مباحث


  وقت اشاعت: آج 17:27:23

یہ اکیسویں صدی ہے ۔ اسلام کو دنیا میں نازل اور نافذ ہوئے پندرہ صدیاں بیت چُکیں ، وقت کا پہیہ گھوم رہا ہے اور گھڑی کی ٹِک ٹِک اِس پہیئے کو مسلسل رواں رکھ رہی ہے لیکن پاکستان جہاں ستّر سال پہلے تھا ، اب اور آج بھی وہیں کا وہیں ہے :
مُنیر اس مُلک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: آج 15:02:24

بھٹو صاحب میں عوامی مقبولیت اور اقتدار کی طاقت جمع ہو گئی تھی۔ ایسے میں کچھ نہ کچھ پھر ہو کر رہتا ہے۔ اخے گل کھلتے ہیں بہار آتی ہے۔ بھٹو صاحب نے نیشنلائزیشن کا گل کھلا کر دیکھا۔ شریفوں کی اتفاق فاؤنڈری بحق سرکار ضبط ہوئی۔ پھر اک دن غلط یا ٹھیک اطلاع پر کہ ماڈل ٹاؤن شریفوں کے گھروں پر قبضہ ہونے لگا۔ شریف فیملی کے جوان بندوقیں تان کے سپاہی حال لیٹ کر گھر کی حفاظت بھی کرتے رہے۔ پتہ نہیں پھر کیا ہوا (خود ہی پتہ کر لیں ، ہم کونسا تاریخ لکھ رہے )۔ اس کاروباری خاندان کو سمجھ آ گئی کہ صرف پیسہ نہیں طاقت بھی چاہئے۔ کہانیاں بہت ہیں المختصر نوازشریف کو جنرل ضیا نے سیاسی رنگروٹ بھرتی کر لیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: آج 14:54:28

ایک دفعہ پھر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔ ایک ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی جیسے پاکستانی افواج یمن میں لڑائی لڑنے کے لیے سعودی عرب چلی گئی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایک مضبوط لابی موجود ہے جو ہر وقت اس کوشش میں رہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات خراب کیے جائیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

ملک میں انتخابات کا ماحول بن رہا ہے۔ لیکن جس جس طرح انتخابات کا ماحول بن رہا ہے، پتہ نہیں کیوں انتخابات اتنے ہی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ نواز شریف کی مقبولیت میں جس طرح اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، انتخابات اتنے ہی دور نظر آرہے ہیں۔ نواز شریف کے لہجے میں جتنی کرختگی آرہی ہے، انتخابات اتنے ہی دور ہوتے نظر آرہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

کراچی لٹریچر فیسٹیول میں شرکا کی تعداد اپنے عروج پر ہونے کے باوجود توقع سے کم تھی۔ میرے خیال میں مستقبل میں کتابیں صنعتی انقلاب سے پہلی والی شکل میں آ جائیں گی لگژری چیزوں کی طرح۔ چند روز قبل کا واقعہ ہے، میں نے اپنے چھوٹے بیٹے آدم کو مطالعہ کی اہمیت سمجھاتے ہوئے ٹیلی ویژن دیکھنے سے پرہیز کی تلقین کرتے ہوئے کہا ’’کتابیں پڑھنے کیلئے تمہیں وقت کب ملتا ہو گا؟‘‘ بیٹے نے کہا ’’کتابیں پڑھنے سے کیا فائدہ پاپا؟‘‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

مشہور و مقبول مقولہ ہے۔ ’’ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔“ اس مقولے کو کبھی دل نے تسلیم نہیں کیا کیونکہ اس مقولے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے، گویا کہ ہر ناکام مرد کے پیچھے ایک یا ایک سے زائدعورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ خواتین کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ ہر ناکام مرد کے پیچھے اس کی ناقص حکمت عملی اور کرتوت ہوتے ہیں نہ کہ ایک یا اس سے زائد عورتیں۔ اسی لیے اس مقولے سے تعصب اور صنفی امتیاز کی بو آتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

