احتساب ، سیاست اورسازشی تھیوری

  وقت اشاعت: 18 جون 2017 تحریر: سلمان عابد   لاہور

پاکستان کی سیاست کا المیہ کئی طرح کے فکری مغالطوں منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست مسائل حل کرنے کی بجائے ان کے بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔  رائے عامہ کی سطح پر فکری تقسیم  بھی مسئلہ کے حل میں یا متفقہ رائے عامہ بنانے میں  رکاوٹ بنتی ہے ۔ فکری محاذ پر خیالات کی تقسیم ایک فطری امر ہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں۔ لیکن ایک خاص منصوبہ بندی اور ذاتی مفادات کی بنا پر جب ہم رائے عامہ کو گمراہ کرتے ہیں تو اس سے ایک منصفانہ اور شفاف نظام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ ایک مسئلہ سازشی تھیوریوں کا بھی ہے ۔ حکمران بالادست طبقے ہمیشہ اس طرح کی  تھیوریوں کو اپنے حق اور مخالفت میں استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ ان سازشی تھیوریوں کو بنیاد بنا کر معاملات میں شفافیت کی بجائے الجھاؤ پیدا کیا جاتا ہے ۔

وزیر اعظم نواز شریف اوران کا خاندان اس وقت پانامہ کے مقدمہ میں جوائنٹ انویسٹی گیشن یعنی جے آئی ٹیمیں اپنی صفائی پیش کررہا ہے۔  وزیر اعظم جب خود جے آئی ٹی میں پیش ہوئے تو پیشی کے بعد باہر آکر انہوں نے اپنے اور حکومت کے خلاف پس پردہ قوتوں کی سازشوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ ان کے بقول اول پاکستان کی سیاست میں کٹھ پتلی تماشہ بند ہونا چاہیے ۔ دوئم عوامی فیصلے روند کرمخصوص ایجنڈے چلانے والی فیکٹریاں بند ہونی چاہئیں۔ لیکن اگر یہ بند نہ ہوئیں تو صرف آئین اور جمہوریت ہی نہیں بلکہ ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑجائے گی ۔ سوئم تاریخ کا پہیہ پیچھے مڑنے نہیں دیں گے ، وہ زمانے گئے جب سب کچھ پردوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا ۔ چہارم جے آئی ٹی سے تعصب سمیت انصاف کے مقابلے میں دھونس اور دھاندلی کی بو آرہی ہے۔ وزیر اعظم کی یہ منطق ظاہر کرتی ہے کہ وہ احتساب کو سازش سمجھتے ہیں اور ان کے بعض ساتھیوں کے بقول اس سازش میں بین الااقوامی قوتیں بھی شامل ہیں۔

یہ مسئلہ محض نواز شریف یا موجودہ حکومت تک محدود نہیں بلکہ جب بھی اس ملک میں احتساب کی بات کی گئی تو اس عمل کو سیاسی انتقام کی بنیاد پر حکومت اور سیاسی مخالفین نے ایک دوسرے کے حق اور مخالفت میں استعمال کیا ۔ جس کا بھی احتساب  شروع ہوتا ہے وہ سیاسی انتقام کو بنیاد بناکر خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں کسی کے بھی خلاف احتساب کا عمل آگے بڑھتا ہے تو اس سے آئین، جمہوریت اور ملکی سلامتی کو کیسے خطرہ ہوسکتا ہے۔ یعنی اگر کوئی فرد واحد اپنے آپ کو احتساب کے عمل میں پیش کرنے کو ملکی سلامتی اور سیکورٹی کے خطرے سے جوڑتا ہے تو یہ مضحکہ خیز ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنی گفتگو میں مخصوص فیکٹریاں بند کرنے کی بات کی ہے۔  یقیناًاس سے ان کی مراد فوج اور عدلیہ پر ہے ۔ حالانکہ خود حکومت کہتی رہی ہے کہ سول ملٹری تعلقات میں اہم اہنگی ہے اور کوئی ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہیں ۔ اگر ان فیکٹریوں کا اشارہ عدلیہ کی طرف ہے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ۔ کیونکہ حکومت میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں جو کئی بار کہہ چکے ہیں اس بار فوج کی بجائے عدلیہ کی مدد سے حکومت کے خلاف سازش یا جمہوری بساط لپیٹنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے تواتر کے ساتھ  جے آئی ٹی پر سنگین الزامات اور تنقید کی جارہی ہے۔ اسے جے آئی ٹی سے زیادہ  عدلیہ پر تنقید سمجھنا چاہئے۔ عدالت بھی کہہ چکی ہے کہ جے آئی ٹی پر تنقید یا ان کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا  عدالت کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حکومت کے سامنے ایک مسئلہ عدلیہ بھی ہے اور وہ اسے اپنے مفاد میں ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہے ۔

