مباحث


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

کسی زمانے میں پاکستان میں نظریاتی سیاست کا رواج تھا لیکن اب پاکستان میں نظریاتی اور اصولوں کی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ اب صرف شدت پسندی، مفاد پرستی اور منافقت کی سیاست ہوتی ہے۔ ملک میں  دہشتگردوں کے حامی  ڈاکٹر سلمان حیدر  اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری  پر جس طرح خوش ہوئے ہیں  بالکل ایسا لگ رہا ہے کہ ایک بانجھ عورت کے ہاں غیر متوقع طور پرلڑکا پیدا ہوا ہے۔   مذہب فروش منہ بھر بھر کے لبرلز کو گالیاں دے رہے ہیں۔  ان میں  سےاکثریت کو  شاید یہ پتہ بھی نہیں ہوگا کہ لبرلز  کہتے کسے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

یوں تو پوری دنیا میں سیاسی، سماجی اور معاشی سوچ میں تیزی سے اتاراور چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے پوری دنیا کی سیاست میں ایک بھونچال سا آیا ہوا ہے اور جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کہیں ایسے لوگ لیڈر چنے جارہے ہیں جو اپنی مفاد اور بنیاد پرستی کے لئے مقبول ہیں تو کہیں دھاندلی کے لئے بدنام ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان لیڈروں کو ان کے ملک کے لوگ ہی منتخب کر رہے ہیں یا پھر وہ لوگوں کی جذبات سے کھیل کر انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ الزام کسے دیا جائے۔ ان لوگوں کو جو ایک سرپھرے انسان کو اپنا لیڈر چن رہے ہیں یا ملک کے اس سسٹم کو کہ  لوگ جس میں مجبور ہیں۔ اس صورت حال نے  آج دنیا بھر میں پریشانی اور خوف کا ماحول پیدا کیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

میں ساقی بک ڈپو دہلی کی مطبوعہ کتاب بعنوان “دھواں ” کا مصنف ہوں ۔ یہ کتاب میں نے 1941 میں جب کہ میں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازم تھا، ساقی بک ڈپو کے مالک میاں شاہد احمد صاحب کے پاس غالباً تین یا ساڑھے تین سو روپے میں فروخت کی تھی۔ اس کے جملہ حقوق اشاعت اب ساقی بک ڈپو کے پاس ہیں ۔ اس کتاب کے جو نسخے میں نے عدالت میں دیکھے ہیں، ان کے ملاحظہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے ۔ چوبیس افسانوں کے اس مجموعے میں جو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ہیں، دو افسانے بعنوان “دھواں “، اور “کالی شلوار” استغاثہ کے نزدیک عریاں اور فحش ہیں ۔ مجھے اس سے اختلاف ہے، کیوں کہ یہ دونوں کہانیاں عریاں اور فحش نہیں ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

عجیب معاملہ ہے صاحب۔
ایک وزیر اعظم ہے۔ ملک کے سیاہ و سپید کا ما لک۔ دعویٰ اس کو یہ ہے کہ منتخب ہے۔ عوام نے ووٹ دیئے ہیں ۔ ووٹ دینے والوں پر احترام اس کا قانوناٌ فرض ہے۔
یقیناٌ ہوگا ۔ ایسا ہی ہوگا۔ کس کی مجال  کہ انکار کرے۔
یہ الگ بات کے ووٹ دینے والوں کی اکثریت شاید یہ نہیں جانتی کہ ووٹ ہوتا کیا ہے۔ جو وڈیرے نے کہہ دیا ، وہی ووٹ ہے۔ اب کس کی مجال کہ سرتابی کرے اور چھتر کھائے۔ اگر ایسے کسی کمی کمین کے سر میں ریزہ بھر دماغ بھی ہو تو وہ  چھتر کی بجائےالیکشن کے دن یک طرفہ سواری کا مزہ لینے ، قیمہ نان اور بوڑھی بھینس کا قورمہ کھانے کو ہی ترجیح دے گا۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

