لندن میں بھیانک آگ

  وقت اشاعت: 18 جون 2017 تحریر: فہیم اختر   برطانیہ

14 جون کی رات 12:54 پر شمالی کینزنگٹن علاقے کی گرین فل ٹاور میں آگ لگنے سے لگ بھگ ساٹھ لوگوں کی جان چلی گئی۔ 74 لوگوں کی حالت نازک ہے جنہیں لندن کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ جبکہ 70سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں۔ اس حادثے کی خبر کو برطانیہ سمیت دنیا کے تمام ملکوں میں نشریات کیا گیا اور لندن میں اس خبر کا ردّعمل کا فی جارحانہ رہا ۔ کہا جا رہا ہے دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایسا پہلی بار دیکھنے کو ملا جب اتنے بڑے پیمانے پر کسی عمارت میں آگ لگی ہے۔

جہاں اس خبر سے مرنے والوں کے رشتہ داروں اور دوستوں میں کافی غصّہ پایا جاتا ہے تو وہیں لندن کے عام شہریوں میں بھی اس خبر سے کافی ناراضگی پموجود ہے۔ جوں جوں دن گزرتت جارہے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، لوگوں کا غصّہ زور پکڑ رہا ہے۔ پہلے تو اس خبر پر اتنا ردّعمل نہیں ہو اتھا۔ لیکن جب گرین فل ٹاور کو مسلسل ٹی وی چینلوں پر جلتے دکھایا جانے لگا تو لوگوں میں ناراضگی بڑھنے لگی۔ اس کے علاوہ غمزدہ لوگوں کو اطلاع نہ ملنے پر لوگوں کا غصّہ حکّام اور حکومت کے خلاف زور پکڑ تا گیا۔ جس کی مثال جمعہ کو دیکھنے میں آئی جب کئی سو لوگوں نے کینزنگٹن اور چیلسی بورو کے دفترپر حملہ کر دیا۔
وزیر اعظم تھریسا مے نے گرین فل ٹاور پہنچ کر ایمرجنسی سروس کے آفیسروں سے ملاقات کی اور ان کی دلیرانہ اور نہ تھکنے والے کام کو سراہا۔ لیکن وزیر اعظم کی واپسی کے بعد گرین فل کے رہائشی اور مقامی لوگوں نے ان کے خلاف  مظاہرہ کیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ان سے ملاقات نہ کرکے انہیں نظر انداز کیا ہے۔ جس سے ان لوگوں کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔

تاہم لیبر پارٹی کے مقبول لیڈر جریمی کوربین نے متاثر زدہ لوگوں سے ملاقات کی اور حکومت سے مانگ کی جو لوگ بے گھر ہو گئے ہیں انہیں فوراً خالی پڑے گھروں میں بسا نا چاہئے۔ لندن کے مئیر صادق خان جب موقع پر پہنچے تو انہیں بھی مظاہرے کا سامنا کرنا پڑا ۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ کونسل ، مرکزی حکومت اور مئیر نے عمارتوں کے ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے معائنہ میں کوتاہی برتی ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی یہ بھی شکایت ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور کو ئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہے۔ دو سو فائر فائیٹرز نے دن رات محنت کرکے آگ پر قابو پالیا ہے اور 65 لوگوں کو بچا لیا ہے۔ لیکن فائر فائیٹرز کی تمام محنت کے باوجود اوپری منزلہ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو  نہیں بچایا جا سکا۔  فائیر فائیٹر صرف بارہیوں منزل تک ہی پہنچ پائے۔ اس سلسلے میں کئی رپورٹیں ایسی آئی ہیں جس سے لوگوں کا غصّہ حکّام کی طرف کا فی بڑھا ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی سروس نے اوپری منزل پر پھنسے لوگوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ عمارت سے باہر نہ آئیں جس کی وجہ سے ایسا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اتنی تعداد میں لوگوں کی جان گئی ہے۔

