نوازشریف کی پیشی ۔۔۔ چند سوالات

  وقت اشاعت: 18 جون 2017 تحریر: رضی الدین رضی   ملتان

اور آخر کاروہ لمحہ آگیا جب ملک کا منتخب وزیراعظم جے آئی ٹی(مشترکہ تحقیقاتی ٹیم) کے روبرو پیش ہوگیا۔ یہ کوئی عدالت نہیں تھی، ایک تفتیشی ٹیم تھی جسے میڈیا نے عدالت بنارکھا تھا اور وزیراعظم کی پیشی کو غیرمعمولی اہمیت دی جارہی تھی۔ ہمارے ہاں مقتدر شخصیات کا کسی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونا بہرحال غیرمعمولی ہی ہے کہ وطن عزیز میں کوئی ایسی روایت بھی تو موجودنہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام کے منتخب وزیراعظم کو اس طرح سرکاری افسروں کے سامنے پیش ہونا چاہیے اور کیا یہ وزیراعظم کے منصب اور ان کروڑوں افراد کی تضحیک نہیں ، جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں اوراس سے پہلے بھی دومرتبہ نوازشریف کو وزیراعظم منتخب کیا تھا۔ احتساب ہونا چاہیے ضرور ہوناچاہیے لیکن پیمانہ سب کے لیے ایک ہی ہو تو احتساب کے عمل پر لوگوں کایقین بھی مستحکم ہوگا۔ پانامہ کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے اور یہ جے آئی ٹی عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر ہی تشکیل دی گئی تھی۔ لیکن عدالت عظمیٰ کے حکم پر تشکیل دی گئی تفتیشی ٹیم کو عدالت بہرحال نہیں کہا جاسکتا۔ غربت، مہنگائی ، بے روزگاری اور دہشت گردی سے پریشان حال لوگوں نے جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ سے بہت سی توقعات وابستہ کررکھی ہیں۔ یہی وہ توقعات ہیں کہ جن کی بناء پر وزیراعظم کی اس حاضری کو غیرمعمولی اہمیت بھی دی گئی۔ یہ توقعات پوری ہوں گی یا نہیں اس بارے میں سردست کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان میں جو کچھ نظر آرہا ہوتا ہے وہ نہیں ہوتا اورجو ہمارے گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ عموماً ہوجاتا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں منتخب وزرائے اعظم ہمیشہ سے عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ اس حوا لے سے ماضی قریب کی مثال تو سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی ہے کہ جنہیں سپریم کورٹ نے طلب بھی کیا ، وہ عدالت میں پیش بھی ہوئے اوراس کے باوجود توہین عدالت کے جرم میں سزا کے حقدار ٹھہرے اور وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ ان سے پہلے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو کرپشن کے الزامات میں بارہا عدالتوں میں پیش ہونا پڑا۔ ججوں کے معاندانہ اور جانبدارانہ رویئے کے باوجود ان پر الزامات ثابت نہ ہوسکے۔ اورسب سے بڑی مثال تو سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی ہے کہ جن پر ایک منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ وہ ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ میں پیش ہوئے ، اپنے مقدمے کا خود دفاع کیا، خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑا اوراس کے باوجود انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ پھرتاریخ نے ثابت کیاکہ وہ عدالتی فیصلہ غلط تھا ۔ ججوں نے تسلیم کیا کہ ہم نے فیصلہ دباﺅ میں دیا تھا لیکن ذوالفقارعلی بھٹو کی روح آج بھی انصاف کی منتظرہے۔ ہمارے وزرائے اعظم ہمیشہ سے عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ عدالتوں کے روبروپیش ہوتے ہیں اوراپنا دفاع کرتے ہیں ۔ ہاں نوازشریف کے ساتھ یہ ہوا کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ انہیں ایک تفتیشی ٹیم کے سامنے سرکاری ملازمین کے روبروپیش ہونا پڑا۔ اور یہ بہرحال ایک غیرمعمولی بات ہے۔

 بعض لوگوں کا خیال تھا کہ وزیراعظم نوازشریف 15جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ غیرحاضری کے لیے ٹھوس جواز بھی موجودتھا۔ جس روز جے آئی ٹی کی جانب سے نوازشریف کو سمن جاری کئے گئے اس سے اگلے روز ہی وزیراعظم ہنگامی طورپر مصالحتی مشن پر سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ اس دورے میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سعودی عرب کے دورے کے دوران وزیراعظم کی شاہ سلمان کے ساتھ ملاقات ہوئی اور بعدازاں یہ بتایا گیا کہ ملاقات میں خلیج کی صورت حال پربات چیت ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے اس اچانک دورے پر سب کا ماتھا ٹھنکا تھا اورخیال کیا گیا تھا کہ شاید جے آئی ٹی کے سمن موصول ہونے کے بعد وزیراعظم کو ہنگامی بنیادوں پر آرمی چیف کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ اس معاملے میں اس سعودی حکومت سے کوئی مدد حاصل کی جاسکے جسے موجودہ عالمی تناظر میں پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے۔ اگلے ہی روز وزیراعظم وطن واپس آگئے اوربتایا گیا کہ انہیں مصالحتی مشن کے اگلے مرحلے میں قطر اور دیگر خلیجی ممالک کا دورہ بھی کرنا ہے۔ ایک خبر یہ بھی آئی تھی کہ وزیراعظم نوازشریف 14یا 15جون کو مصالحتی مشن کے سلسلے میں قطر روانہ ہوجائیں گے اورجے آئی ٹی کو ایک تحریری درخواست ارسال کردی جائے گی کہ انہیں اس حاضری سے مستثنیٰ قراردے کر کوئی نئی پیشی دے دی جائے۔ لیکن یہ قیاس بھی درست ثابت نہ ہوا۔