قیامت کے دن میدانِ حشر میں جہاں نیکیاں اور برائیاں تولی جائیں گی تو وہاں اس چیز کا بھی مطالبہ اور محاسبہ کیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنی نعمتیں عطا فرمائی تھیں اُن کا کیا حق اور کیا شکر ادا کیا؟ ۔ بندہ کے پاس ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کی ہوئی ہے ۔ ہر چیز کا ایک حق ہے اوراس حق کی ادائیگی کا مطالبہ کل قیامت کے دن اللہ تعالی کے حضور ضرور ہونا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

جارج گیلوے معروف برطانوی سیاستدان اور مصنف ہیں۔ وہ رکن پارلیمنٹ بھی رہے ہیں۔ پہلے وہ برطانوی لیبر پارٹی کے سرکردہ راہنما تھے۔ بعد ازا ں انہو ں نے ریسپیکٹ سے اپنا سیاسی سفر رکھا۔ وہ کشمیری عوام کے حق خود آرادیت کے پر جوش حامی ہیں اور عراق جنگ کے بڑے ناقدین میں سے تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

بچپن  میں میری  والدہ   مجھے اور میرے بہن بھائی  کواکثر اپنے  چچاکے گھر پیر الہی بخش کالونی  لے جاتی  تھیں۔  والدہ کے چچا کی اولادوں میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ بدقسمتی سے یہ بہن بھائی زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ ان میں چھوٹے بھائی کا نام مبین انصاری تھا جو اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور  گھر میں سب ان کو مبن  کہا کرتے تھے۔ مبین نے  شاید میٹرک پاس کیا تھا اس لیے ان کو اول تو کوئی نوکری ملتی نہیں تھی اور جو ملتی تھیں وہ مبین کو قبول نہیں  ہوتی تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

ہم کم و بیش تیس لاکھ ہیں جو تعلیم، صحت، شناخت، ملازمت جیسی بنیادی ضروریات سے مستفید نہیں ہو پا رہے۔ ہم تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے، ہم ملازمتیں حاصل نہیں کر پا رہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ تیس لاکھ میں سے ایک میں بھی ہوں جو ان حالات کا شکار ہوں۔ پہلے یہ احساس نہیں تھا کیوں کہ کسی نے احساس دلایا ہی نہیں تھا۔ مگر اب شدت سے احساس دلایا بھی جا رہا ہے اور احساس ہو بھی رہا ہے۔ ہمیں وہ مانا نہیں جا رہا جو ہم ہیں۔ بلکہ ہم کو وہ مانا جا رہا ہے جو ہم نہیں ہیں۔ میری بہن اپنی تعلیم، شناخت کے مسئلے کی وجہ سے جاری نہیں رکھ پائی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

پاکستان کا بحران کیا ہے؟ شاید ہم ابھی تک یہ طے ہی نہیں کر پائے۔ 1940 میں قراردادِ لاہور کے وقت، مسلمانانِ ہند نے اپنی آزادی اور اقتدار کے لیے یہ قرارداد منظور کی اور 1947 میں پاکستان بن گیا۔ اگر قراردار منظور ہوگئی اور پھر اس پر وقت اور سیاسی حالات و تقاضوں کے حوالے سے 1947 میں عمل بھی ہوگیا پھر تو بحران ختم ہوگیا۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

وہ جو غالب نے کہا تھا کہ
قطرہ میں دجلہ دکھائی دے اور جز میں کل
کھیل لڑکوں کا  ہوا  دیدہ  بینا نہ ہوا
’’دیدہ بینا‘‘ جس کو عطا ہو جائے اس کیلئے دشواریاں ہی دشواریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔  زندگی کے ہر موڑ پر دیدہ بینا جراحتوں کے سامان فراہم کرتا رہتا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ زیست کی تہہ در تہہ معنویت کی تلاش بہت مہنگا سودا ثابت ہوتی ہے۔ ہر عہد میں وہ لوگ جن کو یہ نعمت عطا ہوتی ہے صلیب و دار کی منزلوں سے گزرتے رہتے ہیں ان کے پیرایہ اظہار میں وہ تیکھا پن ہوتا ہے کہ اسے ملمع سازوں، دنیا پرستوں اور جاہ پرستوں کی ظاہرداری برداشت ہی نہیں ہو سکتی۔

مزید پڑھیں

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more