دنیا میں امن کا دشمن کون

  وقت اشاعت: 25 ستمبر 2017 تحریر: چوہدری ذوالقرنین ہندل   گوجرانوالہ

موجودہ دور کی تمام بڑی ریاستی طاقتیں میرے نزدیک امن دشمن ہیں۔ شاید گزشتہ صدیوں میں کچھ اور نظام رائج ہو اور امن کے فروغ کے لئے کوششیں کی جاتی ہوں۔ اگر گزشتہ دور میں امن کو ترجیح دی جاتی تھی تو یہ دور تو پھر بالکل الٹ چل رہا ہے۔ ہر انا پرست  امن دشمن ہے۔ امن ہر ریاست کی ضرورت ہے۔ امن کو عظیم نعمت کہنا بے جا نہ ہوگا۔ امن لفظ کا واسطہ آزادی سے ہے۔ امن کسی بھی ریاست کے لئے مکمل آزادی مذہبی و ثقافتی آزادی ہے۔ امن کسی بھی ریاست کا مکمل پر سکون ہونا، کسی بھی قسم کی اندرونی و بیرونی جنگ سے پاک ہونا ہے۔ ہر قسم کی الجھن سے آزاد ہونا ، اپنے مذہب، اپنی ریاست اور اس کے قوانین میں مگن رہنا، زندگی سے مطمئن ہونا ہی امن کی علامات ہیں۔

انسان اشرف المخلوقات ہونے کے ساتھ بڑا خطا کار بھی ہے جس کی بدولت امن انسانوں سے جلد روٹھ جاتا ہے اور کبھی کسی ریاست کو مستقل طور پر نصیب ہی نہیں ہوا۔ یہ بھی درست ہوگا کہ ہر دور میں کچھ حاسد و شیطانیت پسند ریاستیں اور ان کے پیرو کار بھی موجود ہوتے ہیں جو رفتہ رفتہ اپنی لپیٹ میں باقی ریاستوں و لوگوں کو بھی لے لیتے ہیں۔ پھر رموٹ کنٹرول سے امن کی  دھجیاں اڑاتے ہیں۔ ایسی ریاستیں اور لوگ مذہب سے بالاتر ہوتے ہیں اور ہر دور میں مذہب کا لبادہ اوڑھے فرعونیت کو فروغ دیتے ہیں۔ انہیں وقت کا فرعون کہنا بجا ہوگا۔ میں کوئی عالم نہیں ،عام انسان ہوں۔ درد دل رکھتا ہوں، اور دنیا میں امن کا خواہاں ہوں۔ دنیا کے فرعونوں کی نشاندہی کرنا میرے بس کی بات نہیں، میں زندگی کا تجزیہ اپنے خیالات کے مطابق کر رہا ہوں۔ متفق ہونا نہ ہونا ضروری نہیں۔

امن کی تمہید باندھنے کا مقصد ہے کہ موجودہ دور میں عالمی امن کو لاحق خطرات پر بات کی جا سکے۔ یقین کیجئے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتا ، دیکھتا اور پڑھتا آیا ہوں کہ عالمی امن خطرات سے دو چار ہے۔ اور واقعی ایسا ہی ہے۔ عالمی سطح پر دیکھ لیں فلسطین ، برما اور کشمیر جیسی کئی ریاستیں ہیں جہاں دنیا کے نمبر دار براہ راست انسانیت کی دجھیاں بکھیرنے میں ملوث ہیں۔ امن و انسانیت کا معیار اتنا پست ہوگیا ہے کہ گلی محلوں تک اس کے اثرات نظر آتے ہیں۔ افراتفری کا غلبہ ہے، ہر طرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں انسانیت کی حدوں کو پھلانگ کر امن کی دجھیاں بکھیری جاتی ہیں۔ یقین کیجئے یہ سب وقت کے فرعونوں کی بدولت ہے۔ ورنہ انسانیت کا احساس کسی براعظم ، ملک یہاں تک کہ شخص کے دل سے نہیں نکل سکتا ہے ۔

