دہشت کی نئی لہر

  وقت اشاعت: 22 اگست 2017 تحریر: خالد محمود رسول   لاہور

ٹی وی دیکھتے ہوئے بریکنگ نیوز پر نظر پڑی، سپین کے شہر بارسلونا کی مشہور سیاحتی رامبلا اسٹریٹ پر ایک گاڑی سیاحوں کے ہجوم پر چڑھ دوڑی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یورپ میں ایسے واقعات تواتر سے ہوئے اور خوفناک ثابت ہوئے، اسی لئے سنبھل کر دیکھنے بیٹھ گئے کہ یہ حادثہ تھا یا ایک سوچی سمجھی دہشت گردی ۔ تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئیں تو اندازہ ہو گیا کہ یہ حادثہ نہ تھا بلکہ ایک دہشت گرد ی کا واقعہ تھا۔ اس واقعے میں تیرہ لوگ جان سے گئے اور 130 زخمی ہوئے۔ کچھ دیر بعد اسپین کے ایک دوسرے شہر میں پانچ اشخاص نے اسی انداز میں مجمع پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی۔ اس وقت تک سیکیورٹی الرٹ ہو چکی تھی ، فوری جوابی کاروائی میں پانچوں مارے گئے لیکن اس دوران ایک ہلاک اور چند زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کی گونج ابھی باقی تھی کہ فن لینڈ میں ایک شخص نے چاقو سے دو کو ہلاک اور آٹھ افراد کو زخمی کر دیا۔

امریکہ میں نائین الیون کے بعد یورپ میں بھی مسلسل دہشت گردی کے واقعات ہوتے آئے ہیں ۔ گزشتہ چند سالوں سے امریکہ میں تو کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا لیکن یورپ میں تواتر کے ساتھ ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، بیلجئم اور سپین سمیت بہت سے ملکوں میں یہ واقعات رونما ہوئے۔ ہمیں نائین الیون سے قبل اور بعد میں یورپ جانے کا کئی بارموقع ملا۔ دیکھا یہی کہ ان واقعات کے بعد مسلمانوں کی سفری مشکلات دو چند ہو گئیں۔ ہمیں اسپین پہلی بار 1992 میں جانے کا موقع ملا۔ اس وقت سیکیورٹی خدشات نے ابھی اتنے پاؤں نہ پسارے تھے۔ پرتگال کے ساحلی شہر اوپورتو سے ایک مقامی اور ایک برطانوی کاروباری رفیق کے ساتھ بارسلونا پہنچے۔ زبان اور شہر سے ناشناس لیکن پرتگالی ہمسفر ہسپانوی زبان گزارے لائق بول لیتا تھا۔ برطانوی ہمسفر ہسپانوی تو نہ جانتے تھے لیکن بارسلونا کئی بار آ چکے تھے اور اس کی مشہور جگہوں سے خوب واقف تھے۔ دونوں نے مل کر طے کیا کہ ہمارا قیام بارسلونا کی مشہور زمانہ اسٹریٹ رامبلا کے نزدیک ہوگا۔ گو ہوٹل بہت مہنگا اور کمرے سمیت سہولیات واجبی سی تھیں لیکن دونوں ہمراہیوں نے یہ کہہ کر ہمیں مطمئن کر دیا کہ رامبلا اسٹریٹ کے نزدیک رہائش مہنگی ضرور ہے لیکن ایسی شاندار اور بارونق جگہ کے لئے یہ قیمت کچھ زیادہ نہیں۔

