معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مباحث


  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018

وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ایک ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان کیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وزیر اعظم نے خود پریس کانفرنس کرکے اس اسکیم کے اعلان کا فیصلہ کیوں کیا ہے۔ یہ کوئی کریڈٹ کی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی معرکہ یا بڑی کامیابی نہیں ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو نون لیگ کی حکومت کے پانچ سالہ دور کی کارکردگی کی علامت ہے۔ یہ حکومت کی جانب سے اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ ٹیکس اکٹھا کرنے اور ٹیکس چوروں کو پکڑنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ کالا دھن اور بلیک منی والوں کو قانون کے دائرے میں لانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ اس لیے حکومت پاکستان ان کے سامنے ہتھیار ڈال رہی ہے کہ ہم تم کو نہیں پکڑ سکے اس لیے تم لوگ ہی خود آجاؤ۔ ناکامی کا اعتراف اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018

سویڈن میں دو دہائیوں سے زائد اپنے قیام کے دوران لکھنے کا سلسلہ جاری ہے اور رضاکارانہ طور پر یہاں مقیم اپنی کمیونیٹی کی نمائدگی کرنے کے علاوہ دنیا بھر میں مقیم قارئین سے اپنی تحریروں سے رابطہ قائم ہے۔ اس طویل سفر میں قارئین کا اعتماد میرے لئے باعث اطیمنان ہے۔ میرا ہفتہ وار کالم ’ ’افکارِ تازہ ‘‘کے عنوان سے برطانیہ، پاکستان، بھارت ، جموں کشمیر اور دنیا کے مختلف ممالک سے شائع ہونے والے اردو اخبارات و رسائل میں شائع ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک بار پھر دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا نظام ہی چلے گا آئین اور دستورکی ہر قیمت پر پاسداری کی جائے گی آئین کے ایک ایک حرف کا تحفظ کیا جائے گا۔ آئین میں الیکشن کے التوا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالتی مارشل لاء یا فوجی مارشل لاء کی ہر گز توثیق نہیں کی جائے گی ، کچھ لوگ منصوبہ بندی کے تحت افواہیں اور بد گمانی پھیلا رہے ہیں۔ اب وہ وقت نہیں رہا کہ اپنے ماتھے پر غلاظت اور گندگی مل لیں۔ آئین کے مطابق الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے‘‘۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کم و بیش ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور قوم کو دو ٹوک انداز میں آئین اور جمہوریت کے تسلسل کی یقین دہانی کرواتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اپریل 2018

انسان ایک مکمل مخلوق ہے غذائیت کی مشین نہیں کہ اسے وہی کھلایا جائے جو اس مشین کو ٹھیک ٹھاک انداز میں چالو رکھ سکے۔ انسان کے اپنے حواس خمسہ بھی ہوتے ہیں اور ان کی اہمیت بھی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ صحت مند جسم کیلئے زندگی سے پوری طرح لطف اندوز ہونا اور مثبت انداز فکر اختیار کرنا کتنا ضوری ہے۔ ہمیں وہی کچھ کھانا چاہئے جو ہماری زندگی ہے اسے قواعد و ضوابط کا پابند کرنا عقل مندی نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اپریل 2018

دور حاضر میں معیشت کو مستحکم کرنے کے علاوہ دشمن کی چالوں کو ناکام بنانا بھی  ضروری ہے ۔ جو لوگ بین الاقوامی میڈیا سے جڑے ہیں انہیں معلوم ہے آئے دن کہیں نہ کہیں کوئی ایسا واقع ضرور ہوتا ہے جس میں انسانی جانیں بھی جاتی ہیں اور دیگر نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارا میڈیا کس کی زبان بولتا ہے اس بارے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات۔ ترقی یافتہ معاشروں میں جھوٹ دھوکا فریب جیسی چیزیں کم ملتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ سے بھی سچ بولتے ہیں، اپنے غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں اور ان پر نادم بھی ہوتے ہیں۔  جیسے ہی حالات و واقعات سازگار ہوتے ہیں ، یہ ان غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اپریل 2018