ایک اور امکان بھی مختلف حلقوں میں تواتر کے ساتھ زیربحث تھا اور اس لیے زیربحث تھا کہ ایسی بہت سی مثالیں ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اکثر دیکھتے رہتے ہیں۔ خیال یہ ظاہرکیا جارہا تھا کہ وزیراعظم نوازشریف عین15جون کو پیشی سے چند گھنٹے پہلے ”بیمار“ ہوجائیں گے اور جے آئی ٹی کو بتادیا جائے گا کہ وزیراعظم کی طبعیت چونکہ اچانک ناساز ہوگئی ہے اس لیے وہ آج تفتیشی افسروں کے سامنے پیش نہیں ہوسکتے۔ یہ امکان ظاہر کرنے والوں اور ایسا سوچنے والوں کے ذہن میں دراصل سابق صدر جنرل پرویزمشرف کی ”علالت“ تھی کہ اس بہادر سپہ سالار اور کمانڈو کو جب عدالت نے طلب کیا تھا تو وہ اچانک بیمارہوگیا تھا اوراسے ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔ بعدازاں جنرل پرویزمشرف کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا اور وہ کمر میں تکلیف کا بہانہ کرکے بیرون ملک روانہ ہوگئے۔ اب کمر کے درد کے باوجود جنرل پرویزمشرف مختلف محفلوں میں رقص کرتے تو دکھائی دیتے ہیں مگر سردست ان کی وطن واپسی اور کسی عدالت میں پیش ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ عدالتیں بھی ایسی معصوم اوربے خبر ہیں کہ انہیں اشتہاری قراردیتی ہیں ، ان کے گھرکے دروازے پر طلبی کا نوٹس چسپاں کراتی ہیں کہ قانونی تقاضے تو بہرحال پورے ہونے چاہئیں۔

پرویزمشرف تو بس ایک مثال ہے اگرچہ ان پرغداری اورقتل سمیت بہت سے سنگین جرائم کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہیں لیکن پاکستان میں پرویزمشرف کی مثال کوئی واحد مثال نہیں۔ آپ کویقیناً یاد ہوگا کہ آئی ایس آئی کے خفیہ فنڈز کے استعمال کا ایک مقدمہ بھی ماضی میں بہت زیربحث رہاتھا۔ اس مقدمے میں آئی ایس آئی کے فنڈز پاکستان پیپلزپارٹی کوہروانے کے لیے مخالف جماعتوں میں تقسیم کیے گئے تھے اور اس کیس میں ایسے بہت سے سیاستدانوں کے نام بھی آئے تھے جنہوں نے آئی ایس آئی سے لاکھوں روپے وصول کئے تھے۔ خود نوازشریف کانام بھی اس میں شامل تھا۔ جنرل اسلم بیگ نے عدالت میں جرم کا اعتراف بھی کیا تھا۔ جنرل حمید گل سمیت بہت سے جرنیلوں کے نام اس کیس میں تقسیم کنندگان کی حیثیت سے سامنے آئے تھے۔ وہ سرکاری وسائل اور خفیہ فنڈز کے غیرقانونی استعمال اور انتخابات پر اثراندازہونے کا مقدمہ تھا۔ یہ ایک ایسا جرم تھا کہ جس نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر منفی اثرات مرتب کیے اور جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ ریلوے کی اراضی کی غیرقانونی فروخت کے مقدمے میں جنرل جاوید اشرف قاضی اور ان کے ساتھیوں کے نام بھی لیے گئے تھے۔

آئی ایس آئی فنڈز کے غیرقانونی استعمال سمیت یہ تمام مقدمات آج بھی زیرالتواء ہیں ۔ کبھی کبھار بعض حلقوں کی جانب سے ان مقدمات کے فیصلے کامطالبہ سامنے آتا ہے لیکن کہیں کوئی شنوائی نہیں ہوتی ۔ وزیراعظم نوازشریف کی جے آئی ٹی میں پیشی کو ایک بہت بڑی تبدیلی قراردینے والوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ تبدیلی اس روز آئے گی جب جنرل پرویزمشرف ، جنرل اسلم بیگ یا کوئی ایسا ہی دوسرا طاقت ور ریٹائرڈ افسر کسی عدالت یا کسی جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوگا لیکن ایسا لمحہ ابھی تو ہمیں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔

(بشکریہ: گرد وپیش ۔ ملتان)

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...