یہ رامبلا اسٹریٹ اور بارسلونا کے ساتھ ہمارا پہلا تعارف تھا۔ بارسلونا آبادی کے اعتبار سے یورپ کا چھٹا سب سے بڑا شہر ہے۔ موسم گرما میں اس کے خوشگوار موسم اور اس کے طویل اور شفاف ساحلوں پر یورپ سمیت دنیا بھر سے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں۔ ہم نے بہتیری دنیا گھومی ہے لیکن رامبلا اسٹریٹ کا حسن انوکھا اور منفرد پایا۔ یہ اسٹریٹ سوا کلو میٹر طویل ہے۔ اسٹریٹ کے دونوں اطراف بغلی سڑکیں رواں دواں ہے جبکہ درمیان میں ایک کشادہ جگہ پیدل چلنے والوں ، قسم ہا قسم کے اسٹالز اور مجمع لگا کر اپنا فن دکھانے والوں کے لئے مخصوص ہے ۔ اس اسٹریٹ کی کشادگی اور ہرے بھرے درختوں کے جھرمٹ نے اس اسٹریٹ کو خاص پہچان دے رکھی ہے۔ آس پاس کی سڑکوں اور گلیوں میں ریستوران، Pubs، سووینئر شاپس سمیت ہر دلچسپی کی دوکانیں ہیں۔ کچھ ہی فاصلے پر چند بڑے شاپنگ مالز بھی ہیں۔ یوں تو دن بھر یہاں رونق رہتی ہے لیکن سورج ڈھلتے ہی یہاں کی رونق بڑھنی شروع ہو جاتی ہے۔ شام کے ساتھ ہی روشنیوں کا سیلاب آ جاتا ہے ۔ ہجوم اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کھّوے سے کھوا چھلنے کے محاورے کا مطلب سمجھ آ جاتا ہے۔ ایسے میں جیب کترے بھی سرگرم رہتے ہیں اور رنگ برنگے بہروپئے بھی۔ مجمع لگا کر اپنے فن کا اظہار کرنے والے بھی جگہ جگہ ملتے ہیں۔

ہم نے اسی پہلے سفر میں ایسے ہی ایک مجمعے میں بولیویا کے ایک میوزک گروپ کو سنا۔ بانسری جیسا ساز تھا جو ایک بانسری کی بجائے ایک ساتھ جڑے ہوئے چھ سات چھوٹے سے بڑے سائز کی بانسریوں پر مشتمل تھا۔ اس بانسری نما سازکو باجے کی طرح دائیں سے بائیں یا ایک فنکارانہ امتزاج کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے ۔ پہلی بار اس ساز اور اس پر بجنے والے نغمے کو سنا تو سنتے ہی رہ گئے۔ عجیب لے ، سوز اور منفرد آواز تھی۔ میوزک گروپ کا ایک ساتھی اس دوران اسی گانے کی سی ڈی بھی شائقین کو فروخت کے لئے پیش کرتا تھا۔ ہم نے دو مختلف سی ڈیز لیں اور کئی سال بعد بھی کبھی کبھار سنتے رہے۔

اس سفر میں ہمارے ہم سفر پرتگالی کی زبان دانی اور برطانوی رفیق کی جہاں گردی کے باوجود ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔ کھانا کھانے کے لئے ایک ریستوران میں گئے۔ رش کا یہ عالم کہ میز ملنا مشکل، آدھ پون گھنٹہ انتظار کے بعد میز ملا۔ اب کھانا آرڈر کرنے کا مرحلہ شروع ہوا۔ شاطر اور گھاگ ویٹر گھیر گھیر کر مہنگی ترین ڈشز کی طرف لاتا۔ ہمارے ہم سفروں نے اپنے تئیں جو بھی ڈش تجویز کی ، ویٹر نے چرب زبانی کی مہارت سے اسے کسی اور ڈش کی صورت منوا لیا۔ ہمیں یاد ہے اس نے ہمارے دوستوں کے نہ نہ کرتے Oyster کی ایک ڈش یہ کہہ کر زبردستی شامل کروا دی کہ یہ ان کے ریستوران کی پہچان ہے۔ اس جارحانہ سیلز مین شپ کے بعد کھانا آیا تو اندازہ ہوا کہ ضرورت سے کہیں زیادہ آرڈر ہو گیا۔ کھانا نہایت لذیذ اور عمدہ تھا۔ سیر ہو کر کھایا اور رامبلا اسٹریٹ کی خصوصی Oyester ڈش کو بھی خوب انجوائے کیا مگر جب بِل آیا تو ذائقے اور مزے کی سب تعریفیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ توقع سے بِل دو گنا نکلا۔ اْسی ویٹر کو بلایا کہ کہیں آرڈر لکھنے میں کوتاہی تو نہیں ہوئی لیکن اس شاطر نے بقول شخصے پروں پر پانی نہ پڑنے دیا۔ ہمارے ساتھی نے بحث کی کوشش کی تو اس کے جواب کی آواز اس قدر بلند تھی کہ ساتھ والی میزوں سے کئی ایک نے ناگوار نظروں سے دیکھا۔ ایسے میں مجبوراٌ پوری رقم ادا کی اور باہر نکل آئے۔ بھاری بل ادا کرنے کا غم غلط کرنے کے لئے ہم نے رامبلا اسٹریٹ پر مٹر گشت شروع کردی۔ سیاحوں کی رونق اور روشنیوں کے سیلاب میں اپنے آپ کو یوں ضم کر دیا کہ اس شاطر ویٹر کی حرکت کی کسک تو یاد رہی لیکن اس کے بعد ہم تھے اور رامبلا اسٹریٹ۔

