’’اصل ظالم ہم ہی ہیں‘‘

  وقت اشاعت: 17 جون 2017 تحریر: ڈاکٹر خلیل طوقار   ترکی

اتحاد و ہم آہنگی کی بات آئے تو مجھے فطرت کی  مثال بار بار پیش کرنے میں بڑی خوشی ہوتی ہے کیونکہ فطرت ہمیں ایسی بے نظیر اور سبق آموز مثالیں فراہم کر دیتی ہے کہ اگر ہم سبق حاصل کرنے والے ہوں تو واقعی ہماری زندگیاں بہتری کی جانب قدم زن ہوں گی۔ مگر ہم نوعِ بشر ہیں فطرت کی بات پر کب توجہ دیتے ہیں اور بالخصوص ہم مسلمان جوکہ قرآن مجید کو پڑھنے کے باوجود فرمانِ الٰہی کو نہ سمجھنے کے لیے ہزار کوشش کرتے ہیں۔ کیا فطرت کی مثالوں سے سبق حاصل کرسکتے ہیں بھلا۔ شاید۔ یا شاید نہیں۔ معلوم نہیں۔

اگر ہم فطرت میں سمندر کی گہرائیوں میں تیرنے والی چھوٹی مچھلیوں کی زندگی کا غور سے مطالعہ کریں تو ہمیں یہ دکھائی دے گا کہ سمندر میں وہ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں ہزاروں کی تعداد میں ایک مضبوط گروپ کی شکل میں تیرتی ہیں تاکہ بڑی مچھلیاں جو اُنہیں اپنی غذا بنانے کے لیے اُن کے پیچھے پڑی ہوئی ہوتی ہیں، وہ اُن کے گروپ کو اپنے سے بڑی مچھلی سمجھ کر ڈرجائیں اور اُن پر حملہ نہ کرسکیں۔ اِسی طرح آپ چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی زندگی پر نظر دوڑائیے۔ وہ ایک ہو تو کچھ بھی نہیں کرپاتی  لیکن کروڑوں کی تعداد میں مل کر حملہ کریں تو اُن کا مقابلہ بڑے سے بڑا جانور حتیٰ کہ انسان بھی نہیں کرپاتا ۔ قرآنِ مجید اور سنّتِ نبویﷺمیں بھی اتحاد و ہم آہنگی اور یکجہتی کو جتنی اہمیت دی گئی ہے اور اِس کا اظہار کئی مرتبہ کیا گیا ہے، ہم مسلمان اُتنا ہی زیادہ ایک دوسرے سے دُور، ایک دوسرے سے منفور اور ایک دوسرے کے دشمن بنتے جارہے ہیں۔

ہم اپنے خاندانوں میں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ امی بابا کا لاڈلا ہے، مَیں نہیں۔ چلو اُس کو برباد کروں۔ ہم اپنی رشتہ داری میں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ میرے چچازاد بھائی کی کمائی بہت زیادہ ہے میری نہیں۔ چلو جادو وغیرہ کرواکے اُس کو برباد کروں۔ ہم اپنی ہمسائیگی میں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ میری ہمسائی کے اپنے شوہر کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔ چلو بدخوئیوں اور افواہوں سے اُن کے تعلقات خراب کروں۔ ہم اپنی علاقائی شناخت کی وجہ سے ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ شمال سے ہے اور میرے علاقے میں آکر کام کرتا ہے۔ میرے یہاں ہوتے ہوئے میرے علاقے، میرے شہر، میرے گاؤں کی دولت اپنے شہر میں لے جاتا ہے۔ چلو اُس پر حملہ کرکے اُس کے کاروبارکو برباد کروں۔ ہم دوسرے مسلمان ممالک کے مسلمانوں سے اور اُن کی ترقی سے نفرت کرتے ہیں۔  فلاں مسلمان ملک کیوں ترقی کررہا ہے اور اُس کا لیڈر کیوں پاپولرہورہا ہے۔ چلو ایک ایسی چال چلاؤں تاکہ اُس مسلمان ملک کو سیاسی اور اقتصادی اور اُس کے لیڈر کی بربادی کا سامان فراہم کروں۔ چاہے اِس کے لیے دشمانانِ اسلام سے گٹھ جوڑ یا سازش ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔  بخوشی ہم اپنے آقاؤں کے ساتھ مل کر یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔  اِس کے بعد اُن ملکوں پر دشمنانِ اسلام کا پرچم کیوں نہ لہرائے۔ اور کیوں لاکھوں معصوم مسلمان جان سے مارے نہ جائیں، کیوں کروڑوں کے گھر بار برباد نہ ہوجائیں۔ اِس کی کوئی اہمیت نہیں۔

