مباحث


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

علم ایک ایسا زیور ہے  جسے کوئی چرا نہیں سکتا۔ اس زیور کی آرائش سب سے سوا ہوتی ہے ۔ ساری دنیا علم کی محبت میں گرفتار ہے۔ پڑھنے کی رغبت والوں کیلئے کتابوں کا ایک ٹھیلا بھی انہیں اپنی جانب مبذول کر لیتا ہے ۔ پاکستانیوں کی علم دوستی کا منہ بولتا ثبوت پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں واقع اردو بازار ہیں۔  یہ ایک الگ بحث ہے کہ اردو بازار کیوں ۔ کیا صرف وہاں اردو میں لکھی گئی کتابیں ہی دستیاب ہیں یا پھر اردو سے محبت کا سبب ہے کہ انہیں یہ نام دیا گیا۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور کا  ''کچے کا علاقہ'' کچھ عرصہ سے اخبارات کی زینت بنا ہوا ہے۔  یہ تقریبا چالیس کلومیٹر لمبی اور پندرہ کلومیٹر چوڑی پٹی پر مشتمل ہے۔ یہ شروع سے ہی جاگیرداروں، رسہ گیروں اور ڈاکوؤں کی جنت رہی ہے۔ کیوں کہ اس کا گھنا جنگل اور دریائے سندھ کے اندر جزیرہ نما بستیاں اسے ناقابلِ تسخیر بنا دیتی ہیں۔  کچے کے علاقے میں جن سرداروں کا اثر و  رسوخ زیادہ ہے،  ان میں سابق نگران وزیر اعظم سردار میر بلخ شیر خان مزاری، سردار شیر علی خان مزاری، نون لیگ کے سردار عاطف خان مزاری، سردار شمشیر مزاری  اور پی ٹی آئی کے سردار میر دوست محمد خان مزاری کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

الحمداللہ! پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار کامیابیاں سمیٹتا ہوا آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ حالات میں دن بدن بہتری آرہی ہے۔ جہاں 2009 میں کوئی اس جنگ(دہشت گردی کے خلاف جنگ) کو اپنی جنگ سمجھنے کو تیار نہیں تھا آج اُسی جنگ میں شہید ہونے والے فوجی اہلکاروں کو قوم کی جانب سے سر آنکھوں پر بٹھایا جا رہا ہے۔ اور چند گھنٹوں میں اُن کے نام  ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن جاتے ہیں۔  بلاشبہ اس ہولناک جنگ میں 2009 سے 2011 تک شہید ہونے والے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان افسروں اور سپاہیوں کی لاتعداد قربانیوں اور خدمات کو کوئی بھی فراموش نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کو مدنظر رکھا جائے تو ان کے بارے میں متعدد باتیں سامنے آتی ہیں۔ یہ کہ وہ مایوس کن طور پر اپنی بنیاد مضبوط بنانا چاہتے ہیں جو کہ اُن عیسائی انتہاپسندوں پر مشتمل ہے جو اسرائیل کی بلاحجت کے حمایت کرتے ہیں۔ یہ کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان "The Ultimate Deal" میں ٹرمپ کو کوئی دلچسپی نہیں۔ انہیں امریکہ کے قریب ترین حلیفوں کی رائے کا بھی کوئی احترام نہیں۔ بین الاقوامی قانون کے متعلق انہیں کچھ علم نہیں۔ انہیں بیرون ملک امریکی عملے کے تحفظ کی کوئی پروا نہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات ومسائل کی پیچیدگیوں کا فہم رکھتے ہیں اور نہ ہی اسے سمجھنے میں انہیں کوئی دلچسپی ہے۔ تمام انسانوں کے برابر انسانی حقوق پر بھی اُنہیں کوئی یقین نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

پاکستان کی حکومت اور حکومت سے مراد ایسے تمام ادارے ہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ حکومتی فیصلوں اور خاص طور سے حکومت پاکستان کی پالیسی پر اثرات مرتب کرتے ہیں، پر تنقید کا یہ مطلب لیا جانا بالکل غلط ہوگا کہ تنقید نگار خدانخواستہ مملکت خدا داد کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یا کسی بھی اور وجہ سے کسی سے تنقید کا حق چھیننا بھی دراصل پامالی حقوق کا ایک قابل مذمت طریقہ ہے۔ پاکستان کا موجودہ انسانی حقوق کا ریکارڈ نہایت خراب ہے۔ پاکستان میں لا قانونیت کا عالم یہ ہے دہشتگردوں کو تو چھوڑیں، قانون کے نفاذ کے ذمہ دار افراد خود بھی قانون کی پاسداری  ضروری نہیں سمجھتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

