نواز شریف کی خطرناک حکمت عملی

  وقت اشاعت: 22 اگست 2017 تحریر: سید تاثیر مصطفیٰ   لاہور

معزول وزیراعظم نوازشریف اور اُن کے بیٹوں نے جمعہ کے روز نیب حکام کے سامنے پیش ہونے سے انکار کرکے ایک نئی لڑائی کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب حکام کا مسلسل انتظار اور آخر کار شریف خاندان کا نیب حکام سے سوالنامہ مانگنا اس رویے کا اظہار ہے جس میں اشرافیہ اپنے آپ کو کسی جگہ پر جواب دہ نہیں سمجھتی۔ شریف خاندان کا یہ رویہ اس غلط فہمی کا اظہار بھی ہے جس کے تحت یہ خاندان اب بھی اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھتا ہے۔

حکمران خاندان پانامہ کے شروع ہونے سے لے کر جے آئی ٹی میں پیشیوں اور سپریم کورٹ کے فیصلے تک اس گھمنڈ کا شکار رہا کہ یہ ادارے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ابتدا میں یہ تاثر بھی دیتے رہے کہ وہ ان اداروں کے سامنے پیش ہونے کے پابند نہیں ہیں لیکن جب کارروائی اور فیصلے ان کی توقعات کے خلاف آئے تو پوراحکمران خاندان فرسٹریشن کا شکار ہو گیا۔ مریم نواز نے وزیراعظم ہاؤس سے جاتے ہوئے ملازمین سے کہا، ہم دوبارہ یہاں آئیں گے، حالانکہ یہ الٹی گنگا اب کبھی نہیں بہے گی۔

حسین اور مریم نواز جے آ ٹی ٹی میں پیشی کے بعد پوچھتے تھے کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہم پر الزام کیا ہے۔ یہ انتہائی بچگانہ سوال تھا، آپ اس کیس کا ملک کی سب سے بڑی عدالت کے ساتھ ساتھ عوام اور میڈیا کی عدالت میں سامنا کر رہے ہیں اور پھریہ سوال بھی کر رہے ہیں۔ آپ کا یہ سوال درست ہے تو پھر آپ عدالت اور جے آئی ٹی کو کن معاملات پر اپنا موقف دیتے رہے ہیں۔ مریم اور حسین کے سوالات کو تو لوگوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا  لیکن جب یہی سوال تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص نے کیا تو سب کو سمجھ آ گئی کہ دراصل یہ لوگ اداروں کی بالادستی کے قائل ہی نہیں۔ ان کا اصل سوال یہ ہے کہ ان اداروں کو جنہیں ہم نے بنایا ہے، یہ جرأت کیسے ہوئی کہ وہ ہم سے سوال وجواب کریں، ہمارے بارے میں تفتیش کریں۔ یہ اُن کا اختیار ہی نہیں ہے لیکن خوش قسمتی سے ہمارے ادارے اپنی بہت سی خرابیوں کے باوجود اب میچور ہو گئے ہیں۔ چنانچہ نہ توجے آئی ٹی نے اس کا نوٹس لیا نہ سپریم کورٹ نے برا منایا۔

سپریم کورٹ نے عرصے کے بعد ایک ایسا حوصلہ مندانہ فیصلہ دیا جس نے اس کے کئی سابقہ دھونے دھو دیئے۔ نظریہ ضرورت کے تحت ہر حاکم کو رعایت دینے، آمروں کوکسی استدعا کے بغیر بعض اقدامات کی اجازت دینے اور پنجاب کے مفادات کا تحفظ کرنے جیسے الزامات کی زد میں آئی ہوئی عدلیہ نے نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے میں یہ سب حساب برابر کردیا۔ ایک طاقت ور جماعت اور حاکم کی پروا کیے بغیر اس کے خلاف فیصلہ دیا اور بنچ کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے تین ججوں نے چھوٹے صوبوں کے دو ججوں کے ساتھ پنجاب سے آنے والے وزیراعظم کے خلاف فیصلہ سنا دیا، جسے نوازشریف اور اُن کے حواریوں نے قبول نہیں کیا۔ حالانکہ قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی خودمختاری کا تقاضا تھا کہ مسلم لیگ نون اس فیصلے کو قبول کرتی اور اسے تبدیل کرانے کے لیے قانونی راستے اختیار کرتی۔ لیکن اُس نے وہ طریقے اپنائے جن سے عدلیہ عوام میں متنازع ہو اور عوام کی نظر میں اعلیٰ عدلیہ قصوروارٹھہرے۔

