مسئلہ ہمارا اور فیصلہ اُن کا

  وقت اشاعت: 23 اگست 2017 تحریر: فہیم اختر   برطانیہ

منگل 22اگست کو ہندوستان کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو دنیا بھر کے اخباروں اور ٹیلی ویژن پر پڑھا اور سنا گیا۔ دراصل خبر ہی ایسی تھی کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لئے یہ خبر دلچسپ اور اہم بن گئی۔ ایک تو یہ خبرطلاق کے حوالے سے تھی دوسرے مسلمانوں کے حوالے سے جس کی وجہ سے یہ خبر دنیا بھر میں لوگوں کے درمیان بحث کا موضوع بنی۔ یوں بھی آج کل کے ماحول میں مسلمانوں کے متعلق کوئی بھی خبر ہو اسے میڈیا بڑھا چڑھا کر لکھنا چاہتا ہے۔

ہندوستان کی ایک خاتون سائرہ بانو اور ان کے ساتھ چار دیگر مسلمان خواتین نے تین طلاق کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ ایک تنظیم کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ میں فروری 2016 میں ایک کیس دائر کیا گیا تھا۔ ان عوتوں کو ان کے بد ذات اور جاہل شوہروں نے روایتی طور پر تین بار طلاق کہہ کر چھوڑ دیا تھا اور جس سے تنگ آکر ان عورتوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹ کھٹایا تھا۔ آج کے دور میں اسلام کے خلاف جس طرح سے پروپگنڈا کیا جا رہا ہے، اس سے زیادہ تر مسلمان واقف ہیں ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ طلاق کے طریقہ کار کو مذاق بنا دیا گیا ہے لیکن دُکھ اس بات کا بھی ہے کہ اسلام  کے متعلق جس طرح باتوں کو توڑ موڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ان تمام باتوں کے پیچھے ایک خاص گر وپ سر گرم ہیں ۔ جو کسی نہ کسی بہانے اسلامی احکامات اور اس سے منسلک باتوں کو اس طرح پیش کر رہاہے جس سے خواہ مخواہ لوگوں کے جذبات کوٹھیس پہنچے ۔

ہندوستان شاید واحد ایسا ملک ہے جہاں ایک مسلم شوہر صرف تین بار طلاق کہہ کر اپنی بیوی کو چھوڑ سکتا ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں 35 سالہ سائرہ بانو جو کہ دو بچوں کی ماں ہیں اور جس کا تعلق اتر کھنڈ سے ہے اپنے والدین کے گھر میڈیکل علاج کے لئے پہنچی تو انہیں ان کی شوہر کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جسے طلاق نامہ کہا جارہا ہے۔ اور جس میں انہوں نے لکھا کہ ہم تمہیں’ طلاق‘ دے رہے ہیں۔ اس کے بعد سائرہ بانو پندرہ سال تک اپنے شوہر کو تعاقب کرتی رہی جوشاید الہ آباد میں مقیم ہے۔ اور سائرہ بانو کو اب تک اس سے ملنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ اس کے بعد فروری میں سائرہ بانو بے بس اور مایوس ہوکرکر سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کرکے اس بات کی مانگ کی  کہ تین بار طلاق  کہہ کر طلاق دینے کی روایت پر مکمل طور پر پابندی لگا دی جائے ۔ کیونکہ مسلمان شوہر اپنی بیویوں کو اپنی جائداد سمجھتے ہیں۔

تاہم پچھلے کئی برسوں سے مسلم عورتیں تین بار طلاق کہنے کی روایت کے خلاف تحریک چلا رہی ہیں۔ اس سلسلے سے آئے دن ٹیلی ویژن پر بحث بھی ہورہی ہے۔ لیکن اب تک کوئی ان باتوں پر نہ تو دھیان دے رہا ہے اور نہ ہی توجہ جس سے صورتِ حال بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔ اور تو اور جدید ٹیکنالوجی نے اس روایت کو اور بھی آسان بنا دیا ہے جب بے ایمان مسلم مرد اس ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا کر ٹیکسٹ، پیغام، پوسٹ، ٹیلی فون کے ذریعہ طلاق دے رہے ہیں۔ کچھ مثالیں ایسی ہیں جس میں مرد اسکائپ ، واٹس اپ اور فیس بُک کے ذریعہ بھی تین بار طلاق دے کر غائب ہوجاتے ہیں۔