دسمبر کا مہینہ ویسے تو دنیا کے بیشتر حصے پر اندھیروں کے مہینے کے طور پر مشہور ہے۔ لیکن پاکستانیوں کے لیے دسمبر کا مہینہ انتہائی بھیانک خواب کی مانند  ہے۔ دسمبر نے ہم سے بہت کچھ چھینا ہے اور ہمیں ایسے گہرے زخم دیئے ہیں جو شاید کبھی بھر نہیں سکیں گے۔ جب بھی دسمبر آتا ہے ہمارے زخم پھر سے تازہ ہو جاتے ہیں۔ ویسے تو دسمبر کا  پورا مہینہ ہی ہمارے لیے بھاری ہے۔ ابھی پہلی دسمبر کو جشن میلادالنبی کے دن بھی پشاور میں دہشتگردی میں 12 افراد جاں بحق ہوئے ہیں لیکن میں آج اس اپنی تاریخ کے2 بدترین سانحات  کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

پیارے قارئین اور دوستو! بہت دنوں کی چھٹی کے بعد واپس پلٹاہ وں، وطن عزیز اور ہمسایہ ملک میں چار ہفتوں کی خاک چھاننے کے بعد تھکن سے جو سب کا حال ہوتا ہے میرا اس سے کچھ سوا ہی ہوا ہے۔ سوچا تھا ان چارہفتوں کاآنکھوں دیکھا حال اورکانوں سنی حکایتیں آئندہ کیلئے اٹھا رکھتے ہیں سوچا تھا آج میں آپ سے ہلکی پھلکی باتیں کروں گا تاکہ میں پھر سے اپنی جون میں آ سکوں لیکن کشور حسین شادباد کی سیاسی ، سماجی، ثقافتی، آئینی اور ادبی صورت حال اتنی دگرگوں ہوچکی ہے کہ وہاں ہر گام مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

عزیزان من 2017 کا برس بھی کنارے آن لگا۔ یہ جوانی تو بڑھاپے کی طرح گزری ہے۔ جوں توں شام گزاری لیکن دن کو سوا بے حال ہوئے۔ ہمارے بعد آنے والے مڑ کر اس برس کی تقویم کھولیں گے تو کیا دیکھیں گے؟ اسلام آباد کا دھرنا ریاست کو بری طرح کھدیڑنے کے بعد اخبارات کے صفحہ اول سے غائب ہو گیا۔ لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب…. سات لاشے اور واپسی کا کرایہ بانٹتے ہوئے ایک تصویر۔ ایک وڈیو بھی یہیں کہیں گردش میں ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایبٹ آباد کا جوان رعنا پانچ کروڑ روپے کی تھیلی ارپن کر رہا ہے…. خدا بہتر جانتا ہے۔ عام طور پر اس طرح کے شواہد سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کئے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ریاستی وحکومتی دہشت گردی کی بدترین مثال سانحہ ماڈل ٹاون کی صورت میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی بدترین مثال اور دوسری طرف حکمران طبقہ کی جانب سے قانون کی حکمرانی کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس طرز کی حکمرانی کی طرف گامزن ہیں۔  اس واقعہ کے بعد حکومت اور حکومتی اداروں نے یہ تاثر دیا کہ ان کے سامنے انسانی جانوں کا بہیمانہ قتل کی کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اور اس پر محض تاخیری حربوں نے انصاف کے عمل کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