یہ نوازشریف اُن کے خاندان اور جماعت کی فرسٹریشن تھی۔ اُن کے تینوں ادوار میں ہر سطح کی عدلیہ نے بعض ایسے فیصلے دیئے جن پر ملک کی سیاسی جماعتوں اور بعض دوسرے طبقات کے تحفظات تھے۔ اُس وقت تو ان حکمرانوں نے اس پر کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی توہین عدالت میں معزولی، ممتاز قادری کی عدالتوں سے سزائے موت اور اس طرح کے دوسرے کیسوں میں سیاسی و دینی جماعتوں اورعوام کے مختلف طبقات نے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ اُس وقت نوازشریف عدلیہ کے ساتھ تھے، مگر جب فیصلہ اپنے خلاف آیا تو آپے سے باہر ہو گئے۔۔۔ کیوں؟ اس لیے کہ آپ کو انصاف یا عدلیہ کی بالادستی منظور نہیں۔ آپ کو تو اپنی سپرمیسی چاہیے، چاہے سب اداروں کو روند کر ایسا کرنا پڑے۔

اسلام آباد سے ریلی لے کرلاہور آتے ہوئے نوازشریف باربار یہ سوال کرتے رہے کہ بتایا جائے کہ انہیں کیوں نکالا گیا۔ جہلم آ کر اُن کا موقف تھا کہ انہیں 20 کروڑ عوام نے منتخب کیا ہے، پانچ معزز افراد (جج صاحبان) انہیں نہیں نکال سکتے۔ حالانکہ اس کا عملی جواب اُن کے سامنے تھا کہ پانچ معزز جج آپ کو نکال چکے ہیں، اس لیے آپ وزیراعظم ہاؤس کی بجائے جی ٹی روڈ پر ہیں اور سزا پر شرمندہ ہونے کی بجائے اُس چور کی طرح جلوس لے کراپنے گھر جا رہے ہیں جسے سزا پوری ہونے پر اس کے دوست احباب ہار پہنا کر ڈھول بجاتے ہوئے گھر لاتے ہیں۔ نوازشریف نے جی ٹی روڈ پر باربار عدلیہ کو تنقید کانشانہ بنایا۔ یہ جہاں اُن کی فرسٹریشن کا اظہار ہے وہیں اس خفیہ خواہش کی نشان دہی بھی ہے کہ وہ ہر ادارے کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ادارے فیصلے کرتے ہوئے اُن سے پوچھیں، کیونکہ وہ چیف ایگزیکٹو اور بیس کروڑ عوام کا مینڈیٹ لے کر آئے ہیں۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نوازشریف کے پاس بیس کروڑ کا نہیں، ڈیڑھ کروڑ عوام کا مینڈیٹ ہے اور اس مینڈیٹ کا حال یہ ہے کہ عمران خان نے صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، ان میں سے تین پر دھاندلی ثابت ہو گئی۔ دو میں دوبارہ انتخاب بھی ہو چکا۔ ایک حلقہ اب تک حکم امتناعی پر چل رہا ہے جبکہ چوتھے حلقے کی دھاندلی آیندہ انتخاب میں سامنے آ جائے گی، جب خواجہ آصف اس حلقے سے بری طرح ناکام ہوں گے۔ دوسرے مینڈیٹ کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کچھ بھی کریں، کرپشن کریں، اقامہ لیں اور اثاثے ظاہر نہ کریں اور آپ کے خلاف اس لیے کارروائی نہ ہوکہ آپ کے پاس مینڈیٹ ہے۔ ایسے تو پورا نظام ہی تلپٹ ہو جائے گا اور دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا۔ مینڈیٹ کا احترام ضروری، لیکن قانون کا احترام اس سے بھی ضروری ہے۔ جے آئی ٹی میں پیشی اور اُن کے رویے پر بھی شریف خاندان کو اعتراض تھا حالانکہ روزانہ ہزاروں لوگ اس صورتِ حال سے اس طرح گزرتے ہیں کہ اُن کی توہین بھی ہوتی ہے، اُن پر ظلم بھی کیا جاتا ہے اور انہیں انصاف بھی نہیں ملتا۔ اس جانب توحکمران خاندان نے کبھی توجہ نہیں دی۔ نہ اداروں میں ظلم کو روکا نہ انصاف کی فراہمی اور نہ جلد فراہمی کو یقینی بنایا۔