گرین فل ٹاور کو 1974 میں لندن بورو آف کینزنگٹن اور چیلسی نے تعمیر کیا تھا۔ یہ ایک چوبیس منزلہ عمارت ہے جو کنزنگٹن اور چیلسی بورو کے ماتحت ایک ہاؤسنگ کمپنی چلاتی تھی۔  اس میں لگ بھگ چار سو سے لے کر چھ سو لوگ رہتے تھے۔ اس عمارت میں ایسے لوگ رہتے تھے جنہیں کم آمدنی کی وجہ سے کونسل نے فلیٹ دے رکھا تھا۔ ایک سال قبل کونسل نے 8 میلین پونڈ خرچ کرکے اس پر عمارتی ملبوساتی مواد (Cladding)، نئی کھڑکیاں اور ہیٹنگ سسٹم لگا یا تھا۔ جس سے اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ گئے تھے۔ اس کام کو کرنے والی کمپنی (Rydon Construction) نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے کام کے دوران بلڈنگ کنٹرول کے قواعد و ضوابط، فائر ریگولیشن اور ہیلتھ وسیفٹی کا پورا خیال رکھا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق گرین فل ٹاور میں جب آگ لگی ہوئی تھی تو اس وقت قیامت کا منظر تھا۔ ایک مقامی آدمی نے بتا یا کہ اس نے ایک عورت کو اپنے بچّے کو کھڑکی کے باہر تھامے دیکھا جو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ میرے بچّے کو بچاؤ۔ جب کہ ایک اور آدمی نے دیکھا کہ کئی لوگ اپنے بچّو ں کو کھڑکی سے پھینک رہے تھے۔  اس حادثے کے بعد مقامی باشندے اور لندن کے لوگوں نے  انسان دوستی اور ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب تک بے گھر لوگوں کی مدد کے لئے دو میلین سے زیا دہ پونڈ اکٹھّا کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مقامی مسجد نے ساٹھ ٹن عطیات جمع کئے ہیں جن میں کپڑا ، چادریں  اور ضروریات کا سامان شامل ہے۔ مقامی گرجا گھروں اور کمیونٹی سینٹروں میں بے گھر لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ وزیر اعظم تھریسا مے نے بھی متاثرین کے لئے پانچ ملین پونڈ فنڈ کھانا، کپڑاوغیرہ کے لئے اعلان کیا ہے۔ ملکہ برطانیہ اور شہزادہ ولیم متاثرین کے ریلیف سینٹر پہنچ کر ان سے ملاقات کی اور انہیں دلاسہ دیا ۔ ملکہ برطانیہ نے کہا ہے کہ اس حادثہ سے پوری قوم دکھی ہے۔  کئی لوگ جو باہر کھڑے تھے انہوں نے شہزادہ ولیم کو پکار کہا کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان کی فریاد سنیں۔ جس کے جواب میں شہزادہ ولیم نے کہا کہ وہ دوبارہ آئیں گے۔

وزیر اعظم تھریسا مے نے پبلک انکوائری کا اعلان کیا ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ آخر اتنا بڑا حادثہ کیسے ہوا اور کون لوگ اس کے ذمہ دار ہیں۔ آگ لگنے کی وجہ اب تک نہیں جانی جا سکی ہے لیکن لوگوں کے موبائل اور ٹیلی ویژن رپورٹ کے مطابق آگ عمارت کے ایک حصّے کے باہر دیکھی گئی تھی۔ جس نے دھیرے دھیرے پوری عمارت کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ فائر حفاظتی آفیسر نے کہا کہ یہ بتانا دشوار ہے کہ آخر آگ کیوں کر لگی لیکن آگ کو تیزی سے پھیلانے میں تیز ہواؤں کا ہاتھ ضرور ہے۔ اس کے علاوہ (Cladding)عمارتی ملبوساتی مواد کو بھی ذ مہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جسے پچھلے سال ہی لگایا گیا تھا۔ گرین فل ٹاور کی آگ سے جتنے لوگوں کی موت ہوئی ہے اس سے برطانیہ کے عوام میں غم و غصّہ کافی پایا جا رہا ہے۔ اب بھی زیادہ تر لوگوں کی شناخت نہیں ہو پائی ہے۔ اتنی بڑی عمارت میں جانا اور لاشوں کی شناخت کرنا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن اس سے دشوار معاملہ ان رشتہ داروں کا ہے جو اب بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید ان کا بھائی، بہن، بیوی، والد، والدہ اور اولاد زندہ  سلامت پائے جائیں۔

میں غم زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ا س بات سے بھی ناراض ہوں کہ لندن جیسے شہر میں کیوں کر ایسا حادثہ ہوا ۔ جہاں انسانی جان کی کافی اہمیت حاصل ہے ۔ جہاں قواعد و ابطہ کو سختی سے لاگو کیا جاتا ہے۔ جہاں ایمانداری سر چڑھ کر بولتی ہے۔ جہاں انسانیت فخر سے اپنا سر اٹھا کر دنیا کی رہنمائی کرتی ہے۔ تو پھر کیوں ایسا حادثہ ہوا جس میں اتنے سارے لوگ جل کر مر گئے۔ میں امید کرتا ہوں کہ پبلک انکوائری سے حقیقت سامنے آئے گی تاکہ ایسا حادثہ دوبارہ نہ ہو ۔ ان لوگوں کو بھی سزا ملنی چاہئے جنہوں نے اپنی ذمّہ داری کو ایمانداری سے نہیں نبھایا اور جن کی وجہ سے اتنے سارے لوگ مارے گئے ۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...