اسی تقریر میں وزیر اعظم نے جن کٹھ پتلیوں کا زکر کیا ہے اس میں یقیناً ان کے سیاسی مخالفین ، بالخصوص عمران خان اور میڈیا میں موجود ایسے لوگ ہیں جو ان کو ٹارگٹ کیے ہوئے ہیں ۔ حکومت اس مسئلہ پر بھی واضح ہے کہ ان کٹھ پتلیوں کے پیچھے بھی پس پردہ قوتیں یا فیکٹریاں ہی ہیں ۔ اب اگر وزیر اعظم کی یہ منطق مان لی جائے تو پھر اس ملک میں اول تو احتساب کسی بھی صورت میں آگے نہیں بڑھ سکے گا اور یہ مسئلہ محض احتساب تک محدود نہیں رہے گا ، بلکہ جمہوری ، قانونی او رانصاف پر مبنی نظام بھی پنپ نہیں سکے گا۔ یہاں یقینی طور پر کوئی نہ کوئی حکومت کے خلاف سازش بھی کرتا ہوگا اوران کی نشاندہی حکومت کا ہی کام ہوتا ہے ۔ لیکن جو سازشیں خود حکومت اپنے خلاف کرتی ہے اس کا بھی کوئی علاج ہونا چاہیے ۔

ایک دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اس ملک میں کیونکہ فوج سمیت دیگر اداروں کا احتساب نہیں ہوا  تو محض سیاست دانوں کا کیوں۔ یقینی طور پر فوج سمیت سب ہی احتساب کے دائرہ کار میں آتے ہیں ۔ لیکن ایک منصفانہ اور شفاف حکومت جو خود کرپشن اور بدعنوانی سے پاک ہو وہی فوج سمیت دیگر اداروں کا احتساب کرسکے گی ۔ المیہ یہ ہے کہ خود حکومتوں کا دامن کرپشن او ربدعنوانی سے پاک نہیں ، دوئم یہی حکومتیں خود اسٹیبلیشمنٹ کی مدد اورگٹھ جوڑ سے اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتی ہیں ۔ اس لیے سمجھوتوں پر مبنی حکومتیں کبھی بھی طاقت ور طبقا ت کا احتساب نہیں کرتیں۔  اس کے لیے خود کو ایک مثالی اور شفاف حکومت کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم اوران کے خاندان سمیت حکومت کو ان سازشوں سےے بچنے کے لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ عدالت یا جے آئی ٹی کو مطلوبہ مواد فراہم کرتے ۔ کیونکہ خود عدالت پانامہ کے مقدمہ میں کہہ چکی ہے کہ شریف خاندا ن اوران کے وکلا کی جانب سے دیئے جانے والے ثبوت کی صحت ناقابل قبول ہے ۔ اب جے آئی ٹی بھی سپریم کورٹ کی جانب سے فراہم کردہ سوالات پر ثبوت پر مبنی مواد مانگ رہی ہے۔ لیکن اس پورے عمل کو سیاسی انتقام اور جے آئی ٹی کی پوری ٹیم کی حیثیت کو چیلنج کردیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم نے ایک منطق یہ بھی دی کہ ان کے ذاتی اور خاندانی کاروباری معاملات کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ اس کا حکومت یا حکومتی وسائل سے کوئی تعلق نہیں ۔ اگر یہ منطق مان لی جائے تو پھر اس ملک میں تمام کاروباری افراد کو بھی چھوٹ دے کر اداروں کو بند کردینا چاہیے ۔ یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ ذاتی اورخاندانی کاروبار کووسیع کرنے میں کرپشن نہیں ہوتی ۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم اوران کی حکومت نے پانامہ کے مقدمہ کو قانون سے نکل کر سیاسی میدان میں لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔  وزیر اعظم نے 2018کے انتخابات اور اس میں فاتح ہونے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان کی پہلے سے لکھی ہوئی تقریر کا مقصد بھی اس قانونی جنگ کو سیاسی جنگ اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ سے جوڑنا ہے ۔ اسی نقطہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی لوگوں سے ان ساری سازشوں پر کھل کر بات کریں گے تاکہ وہ اپنے مقدمے کو سیاسی طور پر پیش کرسکیں ۔ کیونکہ یہ ان کو اور ان کی جماعت کو سود مند لگتا ہے کہ وہ کرپشن ، بدعنوانی اور احتساب کے ایجنڈے کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے کر خود کو بے گناہ ثابت کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے معاشرے میں احتساب کا عمل محض ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اب بھی کوشش کی جارہی ہے کہ احتساب کی جنگ کو سیاست ، سیاسی محاز آرائی اور سازشی تھیوریوں کے درمیان الجھا کر اصل مسئلہ کو پس پشت ڈال دیا جائے ۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی ہے۔ حکومت اوراسی کارڈ کو کھیلنے کی کوشش کررہی ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے طاقت ور اور بالادست طبقات کے اس منفی کھیل کو پاکستان کے عوام اور اس کے سنجیدہ حلقوں سمیت رائے عامہ بنانے والے فریقین سمجھ لیں۔  یہ عمل شفافیت کے نظام کے خلاف ہے ۔ اس طبقہ کو خطرہ ہے کہ اگر واقعی احتساب کا عمل  شروع ہوتا ہے تو یہ محض وزیر اعظم اور ان کے خاندان تک محدود نہیں رہے گا ۔ یہی خوف اس وقت احتساب کے عمل میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔ وزیر اعظم کی جانب سے سازشوں کا ذکر ایک طرف جو سازش اس وقت پاکستان میں ایک منصفانہ اور شفاف معاشرہ کے خلاف طاقت ور طبقات نے اختیار کی ہوئی ہے ، اس کے خلاف بھی قومی سطح پر مزاحمت ہونی چاہئے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...