فرسٹریشن سے شریف خاندان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ وہ سیاسی ہی نہیں عملی طور پر تنہا رہ جائیں گے۔ اُن کے دودھ پینے والے سارے مجنوں اداروں سے کمپرومائز کرلیں گے اور نوازشریف کو اداروں کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ اُن کے پاس اپنی صفائی کے لیے وافر مواد اور شہادتیں موجود نہیں ہیں۔ بہتر ہوگا کہ نوازشریف موجودہ حالات کا درست ادراک کریں، فرسٹریشن سے باہر آئیں اور مشکلات کا مقابلہ کریں۔ نوازشریف ایسی صورت پیدا نہ کریں جس میں پورا سسٹم ہی لپٹ جائے۔ اگراس طرح کا کوئی حادثہ ہوا تو اس کے ذمہ دار نوازشریف اوران کا خاندان ہوگا اور ملک ایک بار پھر بہت پیچھے چلا جائے گا۔

معزول حکمران جس راستے پر چل رہے ہیں، وہ ایک خطرناک راستہ ہے۔ اس ٹولے نے عدالتی فیصلے کے فوری بعد عدلیہ کو نشانہ بنایا۔ پھر اس کی بی ٹیم نے فوج کو پس پردہ کارروائی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اب پارلیمنٹ کو عدلیہ کے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ یہ سب عملاً اسٹیبلشمنٹ کو مشتعل کرنے کی کوشش ہے۔ مسلم لیگ نون اور اس کی قیادت اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کی نہ تاریخ رکھتی ہے نہ مزاج۔ اس لیے وہ اداروں کے درمیان تصادم کرانے کی کوشش کر رہی ہے اور سمجھتی ہے کہ شاید اس طرح اس کی جان بچ جائے۔ حالانکہ نہ عدالتی فیصلہ واپس ہو سکتا ہے نہ اسٹیبلشمنٹ اپنے اقدامات (اگر کوئی ہیں) واپس لے سکتی ہے اور نہ کوئی عوامی ریلا نوازشریف کو وزیراعظم ہاؤس میں داخل کرا سکتا ہے۔

شاید اس لیے اپنی فرسٹریشن کو دور کرنے کے لیے اداروں کو تصادم کی راہ پر ڈال کر اور عوام کو اشتعال دلا کر کوئی بڑا ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ شاید اُن کا فیصلہ ہے کہ:
گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا
جودل میں ہے اب اُس کا تذکرہ کرنا پڑے گا
نتیجہ کربلا سے مختلف ہو یا وہی ہو
مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا

لیکن وہ کھل کرتوان کا نام نہیں لے رہے جن کو وہ ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اسے سیاسی زبان میں کچھ بھی کہیں عام آدمی اسے منافقت کہتا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...