جرمنی میں انتخابات

  وقت اشاعت: 25 ستمبر 2017 تحریر: سرور غزالی   جرمنی

دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ دنیا کے سیاسی اکھاڑے میں  سرعت سے دوست دشمن تبدیل ہوکر نئے گٹھ جوڑ تیار ہو رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہرارے میں غیر جانب دار ملکوں کی کانفرنس میں ہندوستان دنیا کے کمزور ملکوں کی زبان ہوا کرتا تھا۔ مگرآج وہی ہندوستان امریکہ کی گود میں کھیل رہا ہے۔ اور پاکستان جو امریکہ کا سچا پکا حواری تھا۔ کسی نئے اتحاد کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ دنیا کو ہو کیا گیا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ سوال کرنا زیادہ درست ہے کہ دنیا کے باسیوں کو خوف کیا ہے۔ کیوں نہرو اور اندرا کی کانگریس کو ووٹ دینے والے ایک اقلیتی چھوٹی سی سیاسی پارٹی کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ کہ سکیولر ہندوستان آج مذہبی انتہا پسندی کو سیاسی راستہ اور ترقی کا زینہ سمجھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔

کل تک جو الزام تھا آج وہی سیاسی سوچ کا شعار بنتا جارہا ہے۔ پہلے جرمنی میں عرصہ دراز تک ہم یہ سنتے رہے کہ جرمنی ایک نان امیگریشن ملک ہے۔ مہمان کام کرنے والے آئیں گے اور چلے جائیں گے۔ پھر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اس سوچ کو تبدیل کرتی ہے۔ ایک سیاسی ڈیبیٹ کے موقع پر ہیلمٹ کوہل کے آخری دور میں، میں نے ایس پی ڈی کے اوٹو شیلی  جوبعد میں وزیر دفاع مقرر ہوئے سے بات چیت کرتے ہوئے سوال کیا کہ مجھ ایسے طلباء جو عرصہ دراز سے جرمنی میں مقیم ہیں ان کے  ویزے جاب ویزے میں کیوں نہیں تبدیل کر دیئے جاتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا ہماری حکومت آتے ہی ایسا ہوگا۔ اور پھر ہوا بھی یہی۔ اور یہی نہیں ایک دم سے نان امریگریشن کا کلمہ پڑھنے والی جماعت بھی بین الاقوامی تبدیلی حالات ، گلوبل ویلیج کے گن گانے لگی۔ اور وہ وقت بھی آیا کہ اسی کنزرویٹو پارٹی کی ایک چانسلر جرمنی کے دروازے کھول کر انتائی متنازعہ بن جاتی ہیں۔

کل ہونے والے سیاسی دھماکے کا دھؤاں ابھی صاف نہیں ہوا ہے۔  سوشل ڈیموکریٹک پارٹی عرصہ ہوا اپنی ٹوٹ پھوٹ سے نبرد آزما ہے اور اس نے اپنے پارٹی پروگرام سے تب ہی منہ موڑ لیا تھا جب اسے کامیابی سے ہمکنار کروانے والے لا فونٹین نے جھاڑن پھینک کر اپنی علیحدہ پارٹی بنالی تھی۔ ان کی ایک کتاب بھی خاصی مقبول ہوئی تھی۔ دل بائیں جانب دھڑکتا ہے۔ سوشل ڈیمو کریٹ پارٹی جو کبھی ان باہر سے آئے ہوئے جرمنی کو اپنا نیاوطن بنانے والے افراد کو گلاب کا پھول پیش کرتی تھی، وہ کل کے انتخاب میں ہارنے والوں میں سر فہرست ہے اور ان پھولوں کو پارٹی کے مزار پر چڑھارہی ہے۔ اس کے سربراہ کو جرمنی کے ایک اخبار نے کلرک ہونے کا طعنہ دیا ہے جو صرف دوسروں کے کہے پر چلتا ہے اس کی اپنی کوئی سوچ نہ ہو۔

جرمنی کی تاریخ میں بایاں بازو اتنا کمزور اور تتر بتر ہوچکا ہے کہ اس بارے میں سوچ کر ہی روح فنا ہوتی ہے۔ آخر جرمنی کدھر جارہاہے۔ دونوں بڑی پارٹیاں جو دائیں اور بائیں بازو میں توازن اور نمائیندگی کا کام کرتی رہی ہیں دونوں ہی ناکام ہو چکی ہیں۔  معاشرے اور سیاست کے محاذ پہ اپنی گرفت کھو رہی ہیں۔ گو کہ کل کے انتخاب میں گرین اور سابقہ کمونسٹ پارٹیوں نے بھی پہلے سے زیادہ ووٹ لیے ہیں۔ اور فری ڈیموکریٹک پارٹی بھی دوبارہ سے ایوان با لا بندس ٹاگ میں نمائیدگی کی شرائط حاصل کر نے میں کامیاب تو ہو گئی ہے۔ مگر ان تینوں چھوٹی پارٹیوں کو  چار سال قبل جنم لینے والی پارٹی، جرمنی کے لیے متبادل نامی پارٹی نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اور اپنی بارہ تیرہ فیصد کامیابی سے ایوان بالا کی تیسری طاقتور پارٹی بن کر ابھرچکی ہے۔

اس کامیابی نے یہاں جرمنی میں نئےخدشات جنم دینے شروع کر دیئے ہیں۔ یہ ٹولہ غیرملکیوں یعنی تاریکن وطن کے خلاف کھلم کھلا بیان بازی کرکے انتہائی دائیں بازوں کی سوچ کی پرداخت کر رہا ہے۔ جرمنی میں معاشی استحکام ہے۔ روزگار کی صورتحال بھی دیگر یورپی ممالک کی  نسبت قدرے بہتر ہے۔ پھر بھی اس پارٹی کی کامیابی کو وقتی احتجاج سمجھنا بڑی غلطی ہے۔ اس وقت تمام پنڈت سر جوڑے ان وجوہات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس انتہا پسند پارٹی کی کامیابی کا سبب بنی ہیں۔ اس پارٹی کی مشرقی جرمنی میں کامیابی کی وجہ صرف ان علاقوں کی معاشی اور سماجی صورتحال ہی نہیں بلکہ اس کی تاریخی وجوہات بھی ہیں۔ بعض علاقوں میں یہ پارٹی تیسری نہیں بلکہ دوسری کامیاب پارٹی بن چکی ہے۔ اس نے مثال کے طور پر صوبہ زاکسنی میں بیس فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ ان علاقوں کا المیہ یہ ہے کہ یہ نازی جرمنی سے آزاد ہوئے تو کمینونزم کے نام پر  جبر واستبداد کا شکار بن گئے۔ ان کے اندر جمہوری سوچ کا فقدان ہے اور وہ فرد واحد کے حامی اور پیچھے چلنے کو ہی سیاسی عمل سجھ بیٹھے ہیں۔

دوسری جانب انجیلیکا میرکل کی میں نہ مانوں نے صورتحال کافی خراب کر دی ہے۔ اب بس ایک ہی امید باقی ہے کہ یہ نئی پارٹی جلد ہی اپنے اندر کے اختلافات کے بہاؤ میں شکست وریخت کا شکار ہوجائے۔ اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کی ایک رہنما کا ایوان بالا میں اپنی تنظیم کا ساتھ دینے کی بجائے علیحدہ نشست لینے کا اعلان کرچکی ہیں۔ 

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...