اس معاملے میں ممبئی کی ایک تنظیم بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن نے ایک رپورٹ جاری کرکے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ لگ بھگ سو طلاق ایسے ہوئی ہیں جن میں مرد تین بار طلاق کہہ کر اپنی بیوی کو چھوڑ چکے ہیں۔ اس تنظیم کی بانی پروفیسر زکیہ سومن کا کہنا ہے کہ 2007 سے اب تک ہزاروں عورتوں نے ان کی تنظیم سے رابطہ کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہروں نے زبانی تین بار طلاق کہہ کر انہیں چھوڑ دیا ہے ۔ جس سے ان عورتوں کی زندگی عذاب ہوگئی ہے اور وہ بے گھر اور مفلس ہوگئی ہیں۔ تاہم ایسا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کو دیگرکٹّر پسند ہندو جماعتوں کی پشت پناہی مل رہی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کی ممبر اسما زہرا نے اس روایت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ حرام ہے ۔ لیکن اس بات کا بھی اصرار کیا کہ اب بھی مسلمانوں میں طلاق کی شرح کم ہے۔ تاہم اسلام دشمنں نے اس معاملے کو جان بوجھ کر ہوا دی ہے۔ اسما زہرا نے یہ بھی کہا کہ موجودہ مودی حکومت اوربھارتیہ جنتا پارٹی تین بار طلاق کہنے کے معاملے کے ذریعہ ہمارے مذہب میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔ جن کا مقصد یونیفارم سول کوڈ کو متعارف کرانا ہے۔ اسما زہرا نے مزید کہا کہ تین بار طلاق کہنے کی روایت پر پابندی لگانا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اختیار میں بھی نہیں ہے کیونکہ پرسنل لاء بورڈ ایک اخلاقی باڈی ہے اور ہم لوگوں کو صرف اس کی تعلیم ہی دے سکتے ہیں۔

اگرچہ تین بار طلاق کہنے کا رواج کئی برسوں سے استعمال کیا جارہا ہے لیکن یہ طریقہ قرآن اور شرعیہ میں کہیں نہیں پایا جاتا ہے۔ اسلامی اسکالر کا کہنا ہے کہ قرآن نے طلاق دینے کے قواعد کو صاف طور پر واضح کیا ہے اور اس میں میاں اور بیوی کو تین ماہ کا وقت دیا جاتا ہے تا کہ طلاق کے متعلق وہ عکاسی اور مفاہمت کر سکیں۔ اسلام میں علیحدگی کے چار طریقے کار ہیں۔ شوہر جب بیوی سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے تو اسے’ طلاق ‘ کہتے ہیں۔ بیوی اگر اپنی مرضی سے علیحدہ ہو تو اسے’ خلع ‘ کہتے ہیں۔ جب شادی تحلیل ہو جائے تو اسے ’فسخ نکاح‘ کہتے ہیں اور طلاق کے اختیار کو اگر مرد اپنی بیوی کے سپرد کر دے تو اس کا یہ فعل’ طلاق تفویض‘ کہلائے گا۔

میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات کوآئندہ زندگی میں توڑنے کا نام طلاق ہے۔ اسلام نے طلاق کو اچھا فعل قرار نہیں دیا بلکہ بہت برا فعل کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا: الطلاقُ مرتنٰ فاِمساکُ بمعروفِ اَو تَسر یحُ بِا حسان(البقرہ ۔ ۲۲۹) ترجمعہ : طلاق دو مرتبہ ہے پھر یا تو اچھے طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ طلاق کے متعلق حدیث ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں طلاق سب سے زیادہ نا پسند ہے۔ (ابو داؤد) اسلام میں شادی اور طلاق کے متعلق بہت ہی صاف ستھری بات بتائی گئی ہے۔ لیکن ہندوستان میں تین بار طلاق کہنے کی رسم کو اس طرح الجھایا جارہا ہے جس سے اس معاملے کا حل کم اور سیاست زیادہ دکھِ رہی ہے۔ یوں بھی طلاق کے معاملے میں زیادہ تر مسلمانوں کو بہت کم علم ہے جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ طلاق ایک بدناماور ممنوع مانی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر طلاق کی کاروائی غلط طریقے سے ہوتی ہے۔ اس کے باوجود یہ عمل اثر انداز تو ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات طلاق شدہ خاندان اور ان کے رشتہ داروں پر تباہ کن ہوتے ہیں۔  اس کے علاوہ درست طریقے سے طلاق نہ ہونے کی وجہ سے مفاہمت، عکاسی اور مہر جیسی چیزوں پر عمل درآمد نہیں ہو پاتا۔ جو کہ اسلامی شرعیہ کے مطابق ضروری ہے۔

میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ ہندوستان کے زیادہ تر مسلمانوں میں پیدائش سے لے کر شادی اور موت کے سفر تک کئی ایسے رسوم کا ہونا لازمی پایا ہے جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ نا خواندہ اور گمراہی کا شکار ہے۔ جو اب بھی گمراہ کن اور فرسودہ باتوں پر یقین کرکے اسلام کی خوبصورت اور عملی باتوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو سننے کے بعد مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ نے دراصل ان مجرموں کے خلاف تین بار طلاق کہنے کی روایت کو غیر آئینی بتایا ہے جو اسلام مذہب سے نابلد ہیں۔  سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے طلاق کے طریقے کار کو غلط نہیں ٹھہرایا ہے۔ لیکن اس خبر کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے جس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ سپریم کورٹ مسلمانوں کے شرعی معاملے میں ٹانگ اڑا رہی ہے۔

میں ہندوستانی مسلمانوں سے گزارش کروں گا کہ اب وقت آچکا ہے کہ ہم سب متحد ہو کر اپنے مسائل پر بحث کریں اور اس کا حل علماء اور دینی ماہرین کے ذریعہ کریں۔ تاکہ ہماری کمزوری کا فائدہ اٹھا کر پھر کوئی مسئلہ سپریم کورٹ نہ پہنچ جائے اور ہم ایک بار پھر اپنی بے بسی کا ماتم کرتے رہیں۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...