اسلامی دنیا میں جب سے ملایت اور عقیدے کی حکمرانی کا دور دورہ شروع ہوا ہے ، انسانی فکر، عقل و شعور، قوّت مشاہدہ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، تحقیق و جستجو کی جبلّت ، مظاہرِ فطرت کے عقلی و سائنسی جواز تلاش کرنے کی خواہش ، مسائل کا منطقی تجزیہ کرنے کے سب راستے ، ملّاؤں کی شریعت نے بند کردیئے ہیں ۔ ہر مسئلہ کا حل، مشاہدے اور تجربات کی مدد سے سائنسی استدلال کی بجائے شریعت اور فتاوی میں تلاش کیا جاتا رہا ہے ۔ عقائد کو چیلنج کرنے والوں کو مرتد اور کافر قرار دیا جاتا رہا ہے ۔ ڈاروِن کا نظریہ ارتقاء آج بھی اسلامی عقائد کے خلاف ہے ۔ معاشیا ت کا قانون تقلیلِ افادہ آج بھی مال میں برکت کے اسلامی نظریہ کے خلاف ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اپریل 2018

عبداللہ ملک ایک صاحب طرز لکھنے والے تھے۔ پنجاب کی سیاسی تحریکیں، ایک کمیونسٹ کا سفرنامۂ حج اور بہت سی دوسری مشہور کتابیں لکھیں۔ ان کی تحریروں میں ایک جملہ اکثر نظر آتا تھا، ”لطف کی بات تو یہ ہے‘‘۔ اب چاہے کوئی لطف کی بات ہو یا کوئی بری ترین خبر ہو اس کا آغاز غیر ارادی طور پہ اسی جملے سے ہو جاتا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اپریل 2018

وقت اور سیاست کے دامن میں حیرانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ عالمی سطح پر آج کل انہی حیرانیوں کا دور چل رہا ہے۔ امریکی صدارتی الیکشن ہوا تو پہلی بار روس کے کردار کی بازگشت سنائی دی۔ یہ بازگشت الیکشن کے بعد باقاعدہ تحقیقات میں بدل گئی۔ پہلی بار ایک امریکی صدر کی زبان سے روس کے بارے میں خیر سگالی کے جذبات سنے۔ پھر یوں ہوا کہ امریکہ نے برطانیہ کی یک جہتی میں درجنوں روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ نہ صرف امریکہ بلکہ یورپ کے اس کے اتحادی ممالک نے بھی یہی طرز اختیار کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اپریل 2018

وہ ایک مزدور تھا، مزدور کا بیٹا تھا، اس کا دادا بھی مزدور تھا۔ وہ نسلاً مزدور تھا جو کراچی میں مزدوری کرتا تھا۔ جو پیسے اسے ملتے وہ انہیں ہفتے کے آخری دنوں میں نواب شاہ لے جاتا جہاں اس کی بوڑھی ماں، محبوبہ جیسی بیوی اور بچے اس کا چھٹی سے ایک دن پہلے والی شام سے ہی انتظار شروع کر دیتے تھے۔ وہ پیسے ہی نہیں لے جاتا تھا، وہ ان کے لیے شہر سے خریدی وہ مٹھائی بھی لے جاتا تھا جو وہ اپنے رومال کے پلو میں باندھ لیتا تھا جس سے اس کا رومال بھی میٹھا ہوجاتا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اپریل 2018

فلاحی ریاست ایسی مملکت کو کہا جاتا ہے  جس میں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور اُن کی سماجی ترقّی، معاشی خوش حالی  اورزندگی گزارنے کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی اوّلین ذمّہ داری ہوتی ہے۔ فلاحی ریاست کا ڈھانچہ ، ایسے جمہوری اصولوں پر استوار کیا جاتا ہے ، جن میں اس امر کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ ریاست کا کوئی بھی شہری بنیادی انسانی حقوق، اور شہری آزادیوں سے محروم نہ رہے  اور ہر شہری کو زندگی کی بنیادی سہولیات بلا امتیاز میسّر ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اپریل 2018

