ستر سالہ جشن ۔ قومی شعور کا امتحان

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017 تحریر: شیخ خالد زاہد   کراچی

پاکستانی قوم پچھلے ستر سالوں سے مسائل اور امتحانات سے نمٹتی چلی  آرہی ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم ہمیشہ مسائل سے نمٹنے کیلئے وقتی فیصلے کئے۔ ہم نے کبھی بھی مکمل نجات کی جانب دھیان نہیں دیا۔ جس کی وجہ سے وہ مسائل پھر اسی طرح سے ہمیں ستاتے چلے آرہے ہیں ۔ سیلاب ہر سال ہی ہمارے علاقوں میں تباہی مچاتے ہیں۔ ہم ہر سال ان سیلابوں کی وجہ سے کتنا نقصان برداشت کرتے ہیں۔ ہم ہر سال وقتی سدِ باب کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر کوئی با قاعدہ انتظام نہیں کرتے۔ کوئی ڈیم نہیں بناتے۔ اپنے نہری نظام پر دھیان نہیں دیتے۔ کیونکہ عوام یہ مطالبہ ہی نہیں کرتے۔ بس جیسے بھی ہو وہ وقت گزر جائے ۔

دہشت گردی کو لے لیجئے۔ آئے دن کہیں نہ کہیں کوئی ایسا واقع ہوجاتا ہے جس میں لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کچھ دنوں کیلئے بہت سختی کرتی ہے پھر آہستہ آہستہ سب ویسے ہی رواں دواں ہوجاتا ہے ۔ ایسی بے شمار مثالیں ہم سب کے اردگرد موجود رہتی ہیں۔ یہ ہمارا قومی المیہ ہے۔ ہم انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی طور تک ایسے ہی ہیں۔ ہم میں بہت پڑھے لکھے، اپنے آپ کو باشعور سمجھنے والے لوگ بھی مزاجاً ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اب سب سے بنیادی مثال لیجئے جس کے لئے اپنے سیاسی رہنماؤں یا سیاسی جماعتوں کے چناؤ میں اپنا رویہ دیکھ سکتے ہیں۔ ہم سال ہا سال سے ایک ہی سیاسی جماعت کو ووٹ دئیے جا رہے ہیں جب کہ ہمارے علاقے کی حالت میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں آرہا۔ ہم نے ایک ہی جماعت کو تین تین بار اپنے ووٹ جیسی کی طاقت سے ایوانوں کی زینت بنایا مگر ہر بار ہی کسی نہ کسی وجہ سے معینہ مدت پوری حکومت  ختم کی گئی۔ اس حکومت کو کبھی صدر نے چلتا کیا، کبھی فوج نے اور اب عدلیہ نے۔

ہم ان مستحکم اداروں پر شک نہیں کر سکتے۔  کیوں کہ پاکستان میں یہی وہ ادارے ہیں جو ملک کی سمت کا تعین کرتے ہیں اور ہر برے بلکہ بد ترین حالات میں سینہ سپر ہوتے ہیں۔ انہی اداروں کی بدولت پاکستان ابھی تک اپنے وجود کو سنبھالے ہوئے ہے۔  مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ایک سوراخ سے ایک سے زیادہ دفعہ ڈسے جانے سے منع کیا گیا ہے۔  یعنی جب ایک جگہ سے آپ کو دھوکہ دیا جائے تو مومن کی پہچان ہے وہ دوبارہ وہاں سے دھوکا نہیں کھائے گا۔ یہاں ہم پاکستانیوں نے دو دو اور تین تین بار ڈسے جانے کے بعد بھی عقل کے ناخن نہیں لئے ہیں اور شعور کا تانا بانا تلاش کرنے میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔

جب سے ہوش سنبھالا ہے اور جب سے پڑھنے کے لائق ہوئے ہیں تویہی سن اور پڑھ رہے ہیں کہ پاکستان تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ اورپاکستان تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے ۔ آج جب پاکستان کو وجود میں آئے ستر سال ہونے کو آگئے ہیں تو بھی ایسی ہی باتوں کا راگ سماعتوں سے ٹکرا رہا ہے ۔ یہ الفاظ دہرانے والے ہمارے ملک کے نامور سیاست دان  ہیں۔ ایک سوال ذہن میں اٹھ رہا ہے کہ کیا ہم آج بھی وہیں تو نہیں کھڑے جہاں سے چلے تھے یعنی 1947 میں کیونکہ ہم جہاں سے چلے تھے وہی سب سے اہم ترین موڑ تھا ۔ پاکستان اہم ترین موڑ سے آگے کیوں نہیں بڑھ رہا اور ہمارے سیاستدان اسے کیوں آگے نہیں بڑھا رہے۔ اب تک پاکستان میں جتنی بھی بڑی (ملک گیر) سیاسی جماعتیں ہیں سب ہی  اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوچکی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ملک پھر بھی  نازک ترین موڑ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ پاکستان کو ایسے حالات و واقعات میں کس نے الجھا کے رکھا ہوا ہے۔ ہم اس کی ذمہ داری کسی دشمن ملک پر نہیں ڈال سکتے۔ برے لیڈروں کو منتخب کرنے والے عوام ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔  سیاست دانوں کو جب جب موقع ملا اقتدار میں آئے اور جو اقتدار کا حصہ نہیں بن سکے انہوں نے اقتدار والوں کی ٹانگیں کھینچنے میں سارا وقت گزار دیا۔ اب بھی وہی کھیل جاری ہے۔ 

