نواز شریف اور قانون کا احترام

  وقت اشاعت: 22 اگست 2017 تحریر: غلام یاسین بزنجو   کوئٹہ

ملک کے تین مرتبہ منتخب سابق وزیر اعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے عدلیہ کے ہاتھوں نااہلی کے بعد کہا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کو نہیں مانتے مگر عمل درآمد ضرور کریں گے۔ مگر نااہلی کے فوراً بعد سابق وزیر اعظم نے ایسے طریقے اپنائے جس سے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ ملک میں کہیں افراتفری کا ماحول پیدا نہ ہوجائے ۔ کیونکہ نیب کی جانب سے سابق وزیراعظم اور ان کے بچوں کو طلب کیا جارہا ہے ۔ مگر اس کے باوجود وہ پیش ہونے کے لئے تیار نہیں نظر آتے ۔ جس سے ادارے بے توقیر ہورہے ہیں ۔

پیر کو پنجاب میں وکلا نے عدالت کے گیٹ توڑ کر ججوں کو یرغمال بنایا۔ ایسے لگ رہا ہے کہ تین دفعہ وزیراعظم منتخب ہونے والے نوازشریف کی طرف سے اداروں کی بے عزتی اور قانون کی پاسداری نہ کرنے سے اب وکلا نے سوچا ہے کہ اب قانون کی کیا مجال ہے کہ ان کو ہاتھ لگائے ۔ اگر قانون ملک کے سابق وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو وہ بھی جو جی چاپہے کرسکتے ہیں۔ نواز شریف کی طرف سے قانون کی دھجیاں اڑانے کے بعد بھی متعلقہ اداروں کی خاموشی سے ملک میں موجود مختلف طبقات میں قانون کی گرفت کمزور ہورہی ہے۔  اسی طرح لوگ خود کو قانون سے بالا تر سمجھیں گے تو یہی خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں  لاقانونیت کی مثال قائم  ہوگی ۔ سیاستدان اپنی انا اور سیاسی بقا کی خاطر ملک اور اداروں کو کمزور کرنے کے درپے پر ہیں ۔ جمہوریت کے نام پر یہ شعبدہ باز سیاستدان ملک کی اعلیٰ عدلیہ اور دیگر اداروں کو بلیک میل کر رہے ہیں ۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اب اپنی سیاست کی پرواہ نہیں۔ وہ ان اداروں کو  سبق سکھانے اور مستقبل میں ان کے خلاف حق سچ کا جرات مندانہ فیصلہ نہ کرنے کی گرانٹی مانگ رہے ہیں ۔ نواز شریف حقیقت میں جمہوری ذہنیت کے مالک ہونے کی بجائے آمرانہ ذہنیت کے مالک ہیں ۔ ایک سابق فوجی آفیسر نے ایک ٹی وی پروگرام میں دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ میاں نواز شریف سازشی ذہنیت کے مالک ہیں جنہوں نے ملک کے پانچ منتخب وزرائے اعظم کے خلاف سازش کرکے ان کی حکومتیں ختم کر دی تھیں ۔ بقول سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے نواز شریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو غرور و تکبر کے چادر اوڑھ کر کسی کو کچھ نہیں سمجھتے ۔ جونہی اقتدار کی کرسی سے الگ ہوتے ہیں تو رونا دھونا شروع کردیتے ہیں ۔  نواز شریف کی انہی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اب لوگ ان کی طرز سیاست تنگ آچکے ہیں ۔ اس رویہ کے باعث نواز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان وقتاً فوقتاً جنگ ہوتی رہی ۔ حالانکہ نواز شریف خود اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں ۔ ضیا الحق نے میاں صاحب کو سیاست کا راستہ دکھایا تھا۔ آج وہ جمہوریت کی آڑ میں آمریت کو پروان چڑھانے میں کوشاں ہیں ۔

بدقسمتی یہ ہے کہ نواز شریف کے مدمقابل کوئی دوسرا سیاستدان نہیں ہے۔ عمران خان کی غلط حکمت عملی اور گالم گلوچ نے ان کے لئے راستے محدود کئے ہیں ۔ زرداری صاحب کی سیاست نے پیپلز پارٹی کو ملک گیر جماعت سے سندھ کی پارٹی بنا دی ہے ۔ سب جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کو برا بھلا کہنے سے گریز نہیں کرتیں ، پھر اسی سے کامیابی کے سرٹیفکیٹ بھی مانگتی ہیں ۔ میاں نواز شریف اس ضدی بچے کی طرح ہیں جو جنوں والی فلم بھی دیکھنے کا متمنی  ہے اور ڈرتا بھی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے پر سوار ہو کر منزل مقصود پر پہنچنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اس کے خلاف بھی ہیں ۔  بہرحال آئندہ چند ہفتے پاکستان کی سیاست کے لئے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کون، کون سا نعرہ لے کر انتخابی میدان میں اترتا ہے۔
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...