جب سے کرشنا کوہلی پی پی کی جانب سے سینیٹر منتخب ہوئی ہیں تب سے مَیں سوچ رہا تھا کہ تھر سے تعلق رکھنے والی اس سیاستدان پر کچھ لکھوں۔ ابھی ان کی شخصیت کے متعلق لکھنے کے لیے ذہن میں خاکہ سوچ رہا تھا کہ اخبارات میں ان کے بارے میں بے شمار خبریں، مضامین اور انٹرویوز آ رہے ہیں۔ سیاست میں عہدہ ملنا کتنا بڑا اعزاز ہے کہ ایک دم سے انسان زمین سے آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کے زمانے میں تھر کے علاقے میں خوراک نہ ہونے سے سینکڑوں بچے موت کے منہ میں چلے گئے۔ میڈیا چیختا رہا لیکن پیرانہ سالی کی وجہ سے سیّد قائم علی شاہ کے کانوں پر جوں نہ رینگی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اپریل 2018

ملالہ یوسف زئی جب دہشتگردوں کے حملہ میں زندہ بچ گئی  تو ایسی ایسی باتیں کہی گئیں کہ جیسے اس نے زندہ بچ کے بہت بڑی غلطی کی ہو۔  ایک طرف یہ لوگ ہیں اور دوسری طرف وہ معصوم ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ  اگر میں فیصلہ کر سکتی تو پاکستان سے باہر نہ جاتی۔ اس کے خلاف زیادہ طوفان اس وقت آیا جب اس کی کتاب ‘ میں ملالہ ہوں‘ شائع ہوئی ۔ یہ کتاب اس نے برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کے ساتھ مل کے لکھی۔ کتاب پہ باہر نام بھی دونوں کا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اپریل 2018

شیخ ابراہیم ذوق کے شعر کا ایک مصرعہ ہے کہ اپنی خوشی نا آئے نا اپنی خوشی چلے، معلوم نہیں کتنے یہ بات دل میں ہی لے کر چلے گئے ۔  انسان اپنی پیدائش سے موت تک سفر کسی اور کے بتائے ہوئے راستے پر کرتا ہے ۔ نہ تو وہ کوئی راستہ بنانے کا اہل ٹھہرتا ہے اور نہ ہی کسی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے انکار کرسکتاہے۔ جن معاشروں میں ابھی تک توازن برقرار ہے ان میں لوگ فرمانبردار اورمروجہ معاشرتی پابندیوں اور اقدار کے پابند ہیں۔ ہمارے منہ میں جو زبان ہے وہ محتاج ہے اس زبان کی جو ہمارے آس پاس بولی جائے گی، ذہن محتاج ہے ان سوچوں کا جو سوچنے کیلئے دی جائیں گی، نظریں محتاج ہیں وہ سب دیکھنے کی جو انہیں دکھایا جائے گا۔ اس توازن کو بگاڑ نے کی  کوششیں اب کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اپریل 2018

پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین ، ننھی بچیوں اور بچوں کے ساتھ  زیادتی  کے بعد قتل کے واقعات میں اضافہ خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ لوگ  شکو ہ کرتے نظر آئیں گے کہ ہمارے معاشرے میں موجود چند درندہ صفت نما انسانوں نے خواتین کا جینا حرام کررکھا ہے۔  جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی متاثرہ خواتین، بچیاں ، بچے حصول انصاف کیلئے عدالتوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ اس  میں کوئی شک نہیں کہ خواتین ہمارے معاشرے میں باعزت مقام رکھتی ہیں پھر کیوں روزبروز خواتین کے ساتھ زیادتی اور جنسی تشدد کے واقعات میں اصافہ ہورہاہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اپریل 2018

ذوالفقار علی بھٹو کو دنیا سے گئے 39سال ہو گئے اور ان کی برسی کے بعد چالیسواں سال شروع ہو جائے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی مزاحمتی سیاست کی علامت تھے۔ یہ جدو جہد کا وہ استعارہ ہے جو کہ نظام کی سماجی اور معاشی نا انصافیوں کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے۔ اس نظریاتی جدو جہد سے تعلق رکھنے والوں نے ہمیشہ ریاستی جبرو تشدد کا جرات کے ساتھ مقابلہ کیا اور کبھی اپنے نظریات سے انحراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کبھی ذاتی مفادات کی خاطر سمجھوتے کیے ہیں۔ اس کی مثال جنرل ضیاء الحق کا جبر و تشدد کا عہد ہے جس میں ہزاروں کارکنوں کو قید و بند کی صوبتوں کے ساتھ کوڑوں کی سزا برداشت کرنا پڑی۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...