صدیوں سے بالخصوص عالم اسلام میں یہ سلسلہ چلاآرہا ہے اور ہر دَور میں یہ غیر اسلامی اور قابل مذمت رسم جاری ہے اور آج کل بھی اس مذموم رسم کے پیرو یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ آج مجھ سے دوسرے مسلمان ملکوں کی بربادی کے لیے کام لینے والا میرا آقا کل کلاں جب مجھ سے اُس کا کام ختم ہوگا یا کسی وجہ سے مجھ سے ناراض ہوگا، وہی سلوک میرے ساتھ کرے گا۔  جو آج میرے ناپسندیدہ مسلمان ممالک اور اُن کے لیڈروں کے لیے گوارا کرتا ہے۔  اب دیکھئے قطر کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔ حالانکہ قطر نے صرف یہی کیا تھا کہ امریکی اتحاد میں شامل ہوکر بھی خود مختارانہ پالیسی اختیار کرتا تھا۔  اچانک اُس کے ساتھ اُس کے ہم مذہب اور ہم قوم بھائیوں نے کیا کیا۔ اب سنا ہے کہ قطر جنگی طیارے خریدنے کے لیے امریکہ سے اربوں ڈالر کا معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

اِسی طرح کل پرسوں اپنے آقاؤں کے لاڈلے اور بلند آواز لیڈر اور اپنے ملک میں منتخب حکومت کو گرانے اور سینکڑوں معصوموں کو سرعام قتل کرنے اور جیلوں میں بھرنے کے باوجود بزعم مغربیوں کے ڈیموکریسی کے علمبردارمصر کے جنرل سیسی نے فرمایا کہ’’ قطر کے بعد ترکی کی بھی باری آئے گی!‘‘ سبحان اللہ! لیڈر دیکھئے اور اپنے آقاؤں کی ترجمانی دیکھئے۔ بڑے بہادر بنے پھرتے ہیں جناب عالی۔  باقی مَیں کیا کہہ سکتا ہوں۔ عالم اسلام پر ٹوٹنے والی بلاؤں اور مصیبتوں کا پہاڑ دیکھ کر تو کبھی کبھار مَیں سوچتا ہوں کہ اصل ظالم کون ہے۔  ظالم وہ استعماری مغربی طاقتیں ہیں جو اپنے مادی مفادات کے لیے عالمِ اسلام کی اینٹ سے اینٹ بجاتی ہیں۔ یا ہم ہیں جو اپنے خاندان کے اقتدار اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر دوسرے مسلمان ملکوں کی بربادی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔

یہاں ’’ہم‘‘ سے میری مراد بنفس نفیس مَیں یا آپ نہیں ہیں۔ یہ جو عالم اسلام کو برباد کرکے مسرّت کی بلندیوں کو چھوتے ہیں ان کا سب کو پتہ ہے۔ قارئینِ کرام کی دلچسپی کی خاطر اور موضوع سے تعلق کی وجہ سے مَیں یہاں ملا نصیرالدین کا ایک لطیفہ پیش کرنا چاہوں گا جوکہ موجودہ دور اور عالمِ اسلام کے حالات کے عین مطابق مظہر ہے:
اصل ظالم ہم ہی ہیں!
تیمور لنگ بادشاہ نے ایک روز آق شہر آکر اِس شہر کے امرا اور ادبا کو اپنے حضور میں بلایا۔ سب تیمور بادشاہ کی خدمت میں آکر حاضر ہوئے۔ تیمور نے فرمایا:
بتاؤ، مَیں ظالم ہوں یا عادل؟
حاضرین میں سے کچھ نے کہا کہ ’’ آپ ظالم ہیں‘‘ اور کچھ نے کہا کہ : ’’آپ عادل ہیں‘‘ مگر اِن جوابات سے تیمور بادشاہ خوش نہیں ہوئے اور جن لوگوں نے ’’آپ ظالم ہیں‘‘ کہا تھا اُنہیں اپنی ذات کو حقارت کرنے کے الزام میں اور جن لوگوں نے ’’آپ عادل ہیں‘‘ کہا تھا، اُن کو خوشامدی ہونے کے الزام میں سزائیں دی گئیں۔
آخرکار ملّا نصیرالدین کی باری آئی تو تیمور نے اُن سے دریافت کیا:
ملّا صاحب، تم نے جواب ہی نہیں دیا۔ چلو بتاؤ، مَیں ظالم ہوں کہ عادل ہوں۔
ملّانصیر الدین کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے:
جہان پناہ! در حقیقت اصل ظالم ہم لوگ ہیں۔ ورنہ اللہ میاں آپ کو ہم پر مسلط نہ کرتا۔
 

loading...
آپ کا تبصرہ

Conflicts in Conflict

The conflict of Jammu and Kashmir (J&K) is one of the long standing issues of the world. The unfortunate but this unique multi-ethnic, multilingual and multi-religious po

Read more

loading...