کونسی ریاستیں شیطانیت کی پیرو کار ہیں اور کیسے پیروکار بنیں۔ تمام ریاستیں جنہوں نے اپنی برتری و نمبرداری کے چکر میں انسانوں کو قتل کروایا اور اپنے پراپیگنڈے سے دوسری چھوٹی ریاستوں میں افراتفری پھیلا کر ان کے امن و آزادی کو داؤ پر لگایا۔ شروع ہی سے امن تباہی کا باعث ایسی ریاستیں  اور نظریات بنے ہیں جنہوں نے لوگوں پر زبردستی حکمرانی اور ظلم کئے ہیں اور اپنی برتری اور بڑائی کے لئے شیطان کی بغل میں بیٹھ کر انسانیت کی دجھیاں بکھیریں ہیں۔ عرصہ دراز سے دنیا میں یہی چلتا آرہا ہے۔ درست ہے کہ اللہ رب العزت خطا کاروں کی رسیاں دراز کر دیتا ہے اور ایک دن وہ اپنی خطاؤں کے بوجھ تلے ہی دب کر مر جاتے ہیں۔  موجودہ دور کی سب بڑی ریاستی طاقت امریکہ ہے جو ٹیکنالوجی میں بھی بہت آگے ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ امریکہ نے امن کا نام استعمال کرکے کتنے لوگوں کا امن تباہ کر رکھا ہے۔ امریکہ کی مکاری و عیاری کسی چھپی نہیں۔ امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ آرڈر کے زریعے دنیا میں ٹیکنالوجی عام کرکے دنیا کی توجہ اپنے نظریات کی طرف مبذول کروائی اور افراتفری کی فضا کو عام کیا۔ اپنے شیطانیت پسندانہ عزائم کو دنیا بھر میں پھیلایا۔ لوگوں کے نظریات پر گرفت حاصل کی۔ آزادی و امن کا نعرہ لگا کر درحقیقت اپنا پیروکار بنایا اور متعصب پسند خیالات کو ترویج دی۔ دنیا کے وسائل پر قبضہ کیا اور ان کو قرضوں کی لپیٹ میں لیا۔

امریکہ نے بہت سی ریاستوں کو لالچ دے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ میڈیا پر تسلط جما کر اخلاق و عزت کا خاتمہ کیا، انا و میں کو ترجیح دی۔ ان سب کی بدولت معاشرے کا توازن بگاڑا اور افراتفری کو فروغ دیا کہ لوگ بھلائی کے بارے میں سوچ نہ سکیں۔ اخلاقی باتیں تو ہوں مگر کوئی عمل نہ کر سکے۔ انفرادی طور پر ہر شخص کسی نہ کسی پریشانی کا مارا ہو، ڈپریشن سوسائٹی کی جڑوں میں سرائیت کر جائے، زندگی برق رفتار ہوجائے اور کسی کو موقع ہی نہ ملے کہ وہ چند لمحات نکال کر معاشرے کی تشکیل کے بارے سوچ سکے۔ ہر شخص اپنی میں کا مارا ٹیکنالوجی کی قید میں زندگی بسر کرے۔ خود ہی سوچئے انسان نما امن دشمن کون ہیں۔ اوران کے مقاصد کیا ہیں۔ کیا یہ شیطان کے پیرو کار نہیں۔

یہ تمام بڑے ملک امریکہ، روس، چین، جرمنی، برطانیہ، اور بھارت سب امن دشمن ہیں۔ ان سب کی بس یہی کاوش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طریقے اپنے خطے میں موجود ریاستوں پر اپنا تسلط جمایا جائے، چاہے اس طرح انسانیت کی دھجیاں ہی کیوں نہ بکھیرنی پڑیں۔ ان سب کے طریقہ واردات ذرا مختلف ہیں، مقصد و ارادے ایک ہیں۔ ان طاقتوں سے امن کی امید اور ان کے منہ سے امن کے نعرے بے سود ہیں ، جو خود امن و انسانیت کے دشمن ہوں۔ انہیں بس یہی کہنا بجا ہوگا امن دشمن انسان نما شیطان۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...