پر ہاتھ رکھتا ہوا بھی نظر نہیں آئے گا کہ بس کریں صاحب! یہ جو آپ کررہے ہیں یہ دراصل ہیٹ اسپیچ ہے۔ یہ طبقہ آپ کو خواجہ آصف کے ساتھ بھی کھڑا نظر نہیں آئے گا کہ امریکہ میں اگر کسی احمدی نے آپ سے ملاقات کی ہے تو یہ کوئی حرج والی بات نہیں ۔

بات یہ ہے کہ احمدیوں کو ہمیشہ دو مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ یا تو انہیں توپ کا گولہ بناکر حریف پر برسایا گیا ہے یا پھر انہیں ڈھال بناکر حریف کے حملوں سے خود کو بچایا گیا ہے۔ آپ کو جان لینی ہے تو احمدی برانڈ کی گولی سے بہتر کوئی گولی نہیں ہے۔ اگر جان بچانی ہے تو احمدی برانڈ سے بہتر کوئی زرہ بکتر نہیں ہے۔ اس صورت حال کو یار لوگ اگراسلام قرار دینے پر مصر ہیں، تو اسلام کے اس تعارف پر کسی مردودِ حرم کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

(بشکریہ: ہم سب ۔ لاہور)

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...