سکول کے زمانے میں خرگوش اور کچھوے کی کہانی پڑھی تھی۔ یہ کہانی تو ہم کب کے بھول چکے تھے کہ 12 فروری 2018 کو  حلقہ این اے 154 کے ضمنی انتخاب کے نتیجہ نے بھولی بسری کہانی کو یاد کروا دیا۔ یادش بخیر ہم نے انہی کالموں میں آپ سے عرض کیا تھا کہ این اے 154 کے ضمنی انتخابات میں تحریکِ انصاف کی کامیابی یقینی ہے۔ اس کی وجہ بڑی سیدھی سادی تھی کہ جہانگیر ترین نے جب خود ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی تو تب سے لے کر ان کی نااہلی تک ان کا جانشین علی ترین حلقہ میں سرگرم تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

مسلم لیگ نے متحدہ ہندوستان میں یہ نظریہ پیش کیا کہ ہندوستان میں ایک نہیں بلکہ دو قومیں بستی ہیں۔ اس سوال کو فی الوقت ایک طرف رکھ دینا چاہئے کہ ہندوستان میں صرف ہندو اور مسلم دو قومیں کیوں تھیں؟ ہندوستاں میں بسنے والے مسیحی، پارسی اور سکھ قوم کا درجہ کیوں نہیں رکھتے تھے؟ ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ مسلم لیگ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ہندوستان میں دو قومیں بستی ہیں۔ چنانچہ آزاد ہندوستان میں دو ریاستیں بننی چاہئییں۔ طویل آئینی بحران کے نتیجے میں مسلم لیگ کا یہ موقف تسلیم کر لیا گیا۔ پاکستان اور ہندوستان وجود میں آگئے۔ یہ دونوں قومیں گزشتہ 70 برس سے موجود ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

پہلی فروری کو کلکتہ پہنچتے ہی ائیر پورٹ پر کئی لوگوں نے میرا والہانہ استقبال کیا۔ کچھ لوگوں سے پہلی بار ملاقات ہوئی تو کچھ شکلیں جانی پہچانی بھی تھیں۔  جس جوش و جذبہ سے میرا استقبال کیا گیا، تھوڑی دیر کے لئے ایسا محسوس ہوا کہ یہ لوگ برسوں سے میرا انتظار کر رہے ہیں۔ گلے لگانے اور ہاتھ ملانے کے بعد اپنے دوست پپّو کی پیلی ٹیکسی میں سوار ہو کر کلکتہ کی مصروف سڑکوں کے بیچ ہم اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پپّو کی پیلی ٹیکسی بھی ہمارے آنے کی خوشی میں اپنی سست رفتاری کو بھول کر سڑک کے قوانین کی دھجّیاں اڑانے پر آمادہ ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

ہمارے ساتھ ہوا تو یہی کہ انتہا پسندوں کو ترقی پسندی کے چولے پہنا کر ہماری صفوں میں بھیج دیا گیا اور ہم اسی کو اپنی کامیابی سمجھتے رہے۔ جماعتِ اسلامی والوں نے جب مشرف کے خلاف نام نہاد عدلیہ تحریک کے دوران فیض صاحب کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ لہک لہک کر کورس کی صورت میں گانا شروع کی تو ہمارا ماتھا اسی وقت ٹھنکا۔ لیکن ہمارے ترقی پسند دوست اس پر بغلیں بجاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر جماعتیوں نے فیض صاحب کا ترانہ قبول کر لیا ہے تو یہی ہماری کامیابی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