پاکستان کا دفاعی بجٹ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور رکھنے کی ضرورت بھی رہی ہے کیونکہ ہمارے ہمسائے ہمیں سکھ کا سانس ہی نہیں لینے دیتے۔ لیکن اگر صرف ایک دفعہ پاکستان اپنا سارا کا سارا بجٹ تعلیم پر لگا دے اور سارے کے سارے سیاستدان تعلیم کی ترویج  کیلئے میدان میں آجائیں (بغیر کسی قسم کی تفریق کے) تو پاکستان راتوں رات ترقی کی سیڑھیاں چڑھ جائے گا۔ ہمارے ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر نہیں کیا گیا اور جو لوگ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے نکلے تو انہیں کہیں کا کہیں بھٹکا دیا گیا۔ تعلیم کا بنیادی مقصد شعور کی بیداری ہے اور شعور کی بیداری کا مطلب ہوتا ہے اچھے اور برے کی تمیز آنا۔ اپنے بنیادی حقو ق کا پتہ چلنا اور ان کے لئے آواز اٹھانا ۔  اپنے عقائد کے بارے میں حقیقی معلومات کیلئے کوشش کرنا۔ روائتی اقدار سے جان چھڑانا، غرض یہ کہ تعلیم ملک و قوم کی ترقی کی بنیاد  ہے۔ اسے حاصل کئے بغیر ترقی ممکن نہیں۔  کسی بھی معاملے پر غور کرنے کیلئے بھی آپ کو علم کی ضرورت پڑے گی۔ غور کرنے کیلئے صرف جذبات کافی نہیں ہیں۔ مسجد صرف روحانی عبادت کیلئے نہیں جاتے وہاں جانے کا مقصد بھی علم سے شناسائی رکھنا ہے ۔

ہم پاکستانی گزشتہ ستر سالوں سے پاکستانی ہونے کا جواز ڈھونڈ رہے ہیں۔ کبھی ہم پنجابی  سندھی  بلوچ اور پشتون بنتے ہیں۔  کبھی ہم مہاجر بن کر اپنی حیثیت ڈھونڈنے لگتے ہیں مگر ہم پاکستانیت تک کبھی نہیں پہنچ پاتے۔ ہمیں تعصب کا تو شعور ہے مگر پاکستان کا نہیں ہے۔ ہم پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کو بھی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ ہمیں اللہ نے وہ سرزمین عطا کی جہاں قدرت کی ہر نعمت رحمت کی طرح دستیاب ہے مگر ہم نے ان نعمتوں کے ساتھ بھی وہ رویہ روا رکھا ہوا ہے جو پاکستان سے کم ازکم محبت کا احساس نہیں دلاتا۔

پاکستان کو ہمیشہ سے ہمارے شعور کی ضرورت تھی مگر ہمارے شعور سے سیاستدانوں کو خوف آتا ہے۔ وہ چاہتے ہی نہیں کہ عوام کو ان کی حقیقت کا علم ہو کیونکہ اگر عوام کو پتہ چل گیا کہ اصل میں ہمارے سیاستدان کیا ہیں تو عوام کبھی بھی انہیں ووٹ  نہیں دیں گے۔  تعلیم کو اتنا مہنگا کردیا گیا کہ عام آدمی اپنے بچوں کو پڑھانے کی بجائے بھیک مانگنے یا پھر محنت مزدوری میں لگادے۔ یا پھر ان سیاستدانوں کے آگے پیچھے ان کے حق میں نعرے لگانے کیلئے چھوڑ دئیے جائیں۔ ہمیں اب تو اپنے حق کو سمجھ لینا چاہئے۔ ہمیں اب تو سوچ سمجھ کر  آنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے فیصلہ کرنا پڑے گا تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو یہ جملہ نہ سننا پڑے کہ پاکستان تاریخ کہ نازک ترین موڑ پر کھڑاہے۔ ہمیں اپنے تدبر سے یہ موڑ کاٹ لینا چاہئے اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم تیسری یا چوتھی دفعہ ایک ہی سوراخ سے ڈسنے سے اپنے آپ کو بچالیں ۔ آئیں پاکستان کا ستر سالہ جشن قومی شعور کو اجاگر کرکے منائیں۔ اور دنیا کوبتائیں ہمارے لئے صرف وہی نظام اہمیت رکھتا ہے جو پاکستان کو سنبھال لے اور پاکستانیوں کو سکون کا سانس لینے دے۔
 

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...