جمہوری راگ، نوازشریف اور نیا پاکستان

  وقت اشاعت: 11 اگست 2017 تحریر: میاں وقاص ظہیر   راولپنڈی

وقت خوش نما ہوا کا جھونکا ہے ، وقت ظالم بھی ، وقت زخم بھی ہے اور مرہم بھی۔ وقت بادشاہ بھی بناتا ہے اورفقیر بھی ۔ وقت منصف بھی بنائے اور مجرم بھی ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ ہوئے تو مجھے نواز شریف کے  وہ الفاظ یاد آرہے تھے کہ  میں ان بھکاریوں کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دوں گا۔ میرے سامنے میاں نواز شریف کی پنجاب ہاؤس سے روانگی کی تصویر ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور نوازشریف بغل گیر ہورہے ہیں۔  نواز شریف کے دائیں جانب وزیر خزانہ  اسحاق ڈار بھی موجود ہیں۔ مجھے اس تصویر میں نواز شریف بے حد بے بس اور مفلس دکھائی دئیے۔

ایسا مفلس جس کے پاس دنیا بھر کا مال ومتاع  ہے ، زندگی گزارنے کی بہترین آسائشیں بھی ہیں، لیکن وہ ہجوم میں تنہا ہے۔ سرکاری مشینری ، علاقائی نمائندوں اور قومی خزانہ سے کروڑوں خرچ کرکے وہ عوام سے ان کی حمایت حاصل کرنے کی بھیک مانگے نکلا ہے۔ میرے  کسی بھی لیڈر سے ذاتی اختلاف نہیں ہیں۔ میں  طاہر القادری اور عمران خان سمیت بہت سے سیاستدانوں سے نظریاتی اختلاف رکھتا ہوں۔ اگر یہ واقعی جمہوری معاشرہ ہے تو نظریاتی اختلاف کا حق ہرکسی کو ہے۔  لوگوں میں اختلاف رائے ہونا فطری امر ہے۔  نوازشریف کو ہمیشہ سے ہی ایک  مسئلہ درپیش رہاہے۔ پانامہ کا ایشو سامنے آیا، اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے واویلا بلند ہونا شروع ہوا تھا۔  نواز شریف ایک قدم پیچھے ہٹتے، غیر جانبدرانہ انکوائری کرواتے ۔ اس میں خود کو نے قصور ثابت کرکے ، پھر اقتدار سنبھال لیتے۔  اس سے نوازشریف کو دوہرا فائدہ ہوتا ۔ پہلا فائدہ نواز شریف خود کو احتساب کیلئے پیش کرکے عوام کی ہمدریاں حاصل کر لیتے۔ اور آج انہیں یوں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی طرح کنٹینر لے کر باہر نہ نکلنا پڑتا ۔ 

مجھ سمیت پوری قوم  جانتی ہے کہ نواز شریف کے خوشامدی وزراء کس طرح مخالفین کے کنٹینر کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ نواز شریف آج پوچھیں خواجہ آصف سے کہ جنہوں نے  پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ میاں صاحب! پانامہ عوامی ایشو نہیں ، لوگ جلد اسے بھول جائیں گے۔  میاں صاحب! ان دیگر خوشامدیوں وزاراور مشیروں سے بھی پوچھیں جو بار بار کہتے رہے ہیں کہ نوازشریف سے دنیا کی کوئی طاقت استعفیٰ نہیں لے سکتی۔ آج نہ صرف اقتدار چھوڑنا پڑا بلکہ پورا خاندان بھی الزامات کے زیرعتاب آگیا۔ نیب ریفرنس کے بعد کیا ہونا ہے، یہ کہنا قبل ازوقت  ہے۔ لیکن جس دن سانحہ ماڈل ٹاؤن کی فائل کھولے گی، اس دن ایک بار پھر پورے کا پورا سیاسی مناظر نامہ تبدیل ہوجائے گا ۔

 یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ 14شہدا کے خون کے ذمہ دار سزا سے بچ جائیں۔ مجھے تو نوازشریف کے اس بیان نے بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے نہیں، نیا پاکستان بنانے نکلا ہوں۔ میاں صاحب! نیا پاکستان کا نعرہ تو تحریک انصاف کا ہے آپ کو کس عقل مند نے یہ الفاط یاد کروائے۔ آپ شاید بھول رہے ہیں آ پ کی پارٹی اور وزرا  نیا پاکستان کے نعرے کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔  یہ مکافات عمل ہے یا کیا۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ جمہوری راگ الاپ کر نوازشریف بھی نیا پاکستان بنانے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...