رامبلا اسٹریٹ کے ساتھ ایک سیاحتی انس کی وجہ سے ہم نے میڈیا پر تفصیلات دیکھنی شروع کر دیں۔ حملے کے فوراٌ بعد میڈیا نے مانوس انداز میں ایک ایک تفصیل کو بیان کیا ۔ حملہ آور کون تھے۔ کہاں سے آئے۔ بعد ازاں چھاپوں اور گرفتاریوں کی تفصیلات، ان کے رشتہ داروں کی معلومات ، دنیا بھر کے رہنماؤں کے اظہارِ یک جہتی کے بیانات اور اجتماعات کی بھرپور کوریج۔ مگر حسبِ معمول اس کوریج میں ان وجوہات کا دور دور تک ذکر نہیں تھا جو دنیا بھر میں دہشت گردی کی سونامی کا باعث بنے اور ابھی تک بن رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگوں اور مسائل کی تین دِہایوں تک کوریج کرنے والے مشہور برطانوی صحافی رابرٹ فسک کا یہ کہنا ہے کہ مغرب کے میڈیا کی یہ عجیب خود انکاری ہے کہ وہ ہر اس سوال سے گریزاں ہے جس میں یہ نکتہ اٹھایا جاتا ہے کہ آخر یہ دہشت گردی کیوں جنم لے رہی ہے۔ شاید اس لئے کہ یہ سوالات ایک صدی سے جاری ان پالیسیوں کے تضادات اور سیاسی منافقت کو زیر بحث لا سکتے ہیں جس نے مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں دہشت گردی کی فصل کاشت کی۔

دہشت گردی کی جنگ میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ ساتھ اِس خطے میں افغانستان اور پاکستان بھی اس دہشت گردی کا شکار ہیں۔ پاکستان نے اس جنگ میں ستر ہزار سے زائد جانیں قربا ن کیں۔ معاشرے کے تار و پود ہل گئے۔ بھلی چنگی اکونومی لڑکھڑا کر رہ گئی لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کی جانب سے اور بالخصوص اس جنگ کے سرخیل ممالک کی طرف سے پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا گیا اور نہ اس جنگ میں لگے کاری زخموں کی قدر کی گئی۔ گزشتہ ہفتے جب امریکن سنٹرل کمانڈ کا وفد پاکستان کے دورے پر آیا تو پاکستان آرمی چیف کو کہنا پڑا کہ کسی بھی مالی امداد سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ پاکستان کی ان قربانیوں کو تسلیم کیا جائے۔ ان کی یہ بات اس پس منظر میں بہت غور طلب ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان کی پالیسی کے جائزے میں پاکستان سے ڈومور کے ایک اور تکلیف دہ دور کا آغاز کرنے پر غور کر رہی ہے۔

پاکستان کے اکثر بڑے شہروں کی رامبلا اسٹریٹ اس کرب اور اذیت سے بار بار گزری جس میں اسپین کے شہر بارسلونا کی رامبلا اسٹریٹ گزشتہ ہفتے گزری۔ اس لئے ہمیں اس اذیت کا ادراک بھی ہے اور یہ دعا اور خواہش بھی کہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کی رامبلا اسٹریٹ پر دہشت کا سایہ دوبارہ کبھی نہ آئے۔ 
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...