پاکستان بنیادی طور پر جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تناظر میں اپنے ابتدائی ا ور ارتقائی عمل سے گزررہا ہے ۔ یہ سمجھنا کہ پاکستان میں جمہوریت ایک مضبوط تناور درخت کی طرح ہے تو یہ محض خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ جمہوریت کی مضبوطی یا کمزوری کے بارے میں تجزیہ کیا جاتا ہے تو اس میں یقینی طور پر داخلی اور خارجی دونوں طرز کے مسائل غالب نظر آتے ہیں ۔ جمہوریت سے وابستہ جمہوری قوتوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ عمومی طور پر اپنے داخلی مسائل کو نظرانداز کرکے سارا ملبہ خارجی مسائل پر ڈالتے ہیں۔ یقینی طور پر خارجی مسائل بھی اہم ہیں لیکن داخلی مسائل کے بہتر تجزیہ کے بغیرخارجی مسائل سے نمٹنا بھی ناممکن ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

9مارچ2015 بی بی سی ہندی ویب سائٹ پر ایک مضمون سُدِ ھیتی ناسکر کا شائع ہوا تھا۔ جس میں جنسی تشدد کے واقعات پر خاموشی کی پانچ وجوہات بیان کی گئیں تھیں۔ گرچہ مضمون تین سال پرانا ہے اس کے باوجود جن وجوہات کو اس مضمون میں بیان کیا گیا ہے وہ اہم ہیں اور بیشتر واقعات میں بیان کردہ وجوہات آج بھی برقرار رہیں۔ مضمون نگا ر نے مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کا دورہ کیا جس میں بتایا کہ وہاں تعلیم اور صحت سے وابستہ سہولیات برائے نام ہیں۔ ضلع میں جن خواتین سے ملاقات ہوئی ان میں کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کے واقعات کی رپورٹ درج نہیں کرائی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

3 فروری کے روزنامہ ’’آج‘‘ میں ہمارے محترم دوست ڈاکٹر امجد حسین صاحب کا کالم نظر نواز ہوا جو انہوں نے محبت کے ساتھ بازار کلاں کی تزئین کے بارے میں لکھا تھا اور بار بار انتظامیہ کو ستائش پیش کی تھی۔ پشاور کی قدیم تاریخ میں بازار کلاں اہمیت کا حامل ہے۔ اس بازار کی ابتدا گور گور گھٹڑی سے ہوتی ہے اور سڑک چوک یار خان تک جاتی ہے۔  یہ علاقہ گنج کہلاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
لودھراں میں پی ٹی آئی کے امیدوار علی ترین کی شکست کوئی اچنبھے اور حیرت کی بات نہیں ہے ۔ یہ نو شتہ دیوار بہت پہلے پی ٹی آئی کی قیادت کو پڑھ لینا چا ہیے تھا۔ اب شاید پڑھنے ، سمجھنے اور عمل کر نے کا وقت بھی پی ٹی آئی کے ہاتھوں ریت کے ذرّوں کی طرح نکل رہا ہے ۔ عمران خان صاحب کا کہنا ہے کامیاب لوگ ناکامیوں سے سیکھتے ہیں لیکن نا کامی در نا کامی پہ لوگ کامیاب نہیں نا کام کہلاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں عورتوں کی بڑی تعداد میں شرکت پہ ایک نئی بحث کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ یہ بحث عاصمہ جہانگیر کو زبردستی دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے انتہا پسند اور رجعت پرستوں کی جانب سے شروع کی گئی ہے ۔ سب سے زیادہ پروپیگنڈا یہ کیا گیا کہ نماز جنازہ میں عورتیں شریک نہیں ہوسکتیں اور یہ بھی کہا گیا کہ عورتیں نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتیں۔ یہ سب باتیں سوشل میڈیا پہ اس تواتر کے ساتھ پھیلائی گئیں کہ لوگوں کو ایسے لگا جیسے واقعی اسلام میں اور مذاہب اربعہ جو کہ عالم اسلام میں لوگوں کی اکثریت میں رائج ہیں، عورتوں کونماز جنازہ میں شرکت سے منع کرتے ہیں جبکہ اسلامی شریعت کے ماخذ میں ایسی کوئی بات موجود نہیں ہے ۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...