بات علم و فنون کی ہو یا مذہب و روحانیت کی یا چاہے سیاست و معاشرت، ادب و صحافت، تہذیب و ثقافت، فن و سیاست، صنعت و معیشت کی یا کسی بھی شعبہ  زندگی کی بات ہی کیوں نہ ہو ہر میدان میں قصور کی زرخیز مٹی نے شہرہ آفاق ناموں کو جنم دیا ۔ مگرجب میں نے اپنے بزرگوں کے ہمراہ اِس شہرمیں آنا شروع کیا تو اتنا چھوٹا تھا کہ بابا بلھے شاہ ، بابا کامل شاہ، پیر جہانیاں جیسی برگزیدہ ہستیوں سے بھی نا واقف تھا اور محمد علی ظہوری قصوری، عبداللہ عبدالقادر خویشگی،  اقبال قیصر،  اقبال بخاری،  مقصود حسنی ، میڈم نورجہاں ، بھولو پہلوان، گاما پہلوان، یوسف خان، ضیاء محی الدین، مصور آزر روبی، قوال مہر علی اور شیر علی قوال، راجہ ٹوڈرمل سمیت ڈاکٹر معین قریشی اور خورشید محمود قصوری جیسی قصور کی نامور شخصیات بھی میرے علم میں نہ تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا روح رواں کہیے ، قومی ہیرو قرار دیجئے یا نسیم حجازی کے ناولوں سے کشید کردہ اسلامی ہیرو۔ واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان مہاتما بدھ کی حکایات کا اساطیری کچھوا ہیں۔ کچھوے میاں سے بار بار کہا جاتا ہے کہ سمندر کے پار اترنا ہے تو چھڑی کو منہ میں دبائے رکھو اور گل افشانی سے گریز کرو۔ مگر صاحب ڈاکٹر قدیر خان کو اپنی خوش بیانی پر ایسا غرہ ہے اور ان کی خدا داد ذہانت کو ایسا میٹھا برس لگا ہے کہ منہ کھولے بغیر نہیں رہتے ۔ نتیجہ یہ کہ خود بھی گہرے پانیوں میں غوطے کھاتے ہیں اور اپنے خوش عقیدہ مداحوں کو بھی پشیمان کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

ہٹلر کا سٹار وزیر گوئبلز زندہ ہوتا تو پاکستانی انجینئرڈ میڈیا کے اینکروں، سیاسی مبصروں،  دفاعی تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کے سامنے دونوں ھاتھ باندھ کر اپنی بے عقلی کا اعتراف کرتا اور شاگردی اختیار کرنے کی مودبانہ استدعا کرتا۔ مسلسل دروغ گوئی، ایک جھوٹ کے بعد دوسرا جھوٹ۔ حقائق پر کنفیوژن کی سموگ پھیلا کر عوام سے سچائی کو دور رکھنے کے لئے ہر قسم کے جائز اور ناجائز حربے آزمائے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

تلگو فلموں کے خالق ہدایت کار بی ناگا ریڈی کی ہندی فلم ” رام اور شیام “ جو پہلے (رامڑو بیمڑو) کے نام سے تلگو زبان میں بن چکی تھی ، ریلیز ہوئی تو پہلا تبصرہ مشہور و معروف قلمکار ، فلم ساز و ہدایت کار جناب خواجہ احمد عباس کا تھا جو مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوا تھا ۔ اُنھوں نے کہا تھا : ” دلیپ کمارکو سونے کی سولی پر چڑھا دیا گیا ہے۔“

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

تاریخ کا مطالعہ کئی شعبہ جاتِ زندگی میں بہت ضروری  ہے ۔ گو کہ ہم تک تاریخ درست حالت میں نہیں پہنچی تاہم اس کی افادیت میں کمی نہیں آئی۔  تاریخ کا سبق ہمیں جاوید ہاشمی کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد یاد آیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

کسی بھی جمہوری سیاست  اصلاحات اہم ہوتی ہیں۔  سیاسی حکومتیں جمہوری پلیٹ فارم  سے  معاشرے میں حقیقی تبدیلیوں کے لئے اقدامات کرتی ہیں۔  جمہوری معاشروں میں  بڑے انقلاب نہیں آتے ، بلکہ انقلاب کی بجائے سیاسی طبقات اصلاحات کی مدد سے آگے بڑھتے ہیں ۔  جمہوری سیاست میں  اصلاحات کا عمل کنجی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اصلاحا ت کی سیاست کو  طاقت فراہم نہیں کرسکے ۔  اگر اصلاحات کی سیاست میں عوام اہم نہ ہوں اوراس کی جگہ افراد یا خاندان کے مفادات بن جائیں تو پھر اصلاحات کے ایجنڈے کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عوام ، ریاست، حکومت اور اس کے اداروں کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا بنتی جارہی ہے جو  اس ملک کے مفادات کے خلاف ہے ۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...